//گٹھڑی

گٹھڑی

تحریر رفعت امان اللہ پاکستان

يہ ايک ويران ريلوے اسٹيشن ہے۔ جسکي کي عمارت خستہ حال ہو چکي ہے۔نہ کوئي قلي ہے نہ گارڈ،ٹکٹ گھر بھي بند پڑا ہے۔ پٹري جگہ جگہ سے ٹوٹي ہوئي ہے،لگتا ہے عرصے سے يہ اسٹيشن ريل گاڑيوں کي آمد ورفت کے لئے بند کر ديا گيا ہے۔ دور دور تک کسي مسافر کا نام و نشان نہيں۔ فرش بھي جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا ہے۔پاني کا نل سوکھ چکا ہے۔ويراني ہي ويراني ہے۔ چيونٹياں جگہ جگہ جگہ اپني خوراک جمع کرنے ميں مصروف ہيں،جبکہ گھاس پھوس ميں ٹڈے اور کيڑے مکوڑے اچھل کود کر رہے ہيں۔ خزاں کا موسم ہے۔ درختوں کے پتے زرد ہو چکے ہيں۔ جب ٹھنڈي ہوا چلتي ہے تو وہ تيزي سےنيچے گرنے لگتے ہيں۔ سورج ڈوبنے کو ہے۔جسکي زرد شعاعوں ميں اب وہ آب و تاب نہيں رہي کہ وہ بڑھتي سردي اور پھيلتے اندھيرے سے زيادہ دير تک نبرد آزما ہو سکيں۔ آسمان پر پرندے غول در غول اپنے آشيانوں تک پہنچنے کے لئے اڑانيں بھر رہے ہيں۔

وہ بينچ پر بيٹھي ريل کي پٹريوں کو غور سے ديکھ رہي ہے، جو ساتھ ساتھ چلتي تو ہيں مگر کبھي ملتي نہيں…  وہ کالي چادر ميں اپنے کمزور جسم کو ڈھانپے اپني دونوں ٹانگيں بينچ کے اوپر رکھ کرسمٹ کے بيٹھ جاتي ہے۔ بخار ميں تپتا ہوا اسکا جسم ٹھنڈي ہوا کے جھونکوں سے کانپ اٹھتا ہے۔ کتنا سناٹا ہے يہاں وہ کبھي زرد پتوں کو ديکھتي ہے جو ادھر سے ادھر بکھر رہے ہيں.اور کبھي پرندوں کو جو اپنے آشيانوں تک پہنچنےکے لئے اڑانيں بھر رہے ہيں…آسمان کتنا بے رنگ اور ويران ہے…

اس نے اپنے ہاتھوں ميں پکڑي ہوئي گٹھري کھولي…اس ميں کچھ يادوں کے پھٹے پرانے ٹکڑے تھے،چاہت اور مان کي کچھ دھجياں اور پچھتاوے کي گرد تھي۔يہ گٹھري تو اس گٹھڑي سے کہيں زيادہ وزني ہے جو…اس وقت …آہ…اس وقت …

گٹھڑي کو سينے سے لگائے وہ بہت پيچھے پہنچ گئي …وہ بھي ايک ريلوے اسٹيشن تھا۔جب ہاتھوں ميں گٹھري پکڑے اسکي نظريں اکبر کو ڈھونڈھ رہي تھيں۔ وہ مضطرب نظريں … اتنا ہجوم تھا کہ کسي اپنے کو تلاش کرنا مشکل تھا۔ايک ريل گاڑي روانگي کے لئے تيار کھڑي تھي.اور دوسري آنے والي تھي۔ قلي چہروں پر اکتاہٹ لئے تيزي سےمسافروں کا سامان اتارنے ميں مصروف تھے۔ ہر کوئي اپني منزل کي طرف رواں …کسي کو کسي کي پرواہ نہ خبر … پان، چائے،سموسوں پکوڑوں، گرم جليبيوں کي خوشبولوگوں کو اپني طرف کھينچ رہي تھي…

اسي اضطراب ميں کسي نے اسکے شانے پر پيچھے سے ہاتھ رکھا۔مڑ کر ديکھا تو اکبر تھا…اکبر کو ديکھتے ہي جان ميں جان آگئي۔وہ اکبر جو چند ماہ قبل انکے گھر کے سامنے کرايہ کا کمرہ لے کر شہر ميں دکان کھولنے آيا تھا…

اورپھر … وہ چپکے سے اپنے والدين کي جمع پونجي، زيور اور کپڑوں کے ساتھ اپنے والدين کي عمر بھر کي کمائي ہوئي عزت لے کے اکبر کي زندگي ميں بہار بھرنے چل پڑي۔ گاڑي رکي،وہ اکبر کے ساتھ گاڑي ميں سوار ہو گئي۔ گارڈ نے ہري جھنڈي لہرائي، ريل کي سيٹي بجي اور اسکي زندگي بدل گئي … اگلے اسٹيشن پراکبر کے دوست منتظر تھے۔وہاں ايک دوست کے گھر ان کا نکاح ہؤا اورپھر وہ دونوں اکبر کے گاؤں کے لئے روانہ ہو گئے۔ خوشي، بے چيني اور اضطراب کي ملي جلي کيفيات کے ساتھ وہ اکبر کے آنگن ميں آگئي۔ اکبر کي ماں کي طرف سے اسے بدچلن آوارہ کا خطاب ديا گيا۔ اکبر کا اپني خالہ کے گھر وٹہ سٹہ کا رشتہ طے ہوا تھا جو کہ اب ٹوٹ گيا …نتيجتاً بڑي بہن گھرآ بيٹھي اور پھراکبر کي ماں اور مطلقہ بہن کي زبانوں کے خنجر کے وار بڑھتے ہي چلے گئے۔

اس بے وفائي کي سزا اسے پل پل ملتي رہي،جو اس نے اپنے والدين کے ساتھ کي تھي۔ پانچ سال تک وہ اس جہنم ميں جلتي رہي جہاں اسکے لئے کوئي عزت،چاہت اور محبت تھي ہي نہيں۔ اس زندگي سے تنگ آکر وہ پھر اسٹيشن پر آگئي، پھر سے اپني زندگي بدلنے،والدين سے معافي مانگ کر انکي ٹھنڈي چھاؤں ميں زندگي گزارنے …

گاڑي رکي …وہ اس ميں سوار ہوگئي۔گارڈ نے ہري جھنڈي لہرائي، سيٹي بجي اور ريل گاڑي چل پڑي۔ مگر اس بار اسکي زندگي نہيں بدلي۔اسکے والدين اسکي چھوٹي بہن کو لے کر رات کي خاموشي ميں کسي کو کچھ بھي بتائے بغير کہيں چلے گئے تھے۔ کسي رشتے دار يا پڑوسي سے پوچھتي بھي تو کس منہ سے …۔ …اس نے اپنے آپ کو اس قابل چھوڑا کہاں تھا،والدين کي عزت کو انکے مان کو روند کر گئي تھي،وہ اس محبت سے بے وفائي کي مرتکب ہوئي تھي جو خالص تھي۔ ماتھے پہ لگا داغ…اب مٹ نہيں سکتا تھا۔

 وہ پھر سے اسٹيشن پر آگئي۔ تھکے قدموں بوجھل وجود کے ساتھ … گاڑي رکي اوروہ …اس ميں سوار ہوگئي ۔ گارڈ نے ہري جھنڈي لہرائي، سيٹي بجي اور ريل گاڑي چل پڑي … پھر اسکي وہي زندگي، پھر وہي جہنم نما گھر،اب تو اسکا الاؤپہلے سے بھي بڑھ گيا۔ ہراميد ختم ہو چکي تھي ہميشہ کے ليے …وہ بالکل مايوس ہو چکي تھي۔ اسطرح چھوڑ کر چلے جانے اورپھرخود ہي واپس آجانےپر اب تو اکبر بھي طعنے دينے لگ گيا۔ وہ سارا دن جانوروں کي طرح کام کرتي۔ساس اور نند سے مار پيٹ بھي ہوتي۔ اور منہ سے آہ بھي نہ کرتي۔وہ پتھر کي ہو چکي تھي۔اسکے چہرے پر کسي خوشي، غم يا حيرت کے آثار نظر نہيں آتےتھے۔ وہ کبھي آئينہ بھي نہ ديکھتي، اگر اچانک آئينے پہ نظر پڑ جاتي تو وہ خود سے شرمسار آنکھوں کو ديکھ نہ پاتي۔

اکبر کو کہيں ڈھنگ کي نوکري نہ مل سکي۔ اور جو بھي کام شروع کرتا اس ميں نقصان ہو جاتا۔اب تو وہ اسے منحوس بھي کہنے لگ گيا۔ وہ بہت پچھتاتا کہ وہ يہ کيا کر بيٹھا ہے۔ اپني بہن کے گھر کے اجڑنے کا ذمہ دار کبھي اسکو اور کبھي اپنے آپ کو ٹھہراتا۔ اسي دکھ، شرمندگي اور گھر ميں ہر وقت ہونے والے فساد سے وہ دلبرداشتہ ہو کر بيمار پڑ گيا اور ايک رات ايسا سويا کہ پھر کبھي اٹھ نہ سکا۔

اسکي زندگي ميں تلخياں مزيد بڑھ گئيں،ساس اور نند اسے اب ايک لمحہ برداشت کرنے کو تيار نہ تھيں،وہ عدت ختم ہوتے ہي اسے گھر سے نکل جانے کا حکم سنا چکي تھيں۔

اس افسردگي اور تکليف کي حالت ميں اسے ايک اچھي خبر ملي،وہ حاملہ تھي، اس خبر کي وجہ سے انہوں نے اپنے ہاتھ روک لئے،اور اسے وہاں رہنے کي اجازت دے دي، اس شرط پر کہ اگر بيٹا پيدا ہوا تو وہ ساس کے حوالے کر دے گي اور بيٹي پيدا ہوئي تو اسکو لے کر يہاں سے چلي جائے گي…

ساس نے بھي پوتے کي آس لگا لي۔اور جب اسکے بيٹا پيدا ہوا تو وہ اسکو چھين کر لے گئي۔کہتي تھي “جس نے اپنے والدين کي عزت کا پاس نہ رکھا وہ اپنے بچے کي کيا تربيت کرے گي”؟ ساس نے اس قسم پر کہ وہ کبھي اپنے بيٹے پہ کوئي حق جتائےگي،نہ کبھي اسکو پيار کرے گي،اسکو اس گھر ميں رہنے کي اجازت دے دي۔ وہ بيچاري اسے دور سے ديکھ کر جيتي تھي۔ اسکي آواز اس کے اندر زندگي بھرتي تھي۔ ايک گھر ميں رہنے کےباوجود وہ اسے سينے سے لگا کر پيار نہيں کر سکتي تھي۔

مگر… اس کے قہقہے اسکا خون بڑھاتے تھے …وہ ساس اور نند کي گالياں ہنستے ہوئے سنتي، اسکي آنکھوں ميں اسکے بيٹے کا چہرہ رہتا۔وہ اسکے لئے زندہ تھي، اسکے لئے سانس ليتي تھي…وہ دروازے کے ساتھ لگ کے اسکي توتلي باتيں سنتي،اسکے ويران جيون ميں بس اسکا بيٹا بہار بن کے آيا تھا۔جسکے بعد کوئي مار اور دھتکار اس کو تکليف نہيں ديتي تھي۔

وقت گزرتا گيا…

وہ سارا دن لوگوں کے کپڑے سيتي،سويٹر بنتي اور جو کماتي وہ ساس کا ہوتا…بيٹے کے دل ميں کبھي ماں کے لئے محبت پيدا ہي نہيں ہو سکي۔وہ لوگوں کي باتيں سن کر تنگ آچکا تھا۔ اس کے لئے بھگوڑي کا لفظ سننا … اسکي برداشت سے باہر تھا۔ بيٹے کا رشتہ کہاں طے ہؤا،کس سے ہؤا…کسي نے اسے بتانا ضروري نہ سمجھا۔شادي پر بھي وہ بس مہمانوں کي خدمت ہي کرتي رہ گئي۔ آگے بڑھ کر کوئي رسم کرنے کي اسکي کوئي اوقات نہ تھي۔  بيٹے اور آنے والي بہو کے دل ميں اسکے خلاف اس قدر زہر بھرچکا تھا کہ وہ ہزار منتوں کے باوجود خود کو بے گناہ ثابت نہ کرسکي اسکا گھر سے بھاگ جانے کا جرم تمام عمر کالک بن کر اسکے ماتھے پر سجا رہا

  بيٹے کي شادي شدہ زندگي ميں سکون اور خوشياں قائم رہيں يہ سوچ کرآج اس نے ايک بار پھر گھر چھوڑنے کا ارادہ کر ليا۔ بہو کے تھپڑ کي چبھن ابھي بھي اسکو گال پہ محسوس ہو رہي تھي۔اسکي آنکھيں بھيگ چکي تھيں۔ اس نے بينچ سے اپنا سر اٹھا کے ديکھا۔شام کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ ہوا ميں سردي کي شدت بڑھ چکي تھي۔ سب ہي پرندے اپنے آشيانوں کو پہنچ چکے تھے۔ مگر وہ زرد پتے…

 وہ ابھي بھي ہوا سے ادھر ادھر بکھر رہے تھے۔ شائد انکا نہ کوئي ٹھکانہ تھا نہ منزل …

آج کا دن اور آج کي شام کتني بھاري ہے …يہاں کتنا اندھيرا ہے۔ آسمان کتنا بے رنگ ہے۔نہ کوئي چاند ہے نہ ستارہ …بس سرد ہوا ہے جو زرد پتوں کو اڑا رہي ہے بلا مقصد ادھر سے ادھر … جھينگروں کي آوازيں ماحول کے سناٹے کو توڑ کر ايک وحشت کا سماں پيدا کر رہي تھيں۔بخار سے اسکا وجود تپ رہا تھا۔ سردي اور نقاہت سے وہ کا نپ رہي تھي۔ اسکي روح ميں گلے اور جسم کي طرح کانٹوں سي چبھن تھي۔

 اسے يوں لگا جيسے کوئي گاڑي آکر رکي، گارڈ نے ہري جھنڈي لہرائي، سيٹي بجي

اس نےگٹھڑي سنبھالي اور گاڑي ميں سوارہو کے نئي منزل کي طرف چل دي۔