//نامور اردو سندھي شاعرہ ڈاکٹر ثمينہ واحد کي سندھي شاعري کي کتاب

نامور اردو سندھي شاعرہ ڈاکٹر ثمينہ واحد کي سندھي شاعري کي کتاب

’’ٻرندڙ لفظ‘‘(سُلگتے الفاظ) کي تقريب رونمائي

گذشتہ دنوں نامور اردو سندھي شاعرہ ڈاکٹر ثمينہ واحد کي شاعري کي کتاب ’’ٻرندڙ لفظ‘‘ (سُلگتے الفاظ) کي رنگارنگ تقريب رونمائي مارسلز بوٹ بيسن کلفٹن کراچي ميں منعقد کي گئي۔ اس تقريب کے خاص مہمانوں ميں ملک کي مشہور ڈرامہ نويس اسٹوري رائٹر نورالہديٰ شاہ، اردو کي نامور شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن، علمي ادبي سماجي شخصيت ڈاکٹر وحيدہ مہيسر، سندھي لينگويج اتھارٹي سندھ کے سابق سيکريٹري تاج جويو، سات سندھي کتابوں کے مصنف اقبال بلوچ، سندھي ادبي بورڈ جامشورو کےرسالے سرتيوں کي ايڈيٹر گلبدن جاويد مرزا، سندھي اردو ادب سے وابسطہ حميدہ گھانگھرو، شہناز راہو، مشہور سياسي سماجي شخصيت ڈاکٹر دودو مہيري، نامور صحافي دودو چانڈيو، پاکستان پيپلز پارٹي کي ساجدہ ميمن، سندھي اردو ادب شاعري سے وابسطہ رحمت پيرزادہ، سندھو ستار پير زادہ، ريحانہ چنڑ، نثار نندواني، سندھ کے شہر ڈھرکي سے آئے ہوئے نوجوان شاعر جي ايم لاڑک، سکھر شہر سے آئے ہوئے نوجوان شاعر اسد چاچڑ، اور بڑي تعداد ميں ديگر ادبي سماجي سياسي شخصيات نے شرکت کي۔

اس رنگارنگ تقريب رونمائي کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، اور تلاوت کلام پاک پڑھنے کي سعادت ڈاکٹر ثمينہ واحد کے شوہر جلالدين ظفر شيخ نے حاصل کي، کتاب ’’ٻرندڙ لفظ‘‘ (سُلگتے الفاظ) کي رونمائي شرکاء کي بھرپور تاليوں کے گونج ميں ہوئي، اس موقع پر کتاب کي تخليق کارہ ڈاکٹر ثمينہ واحد نے آئے ہوئے سارے معزز مہمانوں کا شکريہ ادا کيا، اور کہا کہ وہ الله تعاليٰ کي شکر گذار ہيں کہ آج وہ صاحب کتاب ہوئي ہيں، اپني کتاب کي رونمائي پر وہ بہت خوش ہيں، اس موقع پر نامور اسٹوري رائٹر نورالہديٰ شاہ نے کہا کہ ہمارے معاشرے ميں خصوصي طور پر سندھي سماج ميں خاتون رائٹرز کو اپني تصنيفات کو آگے لانے کے ليے بڑے پاپڑ بيلنے پڑتے ہيں، اکثر خاتون شاعراؤں کو رومانوي شاعري تحريرکرنے پر معاشرے کے نام نہاد ٹھيکيداروں، دوستوں، اپنے پرائے لوگوں، يہاں تک کہ اپنے گھر والوں کے چبھتے سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس حوالے سے يقيناڈاکٹر ثمينہ نے شاعرہ کي حيثيت ميں بہت سارے لوگوں کا کہا سُنا بُھگتا ہوگا، يہ ايک لاجواب سندھي تجريدي نظموں کي کتاب قوم کے سامنے لانے ميں کامياب ہوگئي ہيں اور وہ مبارکباد کي مستحق ہيں، اردو ادب کي ممتاز شخصيت ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ ڈاکٹر ثمينہ واحد کي شاعري اسکے تجريدي اور نثري نظم اس معاشرے کي صحيح معنوں ميں عکاسي کرتے ہيں ڈاکٹر ثمينہ اپنے نظموں کے ذريعے اس گندے سماج سے ايک جنگجو طرح لڑتي ہوئي نظر آتي ہيں۔ الغرض ڈاکٹر ثمينہ کي کتاب (سُلگتے الفاظ) مذاحمتي ادب کي ايک اچھي کتاب کہي جاسکتي ہے۔ تقريب ميں سندھي لينگويج اتھارٹي کے سابق سيکريٹري اور نامور شاعر تاج جويو نے اپنے خطاب ميں کہا کہ اس نفسا نفسي دور ميں ہر کسي کو اپني پڑي ہوئي ہے لوگ اپنے اخلاقي قدر بھول گئے ہيں ايسي نازک اور گونا گو صورتحال حال ميں مذاحمتي ادب سے لبريز ڈاکٹر ثمينہ کي تجريدي نظموں سے آراستہ يہ کتاب ’’ٻرندڙ لفظ‘‘ (سُلگتے الفاظ) کا آنا ايک اچھا شگون ہے، ڈاکٹر ثمينہ ايک وسيع سوچ کي مالکہ ہيں اس کے قلم نے اس معاشرے کي ناہمواري اور عدم مساوات پر تلوار کا سا کام کيا ہے سندھي سماج کي “کاري کارو والي “گندي رسم، بھوک افلاس، بدحالي، بيروزگاري گندي اور زرد سياست کو تنقيد کا نشانہ بناکر اس نے اپنے اس کتاب کي توسط سے نام نہاد سماج کا پول کھول کر رکھ ديا ہے۔ اس موقع پر مشہور علمي، ادبي، سماجي شخصيت کي مالکہ ڈاکٹر وحيدہ مہيسر نے اپنے خوبصورت الفاظوں کے پھول ڈاکٹر ثمينہ واحد پر برساتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ثمينہ ايک کيمسٹري سائنس جيسے خشک موضوع کي ڈاکٹر ہيں ليکن شاعري کي کتاب جس ميں رومانس، پيار، وفا، جفا، آنسو، مُسکراہٹوں والے موضوع کُوٹ کُوٹ کر بھرے ہوتے ہيں کس طرح لانے ميں کامياب ہوئي ہيں يہ بات ان کي سمجھ سے باہر ہيں۔ ڈاکٹر وحيدہ مہيسر نے مزيد کہا کہ ڈاکٹر ثمينہ کي طرح ہر خاتون جس کو ذرا برابر بھي ادب سے شاعري سے محبت ہے، لگاؤ ہے انہيں لازمي اپنے شوق کو پايہ تکميل تک پہنچانے اور کچھ کر دکھانے کے ليے آگے آنا چاہئے۔ ڈاکٹر وحيدہ مہيسر کي ان باتوں پر شرکاء سے بھرا ہوا پورا پنڈال تاليوں سے گونج اٹھا۔ ماہوار سندھي رسالے سرتيوں کي ايڈيٹر گلبدن جاويد مرزا نے کہا ڈاکٹر ثمينہ واحد ايک اچھي شاعرہ ہيں، ہر وقت ہنستي مسکراتي رہتي ہيں، اپني ذات سے ہٹکر دوسروں کے دُکھ سُکھ ميں شريک ہوتي ہيں اپنے تو اپنے غيروں کو بھي منٹوں ميں اپنا بنا لينا تو انکے بائيں دائيں ہاتھوں کا کام ہوتا ہے، مجھے فخر ہے کہ ميں ڈاکٹر ثمينہ واحد کي دوست ہوں۔ اس پُروقار تقريب رونمائي پر مضمون نگارہ کالم نويس حميدہ گھانگھرو نے کہا کہ اس پدر زاد معاشرے ميں کم عورتوں کو ہي شاعرہ بننے کے مواقع ملتے ہيں اور سندھي شاعرہ بننا اور اسکي شاعري کي کتاب کا شائع ہونا بھي اکثر ناممکنات ميں شمار ہوتا ہے اس ليے ڈاکٹر ثمينہ خوش نصيب خاتون ہيں کہ ان کي يہ کتاب Publish ہوئي ہے، ليکن مجھے پتہ ہے ڈاکٹر ثمينہ کن کن مشکلات کے مراحل طے کرکے اس کتاب کو ہمارے ہاتھوں تک لانے ميں کامياب ہوئي ہونگي۔ اس پُر وقار اور شاندار کتاب کي رونمائي پر سندھي اردو ادب سے تعلق رکھنے والي شہناز راہو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کي توسط سے ڈاکٹر ثمينہ ہميشہ کے ليے زندہ و پائيندہ شخصيت بن گئي ہيں انسان کي زندگي بہت ہي تھوڑي اور مختصر سي ہوتي ہے اللہ تعاليٰ ڈاکٹر ثمينہ واحد کو لمبي عمر عطا فرمائے مگر جب تک کوئي ايک بھي کتابوں سے پيار کرنے والا کتابيں پڑھنے والا دنيا ميں موجود ہوگا ڈاکٹر ثمينہ واحد صاحبہ کتاب ’’ٻرندڙ لفظ‘‘ (سُلگتے الفاظ) کي صورت ميں ہميشہ ہميشہ اپنے پڑھنے والوں کي دلوں ميں زندہ رہيں گي۔

اس کتاب کي رونمائي کي حسين تقريب ميں شرکت کرنے کے ليے پورے سندھ سے آئے ہوئے خواتين و حضرات ڈاکٹر ثمينہ واحد سے پيار کرنے والے مداحوں نے سندھ کے روايتي اجرک کے تحائف، گلابوں کے گلدستے پھولوں کے ہار انہيں پيش کيئے۔ اس حسين رونمائي کي تقريب کے اسٹيج سيکريٹري کے فر ائض سندھي اردو ادب سے تعلق رکھنے والے خليل چانڈيو نے ادا کيے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ثمينہ واحد کے جيون ساتھي جلال الدين ظفر شيخ کي جانب سے معزز مہمانوں کيلئے ريفريشمنٹ کا اہمتمام کيا گيا تھا۔ اس طرح يہ رنگا رنگ کتاب ’’سُلگتے الفاظ‘‘ کي رونمائي کي تقريب شام چار بجے سے شروع ہوکر رات سات بجے تک اپني تمام تر خوبصورتياں سميٹتي اختتام پذير ہوئي۔