//وہ خواتین جن کو معاشرہ چھپا رہا ہے

وہ خواتین جن کو معاشرہ چھپا رہا ہے

. تحریر مقدس رفیق

ميں اپني روزمرہ کي زندگي ميں تقريباً چاليس سے پچاس عورتوں سے ملتي ہوں، جن ميں وہ خواتين بھي موجود ہيں جن کو کسي قسم کي معذوري ہے۔ ہم جس معاشرے ميں جينے کي بھرپور کوشش ميں، کبھي مار دي جاتي ہيں، کبھي اغوا کر لي جاتي ہيں، کبھي ہم عورتيں محبت کے نام پر ‘زبر جنسي’ ميں استعمال کي جاتي ہيں، کبھي شادي جيسے استحصالي بندھن ميں باندھ دي جاتي ہيں، کبھي رشتوں کو بچاتے ہوئے وٹا سٹا جيسي فضول روايت کا حصہ بنا دي جاتي ہيں۔

يہ سب ان عورتوں کي بات کي گئي ہے جن کو کوئي معذوري نہيں ہے۔ لمحہ ٔفکريہ يہ ہے کہ جب ہم ان عورتوں يا لڑکيوں جن کو کوئي معذوري ہے ان کي زندگي کو محسوس کريں تو لگتا ہے سانس بند ہو جائے گي۔ عقل کے دروازے بند ہو جاتے ہيں، جب ايک اکيس سالہ لڑکي يہ کہتي ہے، انگليوں پر گن کر بتا سکتي ہوں باجي کہ ميں پيدا ہونے سے لے کر اب تک کتني بار اس چار ديواري سے باہر نکلي ہوں۔ صرف اس ليے کہ ميں چل نہيں سکتي مجھے کہيں بھي لانے لے جانے ميں گھر والوں کو پريشاني ہوتي ہے۔

آپ کي آنکھيں آنسووں سے بھر جائيں گي، جب کسي سانولے حسن کو آنکھوں ميں کسي انہوني کا انتظار لئے ديکھيں گے، جس کے شوہر نے اس کو اس ليے طلاق دے دي کہ ايک روڈ ايکسيڈنٹ ميں، ڈاکٹروں کو اس کي ٹانگ کاٹنا پڑي، تا کہ اس کي جان بچائي جا سکے۔ آپ اس وقت کيسا محسوس کريں گے، جب آپ ايک معصوم لڑکي جو کہ ذہني طور پر چيزوں کو سيکھنے ميں تھوڑا وقت ليتي ہے، شوق سے سيکھتي ہے، سيکھتے ہوئے مسکراتي ہے، آنکھوں ميں کچھ پا لينے کي خوشي ہوتي ہے اور اپنے الفاظ کو زبان دينے کے ليے اسے اشاروں ميں بات کرنا پڑتي ہے۔ اس کو سامنے والے کي بات سننے کے ليے کانوں کي نہيں آنکھوں کي مدد لينا پڑتي ہے۔ ايسي لڑکي کسي کے ليے کيا نقصان دہ ثابت ہو سکتي ہے ليکن نہيں، اس کو تشدد کر کے گھر کے اندر بند رکھا جاتا ہے، تا کہ وہ باہر نہ جائے۔ کيونکہ اگر اس کا دل کرے گا باہر جانے کو، تو اس کو کوئي بھي انسان اپنے مفاد کے ليے استعمال کر لے گا۔

ماں باپ بہت فکر مند ہوتے ہيں اور اس فکر کو ختم کرنے کے ليے ان کو لگتا ہے کہ لڑکي پر کسي بھي قسم کا تشدد کر کے اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہيں۔ جب کہ تصوير کا دوسرا رخ يہ کہتا ہے، اس معصوم لڑکي نے کسي کا کيا بگاڑا ہے؟ وہ تو پہلے ہي اس معاشرے ميں دوسروں کي محتاج بنا دي گئي ہے، جس معاشرے کے لوگ خود اس کو نقصان پہنچا سکتے ہيں۔ ايک لڑکي جو زندگي کے پينتيس سال خاندان کے بچوں کو سنبھالتے گزار چکي ہے اور اس کي شادي اس ليے نہيں کي گئي کہ اس کي دماغي صلاحيت بہتر نہيں ہے۔ ايسي لڑکي سے کب کوئي شادي کر سکتا ہے؟

جب يہ لڑکي کسي نئے مہمان کے آنے پر شرماتے ہوئے، خوشي سے يہ پوچھے کہ تم لوگ ميري شادي کروانے آئے ہو، تو آپ کو محسوس ہو گا تنہائي اور نظر انداز ہونا کس قدر تکليف دہ ہوتا ہے۔ ايسي ہزاروں لڑکياں اس معاشرے ميں موجود ہيں جن کي زندگي ميں محتاجي کا زہر اک اک سانس ميں بھر ديا جاتا ہے اور يہ زہر ان لڑکيوں اور خواتين کے ليے اور بھي زہريلا ہے جنہيں کوئي معذوري ہے۔

بات کرتي ہوں اس استحصال اور مختلف رويوں کي جو صنفي بنياد پر ان خواتين کے ساتھ کيے جاتے ہيں، جنہيں کوئي معذوري ہے۔ ان کي معذوري کو کمزوري کون سے عوامل بناتے ہيں، وہ بے شمار ہيں۔ معذوري کي بنا پر وہ اس قدر نظر انداز ہو چکي ہوتي ہيں، کہ ان کا پيدائشي اندراج تک نہيں کروايا گيا ہوتا۔ ظاہري بات ہے جب وہ اٹھارہ سال کي عمر ميں شناختي کارڈ بنوانے کي اہل ہوں گي، تو تب تک بہت دير ہو چکي ہوتي ہے۔ الميہ يہ ہوتا ہے کہ والدين کو اپني بيٹي کي عمر تک کا بھي نہيں پتا ہوتا۔

وہ خواتين يا لڑکياں، جن کو معذوري ہے اگر ان کے پاس ب فارم يا سمارٹ کارڈ جيسي سہولت موجود نہيں ہوتيں، تو گورنمنٹ کي طرف ملنے والي سہوليات سے وہ محروم رہ کر اس معاشرے ميں اور بھي نظر انداز ہوتي ہيں۔ اس کے علاوہ، جن کا شناختي کارڈ بنوانے کا عمل شروع ہو چکا ہوتا ہے، وہاں مسئلہ يہ آتا ہے کہ والدين کے پاس اتنے پيسے نہيں ہوتے کہ وہ اپني بيٹيوں کو کٹھن راستوں سے تقريباً 80 سے 60 کلوميٹر سفر کروائيں، جن کو کہيں بھي لانے لے جانے ميں بہت زيادہ مشکل سمجھا جاتا ہے۔

والد ساري زندگي اپنے سگريٹ حقے پر لاکھوں خرچ کر چکے ہوتے ہيں، مگر بيٹي کے ليے نہ تو وہيل چيئر خريديں گے، نہ اس کي تعليم کے ليے ان کو اپني سگريٹ مہنگي لگے گي۔ تعليم ويسے تو لڑکيوں کے ليے کسي بے حيائي يا آزادي کے پروانے سے بڑھ کر کچھ نہيں سمجھي جاتي، اس ليے وہ ہم اپني بيٹيوں کو دينا مناسب نہيں سمجھتے، تو وہ لڑکياں تو بالکل بھي حق دار نہيں ہيں، جن کو کوئي معذوري ہے۔ تعليم سے ان کو اپني صحت کو بہتر کرنے کا سليقہ آ جائے گا۔

وہ تعليم سے اپني معذوري اور خود مختاري کي راہ ميں حائل رکاوٹوں پر سوال اٹھائے گي۔ اس کو شعور آ جائے گا اور ہو سکتا ہے، لکھنا بھي شروع کردے۔ کيونکہ قلم تو طاقت دے گا آسمان ميں اڑان بھرنے کي۔ ہم بہت فخر محسوس کرتے ہيں کہ ہم نے عورتوں کو سارے حقوق برابري کي بنياد پر دے ديے ہيں، جب کہ حقيقت يہ ہے کہ عورت کو اپني بيضہ داني پر بھي اپنا اختيار نہيں ہے۔ کيا گزرتي ہو گي ايک ايسي عورت پر جس نے اپني زندگي معذوري ميں گزاري اور اپني شادي کے وقت يہ آواز اٹھائي کہ ميري کزن کے ساتھ شادي مت کي جائے، کيونکہ ميں معذور بچے نہيں پيدا کرنا چاہتي۔ مگر نہيں ہم تو عورتوں کي برابري کے خواہاں ہيں، ہم اس کي شادي خاندان سے باہر نہيں کريں گے۔ اس کو خانداني دباؤ ميں لا کر بچے پيدا کروائيں گے اور جب بچے معذور پيدا ہوں گے، تو اس کو بکري کي طرح پھر بچہ پيدا کرنے پر مجبور کيا جائے گا، کہ شايد اس بار خدا کو تم پر ترس آ جائے۔ اور وہ بے بسي کا پتلا بني ايک دن دو بچوں کي جان کي بازي ہار جاتي ہے۔

ہم برابري کے اتنے خواہاں ہيں کہ اگر کسي مرد کا دل کرتا ہے، رات کے تين بجے ٹھنڈياني کي سڑکوں پر گھومنے کا، تو وہ ہر طرح کي فکر سے آزاد، دوستوں کو فون کرتا ہے اور نکل جاتا ہے، مگر مجال ہے جو بيوي ساري ذمہ داريوں کے بعد، يہ خواہش بھي کر لے کہ مجھے بھي دوست کے گھر تعزيت کے ليے جانا ہے۔

ضرورت اس امر کي بھي ہے کہ ہم خواتين کي برابري کے حقوق ميں، ان خواتين کو تو پيچھے نہيں چھوڑ رہے، جن کو کسي بھي کسي قسم کي معذوري ہے۔ کيا اس ملک ميں منيبہ مزاري جيسي پر عزم اور حوصلہ مند خواتين ہم سے چھپي ہوئي ہيں؟

ديہات ہو يا شہر، ہر جا ايک ہي اصول ہے کہ ہر وہ عورت، جس کو کوئي معذوري ہے، اسے معاشرے کا مفيد شہري بننے کي نہيں ديا جاتا۔ اس کي معذوري سے اپنا مفاد، جس حد تک حاصل کيا جا سکتا ہے، معاشرہ اس حد تک جانے ميں کوئي عار محسوس نہيں کرتا۔ ہميں چاہيے کہ جس طرح ہم سب اپني زندگي ايک عام شہري اور انسان ہونے کي حيثيت سے جينا چاہتے ہيں، بالکل اسي طرح ان تمام خواتين کو بھي سمجھيں، جنہيں کوئي معذوري ہو۔ معذوري کي بنا پر کسي بھي عورت کا استحصال ختم ہونا چاہيے۔

وہ خواتين جن کو کوئي معذوري ہے يا نہيں سب کو برابري کي بنياد پر زندگي گزارنے کا پورا حق ہے اور اب ہم سب کو مل کر اپنے ارد گرد ان خواتين کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا تاکہ معاشرے عدم توجہي، استحصالي اور تشدد کا خاتمہ ممکن ہو۔