//چلا گیا سوئے فردوس وہ مہ انور

چلا گیا سوئے فردوس وہ مہ انور

بیاد مکرم سلطان محمود انور صاحب

تحریر فوزیہ منصور امریکہ

بچپن میں ربوہ میں جس جگہ ہمارا گھر تھا اس کے پیچھے ایک بڑی سڑک سرگودھا روڈ گزرتی تھی۔ وہاں سے تیز رفتار گاڑیاں شور مچاتی ہوئی ہر وقت گزرتی رہتی تھیں۔ سڑک کے دوسرے پار قبرستان تھا۔ گویا سڑک کے ایک طرف زندگی تھی اور دوسری طرف شہر خموشاں۔ میں نے بچپن میں کھڑکی سے بار ہا یہ نظارہ دیکھا کہ لوگ سر جھکائے افسردگی کے ساتھ جنازہ کاندھوں پہ اٹھائے سڑک پار کرتے تھے اور میں سڑک پہ آتی جاتی تیز رفتار گاڑیوں کو دیکھ کر یہ سوچتی کسی کا پیارا اس دنیا سے چلا گیا لیکن زندگی تو ویسے ہی چل رہی ہے۔

بچپن کی خوبصورت یادوں میں جو لوگ ہر تصویر میں ساتھ ہوتے ہیں وہ ماں باپ اور بہن بھائی ہوتے ہیں۔ بچپن کی ہر یاد ان کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ ماں باپ کے سائے تلے بسا گھر ایک ایسی نعمت ہے جو خداتعالیٰ نے اپنے بندوں کو بن مانگے عطا کی ہے۔ والدین بچوں کو نہ صرف بے لوث محبت دیتے ہیں بلکہ خاموشی سے قربانیاں کر کے اپنے بچوں کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کی کوشش میں بھی لگے رہتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ ساری عمر جاری رہتا ہے۔ بچپن کے خاص دنوں میں عید کے دن بہت یادگار ہیں۔ یوں تو اس دور کی ہر عید کا اپنا ہی مزہ تھا لیکن ایک عید میرے ذہن پہ گہرے نقش چھوڑ گئی ہے۔ ہمارا گھر ایک متوسط گھرانہ تھا۔ ایک بار عید سے پہلے خاندان میں کوئی شادی تھی اور اس موقع پر سب کے ہی نئے کپڑے بنے۔ کچھ دنوں کے بعد عید آرہی تھی تو امی نے سب بچوں سے کہا کہ چونکہ سب کے کپڑے ابھی نئے ہی ہیں اسلئے یہی کپڑے عید پر بھی پہن لینا۔ لڑکوں کے کپڑوں کا تو ویسے بھی پتہ نہیں چلتا۔ ہم دونوں بہنوں نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے۔ پھر ہوا یوں کہ کسی طرح میری بہن کو نیا جوڑا مل گیا (شاید کسی نے تحفہ دیا تھا)۔ چاند رات کو سب نے اپنے کپڑے استری کر کے رکھے، میں نے بھی بظاہر خوشی خوشی اپنا جوڑا استری کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ میری امی نے میرے چہرے کو پڑھ لیا ہوگا۔ اگلی صبح جب میں تیار ہونے سے پہلے اپنے کپڑے اٹھانے لگی تو وہاں ایک سرخ رنگ کا بہت خوبصورت نیا جوڑارکھا تھا۔ اچانک عید کے دن  ملنے والی یہ خلاف توقع  خوشی آج تک نہیں بھولی۔ رات ہی رات کو وہ نیا جوڑا کہاں سے آیا؟ ہم دو ہی بہنیں ہیں جب ایک بہن کو نیا جوڑا مل گیا تو امی ابا نے سوچا کہ دوسری بیٹی کا دل خراب نہ ہو۔ امی کے پاس گھر میں کپڑا موجود تھا۔آپ نے میرے ناپ کا جوڑا سینا  شروع کردیا ۔  جوڑا تو امید تھا صبح تک مکمل کر لیں گی  مگر ہم رنگ دوپٹے کا کیسے انتطام ہوگا ۔ یہ مسئلہ میرے پیارے ابوجان کے سامنے رکھا گیا تو آپ رات کے تین بجے بازار گئے (اس زمانے میں چاند رات کے موقع پر کراچی کے بازار ساری رات کھلے رہتے تھے) اور میرے جوڑے کے ہم رنگ دوپٹہ خرید کر لے آئے۔ اس طرح میرے امی اور ابوجان نے یعنی دو فرشتوں نے اپنی بیٹی کے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھنے کے لئے محنت کی اور میری عید کا سامان کرکے میرے لئے اس دن کو امر کردیا۔ میں آج تک وہ عید کی صبح نہیں بھولی۔ اور اب تو اس کی یاد سے آنسو آجاتے ہیں

میرے والد صاحب نے سب بچوں کو بہت پیار دیا لیکن اپنی بیٹیوں کو تو پیار کے ساتھ بہت عزت بھی دی۔ کبھی ڈانٹنا تو دور کی بات ہم سے اونچی آواز میں بھی بات نہیں کی۔ صرف اپنے بچے ہی نہیں بلکہ خاندان اور جماعت کے ہر بچے کو بہت پیار دیا۔ ہماری تربیت میں سب سے زیادہ فکر ان کو وقت پہ نماز ادا کرنے اور قرآن کریم کو باقاعدگی سے پڑھنے کی تھی۔ خود بھی تلاوت قرآن کریم بہت دل لگا کر کیا کرتے تھے۔ بچپن کے ہر دن کا آغازامی ابوجان کی تلاوت قرآن کریم کی آواز سے ہوتا تھا۔ بچپن میں ہماری نماز کی ڈائری بنواتے اور مقابلہ کرواتے پھر مہینے کے آخر میں جس بچے نے ساری نمازیں ادا کی ہوتیں وہ جیت جاتا اور اس کو انعام ملتا۔ بچوں کا رات کو دیر تک جاگنا ان کو پسند نہیں تھا اسی وجہ سے کہ صبح کی نماز میں دیر نہ ہوجائے۔ شام کو دیر تک بلا وجہ گھر سے باہر رہنے کو بھی نا پسند کرتے تھے۔ کہا کرتے تھے زیادہ تر برائیاں رات کے اندھیرے میں جنم لیتی ہیں اسلئے لڑکوں اور لڑکیوں کو یہی تاکید ہوتی کہ مغرب کے بعد گھر میں ہی وقت گزارا کرو۔ ایک بار میں اپنی دوست کی بہن کی مہندی کی تقریب میں تھی۔ یہ تو پتہ تھا کہ رات کا پروگرام ہے اسلئے دیر ہو جائے گی لیکن مجھے کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی۔ گھر والوں نے کہا کہ ہم سب کو خود گھر چھوڑ آئیں گے ۔ گھر گھر چھوڑتے ہوئے ہمارے گھر تک آتے آتے بہت دیر ہوگئی۔ میں ڈری ہوئی تھی کہ آج تو ابوجان سے ضرور ڈانٹ پڑے گی۔ میں گھر کے گیٹ پر پہنچی توابوجان باہر بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی الحمدللہ کہا اور اندر لے آئے۔ اگلی صبح ناشتے کے دوران کہنے لگے” بیٹی، رات کو بہت دیر ہوگئی تھی۔ میں بہت فکر مند ہوگیا تھا۔ آئندہ احتیاط رکھنا۔” ڈانٹا نہ جواب طلبی کی لیکن ایک ہی جملے میں ساری عمر کے لئے سبق دے دیا۔ مجھے آج تک افسوس ہوتا ہے کہ میری وجہ سے کتنے پریشان ہوئے ہونگے۔ ماں بننے کے بعد احساس ہوا کہ بچہ دیر تک گھر نہ پہنچے تو دل پر کیا گزرتی ہے۔ کتنے خوف اور وسوسے گھیر لیتے ہیں۔ اب تو موبائل فون سے رابطے آسان ہوگئے ہیں پہلے ایسا کچھ نہیں تھا۔ اس دن بھی سب کو ہی دیر ہوئی تھی۔ سب سہیلیوں نے بتایا کہ گھر پہنچے تو بہت ڈانٹ پڑی لیکن میرے ابوجان نے خاموش رہ کر جو پیغام دیا وہ ڈانٹ سے زیادہ پر اثر تھا جو ہمیشہ یاد رہ گیا۔

ہمارے والد صاحب جماعتی کاموں کے سلسلے میں بہت مصروف رہتے تھے ان کو ہمارے ساتھ گھر میں کم ہی وقت ملتا تھا لیکن جو بھی وقت وہ ہمارے ساتھ گزارتے وہ ایسا ہوتا کہ دل چاہتا کبھی ختم نہ ہو۔ کبھی لوڈو اور کیرم بورڈ کے میچ بھی ہوتے۔ کبھی سردیوں کی شاموں میں مونگ پھلیاں چلغوزے کھاتے ہوئے سبق آموز کہانیوں اور  ہنسی مذاق کا دور بھی ہوتا۔ حس مزاح کمال کی تھی۔ کسی کی پریشانی کو کوئی لطیفہ سنا کر یا مزاحیہ بات کر کے فوراً ہلکا کر دیتے تھے۔ خدا تعالیٰ کی ذات پہ توکل اتنا تھا کہ کبھی ان کو پریشان نہیں دیکھا لیکن راتوں کو ان کوہمیشہ سجدوں میں بہت تضرع کے ساتھ دعا کرتے دیکھا۔ کہا کرتے تھے لوگوں کو پریشانیاں بتانے کی بجائے اپنے خدا سے زندہ تعلق بناؤ۔ لیکن خود دوسروں کی پریشانی کا سن کر بڑے انہماک اور توجہ سے ان کے لئے دعا کرتے تھے۔ گھر میں کسی کی سالگرہ ہوتی تو سب کو اکٹھے بٹھا کر اس بچے کے لئے اجتماعی دعا کرواتے اور اس بچے کے ہاتھ سے صدقہ دلواتے تاکہ اپنی خوشی کے کسی بھی موقع پر دعا اور ضرورت مند لوگوں کو ہم یاد رکھیں۔ اچھا کھانا کس کو پسند نہیں ہوتا۔ ہمارے والد صاحب سادہ خوراک تھے لیکن مزیدار کھانا ہوتا تو تعریف ضرور کرتے۔ پکانے والے کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ کھانے میں کچھ کمی رہ گئی ہے اس لئے اپنی زبان سے کبھی نا پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ ہمیں سکھاتے کہ کھانے کے بعد صرف الحمدللہ کہنا کافی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لئے دعا کرو جس نے اس کھانے کو تم تک پہنچانے میں محنت کی ہے یعنی بیج بونے اور فصل کاٹنے والے کسان، فصل کو مارکیٹ میں پہنچانے والے، خریدنے والے، گھر لانے والے اور پکا کر تیار کرنے والے شخص کے لئے بھی دعا کرو کہ اتنے لوگوں کی محنت لگتی ہے تو ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہے۔

میرے ابوجان بہت روشن خیال شخصیت کے تھے۔ آج کل تو بچے ماں باپ کے ساتھ کافی کھل کر بات کر لیتے ہیں۔ پہلے شادی کے موضوع پر بات کرنے میں ایک حجاب محسوس ہوتا تھا۔ لیکن ہمارے ابوجان نے جس بات میں شریعت نے اجازت دی، اس پہ کھل کے بات کی۔ جب بھی کوئی رشتہ آتا تو میری مرضی بھی معلوم کرتے۔ اگرچہ انہیں معلوم تھا کہ بیٹی نے فیصلے کا اختیار ان کو دیا ہؤا  ہے۔ پھر بھی کبھی خود اور کبھی امی کے ذریعے  ہم بیٹیوں کی رائے ضرور لیتے اور پھر اس کو اہمیت بھی دیتے تھے۔ کبھی اپنا فیصلہ مسلط نہیں کیا۔ میرے نکاح سے پہلے د ستخط کرنے کے لئے مجھے نکاح فارم دیا۔ میں نے لے کر اپنی میزپہ رکھ دیا کہ دعا کر کے دستخط کر دوں گی۔ ایک ہفتہ وہ میری میز پہ رکھے رہا۔ انہوں نے مجھے وقت دیا اور ایک بار بھی جلدی کرنے کو نہیں کہا نہ کوئی دباؤ ڈالا۔ ان کو معلوم تھا کہ بچی کو مناسب وقت چاہیے۔ شادی کے بعد جب میں پہلی بار امریکہ آرہی تھی تو ایئر پورٹ پہ نصیحت کی کہ “کبھی خدا تعالیٰ کی حمد اور شکر نہ چھوڑنا تو تمہارا گھر کبھی خالی نہیں ہوگا اور کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی‘‘ اکثر خواتین کو خوامخواہ سسرال کی باتیں اور برائیاں کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ ہمارے ابوجان کو یہ بات بہت نا پسند تھی کہ سسرال کی بات میکے میں کی جائے۔ کسی کی بھی برائی نہیں کرتے تھے۔ اگر کبھی کسی گھریلو محفل میں ذرا سا بھی ایسا رنگ آجاتا تو وہاں سے اٹھ کر چلے جاتے تھے اور ہمیں فوراً احسا س ہو جاتا تھا۔  میرے پاس جب بھی امریکہ آتے تو گھر میں با جماعت نماز کا اہتمام کرواتے چونکہ مسجد سے دوری کی وجہ سے ساری نمازیں مسجد میں ادا نہیں ہوسکتی تھیں اسی وجہ سے ہمارا گھر اللہ کے فضل سے ہمیشہ محلے کے لئےنماز کا سینٹربنا رہا ہے ۔

ہمارے ابوجان نے کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔ سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ بہت محبت اور عزت  سے پیش آتے تھے۔ بہت مہمان نواز تھے۔ ہر آنے والے کی خاطر تواضع کرتے۔ ہماری امی بھی اس بات کا خاص خیال رکھتی تھیں۔ بہت سی خواتین اپنے مسائل لے کر دفتر کی بجائے گھر آ جاتی تھیں۔ ہر ایک کے مسائل سنتے اور امی ہمیشہ کچھ نہ کچھ خاطر تواضع  کا اہتمام کرتیں۔ ہر ایک کے ساتھ شفقت سے پیش آتے تھے۔ گھر اور دفتر کے ملازمین کے ساتھ ہمیشہ محبت اور عزت کا سلوک رکھا۔ بہت با موقع نصیحت کرتے تھے۔ ایسے انداز میں جو ہمیشہ یاد رہے۔ ایک بار میں اپنے نئے پین سے پہلی بار کچھ لکھنے لگی تو میں نے اپنا نام لکھا تاکہ دیکھوں ٹھیک لکھتا بھی ہے ؟ ابو جان کہنے لگے نئے پین سے سب سے پہلے ہمیشہ بسم اللہ یا خدا کا نام لکھا کرو۔ اس سے برکت ہوتی ہے۔ یہ بات مجھے ہر بار نیا قلم استعمال کرتے ہوئے یاد آتی ہے۔آپ نے ہمارے سامنے کبھی کسی کی برائی نہیں کی۔ نہ بری خبر کو لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے تھے۔ کہا کرتے تھے کہ کسی کا دل دکھنے کا سبب میں کیوں بنوں؟ کسی سے حسد نہیں کیا بلکہ دوسروں کی کامیابی کو دیکھ کر خوش ہوتے۔ غرض بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ ایک محبت کرنے والے شوہر، ایک شفیق باپ، اور ایک ہمدرد انسان تھے۔ سب کے دکھ درد کو سننے اور کام آنے والے۔ خدا کی راہ میں کھلا خرچ کرنے والے۔ دین کے ساتھ دنیاکو لے کر چلنے والے تھے۔ اپنے لباس اور وضع کا خیال رکھتے۔ وقف کی برکت تھی کہ خوب دنیا کی سیریں بھی کیں۔ جہاں جاتے ہمارے امی کے لئے تحفہ ضرورلاتے۔ امی کو کچن کی چیزوں کا شوق تھا۔ ہمارے کچن میں اکثر چیزیں ابوجان کی خریدی ہوئی تھیں۔ سیر کے دوران خوبصورت نظارے دیکھ کر ہمیشہ خدا کی حمد کیا کرتے تھے۔

االلہ تعالیٰ کے فضل سے میرے ابوجان نے لمبی اور کامیاب زندگی گزاری۔ انہوں نے اپنی ہر کامیابی کو وقف یعنی خدمت دین سے منسوب کیا کہ یہ سب اسی کی برکت ہے۔ ہمارے لئے دعائیں اور بہترین نمونہ چھوڑ کر گئے ہیں۔ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں کچھ روز پہلے سڑک کے اس پار جانے والا جنازہ میرے پیارے ابوجان محترم سلطان محمود انور کا تھا۔ گیارہ جنوری ۲۰۲۱ کو ان کی وفات ہوگئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ میں ان کا آخری دیداربھی نہ کرسکی۔ آج ان کی قبر پہ دعا کر کے سڑک کے اس پار کھڑی، آتی جاتی تیز رفتار گاڑیوں کو دیکھ کر سوچ رہی ہوں کہ زندگی یونہی چلتی رہے گی۔ کسی کے چلے جانے سے وقت رک نہیں جاتا۔ ایک دن ہم سب کو بھی سڑک کے اس پار جانا ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ پیچھے رہ جانے والے ہمیں کس رنگ میں یاد رکھیں گے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میرے پیارے ابوجان کی مغفرت فرمائے اور ان کو اپنے پیاروں کے ساتھ جگہ دے (آمین)