//کشمیر کے روایتی وازوان کی بات کہاں…!

کشمیر کے روایتی وازوان کی بات کہاں…!

تحریر سلمیٰ حسین

وازوان کے لغوي معني کھانوں کي دکان کے ہيں اور وازا ميں کھانوں کي تعداد ديکھتے ہوئے يہ نام بلکل مناسب اور درست معلوم ہے

گر فردوس بر روئے زمين است

ہميں است، ہميں است، ہميں است

جيسے ہي گھر کا دروازہ کھولا، ميز پر رکھے لفافے پر نظرپڑي۔ افوہ! پھر ايک شادي۔ ليکن لفافہ کھلتے ہي ساري تھکن ہوا ہوگئي۔ شادي کا کارڈ کيا مسرت کا پيغام تھا۔ قريبي دوست کے صاحب زادے کي شادي کا کارڈ تھا۔ ستمبر کا مہينہ اور سري نگر۔ مزا آ گيا۔ کون کافر ہو گا جو اس دعوت سے انکار کرے۔

ساحل مالابار کے ذائقے اور عرب

کشمير کا حسن لازوال ہے۔ برف سے ڈھکے پہاڑ اور ڈل جھيل ميں تيرتے ہوئے ہاؤس بوٹ۔ زعفران کے کھيت، پھلوں سے لدے درخت اور پھولوں کي بہار۔ کشمير کي خوبصورتي کا ذکر جتنا بھي ہو کم ہے۔ ہر موسم کا اپنا الگ ہي حسن ہے ليکن خزاں کا نظارا اتنا مسحور کن ہوتا ہے کہ انسان ان نظاروں ميں کھو کر رہ جاتا ہے۔

ستمبر ميں ميں کشمير کا حسن کچھ اور ہي ہوتا ہے۔ يہي وہ وقت ہے جب چناروں کے پتوں ميں آگ لگ جاتي ہے اور سارا کشمير سرخ پتوں سے ڈھک جاتا ہے۔ ہوا ميں اُڑتے ہوئے چنار کے پتے گنگنانے لگتے ہيں۔ پھولوں کي مہک، سيب آلو بخارا اور ديگر موسمي پھلوں کے ڈھير۔

ميرا ذہن اسي لازوال حسن کي نقشہ کشي ميں ڈوب گيا اور سات ہي وازوان کي تامڑي کي ياد نے اور بےچين کر ديا۔ وازان کے کھانوں کا تصور، اُف ستمبر کب آئے گا!

15 وہيں صدي ميں تيمور لنگ کے ساتھ آنے والے باورچي آج بھي کشمير ميں آباد ہيں۔ اگر لکھنؤ ميں روايتي باورچيوں کا مسکن باورچي ٹولہ ہے تو سرينگر ميں وازا پورہ جہاں ہنرمند باورچي برسوں سے اقامت پذير ہيں۔

وازا کے لغوي معني ہيں کھانوں کي دکان۔ وازا ميں کھانوں کي تعداد ديکھتے ہوئے يہ نام بلکل مناسب اور درست ہے۔

وازوان کے پکوانوں کو تيار کرنا ايک معمولي باورچي کے بس کي بات نہيں ہے۔ ان کي ہنرمندي اور بنائے ہوئے کھانوں کي لذت بے مثال ہے۔

36 انواع و اقسام کے پکوان وازا کي رات بھر کي محنت کا نتيجہ ہوتے ہيں۔ وازوان کے پکوانوں کو تيار کرنا ايک معمولي باورچي کے بس کي بات نہيں ہے۔ ان کي ہنرمندي اور بنائے ہوئے کھانوں کي لذت بے مثال ہے۔

فرش پر صاف شفاف سفيد براقي دسترخوان اور اس پر رکھي تانبے کي تھال کے ارد گرد بيٹھے چار يا آٹھ مہمان بے صبري سے کھانے کے منتظر ہوتے ہيں۔ خدمت گار ہر مہمان کے آگے طشت اور ناري پيش کرکے ہاتھ دھلواتا ہے اور مسلمان بسم اللہ اور ہندو بھگوان رودرا کا نام لے کر کھانا شروع کرتے ہيں۔

وازا خود تامڑيوں ميں گوشت، مرغ اور ترکاريوں کے بنے مرغن کھانے يکے بعد ديگرے مہمانوں کے تھال ميں ڈالتے جاتے ہيں۔ فضا کھانوں کي مہک سے گونج اُٹھتي ہے اور مہمان سر جھکائے کھانے ميں مصروف ہو جاتے ہيں۔

بيشتر کھانے گوشت اور مرغ پر مبني ہوتے ہيں، جيسے کباب، کشميري سالنوں سے بنے مرغ يا گوشت کے مختلف قورمے، تبک ماز، زعفران کوکر، يخني، رستہ، روغن جوش، آبگوشت، ساتھ ہي مٹي کے چھوٹے چھوٹے نازک پيالوں ميں دہي، انواع و اقسام کي چٹنياں، زعفران ميں مہکتے پلاؤ اور تندور سے نکلتي ہوئي گرما گرم روٹياں، کھير کے پيالے يا فرني کي کٹوري۔ مہمان کو فرصت کہاں کسي دوسري جانب ديکھے۔

کہتے ہيں کہ پنڈت نہرو جب بھي کشمير آتے تھے تو شيخ عبداللہ ان کے ليے وازوان کا اہتمام کرتے تھے۔

گو کہ وازوان کے بيشتر کھانے گوشت اور مرغ پر مبني ہيں پھر بھي سبزي خور مہمانوں کے ليے بھي لطيف اور مزيدار کھانوں کي کمي نہيں ہوتي۔ نادرو يخني، گوچي پلاؤ، دم آلو، راجما گوگجي، ہک کا ساگ جيسے پکوان ہيں جو وازان کا حصّہ بنتے ہيں۔

آبگوشت وازوان کا آخري پکوان ہے جو مہمانوں کو پيش کيا جاتا ہے۔ يعني الما گوشت وازوان کي ضيافت کے خاتمے کا اعلان ہے۔ پھر قہقہوں کا دور چلتا ہے اور مہمان بمشکل اٹھ کر مرغن کھانوں کي ياد ليے اپنے گھر روانہ ہوجاتے ہيں۔

کسي بھي مہمان کے ليے وازوان کا اہتمام ميزباني کا حرف اول اور ميزبان کے وقار اور رتبے کا نمائندہ ہے۔

اگرچہ آج ہر بڑے شہروں ميں کشميري کھانوں کي دکانيں کھل گئي ہيں اور بعض جگہوں پر وازوان کا بھي اہتمام کيا جاتا ہے ليکن کشمير کے روايتي وازوان کي بات کہاں!

وقت کے ساتھ وازا کي تعداد بھي کم ہوتي چلي ہے۔ نئي نسل کي نئي پود ان کاموں سے گريز کرتي ہے اور يوں آہستہ آہستہ وازوان بھي داستان پارينہ کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔

٭ سلميٰ حسين کھانا پکانے کي شوقين، ماہر طباخ اورکھانوں کي تاريخ نويس ہيں۔ ان کي فارسي زبانداني نے عہد وسطي کے مغل کھانوں کي تاريخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئي کتابيں بھي لکھي ہيں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھي کام کرتي ہيں۔