//نیکی کا معیار

نیکی کا معیار

۔ تحریر نزہت جہاں ناز کراچی

کسی کی سالگرہ یا عقیقہ ہو، شادی بیاہ کی کوئی تقریب یا پھر کوئی اور خوشی کا موقعہ، ہم اسے بڑے ذوق و شوق سے مناتے ہیں بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ خوشیوں کو منانے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں تو قطعی بے جا نہ ہوگا۔ یہ فطرتِ انسانی ہے کہ وہ غموں سے دُور اور مسرتوں سے قریب ہونا چاہتا ہے اور یہ رویہ اس وقت تک غلط بھی نہیں جب تک ہم اوروں کے جذبات و احساسات کا خیال رکھتے ہوئے اور میانہ روی اختیار کرتے ہوئے خوشی منائیں!۔

مگر جہاں تک اللہ کے احکامات کی بات ہے اسے ہمارے رسولِ پاکؐ نے بالکل صاف صاف واضح فرمادیا ہے۔ آپؐ کی سیرتِ پاک میں ہمیں شادی بیاہ کی تقریبات تک میں سادگی کا عنصر دکھائی دیتا ہے، یہاں تک کہ ان کی پوری زندگی نمود و نمائش سے مبرّیٰ نظر آتی ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنی ہی اُمّت کے طریقوں کو اپنی سُنّت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، اپنی ہی ولادت کے اس موقع کو جشن میں تبدیل ہوتا دیکھ کر، محبتوں کے اس غیر معتدل اظہار سے وہ مسرور و محظوظ ہوں، وہ بھی ان وقتوں میں جب کہ اِس اُمّت کے کئی انگ زخم خوردہ اور بے بس ہوں؟

یوں تو ہم زندگی کے کئی معاملات میں اللّٰہ کی نافرمانی کرتے ہیں مگر پھر بھی اس سے درگزر کی اُمّید رکھتے ہیں مگر کیا یہ ضروری ہے کہ نیکی کے نام پر غیر مذاہب کی طرح غلو کر کے اس کے غضب کے مستحق ہوجائیں؟ یہ یاد رکھیں کہ اللہ کے حضور نیکی صرف وہی گردانی جائے گی جس کا حکم ہمیں قرآن و سنت میں ملتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ جہاں ہم اتنا کچھ کرتے ہیں تو وہاں اچھے اور نیک جذبات کے ساتھ ہم اگر ایسا کچھ کام کر بھی لیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے ؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جب رسولِ پاکؐ کے اُن تین اصحاب نے نیکی کا ارادہ کر کے آپس میں یہ طے کیا کہ ایک تمام عمر نفل نمازوں میں شب وروز گزارے گا جبکہ دوسرے نے ساری زندگی روزے رکھنے کا فیصلہ کیا اور تیسرے نے کبھی شادی نہ کرنے اور مجرّد زندگی گزارنے کا تہیہ کر لیا تو رسولِ اکرمؐ کو جب اس بات کی خبر ملی تو آپؐ بہت برہم ہوئے اور فرمایا کہ کیا تم لوگ مجھ سے بھی بڑھ کر نیکی کے دعوےدار ہو کیوں کہ میں تو نماز روزے عبادات بھی کرتا ہوں اور زندگی کی دیگر سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتا ہوں اور میرے اہل و عیال بھی ہیں تو کیا تم نیکی کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو ؟

 تو جان لیجیئے کہ اللّہ رب العزت نے ہمیں اپنی طرف آنے کا ایک سیدھا اور صاف راستہ بتادیا اور رسولِ پاکؐ کو اسی راستے کا رہنما بنا کر بھیج دیا اب اگر ہم اچھی یا بری کسی بھی نیت سے اس راستے سے زرا سا بھی ہٹ کر چلیں گے یا میرِ کارواں کی رہنمائی کی جگہ اپنے آرام و آسائش کا خیال کر کے کوئی اور راستہ اختیار کریں گے تو کیا وقت پر منزل یعنی جنت تک پہنچ پائیں گے؟…

اور پھر ہوتا یہ ہے کہ جب ہم دل کے بہلانے کو اپنی خواہش کے مطابق دین میں نیکیوں کے طریقے روشناس کروانے لگتے ہیں تو ہماری نظر دین کے بنیادی کاموں سے ہٹ جاتی ہے اور ہم انھی کاموں کو کارِ ثواب سمجھ کر خود کو مطمئن کرلیتے ہیں۔

اگر ہم اللہ کی محبت اور رسول پاک ﷺکی اطاعت و شفاعت چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے فہم و شعور کووسعت دینی ہوگی، اللہ کے کلام اور رسولِ پاکؐ کی سنّت سے خود کو جوڑنا ہوگا، اپنے نفس کی نہیں اپنے ضمیر کی آواز سننی ہوگی، ایسی تمام رسومات اور تقریبات سے خود کو علٰیحدہ کرنا ہوگا جو دین کے نام پر ہمیں دین ہی کے راستے سے جدا کرتی ہیں اور جنھیں نہ تو رسولِ پاکؐ ہی نے اختیار کیا تھا اور نہ ہی ان کے اصحاب اور اکابرینِ دین نے۔

 آج پھر ہمارا دین غریب الوطن ہے آج پھر وہ اک بار ویسا ہی اجنبی ہے جیسا رسولِ پاکؐ کے ابتدائی زمانے میں تھا اسے آج اک بار پھر امت کی یکجائی اور بھر پور توجہ کی ضرورت ہے۔

آئیے آج رسولِ پاک محمّدِ مصطفیٰ احمدِ مجتبیٰؐ کے یومِ ولادت پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بلکہ آپؐ کی اطاعت سے آپؐ کی محبت کا دم بھریں گے اور انشاء اللہ اپنے ساتھ ساتھ پوری اُمّت کے لیے بہشت کا راستہ ہموار کریں گے۔دعائے خیر!۔