//ہم خاک زاد

ہم خاک زاد

ڈاکٹرثمينه واحد

ہم جو خاک زاد ہيں

ہمارے روح ہر اس درد سے باغي ہيں

جو ورثے ميں ملے ہيں

ہم تو خاک زاد ہيں

ہميں مذہب سے کيا لينا

کہيں مسجود مسجد ميں

کبھي مجلس ميں، ماتم ميں

کہ ہم تو بے خبر

اپني ہي وصفوں سے

ہميں کس کي فکر ہے

ہمارا ہنر ہے، کس کي خاطر

کريں فرياد بھي تو کيا

کہ رہتے ہيں يزيدوں ميں

اگر سنتے ہو تم صاحب

حقيقت آشنا ہيں ہم

اٹھاتے کس قدر تنہا

ہيں اتنا بوجھ آنکھوں پر

نہ تم جيسے نہ اپنوں سے

اگر تسليم کرپائو

تو آدم زاد ہيں ہم بھي