//اللہ امّاں اور میں
گوشۂ ادب

اللہ امّاں اور میں

تحریر مبشرہ ناز

یہ ان دنوں کی بات ہے جب مجھے اللہ سے بہت چِڑھ تھی ہر بات میں جانے کہاں سے اللہ بِیچ میں آ جاتا۔۔۔؟ اللہ شاید ہمارا سب سے قریبی رشتہ دار تھا۔۔۔! جو مستقل ہمارے ساتھ ہی رہا کرتا۔۔۔! کبھی کبھی مجھے لگتا اللہ بھی امّاں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔۔۔! دونوں مل کر میرے خلاف سازش کرتے رہتے ہیں۔۔۔! امّاں تو امّاں ابّا بھی عجیب تھے۔۔۔! موسم کے پہلے آم گھر میں آئے۔۔۔ ابّا شام کو دکان پر جانے سے پہلے اپنے ہاتھ سے پھل کاٹ کر ہمیں دیا کرتے۔۔۔! آموں کی رُت کونسا پورا سال ہوتی چند گنتی کے دِن ہی تو آم مُیسّر آتے۔۔۔! میں بے صبری سے آم کٹنے کا انتظار کر رہی تھی کہ ابّا کی اللہ سے باتیں شروع ہو گئیں۔۔۔! ’’شکر ہے اللہ کا اُس نے ہمیں موسم کا پھل کھلایا‘‘ آنسو تو ابّا کی پلکوں پر رہا کرتے تھے۔۔۔! اِدھر کوئی اللہ رسول کی بات ہوئی اُدھر آنسو گِرنا شروع۔۔۔! اشکوں کی جھڑی میں اللہ کے ساتھ گُفتگو ختم ہوئی تو ابّا کا حکم ہوا سَکھّی کو بلاؤ۔۔۔! امّاں کی مدد کے لیئے پھپھی جان نے ایک بچی بھجوائی تھی کہ مدد بھی کردیا کرے گی اور امّاں سے کچھ ہنر بھی سیکھ لے گی ابّا ہر پھل میں سے سب سے پہلے سکھی کو حِصہّ دیا کرتے۔۔۔! اللہ کے بعد مجھے سب سے زیادہ چِڑھ سَکھّی سے تھی۔۔۔! اس کو چیز دینے کے بعد ہم بہن بھائیوں کی باری آتی۔۔۔!رات کو ہم صحن میں بچھی چارپائیوں پر سویا کرتے۔۔۔! پنکھے کے سامنے والی چارپائی پر سونے کی باریوں میں بھی سَکھّی برابر کی شریک تھی۔۔۔! جس رات اس کی پنکھے کے سامنے سونے کی باری ہوتی اس رات چاند سے باتیں ہوتیں نہ تاروں سے ۔۔۔! میری وہ ساری رات سڑتے کڑھتے گزرا کرتی۔۔۔! پھر AC آ گیا امّاں نے بہت منع کیا مگر بیرونِ ملک سے آنے والے مہمانوں کی تنگی کے خیال سے ابّا نے ایک کمرے میں AC لگوا ہی لیا۔۔۔! یہاں بھی میرا سوال ہوتا ہم کیوں مہمانوں کو اپنا AC والا کمرہ دیں۔۔۔؟ اور امّاں بےچاری مجھے سمجھاتیں مہمانوں سے اچھے سلوک کی تلقین کرتیں۔۔۔! اور موقعے کی مناسبت سے قرآن حدیث کا حوالہ بھی دیتیں امّاں خدائی فوج دار تھیں اور یہ امّاں کا سب سے بڑا ہتھیار تھا جِسے وہ ہر دم ساتھ رکھتیں۔۔۔! جب کبھی قسمت سے AC والے کمرے میں سونا نصیب ہوتا یہاں بھی سَکھّی صاحبہ ساتھ سوتیں اور ہمیشہ مجھے ہی اس کے ساتھ سونا پڑتا۔۔۔! فرش پر سب گدے ڈال کر سویا کرتے سب سے زیادہ ظلم گھر میں میرے ساتھ ہی ہوا کرتا۔۔۔! میں پھر شاکی ہوتی امّاں مَیں نے سَکھّی کے ساتھ نہیں سونا۔۔۔! کیوں۔۔۔؟ سَکھّی کو بھی اللہ نے بنایا ہے اُسی محبت سے جیسے تجھے بنایا ہے اللہ کے بنائے ہوئے سب انسان برابر ہیں۔۔۔! اور پھر مجھے ہی اس کے ساتھ سونا پڑتا۔۔۔!
اب یاد آتا ہے سب سے زیادہ ضد بھی تو میں ہی کیا کرتی تھی۔۔۔! سَکھّی میرے لیئے پانی کا گلاس لاؤ۔۔۔! پتُر آپ اُٹھ کر پی۔۔۔! اللہ نے ہاتھ پیر کس لیئے دیئے ہیں۔۔۔؟ دل جل کر سواہ ہو جاتا۔۔۔! پتہ نہیں کہاں سے امّاں آ جاتیں اور سُن لیا کرتیں۔۔۔! مجال ہے جو کبھی بیگم صاحبہ بننے کا خواب پورا ہونے دیں۔۔۔! کوئی ایک دکھ تھا، کوئی ایک ساڑاتھا۔۔۔! سَکھّی عام طور پر خاموش ہی رہا کرتی۔۔۔! ایک دن امّاں میرے لیئے قمیض کا کپڑا لائیں سَکھّی دیکھ رہی تھی، بےاختیار اس کے منہ سے نکلا “کتنا سوہنا ہے باجی جی۔۔۔!” اچھا اچھا ہن نظر نہ لا دئیں۔۔۔! میرے ڈانٹنے نے پر بھاگ گئی امّاں نے ناگواری سے منہ نیچے کر لیا مگر کہا کچھ نہیں۔۔۔! جب قمیضیں سِل کر آئیں تو دو ایک جیسی۔۔۔! ایک میری اور دوسری سَکھّی کی۔۔۔! میرے لاکھ چیخنے اور واویلا کرنے کے باوجود ہم نے عید پر ایک جیسے کپڑے پہنے۔۔۔! اُس عید پر میں دنیا کی سب سے دُکھی بچی تھی۔۔۔! اللہ سے میری بہت لڑائی ہوئی کہ اسے کبھی تو میری بات بھی مان لینی چاہیئے۔۔۔! میں شاید پیدائشی شہزادی تھی پھپھیوں کی پہلی لاڈلی بھتیجی اور اپنے دادا کی پہلی پوتی۔۔۔! جو اکثر گرمیوں کی لمبی دوپہریں دادا ابّا کی سائیکل چوری کر کے مٹر گشت کرنے میں گزرا کرتی اور پکڑے جانے پر امّاں سے لمبے لمبے لیکچر سنتی۔۔۔! ’’بیٹیاں اس طرح باہر نہیں پھرا کرتیں اللہ کو نہیں پسند دوپٹہ سر پر لو‘‘وغیرہ وغیرہ۔۔۔! پھر ایک دن وہی دوپٹہ سائیکل کے پہیہ میں پھنس کر میرے گلے کے گرد بری طرح لپٹا کہ مشکل سے جان بچی۔۔۔! ’’دیکھا اور باہر پھرو ماں کی نافرمانی کرنا اللہ کو پسند نہیں۔۔۔‘‘ ایک تو امّاں کی ڈانٹ اور اُس میں بھی اللہ کی پسند اور ناپسند۔۔۔! یہ اللہ میرا سب سے بڑا دشمن تھا۔۔۔! ایک بار مل جائے خوب لڑوں گی۔۔۔! اللہ اماں کے ساتھ ملا ہوا تھا۔۔۔! یہ اللہ اور اماں کی ملی بھگت تھی، آخرِ کار دونوں نے مجھے گھر بٹھا کر ہی دم لیا۔۔۔!
گھر میں باری باری سب کی پسند کا کھانا بنتا۔۔۔! اُس دن میری پسند کا کھانا بنا تھا۔۔۔! ابھی دسترخوان بچھ ہی رہا تھا کہ ساتھ والی خالہ جی چلی آئیں۔۔۔! بیٹا اچانک مہمان آگئے ہیں اور اس وقت گھر پر کوئی نہیں جو بازار سے کچھ لاکر دے، اب کیا کروں۔۔۔؟ امّاں نے ساری ہانڈی اُٹھا کر خالہ جی کے گھر بھجوا دی۔۔۔! میری پسند کا سالن تھا مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے خوب رونا دھونا ڈالا کہ تھوڑا سا میرے لیئے ہی رکھ لیتیں۔۔۔! “کیوں تو نواب زادی ہے۔۔۔؟” پھر پیار کرنے لگیں دیکھ تُونے اپنی پسند کی چیز کی قربانی کی ہے۔۔۔! سب سے زیادہ ثواب بھی تو تجھے ہی ملا ہے۔۔۔! میں اپنی بیٹی کو بہت اچھا پراٹھا بنا کر دوں گی۔۔۔!” اور ہم نے اس دن اچار اور پراٹھا کھایا۔۔۔! میں جو آدھی روٹی بمشکل کھایا کرتی اُس دن پورا پراٹھا کھاگئی۔۔۔! سچی بات تو یہ ہے کہ اُس دن جیسا پراٹھا دوبارہ کبھی کھایا ہی نہیں ۔۔۔! جانے کیسا مزا تھا اس میں آج بھی ذائقہ زبان پر ہے۔۔۔! لیکن امّاں کے سامنے رونا دھونا ڈالے رکھا اور امّاں منہ نیچے کر کہ مسکراتی رہیں۔۔۔! دوسرے تیسرے دن ہی خالہ جی نے ڈھیر سارے امرود بھجوائے ان کی زمینوں سے پھل آیا کرتا اور اس میں ہمارا حصہ بھی ہوتا۔۔۔! امرود مجھے بہت پسند تھے سب سے زیادہ شاید میں نے ہی کھائے۔۔۔!سودا بُرا نہیں تھا پسند کی چیز کے بدلے پسندیدہ چیز مِلی تھی۔۔۔! ایک اور سبق میں نے سیکھ لیا تھا۔۔۔! اسکول نے کیا پڑھانا اور سکھانا تھا امّاں تو سکول سے بھی زیادہ سخت اُستانی نکلیں۔۔۔! سارے کس بل نکال دیئے۔۔۔! روٹی امّاں سے مانگتی “اچھا تُو اللہ سے دعا کرابھی بن جائےگی۔۔۔!” امّاں روٹی کوئی اللہ نے پکا کے دینی ہے کیسی باتیں کرتی ہیں آپ بھی۔۔۔؟’’او کملی اُسی کے حکم سے پکے گی نا ساہواں دا کی اے کیس ویلے مُک جان۔۔۔! اُس کے حُکم کے بغیر تو میں چُہلّے تک بھی نہیں پہنچ سکتی۔۔۔! چل رکھ توا میں آ رہی ہوں۔۔۔!‘‘
اُسی رات حکیم صاحب کی بیگم اچانک چل بسیں اچھی بھلی تھیں حکیم صاحب کے لیئے چائے بنانے باورچی خانے تک گئیں اور پھر واپس ہی نہ آئیں۔۔۔! مجھے یاد ہے میرے چھوٹے سے دل پر کاری ضرب لگی تھی۔۔۔! چھوٹا سا دل اور یہ آگہی بہت ظالم تھی اللہ جسے چاہے جب چاہے لے جا سکتا ہے۔۔۔! مجھے لگا اللہ امّاں کو بھی لے جائے گا۔۔۔! ساری رات رو رو کر امّاں کی زندگی کے لیئے دعا مانگتی رہی۔۔۔! صبح اُٹھی تو امّاں زندہ تھیں۔۔۔! اس رات میری سمجھ میں اچھی طرح آ گیا تھا کہ اللہ سے ہی مانگنا ہے۔۔۔! اس رات میں نے دعا مانگنا سیکھ لیا تھا۔۔۔! وہ میری زندگی کی سب سے خُوبصورت صبح تھی۔۔۔! حکیم صاحب کی بیٹی کا بِلک بِلک کر رونا مُجھے آج بھی تڑپا دیتا ہے۔۔۔!
ایک دو گھرے اوپر نیچے کرنے سے بنتی میں فرق آ جایا کرتا ہے۔۔۔! اور اسی طرح انہی دو گھروں کے اوپر نیچے کرنے سے خوبصورت ڈیزائین بھی بن جایا کرتا ہے۔۔۔! ہمارے دل پر امّاں نے اللہ کی محبت کا بڑا خوبصورت نمو نہ ڈالا تھا۔۔۔! بچپن کا ایک حسین دور پل میں گزر گیا۔۔۔! میں بڑی ہونے لگی۔۔۔! پتہ ہی نا چلا اور اللہ سے میری چِڑھ دوستی میں بدل گئی میرے آگے ہونے کی دیر تھی وہ تو جیسے تیار بیٹھا تھا۔۔۔! ہماری پکّی دوستی ہو گئی تھی۔۔۔! امّاں نے مجھے اللہ سے محبت کرنا سکھا دیا تھا اور اس محبت نے اللہ کے بندوں سے محبت کرنا سکھایا۔۔۔! جانے کب دل کو ساڑ ساڑ کر سواہ کرتی ریت نے مجھے مانجھ ڈالا۔۔۔؟
حُسن ، جوانی ، آکڑ ، نَخرہ ھِیر بُھلا بیٹھی
ایویں کوئی نہیں جَھنگ آجاندا تخت ھزارے توں (بِسمِ اللہ کلیم)
یہ امّاں اور اللہ کی ملی بھگت تھی۔۔۔! مجھے آج بھی پورا یقین ہے کہ اماں اللہ سے ملی ہوئی تھیں۔۔۔!
اُس توں پہلے گھر نُوں مُڑ جا سَکھیئے جِس ویلے
پِیہنگاں دے پَرچھاویں لَمےّ ہونْ ہُلارے توں (بِسمِ اللہ کلیم)

TAGS: