//نصائح…نصائح…

نصائح…نصائح…

تحریر برکت ناصر پاکستان

صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے

ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار

اللّہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں انسانوں کی ہدایت اور راستی کی طرف راہنمائی کے لئے انبیاء کو دنیا میں بھیجا اور ہمیں اپنا کلام پاک عطا کیا۔جس میں زندگی گزارنے کے آداب سکھائےاور ہماری خوش نصیبی کہ ہم نے اس دور کے امام الزماں کو پایا۔اور ان کے طفیل خلافت کی برکات سے مستفید ہو رہے ہیں الحمدللہ علی ذلک

ہمیں بار بار پردےکےاہمیت اور بدرسومات کے خلاف جہاد کی نصائح ہی نہیں کی جاتیں بلکہ ہماری بزرگ ہستیوں نے اپنے عمل سے ثابت بھی کیا…سیرت حضرت اماں جان،سیرت حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ،سب گواہ ہیں۔کہ احکام خداوندی پر عمل کرنے کےنتیجہ میں کس قدر ثمراور شیریں پھل لگے۔

خاکسار جب کراچی آئی تمام بچے زیرتعلیم تھے۔بڑی بیٹی میڈیکل میں پڑھ رہی تھی۔اس کے نیک نصیب کے لئے دعائیں تو تھیں…ساتھ ہی کانوں میں مدھ بھری آواز آتی،،

’’جے توں میرا ہو رہویں سب جگ تیرا ہو…‘‘

حضرت مصلح موعودؓ نے لجنہ کی تنظیم بنا کر عورتوں پر عظیم احسان کیا۔اور عمل کے میدان میں آگے بڑھ کر کام کرنے کاحوصلہ دیا۔

اور سچے دل سے بہت دعاؤں کےساتھ سوچا خدمت دین کی کوشش کروں۔مولا تو میری دنیا سنوار دے۔اللہ پاک نے فضل فرمایا بچی کا رشتہ آگیا۔آپا امتہ الشافی سیال(مرحومہ)جیسی مشفق روحانی ماں ہماری قیادت کی نگران تھیں۔انکی نصائح، مشورے اور دعاؤں نے حوصلہ بڑھائے رکھا۔شادی کا وقت قریب آیا۔سارا ننھیال وددھیال شامل ہونے کیلئے آرہے تھے۔

پیغام ملا کہ جہیز وغیرہ ہم نہیں لیں گے۔میرا سارا خاندان اس پہلی شادی میں شرکت کر رہا تھا۔نفس بار بار سر اٹھاتا کہ بیٹی توجان سے پیاری ہوتی ہے۔استطاعت بھی ہے۔بیٹی سےرائےلینی چاہی۔اس کاجواب توکل علی اللہ والا تھا۔آپ نے تعلیم دلوا دی یہی میرا جہیز ہے۔اللہ کافی ہے۔

ایسے میں آپاشافی نے حضور کے سنہری حکم پر عمل کرنے کا مشورہ دیا۔کہ بہت سے سفید پوش گھرانے کچھ بھی نہ ہونے کی وجہ سے بیٹیاں گھروں میں بٹھائے ہوئے ہیں۔ان بچیوں کے لئے حصہ ڈالو۔

اور نور پور واپسی پر میری معاون ومددگار بنیں۔(آج تک ان کی بلندی درجات کے لئے دعا گو ہوں)

شادی الحمدللہ ہوگئی۔ حسن اتفاق ہے۔کچھ عرصہ کے بعد نور پور آپاشافی سے ملنے گئی۔ اسی روز ان کے صحن میں فرنیچر لا کر رکھا جا رہا تھا۔مجھےدیکھتے ہی بہت خوشی کا اظہار کیا۔اوربتایا یہ ہے وہ جہیز یہاں دو بچیوں کی شادی پر ان ماں کو بلایا ہے ابھی آکر لےجاے گی۔اتنے میں وہ ماں آچکی تھی۔میں نے اشارے سے منع کر دیا۔میراذکر نہ آئے۔آپاشافی نے کہا کراچی کی ایک بہن کی طرف سے تحفہ ہے۔

اس سادہ سی ماں نے اپنے دوپٹے کا پلو پکڑے بہتے ہوئے آنسوؤں سے جو دعائیں دیں۔اپنےبچوں کی ازدواجی زندگی کی بنیادوں میں آج تک اثر پذیر پاتی ہوں تو دل حمد و شکر کے جذبات سے بھر جاتاہے۔

کاش ہم ان پاک آوازوں پر کان دھریں۔جو ہماری اور ہماری نسلوں کی بھلائی کے لئے ہیں۔رسموں کی ان لعنتوں کے طوق سے اپنی گردنوں کوآزاد کر کے سکھ کا سانس لیں۔

ہم بڑے شہروں میں رہنے والے بغیر کسی دقت کے اپنی شادیوں میں پردے کا بہترین انتظام کر سکتے ہیں۔رخصتی اور ولیمے میں لیڈی ویڑز کا انتظام ہو جاتا ہے۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی مہمان خواتین کو وہ عزت و احترام دیں۔جس کامطالبہ اللہ اور اس کا امام ہم سے کر رہا ہے۔یقینا اس پر عمل کر کے ہم اپنی اس شادی کو حقیقی دعاؤں کا وارث بنا رہے ہوتے ہیں جو امامِ زمانہ نے اپنے ماننے والوں کے حق میں کیں۔