//وہم

وہم

. تحریر قرۃالعین فاروق حیدرآباد

اگر ہم اپنے ارد گرد کا جائزہ ليں تو ہميں بہت سے ايسے لوگ بھي مليں گے جو اپنے آپ کا کم جبکہ دوسرے لوگوں کا زيادہ جائزہ ليتے ہيں، چلتے چلتے يونہي چٹکلے چھوڑنے کا شوق ہوتا ہے اور تو اور اچھے بھلے ہٹے کٹے انسان کو بيمار کہہ دينا مثلاً ارے تمہارا رنگ کيوں پيلا پڑا ہوا ہے کيا آج کل کھانا اور آرام صحيح نہيں کر رہے، ارے تمہاري آنکھوں کے نيچے اتنے حلقے کيوں ہوگئے ہيں کيا بہت کم سوتے ہو، ارے تمہيں کوئي ٹينشن ہے جو اتنے بے رونق لگ رہے ہو وغيرہ وغيرہ اپني دانست ميں تو وہ يہ بول کر چلے جاتے ہيں مگر اچھے خاصے صحت مند انسان کو شک ميں مبتلا ضرور کر ديتے ہيں اور اگلا شخص واقعي سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ يقيناً ميرے بارے ميں ٹھيک ہي کہہ کر گيا ہے پھر فوراً سے بيشتر آئينے کا خيال آجاتا ہے آئينہ ديکھتے ہوئے دوسرے کے کہے ہوئے الفاظ صحيح لگنے لگتے ہيں چاہے حلقے ہوں يا نہ ہوں، چاہے رنگ پيلا پڑا ہوا ہو يا نہ ہو لوگ اپنے آپ کو بيمار، بے رونق اور تھکا تھکا محسوس کرنے لگتے ہيں اگر اسي وقت اس بات کو اپنے ذہن سے جھٹک ديں اور کوئي ايسا ويسا خيال نہ آنے ديں تو اپنے آپ کو بہت سي وہمي بيماريوں سے بچا سکتے ہيں کسي کے کہہ دينے سے کوئي بيمار نہيں ہو جاتا، يونہي دوسرے کو بيمار کہہ کہہ کے ايسے تو ہزاروں جنگيں جيتي جا سکتي ہيں اور ہزاروں لوگوں پہ قابض ہوا جاسکتا ہے

کہتے ہيں کہ وہم کا علاج تو حکيم لقمان کے پاس بھي نہيں تھا کسي کے کہہ دينے سے کہ تم بيمار ہو لوگ خيالوں ہي خيالوں ميں پتہ نہيں کيا کيا بيمارياں اپنے ذہن ميں پال ليتے ہيں جس سے چہرے کي رونق تو جاتي ہے بلکہ زندگي ميں بے چيني اور بے سکوني بھي آجاتي ہے اور جب  وہ شخص اپنا طبعي معائنہ کرواتا ہے اور اگر ڈاکٹر کے مطابق اس کو کوئي بيماري نہيں ہوتي يا رپورٹ صحيح آتي ہے تو انسان اپنے آپ کو خودبخود صحت مند اور ہشاش بشاش محسوس کرنے لگتا ہے۔

اگر کوئي شخص صحت مند ہے تو اسے اپنے رب کا شکر ادا کرتے رہنا چاہيے کہ اللہ نے اسے صحت مند اور تندرست رکھا ہے اگر ہم اپنے اردگرد کا جائزہ ليں اور بيمار لوگوں کو ديکھيں تو ہميں واقعي پتہ چلے کہ ’’تندرستي ہزار نعمت ہے‘‘ اور يہ ايسے ہي نہيں کہا گيا، ديکھا جائے تو بہت کم لوگ دوسروں کي تعريف کرتے ہيں اگر کسي بيمار شخص کو دو اچھے اور ميٹھے بول ديں تو يقيناً بيمار شخص اپنے آپ کو تھوڑي دير کے ليے ہي سہي بہتر محسوس کرنے لگے گا ۔

اپني سوچ کو مثبت رکھيں اور بلاوجہ لوگوں کي باتوں ميں نہ آئيں سوچوں سے زندگي نہيں بدلي جا سکتي مگر الٹا سيدھا سوچ کر اندر ہي اندر سڑ سڑ کے وقتي طور پہ لوگ اپنے آپ کو بيمار کرليتے ہيں جس سے خود تو پريشان ہوتے ہيں ساتھ ساتھ اردگرد کے رہنے والے بھي پريشان ہوجاتے ہيں اس لئے دوسروں کي باتوں ميں نہ آئيں اپنا خيال خود رکھيں اور ويسے بھي …

’’جان ہے تو جہان ہے‘‘۔