//پیشگوئی کے مطابق مصلح موعود کا ظہور

پیشگوئی کے مطابق مصلح موعود کا ظہور

قرآنِ کريم ميں نذير نبيوں کا نام آتا ہے اور باني سلسلہ احمديہ کے ايک الہام ميں نذير کي بجائے نبي کا لفظ بھي آتا ہے (ايک غلطي کا ازالہ) آپ کا کام يہ تھا کہ آپ اس تاريکي کے زمانہ ميں پھر دنيا کو خداتعاليٰ سے روشناس کرائيں اور تازہ الہاموں اور معجزات سے اس مادي دنيا کے دل ميں روحانيت کا بيج دوبارہ بوديں۔

جس وقت آپ نے دعويٰ کيا اس وقت آپ اکيلے تھے، دنيا ميں کوئي آپ کا ساتھي نہيں تھا۔ آپ ريل سے دُور، تارگھر سے محروم۔ ڈاک کي تمام سہولتوں سے محروم۔ ايک چھوٹے سے گاؤں ميں جس کي آبادي چودہ پندرہ سو تھي ظاہر ہوئے اور اس وقت آپ نے دنيا ميں يہ اعلان فرمايا کہ خداتعاليٰ ميري سچائي کو دنيا پر ثابت کرے گا۔ اور دنيا کے دور دراز کناروں تک ميري تبليغ پہنچے گي اور آپ نے دنيا ميں يہ اعلان کيا کہ نہ صرف خدا مجھے دنيا کے کناروں تک شہرت دے گا بلکہ ميرے سلسلہ کو قائم رکھے گا اور مجھ پر ايمان لانيوالے خداتعاليٰ کا قرب حاصل کرينگے۔

اور نو سال کے اندر ميرے ہاں ايک لڑکا پيدا ہوگا، جو خصوصيت سے ميري پيشگوئيوں کو پورا کرنے والا ہوگا اور دنيا کے کناروں تک اس کا نام پہنچے گا۔ وہ جلد جلد ترقي کرے گا اور روح القدس سے برکت ديا جائے گا۔ ان الہامات کے شائع ہونے کے بعد آپ کي مخالفت بڑے زور شور سے ہوئي اور کيا ہندو اور کيا مسلمان اور کيا عيسائي اور کيا سکھ سب کے سب آپ کے پيچھے پڑ گئے اور ہر ايک نے آپ کے تباہ کرنے کا فيصلہ کيا۔ يہ مخالفت ہي اپني ذات ميں اس بات کي علامت تھي کہ باني سلسلہ احمديہ خداتعاليٰ کي طرف سے ہيں۔ کيونکہ اس قسم کي عالمگير مخالفت بالعموم سچے نبيوں ہي کي ہوا کرتي ہے مگر باوجود اس کے کہ آپ اکيلے اٹھے اور آپ کے مقابلہ ميں ساري دنيا جمع تھي پھر بھي اللہ تعاليٰ نے آپ کي آواز کو بلند کرنا شروع کيا اور ايک ايک دو دو کرکے لوگ آپ پر ايمان لانے شروع ہوئے اور بڑھتے بڑھتے يہ جماعت پنجاب اور ہندوستان ميں پھيلتے ہوئے دوسرے ممالک کي طرف نکل گئي۔ جب باني سلسلہ احمديہ 8ء ميں فوت ہوئے تو اس وقت آپ کے مخالفوں نے يہ شور مچايا کہ اب يہ سلسلہ تباہ ہوجائے گا، ليکن خداتعاليٰ نے آپؑ کي جماعت کو حضرت مولوي نورالدين صاحبؓ کے ہاتھ پر جمع ہونيکا موقع دے ديا اور وہ اس جماعت کے اسلامي اصول کے مطابق پہلے خليفہ منتخب ہوئے۔ آپ کي خلافت کے دوران مغربي تعليم سے متاثر لوگوں نے اصولِ خلافت پر اعتراضات کرنے شروع کئےاور يہ فتنہ بڑھنا شروع ہوا، حتٰي کہ جب 1914ء ميں آپ فوت ہوئے تو ان لوگوں نے جو کہ خلافت کے مسئلہ کے خلاف تھے نظامِ سلسلہ کو درہم برہم کرنے کي کوشش کي۔ راقم الحروف جو باني سلسلہ احمديہ حضرت احمد عليہ السلام کا لڑکا ہے، اس وقت صرف پچيس سال کي عمر کا تھا اور تمام مادي ذرائع سے محروم تھا۔ جماعت کي باگ دوڑ کلي طور پر ان لوگوں کے ہاتھ ميں تھي جنہوں نے خلافت کے اصول کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کياتھا، ليکن قاديان ميں موجود جماعت کي کثرت جنہيں يہ باغي لوگ جاہلوں کي کثرت کہتے ہيں اس بات پر مصر تھي کہ ہم خلافت کے طريق کو قرآني احکام کے مطابق جاري رکھيں گے۔ چنانچہ ان لوگوں کے اصرار پر ميں نے جماعت احمديہ سے بيعت لے لي اور خليفہ ثاني کے طور پر جماعت کي، اسلام کي، اور دنيا کي خدمت کا کام کرنا شروع کيا۔ چونکہ جماعت کے سربرآوردہ اور بڑے لوگ مخالف ہوگئے تھے اس لئے جماعت کي حالت اس وقت بہت خطرناک نظر آتي تھي اور بيروني دنيا کي نظريں بھي اب اس اميد سے اٹھ رہي تھيں کہ چند دن ميں اس سلسلہ کي عمارت پاش پاش ہوجائے گي مگر اس وقت خداتعاليٰ نے مجھے بتايا کہ وہ ميري مدد کرے گا اور مجھے غلبہ دے گا اور ميرے مخالفوں کو جو طاقتور ہيں کمزور کرے گا اور ان ميں تفرقہ پيدا کرکے انہيں پاش پاش کردے گا۔ احمديہ جماعت ميں سے زيادہ تعليم يافتہ اور زيادہ تجربہ کار آدمي نکل گئے۔ احمديہ جماعت ميں سے زيادہ مالدار اور زيادہ رسوخ والے آدمي الگ ہوگئے۔ وہ لوگ جو سلسلہ کا دماغ سمجھے جاتے تھے وہ اس سے کٹ گئے۔ ميري عمر کے لحاظ سے خلافت سے بغاوت کرنے والا گروہ يہ آوازيں بلند کرتا تھا کہ سلسلہ کي باگ دوڑ ايک بچہ کے ہاتھ ميں چلي گئي ہے اب يہ سلسلہ تباہ ہوکر رہے گا۔ ليکن وہ خدا کہ جس نے قرآن شريف نازل کيا ہے۔ وہ خدا کہ جس نے اس دنيا کے لئے ايک روحاني نظام بنايا ہے جس کے ماتحت يہ دنيا ترقي کررہي ہے۔

وہ خدا جس نے احمد عليہ السلام مسيح موعود مہدي معہود کو بتايا تھا کہ وہ ان کي ذريت سے 1884ء سے لے کر نو سال کے اندر ايک لڑکا پيدا کرے گا جو خداتعاليٰ کے فضل اور رحم سے جلد جلد ترقي کرے گا اور دنيا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اسلام کا دنيا ميں پھيلا کر اسيروں کي رستگاري اور مُردوں کے احياء کا موجب ہوگا۔ اس کي بات پوري ہوئي اور اس کا کلمہ اونچا رہا۔ ہر روز جو طلوع ہوتا تھا وہ ميري کاميابي کے سامانوں کو ساتھ لاتا تھا، ہر روز جو غروب ہوتا تھا وہ ميرے دشمنوں کے تنزل کے اسباب چھوڑ جاتا تھا، يہاں تک کہ خداتعاليٰ نے جماعت احمديہ کو ميرے ذريعہ سے دنيا بھر ميں پھيلا ديا اور قدم قدم پر خداتعاليٰ نے ميري رہنمائي کي اور بيسيوں موقعوں پر اپنے تازہ کلام سے مجھے مشرف فرمايا، يہاں تک کہ ايک دن اس نے مجھ پر ظاہر کرديا کہ ميں ہي وہ موعود فرزند ہوں جس کي خبر حجرت مسيح موعود عليہ الصلوٰة والسلام نے 1884ء ميں ميري پيدائش سے پانچ سال پہلے دي تھي۔ اس وقت سے خدا تعاليٰ کي نصرت اور مدد اور بھي زيادہ زور پکڑ گئي اور آج دنيا کے ہر براعظم پر احمدي مشنري اسلام کي لڑائياں لڑ رہے ہيں۔ قرآن جو ايک بند کتاب کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ ميں تھا، خداتعاليٰ نے آنحضرت صلي اللہ عليہ وسلم کي برکت اور مسيح موعود عليہ السلام کے فيض سے ہمارے لئے يہ کتاب کھول دي ہے اور اس ميں نئے سے نئے علوم ہم پر کھولے جاتے ہيں دنيا کا کوئي علم نہيں جو اسلام کے خلاف آواز اٹھاتا ہو اور اس کا جواب خداتعاليٰ مجھے قرآن کريم سے ہي نہ سمجھا ديتا ہو۔ ہمارے ذريعہ سے پھر قرآني حکومت کا جھنڈا اونچا کيا جارہا ہے اور خداتعاليٰ کے کلاموں اور الہاموں سے يقين اور ايمان حاصل کرتے ہوئے ہم دنيا کے سامنے پھر قرآني فضيلت کوپيش کررہے ہيں دنيا خواہ کتنا ہي زور لگائے، مخالفت ميں کتني ہي بڑھ جائے، گو دنيا کے ذرائع ہماري نسبت کروڑوں کروڑ گُنے زيادہ ہيں ليکن يہ ايک قطعي اور يقيني بات ہے کہ سورج ٹل سکتا ہے ستارے اپني جگہ چھوڑ سکتے ہيں۔ زمين اپني حرکت سے رُک سکتي ہے، ليکن محمد رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم اور اسلام کي فتح ميں اب کوئي شخص روک نہيں بن سکتا۔ قرآن کي حکومت دوبارہ قائم کي جائے گي پھر دنيا اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں يا انسانوں کي پوجا کو چھوڑ کر خدائے واحد کي عبادت کرنے لگے گي اور باوجود اس کے کہ دنيا کي حالت اس قرآني تعليم کو قبول کرنے کے خلاف ہے اسلام کي حکومت پھر قائم کردي جائے گي ايسي طرح کہ پھر اس کي جڑوں کا ہلانا انسان کے لئے ناممکن ہوجائے گا۔ اس شيطان کے برباد کردہ دنيا کے جنگل ميں خدا نے پھر ايک بيج بويا ہے ميں ايک ہوشيار کرنے والے کي صورت ميں دنيا کو ہوشيار کرتا ہوں کہ يہ بيج بڑھے گا، ترقي کرے گا، پھيلے گا اور پھلے گااور وہ روحيں جو بلند پروازي کا اشتياق رکھتي ہيں، جن کے دلوں کے مخفي گوشوں ميں خداتعاليٰ کے ساتھ ملنے کي تڑپ ہے وہ ايک دن اپني مادي خوابوں سے بيدار ہوں گي اور بيتاب ہوکر اس درخت کي ٹہنيوں پر بيٹھنے کے لئے دوڑيں گي تب اس دنيا کے فساد دور ہوجائيں گے۔ اس کي تکليفيں مٹا دي جائيں گي۔ خداتعاليٰ کي بادشاہت پھر اس دنيا ميں قائم کردي جائے گي اور پھر اللہ تعاليٰ کي محبت انسان کے لئے سب سے قيمتي متاع قرار پائے گي اور دنيا کي يہ تبديلي فساد اور بدامني کے دور کرنے کا ذريعہ ثابت ہوگي۔ اور يہي ايک ذريعہ ہے جس سے دنيا کا فساد اور بدامني دور کي جاسکتي ہے اس کے سوا سب کوششيں بيکار ہوجائيں گي۔

(ديباچہ تفسير القرآن صفحہ 322 تا 324)