//عورت مغربی معاشرے میں اعلی اقدار کی ضامن ہے

عورت مغربی معاشرے میں اعلی اقدار کی ضامن ہے

. صفیہ چیمہ فرنکفرٹ

ایک عورت اپنے گھر اور معاشرے میں اعلیٰ اخلاق کی ضامِن ہے

قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے۔

وَلِکُلِّ وِجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْھَا فَاسُتَبِقُوا الُخَیُرَاتِ(البقرہ ۱۴۸)

اور ہر ایک کے لئے ایک مطمح ء نظر ہے جس کی طرف وہ اپنی توجہ پھیرتا ہے۔پس نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔

 اس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے!

“کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔

یاد رکھو!تم ہی سب سے بہتر وہ جماعت ہو جسے لوگوں کے فائدے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ (سورة آل عمران111)

سب سے پہلے تومیں یہ بیان کرنا چاہوں گی کہ قرآن کریم کی رُو سے سب سے بہتر جماعت کے اعلیٰ اخلاق کے معیار کیا ہیں؟

فرمایااِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔(الحجرات ۱۴)

 کہ تم میں سے معززوہی ہیں جو خدا کے حضور تقویٰ میں اعلیٰ معیار رکھتے ہیں۔اور اعلیٰ اخلاق تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر پہنچ کر ہی حاصل ہوتے ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

’’قرآن کریم وہ تمام آداب سکھاتا ہے جن کا جاننا انسان کو انسان بننے کے لئے نہایت ضروری ہے۔…اسکی تعلیم نہایت مستقیم او ر قوی اور سلیم ہے۔گویا احکام قدرتی کا ایک آئینہ ہے اور قانونِ فطرت کی ایک عکسی تصویر ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ دوم صفحہ ۹۱۔۹۲)

انسانی فطرت کے نزدیک ترین آداب و اخلاق کے مکمل مظہر ہمیں اللہ کے پیارے رسول محمد عربیﷺ نظر آتے ہیں۔جن کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولُ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃ (الاحزاب ۲۲)

کہ تمہارے لئے اللہ کے رسولﷺ نیک نمونہ ہیں۔

وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عظِیْمَ (قلم۔۵)

اور یقیناًتُونہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر فائز ہے۔

عرب کے بگڑے ہوئے معاشرے میں جہاں مکہ کی مالدارترین خاتون خدیجہ (امہات المؤمنین حضرت خدیجہؓ)ایک محمد نام شخص (آنحضرتﷺ) کے حسنِ اخلاق، نیکی، راستبازی اور انتہائی بلند درجہ دیانتداری جیسے اوصاف کی شہرت سن کراپنا سارا مال تجارت کے لئے اُن کے سپرد کر دیتی ہیںتو انہی نیک اعلیٰ و ارفع اخلاق کی بنیاد پرآپﷺ کوشادی کا پیغام بھجواتی ہیں اورنزولِ نبوت کے وقت آپﷺ کے اعلیٰ بلنداخلاق کی شہادت دیتے ہوئے تسلی بھی دلاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔

وہاںامہات المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں۔

 کَانَ خَلْقُہٗ الْقُرْآن کہ آنحضرتﷺ کے اخلاق قرآن کی عملی تصویر تھے۔آپﷺ قرآن کے ہر حکم کی تعمیل کرنے والے تھے۔

 (ان آیات اور حدیث کی روشنی میں)خدا کے رسولﷺ اپنے نیک نمونے کے ساتھ اُن خلقِ عظیم پر فائز ہیں۔ جن کی برکتوں کے طفیل عرب کے وحشی انسان بن گئے، ظلم و بربریت اور جاہلیت سے بھرے معاشرے کی حیرت انگیز اصلاح ہو گئی۔

آج اپنے گھروں اور معاشرے میں اعلیٰ اخلاق رائج کرنے کی ضامِن ’’احمدی عورت‘‘ قرار دی گئی ہے۔ کیوں؟

اس لئے کہ احمدی عورت خدائے واحد پراس کے فرستادہ پیغمبر محمد عربیﷺ اور امام مہدیِٔ آخر زماں حضرت مسیح موعودؑ پر صدق دل سے ایمان لاتی ہے۔ کلام اللہ کے تابع ہو کر زندگی گزارنے کے اسلوب سیکھتی ہوئی ان راہوں پر گامزن ہے جن پر اسے ہر قدم پر زندہ و تابندہ خلافت عظمیٰ کا مضبوط کڑا حبل اللہ کی صورت میں سہارا دیئے ہوئے ہے۔

ہمارے پیارے آقاحضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

’’ہر عورت ہمیشہ یہ یاد رکھے کہ وہ کون ہیں؟ ان کے مقاصد کیا ہیں؟ اور ان کے عہد کیا ہیں؟کیا عہد وہ کر رہی ہیں؟ ایک احمدی مسلمان عورت اور لڑکی معاشرے میں انقلاب لانے کے لئے پیدا کی گئی ہے نہ کہ معاشرے کی رونقوں کا حصہ بننے کے لئے‘‘

(ازخطاب لجنہ جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۱۲)

’’ہمیشہ یاد رکھیں کہ کسی قوم میں عورت کا کردار قوم کو بنانے میں انتہائی اہم ہوتا ہے۔اگر عورت تعلیم والی ہو گی تو پھر ہی تعلیم دینے والی ہو گی۔ایک احمدی عورت اسلام کی تعلیم کے مطابق اپنے گھر کی نگرانی کرتی ہے اوراپنی اولاد کی اخلاقی اور روحانی نگرانی کرتی ہے۔‘‘

(ازخطاب لجنہ جلسہ سالانہ جرمنی۲۰۰۷)

 حضرت خلیفة المسیح الاولؓ فرماتے ہیں کہ:

’’اولاد کے لئے ایسی تربیت کی کوشش کرو کہ ان میں باہم اخوت۔ اتحاد۔ جرأت۔ شجاعت۔ خودداری۔ شریفانہ آزادی پیدا ہو۔ ایک طرف انسان بنائو۔دوسری طرف مسلمان‘‘

(خطباتِ نور صفحہ75)

یاد رکھیں کہ سب سے پہلے گھر کی چار دیواری ہی اخلاقیات کی وہ اصل بنیاد ہے۔ جہاں سے اعلیٰ اخلاق کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔گھر کے اندر کا ماحول۔میاں بیوی کا آپس میں محبت و احترام کا سلوک۔والدین کی صورت میں بچوں کے ساتھ ماں باپ کا رویہ۔بچوں میں گفتگو کا سلیقہ۔ اخلاقی، ادبی لحاظ۔ماں باپ کا اپنا نمونہ۔قول و فعل میں مطابقت۔سچائی۔ گھر میں رزقِ حلال میں برکت پر ایمان۔ ماحول کی صفائی وپاکیزگی جیسے عوامل انسانی عادات پر اثر انداز ہوتے ہیںاور ایسے ماحول میں پرورش پانے والے پاکیزہ ذہن پاکیزہ خیالات کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔

 اس کے برعکس گھر میں جھوٹ۔تلخ رویئے۔جائز ناجائز آمدنی کے ڈھیر۔عدم اعتمادی۔ لڑائی جھگڑے۔ مارکٹائی ایسے نامناسب ماحول میں پرورش پانے والے ذہن بھٹکے ہوئے پریشان خیالات کی آماجگاہ ہوتے ہیں۔اور گھروں میں جو کچھ ہوتا ہے ارد گرد کے ماحول میں اس کا اثر ہوتا ہے۔

 گھر ہی وہ بنیادی درس گاہ۔ وہ انسٹیٹیوٹ ہے جس کی اعلیٰ تربیت سے ایک صحت مند معاشرہ جنم لیتا ہے۔ گھر میں دین کی طرف بچوں کو راغب کرنا۔نماز۔قرآن۔ دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا ماحول گھر میں بنانا اورپھر اس تعلیم پرعملی طورپر کاربند ہونے کی کوشش کرتے رہنا ہی آج احمدی عورت کی اصل ذمہ داری ہے۔

چاہیئے کہ سچ ہمارا شعار ہو۔جھوٹ سے ہمیں نفرت ہو۔دیانت داری ہمارے اندرہو۔رحم دلی، خوش خُلقی اور خوش گفتاری ہمارا وصف ہو۔ بری عادتیں چھوڑ کر نیک اخلاق اور نیک اطوار اختیار کرنا بھی قربانی ہے۔گھروں کے اندر ماں باپ کی مکمل اطاعت، بہن بھائیوں رشتہ داروں سے محبت و شفقت کا سلوک ہو۔ہم جو گھروں میں لڑیں جھگڑیں گی تو معاشرہ میں بھی اتحاد اور اچھے سلوک کی روح قائم نہیں رکھ سکتیں۔

اپنے گھروں کو امن و سکون کا گہوارہ بناتے ہوئے جنت نظیر گھروں کی تعمیر کریں۔جب گھروں کا ماحول نیک، پر سکون اور پاکیزہ ہو گا تو معاشرے میں خود بخود امن و سکون اور پاکیزگی پھیلتی چلی جائے گی اور گھروں کا براماحو ل معاشرے میں بدیاں اور بے چیینیاںپھیلاتا چلا جائے گا۔!

انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دے کر اسے َاعضاء اور قویٰ بھی ویسے ہی عطا ہوئے ہیں۔ کہ وہ اچھے برے کی پہچان کر سکتا ہے۔اگر سطحی نظر سے جائزہ لیا جائے تو کوئی انسان بھی اپنے آپ کو بد اخلاق تصور نہیں کرتا۔وہ سوچتا بھی نہیں کہ کیسی عادات و اطوار کا مالک ہے؟ اچھی یا بری؟اچھائی یابرائی ساتھ لیکر جب وہ گھر کی چار دیواری سے باہر۔ اس معاشرے میں قدم رکھتا ہے تو معاشرہ اس کے کردار، اسکے اخلاق کا جائزہ لیتا ہے۔

یہ معاشرہ جو انسانوں کا ایک ہجوم ہے جس میں مختلف ماحول۔قوم اور رنگ و نسل کے افراد مل جل کر رہتے سہتے ’’مل ورتن‘‘ کرتے باہم مصروفِ عمل ہیں۔ ان کا مقصد ملکی ترقی کے لئے کام کرنا، معاشرے میں ایک دوسرے کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اوراگر معاشرے میں نیک اور مفید کاموں کی بجائے فساد اور شر پھیلنا شروع ہو جائے تو وہ اسی معاشرہ کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ہم دیکھ رہے ہیںکہ آج معاشرہ میں چاہے مغربی ہو یا مشرقی ہر طرف اخلاقیات کی تباہی ہے۔ہوا و ہوس،برا ئیاں اور فساد ہے کہ پھیلتا ہی جا رہا ہے کہیں سکون اور امن نہیں ہے۔

 حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے لجنہ اماء اللہ کو مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا

’’خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے تمھیں ہراول دستہ بنایا عاشقانِ محمدﷺ کا۔تمہارے اندر مہدیؑ پیدا ہوا اور عظیم ذمہ داریاں اُٹھانے کی صلاحیت خدا نے تمھیں بخشی۔اس نے دیکھا کہ تم اگر اس صلاحیت کی صحیح نشو و نما کرو تو دنیا کی عورت کے لئے ایک نمونہ بن سکتی ہو۔تمہارا کام ہے کہ…اس کی نشوونما کو انتہا تک پہنچا کر دنیا کے لئے ایک نمونہ بن جاؤ۔‘‘

(ازخطاب مستورات جلسہ سالانہ ۱۹۷۸ ء المصابیح۔ص ۳۵۰)

میری بہنو! آج دنیا اپنے خالق حقیقی کو بھلا بیٹھی ہے۔ ہم آگے بڑھ کر اسے سچے خالق سے ملانے والی اس کے وجود کا یقین دلانے والی بن جائیں۔

جس طرح ایک درخت میں پھول لگتے ہیں تو ارد گرد کی فضا میں ان پھولوں کی خوشبو رچ بس جاتی ہے، پھر پھل نکلتے ہیں اور درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح مذہب کی سچائی کا علم اس مذہب کے ماننے والوں کے اعلیٰ اخلاق سے ثابت ہوتا ہے۔

حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں:

’’پس وہی معاشرہ صحیح معاشرہ ہے جو آپ کو دنیا میں پیش کرنے کا حق ہے۔جو اسلامی تعلیم پر مبنی ہے۔اور اس معاشرے کا کوئی رنگ نہیں ہے۔ نہ وہ مشرق کا ہے نہ وہ مغرب کا۔ نہ وہ سیاہ ہے نہ سفید۔ وہ نورانی معاشرہ ہے۔ پس اس حد تک اس معاشرےکو(یونیورسلائز) آفاقی کرنا چاہیئے اسکو تمام دنیا میں پھیلانا چاہیئے۔جس حد تک کسی معاشرے کے پہلو اسلام سے روشنی پا رہے ہیں۔اور اس کی بنیادیں اسلام میں پیوستہ ہیں…اس لئے احمدی خواتین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے رہن سہن اور طرزِ معاشرت کو اسلام کے مطابق بنائیں خواہ وہ مشرق سے تعلق رکھتی ہوخواہ وہ مغرب سے تعلق رکھتی ہوں‘‘

(حوا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ۔ص ۴۴)

میری بہنوہم اپنے عمل سے اپنے اخلاق سے اپنی قربانیوں سے اپنے حسنِ سلوک سے دنیا پر واضح کر دیں کہ صداقت ہمارے پاس ہے۔ حقیقی اسلام کی تصویر احمدیت کے آئینے میں دنیا کے سامنے کھینچ دیں۔وہی تصویر جو مدھم ہو چکی ہے اور ایک بار پھر حضرت مسیح موعودؑ نے آ کر دنیا کو دکھائی ہے۔وسعتِ حوصلہ، رواداری اور برداشت سے کام لیتے ہوئے خوش اسلوبی سے اپنا پیغام دوسروں تک پہنچائیں۔ دنیا کی چکا چوندسے، لغویات اوراسلام سے دور کرنے والی بد رسموں سے بچیں۔حیا عورت کا زیور ہے اسکی حفاظت کریں۔ہمارے اعلیٰ کردار اوراعلیٰ اوصاف کی خوشبو سے یہ معاشرہ اور ہمارا گلشنِ احمدیت مہک اٹھے۔ہمارے پر امن وجود سے، ہمدردئ خلق کے کاموں سے۔ہمارے گردو پیش کے ماحول میں ہماری ایک عزت اور وقار ہو۔

اَفشُو السَّلَامَ بَینَکُم۔ (صحیح مسلم)آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔ آنحضرتﷺ ایک مجلس کے پاس سے گذرے جس میں مسلمان،مشرکین،بت پرست،یہود سب ملے جلے بیٹھے تھے آپﷺ نے ان کو السلام علیکم کہا اور فرمایا

’’تم ہر ملنے والے کو سلام کروخواہ تم اسے جانتے ہو یا نہیں‘‘

(بخاری باب الاستیزان)

ہم بھی اجنبیت کی فضا کودور کرتے ہوئے سلام کی عادت کو رواج دیں اور ایک دوسرے کی سلامتی کا باعث بنیں۔

قُولُو لِلنَّاسِ حُسْنًاً(البقرۃ۸۴)

لوگوں سے نرمی اور احسن طریق پر بات کرو۔بشاشت سے ملو۔

پھرہمارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے۔ ہمارے ہمسائے جن کے بارے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ

’’ہر ایک ہمسایہ چاہے وہ عیسائی ہے چاہے وہ ہندو ہے،چاہے وہ سکھ ہے یا بُدھ ہے۔یہودی ہے یا مسلمان ہے۔ ان سے حسنِ سلوک ہو گا تو آپ نیکیوں کو پھیلانے والے ہونگے اور ان نیکیوں کو پھیلانے کی وجہ سے اپنے تبلیغ کے میدان کو وسیع کر رہے ہونگے۔‘‘

(ازخطاب سالانہ اجتماع لجنہ جرمنی ۲۰۱۱)

مہمان نوازی:

ایک پیغمبرانہ وصف ہے۔حضرت ابراہیمؑ کا اپنے مہمانوں کی عزت و تکریم کا واقعہ قرآن کریم کس شان سے بیان فرماتا ہے۔آنحضرتﷺ اپنے مہمانوں کے آرام و طعام کا بہت خیال رکھتے۔ خوداپنے مبارک ہاتھوں سے مہمان کا گند سے بھرا ہوابستر صاف کیا کہ وہ میرا مہمان ہے۔اس نبی معظم کے عاشق صادق حضرت مسیح موعودؑ مہمانوں سے بہت شفقت۔ مہربانی اور خاص محبت کا سلوک فرماتے اور خود بڑھ کر خدمت کرنا اپنا فرض ِاولین خیال کرتے۔ انہی راہوں پر چلتے ہوئے ہمیں بھی اس خوبصورت فریضہ کو دل و جاں سے اداکرنا ہے۔دوسروں کی خاطر تکلیف اٹھانے میں راحت محسوس کرنی ہے۔

آنحضرتﷺ کی ازدواج مطہرات و صحابیات رضی اللہ عنھماہمیں جہاں عرب معاشرے میں مخلوقِ خدا کی خدمت اورفاستبقوا لخیرات میں نہایت وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آتی ہیں وہیں ہمیں نہایت عجز و انکساری، محبت و شفقت کانمونہ حضرت مسیح موعودؑ کی زوجہ محترمہ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہاکی زندگی میں نظر آتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ’’خدیجہ‘‘ کے لقب سے پکاری گئیں۔آپؓ غرباء کی امداد کرتیں۔مصیبت زدوں کی مدد۔یتیموں کی پرورش کرتیں۔مزدوروں کو ان کی مزدوری زیادہ دیتیں تا کہ وہ خوش ہو جائے۔ غریبوں کی شادیوں میں غیر معمولی مدد فرماتیں۔(اکرام ضیف کا ایسا خیال) کہ آپ رضی اللہ عنہا سٹیشن پر جاتی ہیں تو اپنی موٹر کو اس وقت مہمان عورتوں کو شہر لے جانے کے لئے پیش کر دیتی ہیں اور خود اسٹیشن پر کھڑی رہتی ہیں۔

(الحکم۱۴ جنوری ۱۹۳۴)

ایک مرتبہ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا نے حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہُ کو کہلا بھیجا کہ خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے چاہتی ہوں کہ آپ کا کوئی کام کروں۔حضرت خلیفة المسیح الاولؓ نے ایک طالب علم کی پھٹی پرانی رضائی مرمت کے لئے بھجوا دی۔ حضرت اماں جانؓ نے نہایت بشاشت قلبی سے اس رضائی کی مرمت اپنے ہاتھ سے کی اوراسے درست کر کے واپس بھجوا دیا۔

(تاریخ لجنہ جلد دوم ص۔۳۲۶)

حضرت اماں جانؓ جیسی بلند مرتبہ خاتون نے اس رضائی کی مرمت کر کے جن صفاتِ حسنہ کا عملی ثبوت پیش کیا وہ ہمارے لئے قابل تقلید مثال ہے۔جب تک عجز و انکسار نہ ہو ایسا کام کرناناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

حضرت سیدہ صغریٰ بیگم حرم حضرت خلیفة المسیح الاولؓ جو جماعت میں احتراماً ’’اماں جی‘‘ کے لقب سے پہچانی جاتی ہیں۔نادار۔ یتیم بچوں کی پرورش کرتیں۔مستحق۔ قابل ِ امداد عورتوں کا ان کے ہاںمستقل قیام کرنا۔ انکی صبر۔ شکر۔ توکل اور وقار سے درویشانہ۔ سادہ۔ ہمدردی خلائق سے بھر پورزندگی ہمارے لئے نشان راہ بن گئی۔

(ماخوزازمحسنات ۲۴۶۔۲۴۹)

معاشرے کی بھلائی کے جذبے سے سرشار سینکڑوں معزز و مکرم خواتین ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔

نازاں ہو جس پہ آج بھی اور کل بھی ہو فدا

ہم زندگی کریں تو کریں ایسی اختیار

ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہماراہر ایک سے ایسا بے لوث بے غرض حسنِ سلوک ہوکہ دوست دشمن سب جان لیں کہ اس احمدی عورت سے بڑھ کر کوئی دنیا کا خیر خواہ نہیں۔ کوئی سچا وفادار نہیں۔ کوئی دکھ سکھ میں شامل ہونے والا نہیں۔ ہم اپنی اس سوچ کو وسیع کریں تو پھر دیکھیں کیسا حسین معاشرہ پیدا کرنے والی ہو جائیں گی۔

حضوراقدس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

’’بہت ساری باتیں، بہت سارے دلائل آپ دنیا کو دیتے ہیں لیکن دنیا یہ دیکھتی ہے کہ آپ میں خود ان پر عمل کرنے کی کس حد تک صلاحیت ہے اور کس حد تک کر رہی ہیں۔اگر خود اپنے عمل ایسے نہیں تو کبھی دنیا پہ اس بات کا اثر نہیں ہوتا‘‘

(ازخطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماء اللہ جرمنی ۲۰۱۱)

میری بہنو! ہر قوم اور ملک کی اچھی اور بری باتیں ہوتی ہیں۔ایک مومنہ وہ ہے جو ہر اچھی بات کو اپنائے اور جو برائیاں ہیں انہیں رد کر دے۔ ہم جوگھروں میں بیٹھی یا معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالنے والی احمدی خواتین ہیں۔ہمیں چاہیئے کہ دنیا میں جہاں بھی ہوںاپنے ملک کی وفادار ہوں۔قومی زبان سیکھیں۔ ملکی قوانین کا احترام۔ وقت کی پابندی۔ نظم و ضبط قائم رکھنے والی ہوں۔ اپنے ہاتھ اور زبان سے کسی کو دکھ نہ دینے والی۔دوسروں کی عزت نفس اور جذبات کا خیال رکھنے والی ہوں۔

اسلام امن کا پیغام دیتا ہے۔’’محبت سب کے لئے۔نفرت کسی سے نہیں‘‘کا بہترین نمونہ اپنی ذات سے پیش کرنے والی ہوں۔احمدی ہونے کے ناطے ہمارا کردار ایک نرالا اور انوکھا کردار ہو جس سے اسلام اور احمدیت کی جھلک نمایاں ہو۔ایسا نمونہ ہوں کہ دوسرے آپ کے عمدہ اخلاق کو دیکھ کر خود کھنچے چلے آئیں۔ ہم دوسروں سے مدد لینے کی بجائے خود آگے بڑھ کر مدد دینے والی ہوں۔ہمارے ہاتھ مانگنے والے نہ ہوں۔خو د دوسروں کودینے والے ہوں۔حضرت مصلح موعودؓ کابہت خوبصورت شعر ہے؎

تو سب دنیا کو دے لیکن

خودتیرے ہاتھ میں بھیک نہ ہو

میری بہنو! دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ ہوتے ہوئے معاشرے کے لئے نافع الناس وجودبنیں۔ بچوں کو خود غرض بنانے کی بجائے سکولوں یونیورسٹیوں میں تعلیم کے دوران ایک دوسرے کی مدد کرنے کی عادت ڈالیں۔ایک دوسرے کے لئے دعائیں کرنے کی عادت ڈالیں۔ کبھی نیک باتیں اور علم سکھانے میں بخل سے کام نہ لیں۔یہ نیکیاں صدقۂ جاریہ ہیں۔

آیئے ! ہم بنی نوع انسان کی بھلائی کی تڑپ رکھتے ہوئے معاشرے میں امن اورخیر کی ضامن بن جائیں۔ مسیح محمدی ؐ کے روحانی درخت کی سر سبز شاخیں بنیں۔وہ کونپلیں بنیں جن سے ہلکی ہلکی خوشبوہر وقت نکلتی رہے۔جس سے دل و دماغ معطر۔ ہماری روح اور ہمارا نفس خوشبو دار ہو جائے۔

پیاری بہنو! شہیدانِ احمدیت کے واقعات کوئی صدیوں پرانے نہیں ہیں کل کے تازہ خون سے رنگین ہم سبکی مشترکہ داستانیں بتا رہی ہیں کہ ان کی شہادتوں کے بعد ان کے اعلیٰ اخلاق و اعلیٰ اقدار کی گواہیاں ان کے ارد گرد کا معاشرہ دے رہا ہے۔ان کے دوست۔ احباب۔ ہمسائے۔ سٹاف۔ کیا احمدی کیا غیر احمدی سب رطب اللّسان ہیں کہ ایسا نیک۔عبادت گذار۔ہمدرد۔سچا۔مخلص۔ فائدہ رساں وجود ہماری کمپنی میں کوئی اورنہیں تھا۔ایسا دکھ درد کا ساتھی کوئی اور ہمسایہ نہیں تھا جس کا جب چاہو دروازہ کھٹکھٹا دو۔ ایسا نیک فرد پورے محلہ میں کوئی نہیں تھا۔جس کے وجود سے ہر امیر غریب فیض پا رہا تھا۔غریبوں پردستِ شفقت تھا تو امیروں کو نیکیوں کا درس۔ ان کی یہ خوبصورت ادائیں۔ اعلیٰ اخلاق۔ ان کی نیکیاں خدا کے حضور اتنی مقبول ہوئیں کہ خدا نے انہیں ہمیشہ کے لئے آسمان کے روشن چمکتے ستارے بنا دیا۔ سیدنا و امامنا پیارے حضور نے جس جس طرح ان کی زندگیوں کو اپنے مبارک الفاظ سے خراجِ تحسین پیش کیا۔

ایں سعادت بزور بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

میری بہنو ! دنیا کو آج ایسی لاکھوں ماؤں کی ضرورت ہے۔جن کے بطن سے ایسی نیک سیرت نسلیں پیدا ہوں۔ ایسی بہادرماؤں کی ضرورت ہے جنہوں نے بے خوف ہو کر شہادت کے اگلے روز ہی اپنے بچوں کو انہی خون سے بھری مسجدوں میں پھر نمازوں کے لئے بھجوادیا۔ ایسے پاک وجود اپنے قابل تقلید عملی نمونوں کے ساتھ ہمارے لئے روشن مثالیں ہیں۔آیئے ! ہم بھی باقیات الصالحات کی راہوں پر قدم ماریں۔کہ!

تمھیں احمدیت کا جوہر ملا ہے

زمانے سے روشن مقدر ملا ہے

جہاںبھر کا لاثانی گوہر ملا ہے

بزم اس نور سے جگمگا دو

نئی اک محبت کی دنیا بسا دو

(ثاقب زیروی مرحوم)

آئیےدیکھیں ! خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی دنیا کتنی وسیع اور خوبصورت ہے۔ وہ ہوائیں جو قدرت نے ہمارے سانسوں کو تازگی،پاکیزگی اور زندگی دینے کے لئے چلائی ہیں وہ ہوائیں آج معاشرے کی بد اخلاقی، نفسا نفسی اور خود غرضی جیسی بد عادات سے متعفن ہوتی جا رہی ہیں۔آج ہمار ا اور صرف ہمارا احمدی خواتین کا فریضہ ہے کہ انہیں اپنے نیک طور اطوار سے پاک معطر بنا دیں۔ایسی امن و سکون کی فضا پیدا کریں کہ آئندہ آنے والی ہماری نسلیں ان فضاؤں میں گھٹن محسوس کرنے کی بجائے آزادانہ سانس لے سکیں۔ایسے پیارے نیک وجوداس معاشرے کو دے کر جائیں جو سچے کھرے۔ اصولوں کے پابند۔ محبت و اطاعت سے سرشار۔ اسلام و احمدیت کے سچے علمبردار ہوں۔

 آج احمدی عورت نے ہلاکت کے کنارے پر کھڑی دنیا کو حق اور سلامتی کا راستہ دکھانا ہے۔دنیا کو ایک سچا اور پاکیزہ اسلامی معاشرہ عطا کرنا ہے۔

 میری بہنو! بہادر ہو کر اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے ہوئے صدق اور نیک نیتی سے اطاعت امام میں فنا ہوتے ہوئے خلافت سے اپنے تعلق کو مضبوط کرلیں۔ اسلام و احمدیت کی فتح و نصرت میں مہدیء دوراں کے عظیم روحانی سپہ سالار کے دست وبازو بنتے ہوئے دعاؤں کے ہتھیار سے مدد کریں۔اپنی راتوں کو زندہ کرتے ہوئے دعاؤں کے زور سے اس دنیا کی قسمت بدل ڈالیں۔اپنی آنے والی نسلوں کے لئے دعاؤں کے خزانے جمع کر دیں۔

میری بہنو! آپ کے ہاتھوں میں جنت کی کنجیاں۔آپکے گھر جنت کے گہوارے اور آپکے قدموں کے نیچے جنت ہے۔

تم سے وابَستہ ہے جہانِ نو

تمہیں سونپی گئی زِمام چلو

آگے بڑھ کر قدم تو لو دیکھو

عہدِ نو ہے تمھارے نام چلو

میں اپنے مضمون کا اختتام اپنے پیارے آقا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ کے با برکت الفاظ کے ساتھ کروں گی۔آپ سیدی فرماتے ہیں:

’’پس غور کریں اور اپنے جائزے لیں،ہمارے مقاصد بہت اونچے ہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے بہت اعلیٰ مقاصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ دنیا کے پیچھے چلنے کے لئے پیدا نہیں کیا ہے بلکہ دنیا کو اپنے پیچھے چلانے کے لئے پیدا کیا ہے۔خیرِ امت بنایا ہے کہ اب دنیا کی رہنمائی آپ نے کرنی ہے…ترقی کے راستوں کا تعین اب آپ نے کرنا ہے۔نیک اعمال آپ نے بتانے ہیں‘‘۔

(ازخطاب لجنہ اماء اللہ جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۱۲)

خدا تعالیٰ ہمیں اپنے مقام اور ذمہ داریوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین