//انگریزوں نے چین سے چائے کی کاشت کا صدیوں پرانا راز کیسے چرایا؟(قسط اوّل)
chai

انگریزوں نے چین سے چائے کی کاشت کا صدیوں پرانا راز کیسے چرایا؟(قسط اوّل)

. زیڈ سید

(چائے کے عالمی دن کے موقعے پر لکھی جانے والی خصوصی تحریر)

لمبے تڑنگے رابرٹ فارچیون نے قلی کے آگے سر جھکا دیا۔ اس نے ایک زنگ آلود استرا نکالا اور فارچیون کے سر کا ابتدائی حصہ مونڈنے لگا۔ یا تو استرا اتنا کند تھا یا پھر قلی ہی ایسا اناڑی تھا کہ فارچیون کو لگا کہ ’جیسے وہ میرا سر مونڈ نہیں رہا بلکہ کھرچ رہا ہے۔‘ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو کر گالوں پر ڈھلکنے لگے۔

یہ ستمبر 1848 میں چینی شہر شنگھائی سے کچھ دور واقع ایک علاقے کا واقعہ ہے۔ فارچیون ایسٹ انڈیا کمپنی کا جاسوس ہے جو چین کے اندر ممنوعہ علاقے میں جا کر وہاں سے چائے کی پتیاں چرانے کی مہم پر آیا ہوا ہے۔ لیکن اس مقصد کے لیے اسے سب سے پہلے بھیس بدلنا ہے جس کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ چین کے رواج کے مطابق ماتھے کے اوپری حصے سے بال منڈوا دے۔ اس کربناک عمل سے گزرنے کے بعد فارچیون کے مترجم اور رہنما نے اس کے بالوں میں ایک لمبی مینڈھی گوندھ کر اسے چینی لبادہ پہنا دیا اور اسے تنبیہ کی کہ وہ اپنا منھ بند رکھے۔

ایک مسئلہ اب بھی باقی تھا جسے چھپانا آسان نہیں تھا۔ فارچیون کا قد عام چینیوں کے مقابلے پر ایک فٹ سے بھی لمبا تھا۔ اس کا حل اس نے کچھ یوں نکالا کہ لوگوں سے کہہ دیا جائے کہ وہ دیوارِ چین کے دوسری طرف سے آیا ہے جہاں کے لوگ طویل قامت ہوتے ہیں۔یہ چائے کی پتیاں تھیں اور ان کے فوائد کے تجربے کے بعد بادشاہ نے عوام کو حکم دیا کہ وہ بھی اسے آزمائیں۔ یوں یہ مشروب چین کے کونے کونے تک پھیل گیا۔

یورپ سب سے پہلے 16ویں صدی کی ابتدا میں چائے سے آشنا ہوا جب پرتگالیوں نے اس کی پتی کی تجارت شروع کر دی۔ ایک صدی کے اندر اندر چائے دنیا کے مختلف علاقوں میں پی جانے لگی۔ لیکن خاص طور پر یہ انگریزوں کو اتنی پسند آئی کہ گھر گھر پی جانے لگی۔

ایسٹ انڈیا کمپنی مشرق سے ہر قسم کی اجناس کی تجارت کی ذمہ داری تھی۔ اسے چائے کی پتی مہنگے داموں چین سے خریدنا پڑتی تھی اور وہاں سے لمبے سمندری راستے سے دنیا کے باقی حصوں کی ترسیل چائے کی قیمت میں مزید اضافہ کر دیتی تھی (اس وقت سی پیک والا راستہ دریافت نہیں ہوا تھا!)۔ یہی وجہ تھی کہ انگریز شدت سے چاہتے تھے کہ خود اپنی نوآبادی ہندوستان میں چائے اگانا شروع کر دیں تاکہ چین کا پتہ ہی کٹ جائے۔

اس منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ چائے کا پودا کیسے اگتا ہے اور اس سے چائے کیسے حاصل ہوتی ہے، سرتوڑ کوششوں کے باوجود اس راز سے پردہ نہ اٹھ سکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اب کمپنی نے رابرٹ فارچیون کو اس پرخطر جاسوسی مہم پر بھیجا تھا۔

اس مقصد کے لیے اسے چین کے ان علاقوں تک جانا تھا جہاں شاید مارکوپولو کے بعد کسی یورپی نے قدم نہیں رکھا تھا۔ اسے معلوم ہوا تھا کہ فوجیان صوبے کے پہاڑوں میں سب سے عمدہ کالی چائے اگتی ہے اس لیے اس نے اپنے رہبر کو وہیں کا رخ کرنے کا حکم دیا۔

سر منڈوانے، بالوں میں نقلی مینڈھی گوندھنے اور چینی تاجروں جیسا روپ دھارنے کے علاوہ فارچیون نے اپنا ایک چینی نام بھی رکھ لیا، سِنگ ہُوا۔ یعنی ’شوخ پھول۔‘

ایسٹ انڈیا کمپنی نے اسے خاص طور پر ہدایات دے رکھی تھیں کہ ’بہترین چائے کے پودے اور بیج ہندوستان منتقل کرنے کے علاوہ آپ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ آپ اس پودے کی کاشت اور چائے کی پتی کی تیاری کے بارے میں ہر ممکن معلومات حاصل کر کے لائیں تاکہ انھیں بروئے کار لا کر ہندوستان میں چائے کی نرسریاں قائم کرنے میں ہر ممکن مل سکے۔‘اس کام کا معاوضہ اسے پانچ سو پاؤنڈ سالانہ ادا کیا جانا تھا۔

فارچیون کا کام آسان نہیں تھا۔ اسے چین سے چائے کی پیداوار کے طریقے ہی نہیں سیکھنا تھے بلکہ وہاں سے اس نایاب جنس کے پودے چوری کر کے لانے تھے۔ فارچیون تربیت یافتہ ماہرِ نباتیات تھا اور اس کے تجربے نے اسے بتا دیا تھا کہ چند پودوں سے کام نہیں چلے گا، بلکہ پودے اور ان کے بیج بڑے پیمانے پر سمگل کر کے ہندوستان لانا پڑیں گے تاکہ وہاں چائے کی پیداوار بڑے پیمانے پر شروع ہو سکے۔یہی نہیں، اسے چینی مزدوروں کی بھی ضرورت تھی تاکہ وہ ہندوستان میں چائے کی صنعتی بنیادوں پر کاشت اور پیداوار میں مدد دے سکیں۔اس دوران اسے خود چائے کے پودوں کی تمام اقسام، اگنے کے موسم، کاشت، پتی کی پیداوار، سکھانے کے طریقوں وغیرہ کے بارے میں تمام علم حاصل کرنا تھا، چاہے وہ سبز چائے ہو یا کالی، سفید ہو یا سرخ چائے۔

فارچیون کا مقصد عام چائے کے پودے حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ وہ عمدہ ترین چائے حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ ہندوستان میں بڑے پیمانے پر چائے کا بین الاقوامی کاروبار عمدہ ترین چائے سے کیا جائے۔آخر کشتیوں، پالکیوں، گھوڑوں اور دشوار گزار راستوں پر پیدل چل کر تین ماہ کے دشوار گزار سفر کے بعد فارچیون کوہِ وویی کی ایک وادی میں قائم چائے کے ایک بڑے کارخانے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہاں چائے کی تیز مہک کے علاوہ دروازے پر لگے لکڑی کے ایک تختے نے فارچیون کا استقبال کیا۔ اس پر چائے کی تعریف میں ایک قدیم نظم کندہ تھی:

اعلیٰ چائے کی پتی میں

شکنیں ہونی چاہییں

جیسے کسی تارتار کے چمڑے کے جوتے

لہریں ہوں

جیسے کسی توانا بیل کی گردن کا لٹکتا گوشت

یہ یوں کھِلتی ہو

جیسے کسی وادی میں دھند اٹھتی ہے

یہ یوں چمکتی ہو

جیسے کسی جھیل پر صبا کا جھونکا

یہ ایسی ملائم اور نم ہو

جیسے تازہ بارش کے بعد زمین

اس سے قبل یورپ میں سمجھا جاتا تھا کہ سبز چائے اور کالی چائے کے پودے الگ الگ ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دیکھ کر فارچیون کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ دونوں اقسام کی چائے ایک ہی پودے سے حاصل کی جاتی ہے۔ اصل فرق دونوں کے سکھانے اور پکانے کے طریقوں میں ہے۔

فارچیون یہاں چائے بننے کے ہر مرحلے کا گہرا مگر خاموش مشاہدہ کرتا رہا اور نوٹس لیتا رہا۔ اگر اسے کسی بات کی سمجھ نہیں آتی تھی تو وہ اپنے رہبر کی وساطت سے پوچھ لیتا تھا۔

سنگین غلطی جو خوش قسمتی میں بدل گئی

فارچیون کی محنت رنگ لائی اور بالآخر وہ حکام کی آنکھ بچا کر چائے کے پودے، بیج اور چند مزدور بھی ہندوستان سمگل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کی نگرانی میں آسام کے علاقے میں یہ پودے اگانا شروع کر دیے۔

لیکن انھوں نے اس معاملے میں ایک سنگین غلطی کر دی تھی۔

فارچیون جو پودے لے کر آیا تھا وہ چین کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے ٹھنڈے موسموں کے عادی تھے۔ آسام کی گرم موطوب ہوا انھیں راس نہیں آئی اور وہ ایک کے بعد ایک کر کے سوکھتے چلے گئے۔اس سے قبل کہ یہ تمام مشقت بےسود چلی جاتی، اسی دوران ایک عجیب و غریب اتفاق ہوا۔

اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی خوش قسمتی کہیے یا چین کی بدقسمتی کہ اسی دوران اس کے سامنے آسام میں اگنے والے ایک پودے کا معاملہ سامنے آیا۔اس پودے کو ایک سکاٹش سیاح رابرٹ بروس نے 1823 میں دریافت کیا تھا۔ چائے سے ملتا جلتا مقامی پودا آسام کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی جھاڑی کی حیثیت سے اگتا تھا۔ تاہم زیادہ تر ماہرین کے مطابق اس سے بننے والا مشروب چائے سے کمتر تھا۔فارچیون کے پودوں کی ناکامی کے بعد کمپنی نے اپنی توجہ آسام کے اس پودے پر مرکوز کر دی۔ فارچیون نے جب اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ چینی چائے کے پودے سے بےحد قریب ہے، بلکہ ان کی نسل ایک ہی ہے۔چین سے سمگل شدہ چائے کی پیداوار اور پتی کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کارکن بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔ جب ان طریقوں کے مطابق پتی تیار کی گئی تو تجربات کے دوران لوگوں نے اسے خاصا پسند کرنا شروع کر دیا۔

اور یوں کارپوریٹ دنیا کی تاریخ میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی سب سے بڑی چوری ناکام ہوتے ہوتے بھی کامیاب ہو گئی۔

دیسی چائے کی کامیابی کے بعد کمپنی نے آسام کا بڑا علاقہ اس ہندوستانی پودے کی کاشت کے لیے مختص کر کے اس کی تجارت کا آغاز کر دیا اور ایک عشرے کے اندر یہاں کی پیداوار نے چین کو مقدار، معیار اور قیمت تینوں معاملات میں پیچھے چھوڑ دیا۔

برآمد میں کمی کے باعث چین کے چائے کے باغات خشک ہونے لگے اور وہ ملک جو چائے کے لیے مشہور تھا، ایک کونے میں سمٹ کر رہ گیا۔

(باقی انشاء اللہ آئندہ شمارہ میں)