//پھول کچھ میں نے چنے ہیں ان کے داماں کیلئے

پھول کچھ میں نے چنے ہیں ان کے داماں کیلئے

مرسلہ صفیہ چیمہ فرینکفرٹ

حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب نے اپنی صاحبزادی محترمہ آمنہ طیبہ بیگم مرحومہ{بیگم صاحبہ محترم حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب} کی تقریب رخصتانہ پر نصائح سے پُر ایک خط تحریر فرمایا تھا جو اکتوبر ۱۹۶۱ء کو الفضل میں شائع ہوا تھا۔ اپنی افادیت کے پیش نظر ایک بار پھر شائع کیا جا رہا ہے۔

{ز روزنامہ الفضل ربوہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۳ء}

میری پیاری بچی طیبہ ؛ خدا تمہارا حافظ و ناصر ہو۔

اب تم ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہو۔اللہ کرے کہ یہ دور پہلے دور سے زیادہ مبارک ہو۔لیکن جب انسان زندگی کے ایک دور کو چھوڑ کر دوسرے میں داخل ہوتا ہے تو اس کو کئی قسم کی دقتوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابتداء کی معمولی سی لغزش اکثر اوقات ساری عمر کی پشیمانی کا موجب ہو جاتی ہے۔اس لئے نئے دور میں قدم رکھتے ہوئے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اب تمہارا بہت سے آدمیوں سے واسطہ پڑنا ہے جن کی طبیعت سے تم مانوس نہیں ہو۔ بعض بزرگوں کے لئے اپنے خیالات اور جذبات کو قربان کرنا ہو گا اور بعض افراد کے لئے اپنی طبیعت کو مجبور کر کے پیار و محبت کے جذبات پیدا کرنے ہونگے تا کہ نئے ماحول کے قالب میں تم اپنے آپ کو ڈھال سکو۔بہرحال یہ ایک بڑا امتحان ہے۔یہاں تم ان لوگوں میں تھیں جو تم کو اپنے آرام و آسائش پر مقدم رکھتے تھے۔ اب تم ان لوگوں میں جا رہی ہو جنکا تم کو بھی خیال رکھنا پڑے گا۔سب سے پہلے تم کو اللہ تعالی کے آگے جھک جانا چاہیئے اس نئے دور میں کامیاب رہنے کے لئے اس سے استقامت طلب کی جائے اس کا یقینی نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر مشکل کے وقت وہ تمہاری رہنمائی کے لئے آن پہنچے گا اور اپنی تائید اور نصرت کے ساتھ تمہارا حامی و مددگار ہو گا۔اس کے بعد تم حتی الامکان وہ طرز اختیار کرنے کی کوشش کرو گی جس سے سب کو اپنا گرویدہ کر لو اور ہر ایک کے ساتھ ہمدردی اور محبت کے ساتھ پیش آئو۔ کسی کی ریس نہ کرو۔رشتہ داروں کے دکھ درد میں شریک رہو تا کہ وہ تمہارا دکھ درد اپنا دکھ محسوس کریں۔سچی خیر خواہی انجام کار دشمن کو بھی اپنا بنا دیتی ہےاور یہاں تم اپنے عزیزوں میں جا رہی ہو لیکن اس امر کا خیال ضرور رہے کہ اس قدر اپنے آپکو نہ مٹا لو کہ دوسرے تمہاری ہستی کو ہی نہ محسوس کریں۔انسان کو اپنی عزت ِ نفس کا ضرور خیال رکھنا چاہیئے۔جو اپنی عزت خود نہیں کرتا دوسرے بھی اس کی عزت نہیں کرتے۔اس لئے تسلیم اور رضا میں خودداری کا پہلو ضرور شامل ہونا چاہیئے کہ نکما اور بیکار آدمی دوسروں کی نظر میں بالکل گر جاتا ہے اس لئے کام کرنا اور خدمت کرنا اپنا شیوہ بنا لو۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالو۔ انسان کی حالت دنیا میں ایک طرح نہیں رہتی۔تنگی ترشی دونوں پہلو لگے ہوئے ہیں۔ تنگی میں صبر کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑو۔بغیر کسی قسم کی گھبراہٹ کے اللہ کی نصرت صبر شکر کے ساتھ طلب کرتی رہو اور ایسی حالت میں اپنے میاں کے لئے امن اور سکینت کا فرشتہ بنی رہو۔اپنے مطالبات سے اس کو تنگ نہ کرو۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل آ جائے۔لیکن ایسی حالت میں ایسی قناعت نہیں چاہیئے کہ دونوں بیکار ہو کر بیٹھے رہو۔خود بھی اور میاں کو بھی خدا کے آگے جھکائے رکھو اور کام کرنے اور محنت کرنے کی ترغیب ان کو دیتی رہو۔فراخی میں کبھی غریبوں کی ضروریات کو نہ بھولو۔اپنی ضروریات پر حتی الامکان ان کو مقدم رکھو۔تم ایسے گھر میں جا رہی ہو جس کا کام مخلوق اور غرباء کی خدمت کرنا ہے۔اگر تم نےیہ اپنے ذمہ لے لی تو ہمیشہ مخدوم رہو گی۔اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع اختیار کرنے میں عزت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم کو ایک عظیم الشان خُسر دیا ہے اس کی خوشنودی اور خدمت کر کے دین و دنیا کی فلاح حاصل کر سکتی ہو۔اللہ تعالیٰ کے آگے تسلیم و رضا کے ساتھ جھکا رہنا چاہیئے۔باوجود دعائوں کے اگر وہ کوئی فیصلہ صادر فرما دے تو اس کو نہایت صبر و شکر سے قبول کرنا چاہیئے۔اس نئے دور میں اکثر میاں بیوی اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جایا کرتے ہیں۔

تم کو چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر ایک محبت پر مقدم رکھو۔اس نے جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے ہیں ان کو ہمیشہ مقدم رکھو۔ اپنی زندگی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے گزارو۔تم دیکھو گی کہ وہ کلی طور پر تمہارا ہو جائے گا۔جب وہ تمہارا ہو گیا تو پھر تم کو کس کی پرواہ۔ سب خود بخود تمہارے ہو جائیں گے۔

حضرت اماں جان ہمارے لئے ایک نعمت غیر مترقبہ ہیں۔ان کی دعائیں اور محبت حاصل کرنے کی از حد کوشش کرو۔یہ نہ پرواہ کرو کہ کسی وقت وہ کسی طرف توجہ ہونے کی وجہ سے متوجہ نہیں ہوتیں بلکہ اپنی خدمت سے محبت سے انکو اپنا بنائو اور اُن کی دعائیں لو۔اللہ نے چاہا تو یہ خدمت تمہاری از حد نیک نصیب کا موجب ہو گی۔ ان کی خدمت کرنا تم کواپنا شیوہ بنا لینا چاہیئے۔اللہ تعالیٰ تم کو ہر نیک کام کرنے کی توفیق دے۔

فقط خاکسار محمد عبد اللہ خان