//کالا دھاگہ

کالا دھاگہ

 ۔ تحریر رفعت امن اللہ پاکستان

سائيکل پر سوار وه ہواؤں سے لڑتا،بادلوں سے بھڑتا، بجلي کي سي تيزي سے گھر کي طرف بھاگا چلا آرہا تھا۔شہر کے راستے کي يہ کچي پکي تنگ سي سڑک، جس کے دونوں اطراف گندم کي فصل سنہرا وجود ليے کٹنے کو تيار کھڑي تھي۔يہ سہ پہر کا وقت تھا۔بلا شبہ سورج نقطۂ عروج سے ہٹ چکا تھا مگر گرمي کي حکومت ابھي برقرار تھي۔دائيں بائيں کسان اور مزارع اس سونے جيسي فصل کي کٹائي کرنے کيلئے صلاح مشورے کر رہے تھے.اور کہيں کہيں کٹائي شروع بھي ہو چکي تھي۔پرندوں کے غول ہوا ميں تيرتے ہوئے آپس ميں چہ مگوئياں رہے تھے ۔ گاؤں کي عورتيں نالوں پر اپنے خاندان کے ہفتہ بھر کے ميلے کپڑےليئے، دھلائي کےساتھ ساتھ خوش گپيوں ميں مصروف اور شام سے پہلے کام ختم کرکے ہانڈي روٹي کرنےکي بھي فکر… لکڑي کے ڈنڈے پکڑے کپڑوں پہ يہ مار وه مار۔چھوٹے بچے بھي نالوں ميں نہانے ميں مصروف تھے۔

ارے موجو … ”آرام سے چلا سائيکل … کسي کو نيچے دے کے دم لو گے کيا” ؟ کرمو چاچا کو فکر ہوئي… “ فکر نہ کر چاچا “۔ يہ کہہ کر وه ہوا ہو گيا… آج اس لاغر وجود ميں بلا کي سي پھرتي بھر گئي تھي ۔

ٹھک ٹھک ٹھک … ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک آندھي و طوفان کي طرح دروازے پہ دستک دي ۔اتني بے چيني تھي کہ صبر بھي نہيں ہو رہا تھا ۔ “آ رہي ہوں … موجو… صبر تو کر” کنڈي کيا کھلي … موجوجھٹ سےاندر۔

يہ کچي اينٹوں کا بنا ہوا چھوٹا سا مکان تھا۔گھر ميں اگرچہ دو ہي کمرے تھے۔مگر پروين نے دونوں کمروں کي ديواروں پہ خود چونا کر کے اس کو خوب صورت اور صاف بنايا ہوا تھا۔کچھ چنگيريں ديوار پہ آويزاں تھيں۔ايک کمرے ميں صندوق کے اوپر صندوق رکھا ہوا تھا۔ان کے اوپر اپنے ہاتھ سے کڑھائي کر کے بيل بنائي گئي تھي ۔ايک پڑچھتي کے اوپر پروين کے مرحوم شوہر کي تصوير رکھي ہوئي تھي۔اندر باہر آتے جاتے وه اسکو ديکھتي ۔کوئي پريشاني يا مسئلہ ہوتا تو تصوير کے سامنے بيٹھ کے سارا دکھڑا سناتي… !

موجو کو چين نہيں آرہا تھا … اندر آتے ہي دونوں کمرے چھان مارے

 “اماں … اماں … ادھر تو آ ناں”… موجو نے ماں کو اپنے پاس آنے کو کہا

 “يہ لے لسي پي… ميرا لاڈلا… اتني دھوپ ميں شہر سے آيا ہے… ”۔

اماں کو اپنے بيٹے کي فکر ہوئي،جو اس وقت پسينے ميں شرابور تھا۔

“اماں تو چھڈ لسي نوں بس مجھے بتا… آئي نہيں رانو؟ اسکي دونوں بچياں کيسي ہيں ؟… کيا کہتي ساس اسکي؟”

اس نے سارے سوال ايک ہي سانس ميں پوچھ لئے

 پروين ٹھنڈي آه بھرتے ہوئے چارپائي پہ بيٹھ گئي۔

“آہ… کي کہنا اس نے پتر… سوکھ کے تيلا ہو گئي بيٹي ميري۔نہ وه شکل نہ رنگ روپ۔ميں نے آج بھي بڑا زور لگايا کہ چل ميرے نال۔يہ بھي بولا کہ موجو نے بھيجا آج تجھے لينے خاص اصرار کر کے… پر … وه نہيں مانتي،لگتا ہے پتر… رانو کي ساس پسند نہيں کرتي … ميکے آنا اسکا… ”

اماں نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا

 “ہن اوناں نوں کي تکليف اے ماں۔؟”موجو نے کچھ غصے سے پوچھا۔

’’وه نہيں وسنے دے گي اس نماني کو… اب کہتي ہے کہ پورے پانچ لاکھ لاؤ نہيں تو رانو کو دو بول لکھ ديں گے فر لے جانا اس کو ۔‘‘ اماں نے دکھ سے بتايا

’’… پانچ لاکھ‘‘ وه گہري سانس لے کے اپنے سر کو پکڑ کر بيٹھ گيا … کيا کچھ نہيں کيا اس نے رانو کي زندگي ميں خوشياں بھرنے کيلئے … اسے وه سب اچھي طرح ياد تھا …

وه سرما کي ٹھٹھرتي گہري رات … جب ابا اپني گرم چادر کي بکل کے اندر سے ايک ننھي بچي کو نکال رہا تھا… ساتھ اماں کو کہہ رہا تھا کہ “آج بہت بڑا حادثہ ہوا تھا صبح دس بجے والي گاڑي کا… بہت سے مسافر مارے گئے،بہت سے زخمي ہيں… اس بيچاري کے والدين، دونوں ہي… ”۔يہ کہہ کہ ابا  زار و قطار رو پڑا۔”يہ بيچاري وہيں صبح سے سہمي بيٹھي تھي … ہر طرف خون … کچھ کھايا بھي نہيں ہوگا اس نےسارا دن… ميں نے جب ديکھا تو بہت ڈري ہوئي تھي … کافي ادھر ادھر ديکھا کہ کوئي مل جائے اسکا… پر کوئي نہ آيا… اب تو سب اپنے گھروں کو چلے گئے… ميرا دل نہ مانا کہ ميں بيچاري کو ايسي ٹھنڈ اور گھپ اندھيرے ميں اکيلا چھوڑ آؤں … بھلئے لوکے… ميں ساتھ لے آيا بچي کو،لے سنبھال اسکو… کچھ کھلا… ”

اماں نے اس ڈري ہوئي اور بھوک سے نڈھال بچي کو کليجے سے لگا لياماں کے وجود کي گرمي نے رانو کو زندگي کي حرارت دي۔اسوقت رانو کےگلے ميں ايک تعويذ تھا جسکو کالي ڈوري نے سنبھال رکھا تھا… رانو تب پانچ چھے سال کي ہوگي۔اور وہ کوئي دس گياره سال کا… وه ماں کيساتھ کچھ دنوں ميں ہي گھل مل گئي ۔ماں کا آنچل پکڑے وه ہر جگہ ماں کے پيچھے پيچھے ۔ماں کے ہاتھ سے ہي کھانا کھاتي،نہاتي،اور ماں کي چارپائي پہ ہي ساتھ لگ کے سوتي۔ابا جب رات کو مزدوري کر کے شہر سے آتا… تو وه دروازه کھولنے کيلئے دوڑ لگاتي… اب تو سارا دن اسکے ساتھ بھي کھيلنے لگ گئي تھي اسے مجاہد حسين سے موجو بنانے والي بھي تو رانو ہي تھي… يہ سوچتے ہي ايک مسکراہٹ موجو کے چہرے پہ پھيل گئي ، شروع ميں جب اماں رانو کو اسکا نام سکھاتي تو اسکو نام لينا نہ آتا ۔وه ہر بار موجو کہہ ديتي۔بس پھر کيا تھا وہ سا رے زمانے کے ليے موجو بن گيا۔ ۔اماں نے اسے گاؤں ميں ہي ايک پرائمري اسکول ميں داخل کروا ديا۔جب وه اپني سہيليوں کے ساتھ سکول سے گھر واپس آرہي ہوتي تو ايسے لگتا جيسے گندم کي فصل ميں کھڑاوه سب سے زياده سوہنا سنہري سٹہ ہے۔جسکو ہوا کے جھونکے چوم کے گزر رہے ہوں ۔ وه کالے دھاگے والا تعويذ ہر وقت اسکے گلے کا طواف کرتا۔وہ اسکو ديکھ کر سوچتا کاش وہ يہ کالا دھاگہ بن جائے۔اسکي سانسوں کي مالا، اسکے گلے سے لگ کے سانسوں کا آنا جانا سنے… شائد اسکے ماں باپ نے اسکي حفاظت کے لئے اسکو پہنايا،تبھي الله نے اس کي حفاظت کي۔يا اسکے والدين کي دعائيں ہونگي جو رنگ لائيں …

وه انکے ساتھ بہت گھل مل گئي اسے ياد تھا وه دن جب اسکا ابا مزدوري کرتے ہوئے شہر ميں ہي دل کي حرکت بند ہونے سے انتقال کر گيا… وه ايسے روئي کہ جيسے وه دوسري بار يتيم ہونا برداشت نہيں کر پائے گي ۔اماں کے سينے سے لگ کے اس نے اپني آنکھوں سے سارے ہي موتي بہا ديئے … يوں لگتا تھا کہ جيسے اپنے ماں باپ کي جدائي کا غم بھي اسکو آج ہي منانا ہے۔ ابا دو کنال زمين اور يہ چھوٹا سا گھر انہيں دے کر ہميشہ کے ليے انہيں زمانے کي دھوپ ميں جلنے کے ليے چھوڑ گيا۔ ابا زنده تھا تو کوئي فکر نہ تھي۔نہ اسے نہ اماں کو…

ميڑک بھي نہ پاس ہوپا يا تھا اس سے ہر بار فيل ہو جاتاتھا ۔ تعليم کو خير آباد کہہ دياتھا ۔ابا بھي اب نہ رہا تواس نے مزدوري کرنے کي ٹھان لي۔

’’پتر آجا دوسرے کمرے ميں … وہاں پنکھا چل رہا ہے آکے روٹي کھا لے۔ديکھ پسينے سے بھر گيا ہے تو‘‘اماں کے آواز دينے پہ وہ ماضي کے لمحات سے باہر آگيا… وه حواس بے حواسي کے عالم ميں اٹھا. کيل پہ لٹکا ہوا رانو کا تعويذ ہاتھ ميں پکڑ ليا ۔ اماں کو دکھانے کے لئے چار نوالے اندر کيے … “اک تو ٹھيک سے کھانا بھي نہيں کھاتا تو… ديکھ

ہڈيوں کي مٹھ بنتا جا رہا ہے “۔ اماں کو فکر تھي اسکي،پہلے بھي کئي بار کہہ بيٹھي کہ “رات کو سوتا کيوں نہيں تو… کروٹيں بدلتا رہتا ہے جيسے مچھلي بنا پاني… تڑپتي ہے”

آج بھي اسکو مناتے ہوئے بولي! ۔” چل ميرے ساتھ تجھے ڈاکٹر کو دکھاؤں “،

“شام کو چليں گے ناں ڈاکٹر کے پاس۔جدھرچاہے لے جاويں۔ميں تب انکار نہيں کرونگا‘‘اس نے اماں کو ٹالتے ہوئے کہا ’’ اماں مجھے نيند آرہي ہے ناں “

يہ کہہ کر وه سونے کا ڈھونگ کرنے لگا ۔اماں بھي اس خيال سے کہ شائد سو جائے،اسکا ماتھا چوم کے چہرے پہ پيار سے ہاتھ پھيرنے لگ گئي۔موجو نے اپني ماں کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں ميں لئے اور بوسہ ديتے ہوے کہا”اماں دکھ سکھ سب ہي آنے جانے والي شے ہےتو فکر نہ کريں اوپر والا سب کرم کرے گا”۔ “ہاں پتر… سو جا تو اب آرام کر،

آسمان پہ کالي گھٹا چڑھ آئي ہے لگتا ہے تيز بارش آے گي، ميں ذرا صحن سےچيزيں سميٹ لوں”… ماں آنسوؤں سے تر آنکھيں ليےدروازه بند کر کے باہر چلي گئي۔تاکہ موجو آرام کرلے ۔وہ ہاتھ ميں تعويذ پکڑ کر اسے ديکھنے لگا

اور جب ماں شام کو کمرے ميں واپس آئي کہ اب نيند پوري کرلي ہوگي موجو نے ،اس نے ديکھا کہ موجو کے ہاتھ ميں رانو کا تعويذ ہے اور ہاتھ سينے کے اوپر رکھا ہوا ہے… ايک آندھي اور بارش باہر آئي تھي اور ايک طوفان کمرے کے اندر اسکي زندگي پہ گزر کر اسے ہميشہ کيلئے تنہا کر گيا تھا۔

 کچھ دنوں بعد ماں نے رانو کو موجو کے بستر سے ملنےوالا خط ديا ۔جسکو اس نے کانپتے ہاتھوں سے کھولا تو اس ميں تحرير تھا…

رانو تجھےاپنے دل کي ساري باتيں بتاني تھيں آج… ہاں مجھے ياد ہے رانو… جب تيرے ليے رشتہ آيا تھا۔ اماں کتني فکر مند تھي۔ابا کے بغير اتنا بڑا فيصلہ لينا اماں کے ليے آسان نہيں تھا۔وه کئي بار ابا کي تصوير کے سامنے بيٹھ کر پوچھتي کہ کيا کروں… رشتہ بظاہر تو بہت اچھا تھا۔اچےلوگ تھے۔وڈي حويلي والے تو سوہني بھي تو رج کے تھي۔جيسے گندم کي سنہري بالي ۔ہمارے گھر کي رونق تھي تو،تيري ہنسي سے ماں کا ڈھيروں خون بنتا تھا ۔وه تجھے ايسي جگہ بياہنا چاہتي تھي جہاں تجھے کسي شے کي کمي نہ ہو ۔پيار،عزت،مان،روپيہ پيسہ سب ہو تيرے پاس۔ رشتہ پکا ہوا تو تيري آنکھوں ميں آنسو تھے ۔

تو جانا نہيں چاه رہي تھي ناں اس گھر سے! تيري آنکھوں ميں پھيلتي سفيدي اس بات کا اشاره تھي کہ ان آنکھوں ميں ميرے ليئے کچھ خواب بسائے ہيں تو نے… وه شام … جب تو آئي ميرے پاس… اور التجا کي… کہ ميں يہ رشتہ رکوا دوں… تو اس گھر کو کبھي نہيں چھوڑنا چاہتي… کتنا درد بھرا تھا تيرا لہجہ … کتنے آنسو بہائےتم نے… تم نے اس دن مجھ سے اپني محبت کا اقرار بھي کيا۔ واسطے ديئے … مگر ميں سارا وقت خاموشي سے تيرے گلے ميں لٹکے تعويذ کو ديکھتا رہا… جيسے کالا دھاگہ تيري گردن کا طواف کرتا ہے ناں تعو يذ کا محافظ بن کے ،ايسے ہي ميري محبت تيرا طواف کرتي ہے،تيري محافظ بن کے ۔مگر ميں تجھ کو دو بول تسلي اور محبت کے نہ بول سکا…

اور يوں … تو چلي گئي… اپنے گھر… تيرا بياه کتنے چاؤ اور مان سے کيا ماں نے… مگر شادي کے بعد تيري ساس اور تيرے خاوند کا رويہ ٹھيک نہ تھا… اور پہلي بيٹي پيدا ہونے کے بعد تو ان دونوں نے تجھے مارنا پيٹنا شروع کر ديا … اماں کئي بار گئي کہ تجھے واپس لے آئے … مگر تو نہ آئي … اور اب دوسري بيٹي کي پيدائش پر تو تيرے خاوند نے دوسري شادي کا فيصلہ کرلياہے۔ اور وه تيري ساس … رشتہ ڈھونڈنےميں مصروف ہے … رجو خالہ بتا رہي تھي کہ رانو کے چيخنے کي آوازيں اسکي بيٹي کے گھر آتي ہيں … جب ساس رسي سے باندھ کر مارتي ہےاسے … ميں نے ماں کو آج بھي بھيجا کہ تجھے واپس لے آئے ۔تيري بچيوں کو بھي … تو کيوں نہ آئي رانو… تو آ تو جاتي … ميں نے وه دو کنال زمين تيرے خاوند کے نام لگا دي تھي پچھلے مہينے … وه لالچي انسان … اسکا رويہ پھر بھي نہيں ٹھيک ہوا تجھ سے …

ميں نے تو اماں سے بھي چھپايا ہے کہ پچھلے سال اپنا ايک گرده بيچ کے تيرے خاوند کو دو لاکھ روپےديئے تھے… وه دو مہينے ميں پشاور مزدوري کيلئے نہيں گيا تھا ۔بلکہ شہر کے اسپتال سے گرده نکلوا کے صحت ياب ہونے تک اپنے دوست کے گھر رہا۔ تيرےشوہرکو شادي کے بعدکہيں سے پتہ چلا تھاکہ تجھے ابا کہيں سے لے آيا تھا۔تو انکي اولاد نہيں تھي… وه کيوں فضول بکتاہے… کہ ميرا تجھ سے چکر ہوگا…

 رانو … تو تو دودھ کي طرح پاکيزه ہے۔ميں نے تو جب سے جوان ہوئي تو ،تجھے جي بھر کے ديکھا بھي نہ تھا،تيرے احترام ميں ميري نظريں تيرے تعويذ سے اوپر اٹھتي ہي نہ تھيں۔تيرے اچھے مستقبل کے ليے تو يہ فيصلہ کيا تھا۔

ماں نے باہر رشتہ ڈھونڈنے سے پہلے پوچھا تھا مجھ سے پر ميں نے منع کر ديا … ۔مجھ غريب کے پاس تھاہي کيا … رانو… ميرے پاس تو زندگي کي سانسيں بھي کم تھيں…

جب تو نے ميرا ساتھ ما نگا تھا ناں… مجھے ايسے لگا جيسے مجھے آب حيات مل رہا ہے … جيسے برسوں کے سوکھے کنويں ميں ٹھنڈا پاني رسنے لگا ہو… جيسے گھني ٹھنڈي چھاوں ،کسي آبلہ پا مسافر کو مل جائے ۔ ميرے وجود کو پل پل موت کي طرف بڑھتے ہوے کوئي مسيحا مل رہا ہو… پر مجھے ڈاکٹر نے بتايا تھا کہ مجھے مثانے کا کينسر ہے … اور مرض آہستہ آہستہ پھيل رہا ہے ۔ اور يہ بھي کہ ميں، زياده عرصہ نہيں جي پاؤں گا۔ميں نے يہ بات ماں سے بھي چھپائي ۔

مجھے لگا تھا کہ شائد آج تو آجائے گي اماں کے ساتھ … ميرے لاغر وجودميں تو جيسے توانائي بھر گئي تھي ۔ رانو کاش تو آجاتي اس جہنم سے نکل کے…

ميري يہ آخري سانسيں … ميں تجھے ديکھتے ہوئے مرتا،

ميرے مرنے کے بعد تم آؤگي … مجھے پتہ ہے تم دوڑتي ہوئي آؤ گي…

 پر اسوقت ميں نہيں ہونگا،تيرے سوالوں کے جواب دينے کے لئے …

 ہاں ،ميرے صندوق کو کھولو گي نا ں کبھي تو ديکھنا… اس ميں ست رنگي چوڑياں پڑي ہونگي ،جو ميں تيرے ليئے شہر سے لايا تھا… جس دن ميں پہلے دن مزدوري کرنے گيا تھا…  ساتھ ايک خط بھي ہوگا ۔جب تم وه پڑھو گي ناں تو تمہاري دريا جيسي آنکھوں ميں ميري محبت آخري ہچکولے کھارہي ہوگي۔ رانو مجھے قدرت نے موقع ہي نہيں ديا کہ چوڑياں اور خط تيرے حوالے کرتا… اپني بے پناه محبت کا اعتراف کرتا… جو پتہ نہيں کس لمحے ميرے جسم و جاں کا ناقابل تنسيخ حصہ بن گئ… پتہ ہے جب يہ خط لکھا اگلے ہي دن مثانے کي تکليف ہوئي اور پھر… ميں نےاپنے جذبات کو اپني دھڑکنوں کے اندر ہي دفن کر ليا… اب بھي شدت تکليف سے سو نہيں پاتا … رانو… تو يہ تعويذ کيوں اتار کر گئي ۔پہنے رکھتي ناں اسکو… مجھ سے ناراض تھي… اس ليئے…  پگلي يہ تو تيرے والدين کي نشاني تھي…  تجھے پتہ تھا ناں کہ ميں اسکو کتنے پيار سے ديکھتا تھا…

ديکھ رانو… اس چاندي کے تعويذ کو… کتنا روشن ہے يہ تيرے چہرے کي طرح …

اورديکھ يہ کالا دھاگہ ميري طرح… تجھے پتہ ہے … جيسے يہ تعويذ تيري نظر اتارتا تھا ناں… اسي طرح… يہ کالا دھاگہ اس چاندي کے تعويذ کي نظر اتارتا ہے۔ تو چاندي کا تعويذ ہے اور ميں کالا دھاگہ