//پہلا پیار

پہلا پیار

تحریر بشری عمر بامی

‎شموں،‎گھر…گھر …گھر ….کرتي سلائي مشين کي ہتھي پر ھاتھ رکھے …آنکھوں پر موٹا سا چشمہ لگائے بے چاري شموں … ‎شوگر کي مريضہ…ماضي کي يادوں کے جھروکوں کےدريچوں کےپٹ وا کئے گہري سوچ ميں بيٹھي کئي سال پيچھے چلي گئي….. ‎جب اماں بھي …زندگي کي دوڑ ميں اس کے ساتھ پيسے کمانے کے لئے کھجور کي چھال سے چنگيريں بنا يا کرتي تھيں … ‎اچانک …گزري ملگجي سي شام کا منظرآنکھوں ميں گھوم گيا … ..جھٹپٹے کےوقت جب رات کي سياہي کي دبيز چادر دن کواپنےاندر سمونے کو بےتاب… تھي …‎ليکن …اماں کي آواز سے شموں کے ہاتھ… ہتھي پر رک سے گئے..‎لالٹين کيوں نہيں جلاتي…اندھيرے ميں سلائي کر کےآنکھوں کا ستياناس کر لو گي….. اماں اپني مادرانہ شفقت سے مجبور ہو کر بوليں…‎اماں ! مٹي کا تيل کونسا سستا ہے.. کچھ دير اور نظر آ سکتا ہے… لالٹين صاف کرنے والي بھي ہے.. ‎ اماں …..تيل تو ختم ہونے کو تھا کل…‎جاؤ دو روپے کا لے آؤ…‎بس آج قميض ختم کر کے دم لونگي.. پتہ ہے شيخوں کے ہاں شادي ہے ..انکے کپڑے بري جہيز سب ہي تو مجھے تيار کرنا ہے… ‎شموں کے ابا کاروبار کرتے کرتے برے دنوں کي لپيٹ ميں آگئےاور ساتھ ساتھ بيماري نے بھي آ گھيرا۔ اچھے وقتوں ميں گھر بنا ڈالا .. ليکن بچوں کو پروان چڑھا نہ سکے .. ايک ہي بيٹا وہ بھي نکھٹو نکلا ..جيسے تيسے تين بہنيں پيا ديس سدھارنے ميں اسي سلائي مشين نے اس گھر کو سہاراديا ..شموں نے پرائمري کے بعد پڑھائي کو خيرباد کہا .. اور بوڑھي ماں کا دست بازو بن گئي۔ ‎بس شموں نے ساري عمر شادي کا بندھن نہ باندھا..  ‎کبھي کبھي تلخ سي مسکراہٹ ہونٹوں پر لا کر کہتي شادي تو ميں نے سلائي مشين سے کر لي… يہي تو ميرا گھر والا ہے… جب کوئي مالي ضرورت ہو يہي پورا کرتي ہے… وہ کبھي کبھي موتيے کے پھول مشين کو پہناتي… اور خوش ہوتي… ‎آج کافي سالوں کے جب اس سے ملاقات ہوئي… تو شموں کي آنکھوں کي روشني … اس مشين نے کھالي تھي اور رہي سہي کسرزيابيطس کے موذي مرض نےپوري کر دي تھي۔  ‎سب بہنيں اور بھائي اپني زندگي ميں مست اپنے بچوں کے ساتھ خوشگوار زندگي کے مزے لوٹ رہے تھے اوربے چاري سب کو پالنے والي شموں اب گورنمنٹ کي طرف سے ملنے والي زکواة کي لائن ميں لگي بنک کے چکر کاٹتي ہے.. مشين گھر کے کونے ميں چپ سادھے پڑي ہے.. ليکن وہ ابھي بھي بہت پيار سے اس کو پھول پہناتي ہے… کيونکہ وہ اس کا پہلا پيارجو ٹھہرا