//ڈپریشن کم کرنے کے لیے باغبانی کیجئے

ڈپریشن کم کرنے کے لیے باغبانی کیجئے

ڈپريشن دنيا بھر ميں تيزي سے پھيلتا ہوا مرض ہے۔ ڈپريشن کي وجہ سے صحت کے ساتھ ساتھ سونے جاگنے کےمعمولات، فيصلہ سازي يا صحت مند سرگرمياں، يہاں تک کہ فيملي کے ساتھ روا رکھےجانے والے پيار و محبت کے تقاضے بھي متاثر ہونے لگتے ہيں۔ بعض اوقات ہميں معلوم ہوتاہے کہ ہمارے ذہني تنائو، پريشاني، اسٹريس يا ڈپريشن کي وجہ کيا ہے ليکن بعض اوقات يہ بھي پتہ نہيں ہوتاکہ آخر ڈپريشن ہو کيوں رہاہے؟ يہ سب چيزيں مزاج ميں تبديلي (موڈسوئنگ) کي وجہ سےبھي ہو سکتي ہيں۔ مزاج ميں تبديلي کے کئي محرکات بھي ہوسکتے ہيںاور اس کا ڈپريشن يا اسٹريس سے گہرا تعلق ہوتا ہے، يوں بھي کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ہي ايک دوسرے کي وجہ بن سکتے ہيں۔ بہت سے لوگ ذہني دبائو پر قابو پاليتے ہيں، ليکن عام طور سے خواتين متاثر ہوجاتي ہيں۔ ذہني دبائو کي وجوہات ميں ازدواجي زندگي کے مسائل، مالي پريشانياں، غيرتسلي بخش تعليمي کارکردگي، روزگار کا نہ ملنا، بچوں کا خراب طرزِ زندگي ، آفس کوليگز کا خراب رويہ يا اختلافات وغيرہ شامل ہيں۔ ان تمام وجو ہات يا ان ميں سے کوئي ايک وجہ ڈپريشن کي وجہ بنتي ہے اور جب متاثرہ شخص اپني فرسٹريشن کا اظہار نہيں کرپاتا تو وہ غصہ کرتا ہے يا پھر مزاج کي تبديلي کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہارمونز ميں تبديلياں بھي ڈپريشن کا باعث بنتي ہيں، جس سے بچنے کيلئے ماہرين کچھ باتوں پر عمل کرنے کا مشورہ ديتے ہيں،جيسے کہ نيند پوري کرنا، رات کو جلدي سونا، صبح جلد بيدار ہونا، کيفين کا استعمال کم کرنا، متوازن غذائيں استعمال کرنا، زيادہ سے زيادہ پاني پينا، ورزش کرنا وغيرہ۔ اس کے علاوہ کسي مشغلہ يا مصروفيت جيسے کہ مصوري، سلائي کڑھائي ياپھر باغباني ميں مشغول ہو کر آپ اپني پريشانيوں کو تھوڑي دير کيلئے بھول سکتے ہيں۔

باغباني دلچسپ مصروفيت:انسان فطرت سے قريب رہنا چاہتاہے، اسي لئے اسے باغوں، ہريالي يا سبزہ زار والے مقامات پر گھومنا پھرنا پسند ہے اور فطرت سے يہ قربت اس کے دماغ پر اچھا اثر ڈالتي ہے۔ باغباني کا مشغلہ قدرت سے قريب ہونے کا ايک زبردست ذريعہ ہے۔ اگر آپ اپنے گھر ميں ہي ہرے بھرے پودے اور رنگ برنگے کھلے ہوئے پھول ديکھيں گے تو اپني پريشانياں وقتي طور پر بھول جائيں گے۔ کچھ نہ کريں تو اپنے ٹيرس ميں سبزيوں اور پھولوں کے چند گملے رکھ کر ان کي ديکھ بھال کرکے آپ اچھا وقت گزار سکتے ہيں۔ جب آپ مٹي کو چھوتے ہيں تو آپ کے دماغ ميں خوشي کي کيفيت پيدا کرنے والے ہارمونز پيدا ہوتے ہيں، جس سے آپ خود کو بہتر محسوس کرتے ہيںاور آپ کي طبيعت پر خوشگوار اثرات پڑتے ہيں۔

ذہني تناؤ ميں کمي:بنيادي طور پر ذہني دبائو ايک خاص قسم کے ہارمون کارٹيسول کے اخراج سے ہوتاہے اور ايک تحقيق سے ثابت ہوا کہ باغباني کرنے والے افراد ميں يہ ہارمون کم خارج ہوتے ہيں بنسبت ان لوگوں کے جو باغباني نہيں کرتے۔ واشنگٹن ميں نيشنل انسٹيٹيوٹ آف ہيلتھ سے وابستہ ڈاکٹر فلپ اسمتھ کے مطابق انساني زندگي پر باغباني کے بہت عمدہ اثرات مرتب ہوتے ہيں۔ اس سے آپ بيٹھے رہنے اور وقت ضائع کرنے کي بري عادت ترک کرنے لگتے ہيں۔ فطرت کے قريب بيٹھنے سے آپ کا ذہني تنائو کم ہوتاہے اور سب سے بڑھ کر آپ کو پھل و سبزياں مرغوب لگنے لگتي ہيں۔ بہت سے پھل اور سبزياں بھي ذہني تنائو کم کرنے ميں معاون ہوتي ہيں۔ايک اور سائنسدان ڈاکٹر شيرلوٹ پراٹ کا کہنا ہے کہ باغ اورکھيتوں ميں کام کرنے سے جسماني، دماغي اور ذہني صحت بہتر رہتي ہے اور بلڈ پريشر کنٹرول ميں رکھنے ميں بھي مدد ملتي ہے ۔ ايک تحقيق کے مصنف پيٹر جيمز کا کہناہے کہ انہوں نے خاص طور پر ہريالي کا ذہني صحت پر انتہائي اہم اورمثبت اثر دريافت کياہے۔ ان کي رپورٹ کے مطابق سبزہ زار اور پودوں کے ارد گرد رہنےوالي خواتين ميں ڈپريشن کي سطح 30فيصد کم ديکھنے ميں آتي ہے۔ اس کامطلب يہ ہوا کہ باغباني ہماري معاشرت کو خوبصورتي فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کا تحفہ بھي ديتي ہے۔

ذہني صلاحيت ميں بہتري:باغباني کي مصروفيت کي وجہ سے آپ خود کو دماغي طور پر فٹ بھي رکھ سکتے ہيں، اس سے صرف جسماني ہي نہيں بلکہ ذہني صلاحيتوں ميں بھي اضافہ ہوتاہے۔ ماہرين کے مطابق باقاعدگي سے باغباني کرنے والے افراد کا دماغ تيز کام کرتاہے اور ان ميں الزائمر جيسے خطرناک دماغي امراض ہونے کے خطرات 50فيصد تک کم ہو جاتے ہيں۔ امريکي خلائي ادارے ناسا کي ايک تحقيق کے مطابق پھول پودے يا درخت چاہے گملوں ميں ہي کيوں نہ ہوں، ان سے انسانوں کو بہت سکون ملتاہے، اسي ليے وہ خلانوردوںکيلئے بھي ان کا انتظام کرتے ہيں، بجائے اس کے کہ وہ تمام وقت ٹي وي اسکرين کے سامنے بيٹھے رہيں ، ہرے بھرے پودے ان کو خوشي فراہم کرتے ہيں اور اس سے ان کي نظر اور ذہني حالت بہتر ہوتي ہے۔

طويل عمر کا راز:ايک جائزے کےمطابق قدرتي ماحو ل يا ہريالي والے علاقوں(جيسے ہمارے ملک کے شمالي علاقہ جات، ہنزہ اور گلگت) ميں رہنے والے لوگ ان لوگوں کي نسبت طويل عمر پاتے ہيں جو کم ہريالي والے علاقوںميں رہتے ہيں۔ قدرتي ماحول ميں رہائش پذير لوگوںکي شرح اموات بھي نماياں طور پر کم ديکھنے ميں آئي ہے۔ (منقول)