//ہمارے یہاں شہد بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے

ہمارے یہاں شہد بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے

تحریر سدرہ ڈار

ميں جانتا ہوں کہ آپ کو اب ميرے خطاب سے کوئي دلچسپي نہيں اس لئے ميں اس تحرير کے ذريعے آج آپ سے مخاطب ہوں۔ آج ميں آپ کو يہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے يہاں شہيد بنانے کا کام تسلي بخش کيا جاتا ہے۔ پڑھ کر حيران مت ہوں يہ حقيقت ہے يہ سعادت آپ کو کب کہاں، کيسے ميسر آ جائے آپ کو بھي معلوم نہيں۔ ليکن يقين جانيے جب بھي ايسا ہو گا آپ کو اس منصب سے نوازا جائے گا بھلے آپ نے اپني زندگي ميں بے پناہ گناہ کيے ہوں يا معصوم رہے ہوں، آپ ابھي بچے ہوں يا بوڑھے ہوں، آپ گھر کے واحد کفيل ہوں يا بوڑھے والدين کا سہارا ہوں يہ تمغہ ملتے ہي آپ کا جنت کا ٹکٹ يقيني ہے کيونکہ جيسے ہي آپ قتل ہوئے، دھماکے ميں مارے گئے يا عبادت کے دوران فائرنگ يا بم دھماکے کي نذر ہوئے عين اسي وقت مابدولت آپ کا نام شہداء کي لسٹ ميں داخل کر کے سيدھا پاکستان پوسٹ سے اللہ تعالي کو ارسال کرديں گے۔

ہميں اس بات کا يقين ہے کہ خدا کي بارگاہ ميں جيسے ہي پاکستان کے حکمران، اپوزيشن يا بڑي شخصيات کي جانب سے سفارش جائے گي اسے فوراً قبول کيا جائے گا کيونکہ ہم نے ماضي سے لے کر اب تک سب سے زيادہ جنت ميں شہداء کے لئے پلاٹ بک کروائے ہيں۔ ہم چونکہ بحيثيت مسلمان جنت ميں سب سے زيادہ سرمايہ کاري پر يقين رکھتے ہيں اس لئے ہماري بھيجي گئي سفارش کو کسي طور رد نہيں کيا جا سکتا۔ يقين مانيے جب کوئي فوجي محاذ پر ارض وطن کي رکھوالي کرتے ہوئے اپني جان قربان کرتا ہے تو اس کا ادارہ اس کو تمغہ دينے کي سفارش محکمہ دفاع کو بھيجتا ہے۔ ہم اس پر بھي غور کرتے ہيں اور وقت لگاتے ہيں ايسے ہي نہيں تمغے کا اعلان کر ديتے ہيں۔

آپ کو تو خوش ہونا چاہيے کہ ”يہاں رفو کا کام تسلي بخش کيا جاتا ہے“ سے بھي زيادہ جلدي ہم آپ کے عام لوگوں کو شہيد کا درجہ ديتے ہيں۔ ليکن ہميں آپ سے شکايت ہے اتنا اعلي درجے پر فائز ہونے کے باوجود آپ ہماري قدر نہيں کرتے نہ ہميں سراہتے ہيں۔ مجھے بہت تکليف ہوئي جب ميں نے سانحہ آرمي پبلک اسکول کے ايک شہيد بچے کي ماں کو يہ کہتے ہوئے سنا کہ خبردار جو اب کسي نے مجھے شہيد کي ماں کہا، ميرا بچہ اسکول پڑھنے گيا تھا جنگ کے محاذ پر نہيں۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ اس قوم کو جتنا بھي دے دو، انھيں عزت راس نہيں آتي۔

آپ اگر امريکہ ميں ہوتے ناں تو آپ کو کبھي ايسے رتبوں سے نوازا نہ جاتا۔ وہ جو 2020 ميں سياہ فام جارج فلائيڈ پوليس کے تشدد سے ہلاک ہوا۔ کتنے بڑے مظاہرے ہوئے ليکن اسے حکومت نے کسي طور شہيد کے رتبے سے نہيں نوازا۔ جب کہ پورا امريکہ مظاہروں کي زد ميں رہا، احتجاج کرنے والوں کا سيلاب سڑکوں پر امڈ آيا ليکن ان کا صدر ٹس سے مس نہ ہوا۔ آپ کو تو ہمارا احسان مند ہونا چاہيے کہ ہم آپ کو مرنے کے اگلے چند گھنٹوں ميں شہيد کا درجہ دے ديتے ہيں۔ ايسا بھلا کون کرتا ہے؟

آپ کو ہمارے کيے ہوئے کام پر تنقيد کرنا ہميشہ ياد رہتي ہے يہ ياد رہتا ہے کہ ہم نے جمہوري دور ميں کرپشن کي، ہم نے آمريت تلے سياسي رہنماؤں کو ناک و چنے چبوا ديے، ہمارے کوڑے مارنا ياد ہے۔ ملک کو دو لخت کرنا ياد ہے، مجيب الرحمن کي کاميابي کو نہ ماننا ياد ہے، ہمارے مشرقي پاکستان ميں ہتھيار ڈالنا ياد ہے، ہمارا ايک وزير اعظم کو پھانسي پر لٹکانا ياد ہے، آپ ابھي تک ہم پر الزام لگاتے ہيں کہ ہم نے اس ملک ميں کرائے کي جنگ کے عوض کلاشنکوف اور ہيروئن کا زہر پھيلا ديا اور اسلحہ چوري کر کے اوجڑي کيمپ بنايا۔

آپ ابھي تک شاکي ہيں کہ ہم نے دہشت گردي کي جنگ کے نتيجے ميں کراچي، پشاور، کوئٹہ، لاہور کو لہو لہان کر ديا۔ آپ ہم سے شکوہ کرتے ہيں ملک کے پہلے وزير اعظم لياقت علي خان کے قتل سے لے کر اسلامي دنيا کي پہلي خاتون وزير اعظم بے نظير بھٹو کے قتل کے محرکات سامنے نہ آ سکے۔ آپ ہم پر ايوانوں ميں ہوتے ہوئے مہنگائي بڑھانے، آٹا، چيني چوري کا الزام لگاتے ہيں۔ آپ ہم پر اليکشن چوري کا الزام دھرتے ہيں۔ آپ کہتے ہيں کہ ہم نے مشرقي پاکستان ميں جماعت اسلامي سے تعاون ليا اور پھر انھيں آج تک پھانسيوں کے لئے چھوڑ ديا۔ پاکستان کے لئے مشرقي بنگال ہجرت کرنے والے بہاريوں کي کبھي خبر نہيں لي۔

آپ سمجھتے ہيں کہ طالبان ہمارے بچے تھے جو اب ہمارے حلق کي ہڈي بن گئے ہيں۔ آپ کہتے ہيں کہ ہم نے مني لانڈرنگ کي، غريب عوام کا پيسہ کھايا۔ آپ آج بھي طنز کرتے ہيں کہ ايم کيو ايم کا وجود ايک آمر نے بنايا اور جمہوري ليڈر نے ان کے خونريز آپريشن کي حمايت کي اور آج انھيں تتر بتر کر ديا۔ آپ ہماري آنکھوں ميں آنکھيں ڈال کر کہتے ہيں کہ ايمل کانسي، عافيہ صديقي کو ہم نے امريکہ کے حوالے کيا۔ آپ يہ بھي کہہ ديتے ہيں کہ ہم نے امريکہ کو اپنے فوجي اڈے دے ديے تھے۔

آپ تو اتنے بے حس ہيں کہ ہم کو يہ طعنہ بھي دے ديتے ہيں کہ ہم نے کارگل کا سودا امريکہ جا کر کيا۔ آپ يہ بھي سوچتے ہيں کہ ہم نے اب کشمير کا سودا کر ديا۔ آپ کو شکوہ ہے کہ ہم آج بھي طالبان سے کہيں کہيں نرمي رکھتے ہيں۔ آپ کہتے ہيں کہ ہم پاکستان کو چين کي کالوني بنانے جا رہے ہيں۔ آپ کو يہ کہتے ہوئے بھي لاج نہيں آتي کہ لاپتہ افراد کا پتہ صرف رياستي اداروں کو ہے۔ آپ يہ بھي کہتے پھر رہے ہيں کہ کرونا کي وبا نے جب تيزي پکڑي تو ہم نے پي ڈي ايم کے نام پر جم غفير اکٹھا کر کے لوگوں کي زندگياں خطرے ميں ڈال ديں۔ ہاں ہاں مجھے معلوم ہے کہ آپ کو اور بھي الزام لگانے ہيں بہت کچھ آپ کے ذہن ميں ہے ليکن رکيے۔

کس کا اتنا ظرف ہوتا ہے کہ وہ اتنے الزامات سن کر بھي آپ کو کچھ دے، آپ کو نوازے؟ ميں ياد دلاؤں؟ ملک جب دو لخت ہوا تو ہم نے جنگ کا شکار ہونے والے اور اس جنگ ميں شريک ہونے والوں، دونوں کو ہي شہيد کا رتبہ ديا۔ بھٹو پھانسي چڑھا وہ شہيد کہلايا، جس نے اسے پھانسي پر لٹکايا وہ بھلے فضائي حادثے ميں جاں بحق ہوا وہ بھي شہادت کے رتبے پر فائز ہوا۔ آپ نے جب دو ماني جاني شخصيات کو اس عزت سے نوازے جانے پر حسد محسوس کيا تو اسي روز ہم نے طے کيا کہ آپ کو احساس محرومي سے دوچار نہيں ہونے ديں گے بھلے آپ ہم کو اچھا نہ سمجھيں۔

ياد کريں وہ کراچي کا 1992 کا آپريشن ہو يا 12 مئي ہم نے تمام مرنے والوں کو شہيد کہا۔ لياري کي ٹارگٹ کلنگ ہو يا 27 اکتوبر 2007 کا کارساز واقعہ ہم نے سب کو شہيد ڈکليئر کيا۔ 27 دسمبر کو جب بے نظير بھٹو کو قتل کيا گيا تو ہم نے انھيں شہادت کے عظيم رتبے سے نوازتے ہوئے ان تمام افراد کو بھي اعزازي شہيد کہا جو اس قتل کے بعد ملک بھر ميں پھوٹنے والے ہنگاموں کي نذر ہوئے تھے۔ ہم نے سانحہ عليگڑھ، سانحہ حيدر آباد پکا قلعہ، لاہور گلشن اقبال پارک واقعے، آرمي پبلک اسکول پشاور، واہگہ بارڈر دھماکے، شکار پور سانحے، صفورا گوٹھ سانحے، کراچي ائر پورٹ حملے سميت لائن آف کنٹرول پر گولہ باري، کوئٹہ وکلا حملے، پارہ چنار ميں ہونے والے سات دہشت گرد حملوں، لال مسجد واقعے، ماڈل ٹاؤن واقعے، ساہيوال دہشت گردي، پشاور چرچ حملے، آب پارہ چوک دہشت گردي، سانحہ نشتر پارک، سانحہ عباس ٹاؤن، سہيون دہشت گردي، کراچي ميں نو محرم کے جلوس پر حملے سميت بلوچستان ميں ہونے والي ہر قسم کي دہشت گردي کے نتيجے ميں مرنے والوں کو بلا تفريق شہيد قرار ديا۔ يہاں تک کہ نقيب اللہ محسود اور اسامہ ستي کے قتل کي تحقيقات جاري ہيں ليکن وہ بھي اس ملک کے شہيد ہي سمجھے جائيں گے۔

ہمارے يہا ں ملزم کو مجرم ثابت ہونے ميں کئي سال کا عرصہ درکار ہے ليکن آپ کو شہيد قرار دينا ہمارے لئے سب سے اولين ترجيح ہے۔ اس کے باوجود ميرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ آپ کو اتني عزت دينے کے لئے ہم پوري سچائي سے دل و جان سے آپ کي خدمت ميں بيٹھے ہيں اور آپ ہيں کہ يہ رٹ لگائے ہوئے ہيں کہ مقتدر اعليٰ جب مچھ سانحے کے واقعے پر کوئٹہ آئے گا تو ہي ہم ميتيں دفنائيں گے۔ خدا کا خوف کيجئے آپ کے پياروں کي ميتيوں کو ابھي مٹي نصيب نہيں ہوئي ليکن آپ ہماري نيک نيتي اور برق رفتاري ديکھئے کہ ہم نے آپ کے پياروں کو شہيد قرار ديے جانے اور انھيں جنت ميں اعلي مقام دينے کا خط اسي روز اوپر بھجوا ديا تھا۔ جب آپ ان کے گلے کٹي لاشوں کو ديکھ کر سوچ رہے تھے کہ ان کے حلق ميں نوالا پھنس جاتا تھا تو ان کي ماں کا کليجہ منہ کو آ جاتا ہے کہ ميرا بچہ کس اذيت ميں آ گيا، يہ کون ايسا پيدا ہوا ہے جس نے ان کي شہ رگوں کو کاٹتے وقت ذرا بھي ہاتھوں کو جنبش نہ آنے دي۔

ياد رکھئے يہ تو صرف 11 کان کن ہيں ماضي ميں اس ملک ميں کتنے ہي بے شمار بيٹے شہيد کے رتبے پر فائز ہوچکے ہيں۔ آپ کچھ ايسے نہيں جن کے لئے بار بار مقتدر اعليٰ کو آنا پڑے۔ آپ کو اب خود کو اس بات کے لئے تيار رکھنا چاہيے کہ آپ کے بيٹے اس ملک کا وہ قرض ہيں جو جان جانے سے ہي اتر سکتا ہے۔ آپ کي ماؤں کو اس بات کا فخر ہونا چاہيے کہ ان کے بيٹے اس ارض وطن پر کسي بھي وقت جان نچھاور کر کے پورے خاندان کو شہيد کے خاندان کي عزت دلا سکتے ہيں۔

آپ کي بيويوں کو اس بات پر خوش ہونا چاہيے کہ وہ شہيد کي بيوہ کہلانے کا شرف پاسکتي ہيں اور آپ کے بچوں کو اس بات کي عادت ہوني چاہيے کہ وہ پارکوں ميں کھيلنے کے بجائے يونہي قبرستانوں کا رخ کيا کريں تاکہ ان کے اندر کا ڈر اور خوف ختم ہو سکے کيا پتہ اچانک انھيں کبھي اپنے باپ کو دفنانے کے لئے جانا پڑے تو وہ اسے قبول نہ کرسکيں۔ اس لئے اُٹھيں اور اپنے پياروں کو مٹي دے کر ان کي روحوں کو سکون ديں کيونکہ آپ 2021 کے برس کے پہلے 11 شہيدوں کے خاندان کہلارہے ہيں۔