//’’نظرعنایت کی ڈال مولا‘‘

’’نظرعنایت کی ڈال مولا‘‘

حمیرا نگہت (جرمنی)

کوئی سلیقہ ہے بندگی کا نہ کوئی وصف و کمال مولا

ہے میرے دامن میں بس خسارا نظرعنایت کی ڈال مولا

میں ایک نابینا شخص جیسی ، وہ سُوجھتاہے جو تُو سُجھائے

ہے توُ مجسم جواب آقا! میں ہوں سراپا سوال مولا

ورَق کو سادہ کیا روانہ دُعائیں حرفوں میں ڈھل نہ پائیں

قبولیت کی لگا دےمہر اب، نہ میری عرضی کو ٹال مولا

مری جبینِ نیاز کو جب، تمھاری چوکھٹ ہوئی میسر

تو ٹمٹمایا چراغِ اخضرہوا ہے ربط اب بحال مولا

ضمیرنےہے انا کومیری بلندیوں سے زمیں پہ پٹخا

کھلا یہ مجھ پر کہ خود نمائی کا ہے مقدر زوال مولا

نصیب جاگیں جو تُو نظرسے نظر ملانے اِدھر کو آئے

کرے جو محبوب کا نظارا توروح ڈالے دھمال مولا

لٹائے عرفان کے پیالے کسی کوقربت کے شرف بخشے

یہی تو نگہت کا مدعا ہے پلائے جامِ وصال مولا