//عکسِ ماہ
moon_chand

عکسِ ماہ

(تحریر امتہ الجمیل احسان جرمنی)

آسمان کی پُر اسرار وادی میں ہزاروں سال سے اپنی ایک ہی شکل اور ایک ہی روپ میں ایک تنہا چاند ہمارے کتنے احساسات کا ترجمان ہے۔اگر جغرافیائی حدود میں جا نکلیں تو یہ سوائے مٹی  کے ہزاروں بے ھنگم و بے ڈھنگے ٹیلوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔مگر اسمیں ایسی کیا بات ہےکہ یہ شاعروں کا تخیل بن گیا اس کے حسنِ لا زوال کی مثالیں دی جاتی ہیں اور اس سے جڑی کئی رومانوی داستانیں اپنے اپنے انجام کو پہنچیں اس کی چاندنی اور روپ کو گواہ بنا کر جینے مرنے کی قسمیں کھائ گئیں ۔

کسی ماں نے کہا میرا چاند تو کسی نے کہا وہ چاند جیسا ہےکسی نے چاند نہ کہا تو اس کا عکس ہی بنا دیا ۔

 توقارئین !چاند جو شاعرانہ صنف میں عکس ماہ کے روپ  میں شعروں کی زینت بنتا ہے۔اس کا عکس شاعروں کے تخیل میں ایک ہلچل مچا دیتاہے  اس پہ نظر پڑتے ہی شعروں کا نزول ہونےلگتا ہے۔اور رات کی تاریکیوں میں سحر ہونےلگتی ہے۔یہ کائنات کا حسن اور خوبصورتی ہے۔

غور کریں کبھی رات کےپچھلے پہر  اپنی تمام تر جولا نیوں سمیت جب چاند کا عکس جھیل کے ساکت پانی میں اپنے حسنِ لازوال سے ہلچل مچاتا ہےتو ندی کا سارا حسن عکس ماہ بن جاتا ہے۔ دن کے وقت ندی یا جھیل کا  نظر آنے والا گدلا پانی  رات کی تاریکی میں عکس ماہ کی صورت میں کسی بے چین شاعر کا تخیل بن جاتا ہے ۔دلوں کا سکون بن کر  محسوسات میں نغمگی جھلکنے لگتی ہےکیف و سرور و مستی کی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔

رومانوی چہرے شاداب  اور ہر صورت مہتاب بن جاتی ہے  اور  پُر اسرار رات کی خاموش تاریکیوں کو زبان مل جاتی ہے ۔ سمندر ندی اور جھیلوں کے پانیوں کےاندر اٹھنے والے جوار بھاٹے دلوں کے سکون بن جاتےہیں ۔

دل میں چاند کا عکس نظر میں سمندر ہے

جذبوں کی لہریں سمندر کے خواب بنتی ہیں

وہ چاند ھے تو عکس بھی پانی میں آئے گا

کردار خود ابھر کے کہانی میں آئےگا