//عالم الغیب

عالم الغیب

. تحریر سلمیٰ قریشی – سرگودھا پاکستان

گھر جاتے ہوئے رحمت کے قدم اسکا ساتھ نہ دے رہے تھے، پیروں میں پڑی سوچ کی زنجیر نے پاؤں من بھر کے کر رکھے تھے، اسکی جیب میں صرف دو سو روپے تھے ۔ کام بند کرنے سے پہلے اس نے گئی مرتبہ پیسے گنے اور حساب لگایا کہ ان پیسوں سے کون کونسی ضرورت پوری کر سکے گا ۔

اسکی آمدن کوئی لگی بندھی نہ تھی، کام آجاتا تو کچھ دن اچھے گزر جاتے، نہ ہوتا تو پریشانی اور خاموش اداسی پورے گھر کو گھیر لیتی ۔ ضرورتوں کو آنکھوں میں رکھ کر رحمت آنکھیں میچ لیتا ۔ کبھی سوچتا کوئی اور کام شروع کر دے پر اسے تو اور کوئی کام بھی نہ آتا تھا — باپ نے بچپن ہی سے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا تھا ۔ آہستہ آہستہ ہاتھ میں صفائی آتی گئی اور اب تو اس مہارت سے جوتا گانٹھتا کہ ٹانکہ نظر نہ آتا —- چمڑے سے چمڑا بڑی صفائی سے جوڑ کر ایسے جماتا کہ جوتا نیا دکھنے لگتا – ایک وقت تھا کہ اُسکے پاس بہت جوتے مرمت کیلئے آتے ۔ صبح آتے ہی پاک شوز سٹور کے سامنے تھڑے پر اپنا بکس کھول کر اوزار نکالتا، انہیں ٹھکانے سے رکھتا، سامنے مرمت طلب جوتوں کیلئیے لوہے کا سِندس رکھ کر کچھ پھٹے پرانے جوتے اور چمڑے کے ٹکڑے دائیں بائیں ڈھیری سی بنا لیتا، یہ اس کی ورکشاپ اور روزگار کا وسیلہ تھا – اپنے کام میں مگن، مطمئن، قانع، پرسکون سا دکھتا رحمت شام گئے تک خستہ و بوسیدہ جوتوں کے دریدہ دہانوں کو آر کی مدد سے دھاگے کے ساتھ مضبوطی سے سی کر نئی چھپ دینے میں کوشاں رہتا – کچھ عرصہ تو باپ بیٹا اکٹھے آتے رہے پر پھر اسکے باپ کو اٹھنے میں دقّت ہونے لگی تھی بڑی مشکل سے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر درد برداشت کرتے ہوئے اُٹھتا۔ جب اتنا کرنے کی ہمت بھی نہ رہی تو گھر بیٹھ گیا۔ ٹانگوں کی سکت ختم ہوتی گئی۔ کام کرنے کا عادی تھا گھر بیٹھا تو چارپائی سے ہی لگ گیا۔  رحمت کبھی کبھار حکیم سے دوا لے آتا مگر ایک بھرا پُرا کنبہ کھانے والا تھا اور کمانے والا ہاتھ صرف رحمت کا تھا ۔ بس کبھی آتے ہوئے دودھ لے آتا اور باپ کو گرم دودھ کا پیالہ دے دیتا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ اب جوتے مرمت کروانے کا رواج بھی کم ہوتا چلا جا رہا تھا ۔ ایک وقت تھا جب اچھے چمڑے کا جوتا کئ کئی سال چلتا ۔ مرمت کروائے جائیں …کام چلاتے جائیں، اب تو ادھر جوتا ٹوٹا ۔ اُدھر اُسے پھینک ، جھٹ سے نیا خرید لائے، لگتا ہے فنِ کفش دوزی اب آخری سانسیں لے رہا ہے ۔ رحمت انہی سوچوں میں گم گھر میں داخل ہوا تو سب نے امید بھری نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔

’’ پُتر، دوائی لے آیا میری!‘‘ باپ نے نقاہت سے پوچھا ۔

’’ابّا، کل لے آؤں گا، ضرور !‘‘

’’اچھا ! پُتر …بڑا درد ہے ! ہائے ! “ اس نے منہ دوسری جانب کرتے ہوئے کہا ۔

رحمت نے جیب سے پیسے نکال کر بیوی کو دیتےہوئے کہا ’’ بس یہی ہیں ۔ گزارا کر لو۔ ‘‘بیوی نے گنے اور بولی، ’’آج سٹور والے نے سودا نہیں دیا کہہ رہا تھا پہلے پچھلا حساب صاف کرو، کاکا گیا تھا گھی لینے، انکار کر دیا اسنے “

عید آئی کھڑی ہے، تینوں بچے نئے کپڑوں کیلئے ضد کر رہے ہیں ۔ اور ہاں کل چھیمو کے سسرال والے آرہے ہیں تاریخ لینے، عید کے بعد رخصتی مانگی ہے ۔ نہ نہ کرتے بھی کافی خرچہ اُٹھ جائے گا ۔” رحمت کے کاندھے پر دو بہنوں کی شادی کی ذمہ داری بھی تھی ۔

وہ خاموشی سے ڈوبتے سورج کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ پھر ایکدم سے اُٹھا، سلیپر اُڑسے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور کندھے پر پٹکا ڈال باہر جانے لگا تو بیوی گھبرا کربولی، ” اسوقت کہاں جا رہے ہیں ؟

آج کچھ جلدی واپس آ گیا تھا ۔ آجکل شام سے پہلے ہی دکانیں بند ہو جاتی ہیں تو پھل والے آگے ریڑھیاں لگا لیتے ہیں کافی رش ہو جاتا ہے ۔ جاکر بیٹھتا ہوں ۔ ہو سکتا ہے کوئی گاہک آ جائے۔ کچھ نہ کچھ کمائی ہو جائے ۔ شاید! رحمت خود کلامی کے انداز میں بولتا ہوا باہر نکل گیا ۔

جب سے موذی مرض نے آبادیوں کو ویرانوں میں بدلا تھا زندگی خود کو ڈھونڈتی پھر رہی تھی ۔ گمشدہ مسکراہٹ کے متلاشی اجنبی چہرے—خود سے دور خود کو سنبھالنے میں کوشاں تھے –

شیخ امجد دکان بند کر کے گھر آئے تو طبیعت میں بیقراری سی تھی – چائے پی، کچھ دیر ٹی وی دیکھا، اکتا کر بند کر دیا… پھر اچانک اُٹھے، گاڑی کی چابیاں لیں اور ابھی آیا کہہ کر باہر نکل گئے – سیدھا بازار کا رُخ کیا – دکانیں بند ہو چکی تھیں مگر سڑک کے دونوں جانب پھل فروشوں کی ریڑھیوں نے نیا جہان آباد کر رکھا تھا – بازار اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا صرف ریڑھیوں پر ٹنگے ننھے ننھے سے بلب جگنوؤں کی طرح تاریکی کے خلاف جہاد کر رہے تھے ۔

“اتنا اندھیرا!! لوڈشیڈنگ ہے!! یا شاید دکانوں کے باہر لگے بڑے بڑے انرجی سیورز کی قطاریں بجھ گئی ہیں، اسلئے “ ! شیخ امجد نے سوچا اور گاڑی سے اتر کر پھلوں کا سرسری جائزہ لیتے، قیمتیں پوچھتے آگے بڑھتے رہے ۔

اچانک ان کے بڑھتے قدم رُک گئے — ریڑھیوں سے کچھ پیچھے ملگجے اندھیرے میں سر نیچے کئے ایک موچی پرانے جاگرز کو سینے میں مصروف تھا – اس وقت ! اتنے اندھیرے میں یہ کیسے کام کر رہا ہوگا !!!

 شیخ امجد نے ایک نظر اس پر ڈالی اور آگے نکل گئے۔ اپنی ضرورت اور پسند کا پھل خرید کر لوٹتے ہوئے انکے قدم موچی کے پاس آکر جم گئے۔ رحمت اپنے کام مصروف دائیں بائیں سے لاتعلق سا تھا ۔ تب شیخ امجد نے آہستگی سے بٹوا نکالا — اس میں سے صاف ستھرے نوٹ نکال کر رحمت کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا “ یہ رکھ لو، جاتے ہوئے بچوں کیلئے کچھ پھل لیتے جانا –” جی اچھا !! “ رحمت نے اسی اطمینان سے جو اس کی طبیعت کا خاصہ تھا کہہ کر پیسے پکڑ لئیے –

علی الیکڑانکس کے مالک شیخ امجد اور رحمت موچی دونوں جان گئے تھے کہ شام ڈھلے انہیں گھر سے باہر نکلنے پر آمادہ کرنے والی ہستی کونسی ہے!!

رب سائیں اپنے بندوں سے ہرگز غافل نہیں۔

مسکراہٹ نے د ونوں کے چہروں پر اجنبیت کی جگہ آسودگی بکھیر دی تھی۔