//ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں
bdi-aapa

ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں

تحریر فوذیہ منصور

بقول شعراء کے “صنف نازک سے ہے کائنات میں رنگ”یوں تو اسلام میں خواتین کی عزت و احترام کا اندازہ رسول اللہ ﷺکی اس مبارک عمل سے بخوبی ہو جاتا ہے ۔ کہ جب حضرت فاطمة الزہرہ ؓ تشریف لاتیں۔ تو  آپ  ؐ  احتراماً  کھڑے  ہو  جاتے  تھے۔اور  آپ ؓ کے  لیئے اپنی چادر بچھا دیتے ہیں۔ عورت کی عزت و احترام کی مثالیں آپؐ پہ ختم ہیں۔

ہم آپ ؐکے امتی آپؐ کے چاہنے والے آپؐ کے نام پہ جانیں قربان کرنے والے۔ کیا آپؐ کے احکامات پہ عمل کرتے ہیں؟ کیا صنف نازک کو اس کا مقام دیتے ہیں ؟ کیا عورت کو عورت سمجھتے ہیں؟ ہر گز نہیں،کوئی عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتا ہے،کوئی نوکرانی  بنا کر رکھتا ہے، عورت پہ تشددکے کئی واقعات آئے دن سنے کو ملتے ہیں،

کہیں ماں بہن پہ تشدد بیوی کے کہنے میں آ کر اور کہیں  ماں بہن کی باتوں میں آکر بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،ظلم کی بے شمار کہانیاں رقم ہو رہی ہیں۔اور ہوتی رہیں گی جب تک مرد کے اندر انسانیت نہ جاگ جائے یا عورت اپنے حقوق کے لئے کھڑی نہ ہو جائے۔

کہتے ہیں عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔ ایک عورت دوسری عورت کو نیچا دکھانے کے لئے مرد کا سہارا لیتی ہے ۔ وہ مرد خاوند بھی ہو سکتا ہے اور بیٹا بھی ،مگر کیا مرد عقل سے پیدل ہے؟ جہالت اپنی جگہ بربادیوں کا باعث ہے لیکن با علم افراد بھی اس صف میں شامل ہیں ۔کیا مردوں میں احساسات ختم ہو گئے ہیں؟ یا اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہہ سکیں ۔ خدا نے مرد کا درجہ بلند رکھا کچھ خوبیوں اور صلاحیتوں کی وجہ سے ۔مگر مرد نے اپنی اس فوقیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، جس طرح ساری خواتین ایک جیسے رویہ کی مالک نہیں ۔ بالکل اسی طرح مرد کی بھی کئی اقسام ہیں۔ اچھے اور قابل تعریف مرد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں ۔جو اپنی عورت کو بیوی کا درجہ دیتے ہیں ۔ اس کے حقوق سے باخبر ہیں ۔ لیکن زیادہ تعداد اس قسم کے مردوں کی ہے جو گالی گلوچ اور ہاتھ اٹھانے کو برائی نہیں گردانتے۔بلکہ ایسا کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں …  عورت گھر بسانے اور لوگوں کے باتیں  بنانے کے خوف سے یہ تشدد برداشت کرتی رہتی ہے۔ پھر بچے ہوں تو بچوں کی خاطر ظلم سہتی ہے۔ بچوں کے سامنے گالی گلوچ،لڑائی جھگڑا کرنا کیا بچوں پہ اثر انداز نہیں ہوتا!ہوتا ہے، ضرور ہوتا ہے یہ برائیاں نسل در نسل چلتی ہیں۔بچے بڑے ہو کر وہی کرتے ہیں جو ان کے والدین کے درمیان  سالوں ہوتا آیا ہے۔ ہم بچوں کو قوم کا معمار نہیں بلکہ بے حسی کی دیوار بنا رہے ہیں ۔ ہمارا معاشرہ ایسی دیواروں سے بھرا پڑا ہے۔ جن سے التجائیں،وفائیں سر ٹکرا ٹکرا کر ختم ہو جاتی ہیں ۔ وقت گزرتا جاتا ہے اور گزر رہا ہے۔ عورت کئی رشتوں کی چکی میں پستی جا رہی ہے۔

گھر کی چار دیواری میں اگر انسانیت دم توڑ چکی ہو ۔ تو باہر معاشرے میں عورت کا کیا حشر ہوتا ہو گا۔ یہ آپ بخوبی سوچ سکتے ہیں ،عورت کے بھی کئی روپ ہیں۔ جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کہیں ظالم ساس ہے کہیں ظالم بہو، کہیں رقاصہ ہے کہیں طوائف، بے حسی جہاں بھی  جنم لے گی۔ ایسی داستانیں رقم ہوتی رہیں گی۔

میرے خیال میں مشرقی اور مغربی خواتین کی داستانوں میں زیادہ فرق نہیں ۔مغربی  مردوں کے ظلم وستم اور طرح کی کہانیاں رقم کرتے ہیں ۔ آزاد سوچ ،آزاد معاشرہ ،آزادی میں عورت اپنا سب کچھ گنوا بیٹھتی ہے۔ شعور کی کسی منزل پہ ٹھہر کر نہیں سوچتی۔ اور جب سب کچھ لٹا دیتی ہے تب احساس ہوتا کہ نہ اگے راستہ ہے نہ پیچھے۔ منزل بے نشاں ہے۔  تشدد کا نشانہ وہ بھی بنتی ہے ،جلد بازی ،خود پسندی،غلط فیصلے انھیں بھی تباہی کے کنارے پہ کھڑا کر دیتا ہے۔ وہ تباہی ان کی اپنی پیداوار بھی ہوتی ہے اور مرد کی مرہونِ منت بھی۔ یہ
بھی سچ ہے کہ مرد اگر دینا میں عظیم اور خوبصورت آنکھ  ہے۔ تو عورت اس آنکھ کا نور ہے۔ مرد اگر  مضبوط اور طاقتور دل ہے تو عورت اس کی دھڑکن…  مطلب نور کے بنا خوبصورت آنکھ بے معنی اور دھڑکن کے بغیرمضبوط دل بے حقیقت ،
غرض کہ جہاں عورت کمزور ہے وہاں  اپنی کمزوریوں کے باعث اپنے مستقبل کو تاریک اور خود کو مجبوریوں کے زندان میں قید کر لیتی ہے۔ لاتعداد ایسے قصے اور کردار ہمارے ارد گرد ہیں ۔ جو چپ کا روزہ رکھے معجزات کے انتظار میں بال سفید کر رہی ہیں ۔ کیونکہ ہمارے بزرگوں نے ہمیشہ یہی نصیحت کی ہے ۔ ’’ ہماری عزت کا خیال رکھنا ۔اب تمھارا وہی گھر ہے۔ ہمیشہ اس گھر کو آباد رکھنا۔ مر کر ہی وہاں سے نکلنا۔ “ ایسی نصیحتیں کبھی کبھی بیٹیوں  کے لئے تحفہ ہوتی ہیں اور کبھی زندگی بھر ان توقعات کے جلتے کوئلوں پہ چلتی رہتی ہیں۔ آس کا دیا روشن رکھنے کے لئے خواہشات دبا لیتی ہیں۔ ۔

زندگی تو گزر جاتی ہے۔ بہت کچھ چھوڑ کر بہت کچھ سہہ کر، وقت رکتا نہیں مگر سختیاں زندگی کو اور زبان کو بہت تلخ کر دیتی ہیں۔

جب دل کی زمین پہ آنسوؤں کا پانی گرتا رہے تو درد کی فصل تیار ہوتی ہے۔ اور جب اس فصل کی کٹائی کے لئے نہ لفظ ملیں نہ کوئی کندھا ،تو بے چینی اور بیقراری کے بخارات دل سے اٹھ کر زبان کو گرما دیتے ہیں۔بعض سخت رویے عورت کی ایسی ہی داستان کا باعث ہوتے ہیں ۔

 لیکن  ناسمجھ خواتین کو  بھی یاد  رکھناچاہیئے کہ زندگی ایک سفر ہے۔ اور قدم قدم پہ خاردار جھاڑیاں دامن بھی پکڑتی ہیں زخمی بھی کرتی ہیں۔ مگر معمولی زخموں سے گھبرا کر ہاتھ چھوڑنے والے سفر تو جاری رکھتے ہیں ۔ مگر طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔