//31 اگست پنجابی اور اردو کی مشہور شاعرہ اور مصنفہ امرتا پریتم کا جنم دن

31 اگست پنجابی اور اردو کی مشہور شاعرہ اور مصنفہ امرتا پریتم کا جنم دن

۔ امرتا پریتم 31 اگست 1919ءکو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندانی نام امرت کور تھا۔ ان کے والد گیانی کرتار سنگھ لاہور کے ایک ادبی رسالے کے مدیر تھے۔ یوں امرتا کو بچپن سے ادبی ماحول ملا۔ وہ بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں کے ادبی حلقوں میں یکساں طور پر مقبول رھیں۔ ان کی نمائندہ تصانیف میں “اج آکھاں وارث شاہ نوں”، “پنجر”، “ڈاکٹر دیو”، “ساگر اور سیپیاں”، “رنگ کا پتہ”، “دلی کی گلیاں”، “تیرہواں سورج”، “کہانیاں جو کہانیاں نہیں”، “کہانیوں کے آنگن میں” اور ان کی خود نوشت “رسیدی ٹکٹ” کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ نامور شاعر ساحر لدھیانوی سے ان کا یک طرفہ عشق ادبی حلقوں میں خاصامقبول رہا۔

تقسیمِ ہند کے بعد انھوں نے دہلی میں سکونت اختیار کر لی لیکن تقسیمِ پنجاب کی خونی لکیر عبور کرنے کا گھمبیر تجربہ ساری عمر ایک ڈراؤنے خواب کی طرح اُن کے تعاقب میں رہا۔ بٹوارے کے بطن سے پھوٹنے والی لہو کی ندی پار کرتے ہوئے امرتا پریتم نے اُن ہزاروں معصوم خواتین کی آہ وبکا سُنی جو جُرمِ بےگُناہی کی پاداش میں زندہ درگور کر دی گئی تھیں۔ اس موقع پر امرتا نے وارث شاہ کی دہائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ اے دکھی انسایت کے ہمدرد تو نے پنجاب کی ایک بیٹی کے المیے پر پوری داستانِ غم رقم کر دی تھی، آج تو ہیر جیسی لاکھوں دُخترانِ پنجاب آنسوؤں کے دریا بہا رہی ہیں۔ اُٹھ اور اپنے مرقد سے باہر نکل!‘

اصل پنجابی متن کچھ اس طرح ہے:

اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھوں قبراں وچوں بول

تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

اک روئی سی دھی پنجاب دی تُوں ِلکھ ِلکھ مارے وین

اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن

اُٹھ دردمنداں دیاں دردیاں اُٹھ تک اپنا پنجاب

اج بیلے لاشاں ِوچھیاں تے لہو دی بھری چناب

کسے نے پنجاں پانیاں وچ دِتی زہر رلا

تے انہاں پانیاں نے دھرت نُوں دِتا پانی لا

ایس زرخیز زمین تے لُوں لُوں پُھٹیاں زہر

گٹھ گٹھ چڑھیاں لالیاں پُھٹ پُھٹ چڑھیا قہر

اں کِیلے لوک مُونہہ بَس فیر ڈنگ ہی ڈنگ

پل او پل ای پنجاب دے نیلے پے گے انگ

وے گلے اوں ٹُٹے گیت فیر، ترکلے اوں ٹُٹی تند

ترنجنوں ٹُٹیاں سہیلیاں چرکھڑے کُوکر بند

سنے سیج دے بیڑیاں لُڈن دِتیاں روڑھ

سنے ڈالیاں پینگ اج پپلاں دِتی توڑ

جتھے وجدی سی پُھوک پیار دی اہ ونجھلی گئی گواچ

رانجھے دے سب وِیر اج بُھل گئے اوہدی جاچ

دھرتی تے لہُو وسیا قبراں پیاں چوون

پرِیت دِیاں شاہ زادیاں اج وِچ مزاراں روون

وے اج سبھے قیدو بن گئے، حُسن عشق دے چور

اج کتھوں لیائے لبھ کے وارث شاہ اِک ہور

اَج آکھاں وارث شاہ نُوں کتھوں قبراں وچوں بول

تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

امرتا پریتم کے سائیکی پر پنجاب کی تقسیم کا زخم انتہائی گہرا تھا اور یہ اُن کی نوجوانی کی نظموں سے لے کر پُختہ عمری کی فکشن تک اُن کے ذہن پر مسلط رہا۔ ان کا ناول ’ “پِنجر”‘ اسی تقسیم کی خونچکاں داستان کا ایک باب ہے۔ پاکستانی پنجاب کے ادیبوں سے اُن کی گہری شناسائی اور سچّی دوستی تھی، اور اُن کی کم و پیش تمام تحریریں شاہ مکھی (اُردو رسم الخط کی پنجابی) میں مُنتقل ہو چُکی ہیں۔ وہ اِس بات کی خواہاں تھیں کہ دونوں جانب کے پنجابی ادب کو شہ مکھی اور گور مکھی میں منتقل کیا جائے تاکہ دونوں ملکوں کی نئی نسل کو دونوں جانب کا ادب میسر آ سکے۔

بھارت میں وہ ساہتیہ اکیڈمی پرسکار پانے والی پہلی خاتون تھیں۔ بھارت کا صدارتی ایوارڈ پدم شری حاصل کرنے والی بھی وہ پہلی پنجابی خاتون تھیں۔ اُن کی تحریروں کا ترجمہ انگریزی کے علاوہ فرانسیسی جاپانی اور ڈینش زبانوں میں بھی ہوا ہے اور اگرچہ وہ سوشلسٹ بلاک سے نظریاتی ہم آہنگی نہیں رکھتی تھیں لیکن مشرقی یورپ کی کئی زبانوں میں اُن کے کلام کا ترجمہ کیا گیا۔

امریکہ میں مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہنامے ’محفل‘ نے امرتا پریتم ‘ پر اپنا ایک خصوصی نمبر بھی شائع کیا تھا۔ دہلی، جبل پور اور وِشو بھارتی یونی ورسٹی کی طرف سے انھیں ڈاکٹر آف لٹریچر کی تین اعزازی ڈِگریاں دی گئیں اور 1982 میں انھیں پنجابی ادب کی عمر بھر کی خدمات کے صلے میں اعلیٰ ترین گیان پیتھ ایوارڈ بھی دیا گیا۔

31 اکتوبر 2005ء کو امرتا پریتم نئی دہلی میں وفات پا گئیں۔انہیں ان کی ادبی خدمات پر متعدد انعامات و اعزازات سے نوازا گیا، جن میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، بھارتیہ جن پتھ ایوارڈ، پدم شری کا خطاب اور پدما و بھوشن ایوارڈز کے نام سر فہرست تھے۔