//نمک اور دادا جی کی کہانی

نمک اور دادا جی کی کہانی

تحریر سعدیہ قریشی برطانیہ

ميں نے کھانے کي تياري کے لئے پياز بھوننے کے لئے رکھا اور سبزيوں کو دھو کر کاٹنے لگي۔ پھر جب پياز براؤن ہو گيا تو ٹماٹر ڈال کر مصالحہ نکالنے لگي۔ مرچيں، ہلدي، خشک دھينہ ڈالا اور آخر ميں نمک والا ڈبہ اُٹھايا تو مجھے پتہ چلا کہ نمک تو ختم ہو گيا ہے۔ شام کا وقت اور شديد سردي کا موسم، “اب کيا کروں”؟

 کھانا ہر روز امي بناتي ہيں مگر آج اُنھوں نے کہيں جانا تھا تو مجھے بنانا پڑ گيا۔ مجھے اچانک خيال آيا کے کچن ميں چيک کرتي ہوں شايد کہيں اور نمک کا پيکٹ رکھا ہو امي اکثر سودہ لا کر پيکٹ نيچے بنے کيبنٹس ميں رکھ ديتي ہيں۔ ميں باري باري سب کيبنٹس کھول کر ديکھ رہي تھي۔ آخر ايک کيبنٹ ميں کچھ پيکٹس رکھے تھے۔ جن ميں داليں اور بہت سے دوسرے مصالحے وغيرہ تھے۔ ان ميں ايک سفيد رنگ کا نمک جيسا دکھنے والا پيکٹ بھي تھا۔ ميں نے وہ پيکٹ اُٹھا کر ديکھا مگر اُس پر کچھ بھي لکھا نہيں تھا۔

 “اب کيسے پتہ چلے کہ يہ نمک ہے يا کچھ اور” ميں سوچنے لگي۔

 پھر زرا سا پيکٹ کھولا اور اپني انگلي پر زرا سا لگا کر زبان پر رکھ کرچيک کيا۔ شکر ہے نمک ہي تھا۔ ميں نے دل ميں اللہ کا شکر ادا کيا۔ کہتے ہيں کمپيوٹر کو انساني دماغ کو کاپي کر کے بنايا گيا ہے۔ انسان کے دماغ ميں بھي کمپيوٹر کي طرح windows يعني کھڑکياں ہيں جو ايک کھولو تو اس کے ساتھ بہت سي اور بھي کھل جاتي ہيں۔ ايسا ہي ہوا نمک کو چکھتے ہي ميرے دماغ کي ايک کھڑکي کھل گئي جو مجھے ميرے بچپن ميں لے گئي۔ ميرے بچپن کي وہ خوبصورت ياد ميرے دادا جان کي مہربان اور محبت کرنے والي شيخصيت۔ ايسي ہي سرديوں کي ٹھرٹھتي شاموں ميں دادا جان کے ساتھ ہيٹر کے سامنے بيٹھ کر اُن سے کہانياں سُننا، کہانياں جو کچھ سچي، کچھ جھوٹي، کچھ کوہ کاف کے جنوں اور پريوں کي، کچھ دادا جان کي آپ بيتي، اور کچھ پرانے وقتوں کي۔ مجھے سب کہانياں بہت اچھي لگتي۔ مگر دادا جان جب پرانے وقتوں کي کہانياں سُناتے تو وہ کہيں کھو سے جاتے۔ اُن کے چہرے پر ايک سايہ سا لہرا جاتا۔ وہ عجيب کھوئے کھوئے انداز ميں بول رہے ہوتے۔ اور ميں کہاني سُنتے ہوئے کسي ان ديکھے “پرانے وقت” ميں پہنچي ہوتي۔

دادا جان کہتے تھے کہ پرانے وقتوں ميں سب بہت اچھا تھا، زندگي بڑي آسان تھي۔ انسانيت کي قدر تھي، محبت تھي، رشتوں کا مان اور لحاظ تھا۔ اُس زمانے ميں مکان کچے مگر لوگ سچے تھے۔ اُس وقت کے تو چور ڈاکو بھي ايمان داري سے اپنا کام کرتے۔

ايک دفعہ کا ذکر ہے کہ ڈاکووں کا ايک مشہور گروہ تھا جو مل کر بڑے بڑے ڈاکے ڈالتے۔ اس گروہ کي نظر شہر کے ايک رئيس کي حويلي پر تھي جہاں بے حساب مال تھا۔ اور پھر ايک دن ان کو پتہ چلا کے اس بڑي حويلي کے سب لوگ شہر سے باہر گئے ہيں اور حويلي کچھ دن کے لئے خالي ہے۔ ڈاکو کے سردار نے سب کو حکم ديا کہ اپنے گھوڑے تيار رکھو آج رات ہم حويلي کو لوٹ ليں گے۔

پلان کے مطابق يہ گروہ اپنے سردار کي نمائندگي ميں حويلي ميں داخل ہو گئے اور قيمتي سازوسامان اگھٹا کر کے گھٹرياں بنانے لگے۔ سردار خود بھي مال سميٹ رہا تھا۔ اور ساتھ ساتھ سب کو جلدي ہاتھ چلانے کا حکم دے رہا تھا۔ اتني بڑي حويلي کے بہت سے کمرے قيمتي سازوسامان سے بھرے تھے۔ ايسا موقع پھر نہيں ملنا تھا۔

سردار اپنے ساتھيوں کے ساتھ اس گول کمرے ميں آيا جو کہ آخري کمرہ تھا۔

“ اب مال بہت ہو گيا اس سے زيادہ ہم اُٹھا نہيں سکتے اس لئے اب ديکھ لو جو زيادہ قيمتي چيزيں ہوں وہ لے لو باقي چھوڑ دو” سردار نے حکم ديا۔

سب ڈاکو کمرے ميں موجود سامان کو ٹٹولنے لگے۔ اتنے ميں سردار کا ايک آدمي سردار کے پاس آيا اور بولا…“ سردار يہ چھوٹي سي ڈبيا بڑي خوبصورت اور قيمتي لگ رہي ہے مگر اس ميں سفيد برادہ (Powder) پڑا ہوا ہے”۔

سردار نے ہاتھ بڑھاکر يہ چھوٹي سي خوبصورت ڈبيا اپنے ہاتھ ميں لي اور کھول کر چيک کيا۔

ڈيبا تو واقعي بہت خوبصورت ہے۔ مگر يہ سفوف کس چيز کا ہے”۔ سردار بھي سوچتے ہوئے بولا اور اپني انگلي پر اس ڈبيا ميں موجود برادہ زرا سا لگا کر زبان پر رکھا۔…“نمک”۔ سردار حيرت سے بولا۔…“ سب سامان وہيں رہنے دو اور واپسي کي تياري کرو ہم اب يہاں ڈاکہ نہيں ڈال سکتے”۔ سردار گرج دار آواز ميں بولا۔

’’مگر کيوں سردار‘‘۔ اس کے ايک ساتھي نے ہمت کر کے پوچھا۔

’’نمک…کھا ليا ہم نے، اس گھر پر اب ڈاکہ نہيں ڈال سکتے ’’نمک حرام‘‘ نہيں ہيں ہم”۔ اُس کے ساتھي اُس کي بات سُن کر بغير کوئي اور سوال کئے واپسي کا راستہ تلاش کرنے لگے۔’’اس طرح کا تھا پرانا زمانہ چور، ڈاکو بھي ’’نمک‘‘ کي لاج رکھتے‘‘۔ دادا جان کہاني ختم کر کے مسکراتے ہوئے بولتے۔

ميں نے وہ پرانا زمانہ تو نہيں ديکھا مگر دادا جان کے ساتھ گزرا ہوا خوبصورت وقت بھي اب پرانا زمانہ ہي بن گيا بہت حسين تھا وہ پرانا زمانہ جس ميں دادا جان کي بے لُوث محبت ہمارے ساتھ تھي۔

ميں بھي نمک ڈھونڈتے ڈھونڈتے کہاں پہنچ گئي۔ ياديں بھي کمال کرتي ہيں۔ دماغ کي اور بہت سي کھڑکياں کُھل کر بہت سي داستانيں سُنا رہيں ہيں مگر اب کھانا بنا لوں “نمک” کي وجہ سے پہلے ہي بہت دير ہو چُکي ہے۔