//میڈیکل کی مخلوط تعلیم اور لڑکا اک شرمیلا سا

میڈیکل کی مخلوط تعلیم اور لڑکا اک شرمیلا سا

تحریر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

اقرار کيے بنا چارہ نہيں سو کيے ليتے ہيں کہ ہمارے ساتھ ايک مسئلہ ہے اور ہے بھي گمبھير!

جب بھي ہم کچھ ايسا سنيں جس کا نہ سر ہو نہ پير، کہنے والا نہ زميني حقائق کو مد نظر رکھے نہ اخلاقي قدروں کے تانے بانے کو سمجھے، تو جي چاہتا ہے کہ کہنے والے کا سر کھول ديا جائے۔ ارے نہيں، نہيں، وہ نہيں، جو آپ سمجھ رہے ہيں۔ ہمارا مقصد تو محض تجسس کي خاطر سر کے اندر تاک جھانک کر کے بات سمجھنے کي کوشش کرنا ہے جيسے لفظوں سے تصويريں بنانے والے گلزار کہتے ہيں،

اگر ايسا بھي ہو سکتا تمہاري نيند ميں سب خواب اپنے منتقل کر کے تمہيں وہ سب دکھا سکتا

جو ميں خوابوں ميں اکثر ديکھا کرتا ہوں۔

تو جي يہ چاہتا ہے کہ ماضي کا پہيہ گھما کے ذرا اس دور ميں چلا جائے جب آج کے مولانا طارق جميل، ميڈيکل کالج کي راہداريوں ميں ٹہلتے ہوئے طارق جميل ہوا کرتے تھے۔ ہميں کھد بد لگي ہے کہ ميڈيکل کالج کے دنوں ميں غور و فکر کر کے انہوں نے کيسے وہ دانش پائي جس کا اظہار اب وہ منبر پہ بيٹھ کے کيا کرتے ہيں۔ اور سامنے لاکھوں کا مجمع ان کے اقوال پہ نہ صرف سر دھنتا ہے بلکہ شکر کا سجدہ بجا لاتا ہے کہ وہ آگ اور پٹرول کے ملاپ والے مقامات سے گزرنے کي آزمائش سے محفوظ رہا۔

آگ اور پٹرول کي جو آزمائش ميڈيکل کالج ميں مولانا طارق جميل کو جھيلنا پڑي، ان دنوں کي بابت ہي تو انہوں نے فرمايا ہے کہ شکر کا مقام يہ رہا کہ انہوں نے جلد بھانپ ليا کہ وہاں گزارے ہوئے دنوں کا حاصل اعليٰ تعليم اور مسيحائي کي بجائے بے راہ روي اور ريپ ہے تو وہ چپکے سے وہاں سے نکل لئے۔

يقين جانيے جب سے يہ بيان سنا ہے ہمارا دل تو پارے کي طرح لرز رہا ہے کہ نہ جانے کون سا منہ لے کے روز حشر کو جائيں گے۔ ہم تو بڑي پامردگي سے انہي راہوں کے نہ صرف راہي رہے بلکہ بے شمار کو ہلا شيري دے کر اس رستے کي دعوت بھي دي۔ ويسے آپس کي بات ہے اگر طارق جميل ان دنوں ميں ہمارے شناسا ٹھہرتے تو شايد ہماري زندگي ميڈيکل کالج سے فرار ہو کے تو سنورتي ہي، ہماري آخرت کو بھي آج لالے نہ پڑے ہوتے!

تو چليے ديکھتے ہيں ماضي کا ايک دن ميڈيکل کالج ميں طارق جميل کے ہمراہ!

کلاس شروع ہو چکي ہے۔ ڈيڑھ دو سو طلبا و طالبات ليکچر سننے ميں مشغول ہيں۔ پروفيسر صاحب انساني جسم کي پرتوں پہ روشني ڈال رہے ہيں۔ بيچ بيچ ميں کوئي شرارتي طالب علم کوئي چٹکلا چھوڑ ديتا ہے اور فضا ميں مردانہ قہقہوں کے ساتھ مترنم ہنسي بھي شامل ہوتي ہے۔ ايک بينچ کے کونے پہ ايک سمٹا سمٹايا ديہاتي لڑکا بيٹھا ہے۔ ليکچر سننے کي بجائے دماغ ميں ايک ہي خيال چل رہا ہے، ہمارے گاؤں ميں تو لڑکياں اس طرح نہيں ہنستيں، نہ ہي اس طرح کے کپڑے پہنتي ہيں۔ معلوم نہيں ان کے ماں باپ نے انہيں لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کي اجازت کيسے دے دي؟ يہ تو نرا  عذاب ہے ميرے لئے۔ ان کي ہنسي ايک جبر مسلسل ہے، ان کي آواز ايک صبر و برداشت کا امتحان ہے، کيا کروں؟

يک لخت پروفيسر صاحب کي نظر اس لڑکے پر پڑتي ہے جس کي آنکھ پروجيکٹر پر لگي سلائيڈز کي بجائے کہيں اور اٹکي ہوئي ہے۔ وہ مخاطب ہو کے سوال پوچھتے ہيں،

” تم بتاؤ، معدے ميں خوراک پہنچنے کے بعد سب سے پہلا کون سا تيزابي ہارمون خارج ہوتا ہے؟“

” جي، پٹرول۔“

”کيا کہا۔ برخوردار ميں انساني معدے کي بات کر رہا ہوں، موٹر سائيکل کي ٹنکي کي نہيں“

ساري کلاس ہنس پڑتي ہے!

” جي ميرا مطلب تھا، آگ اور پٹرول اکٹھے يوں۔ يعني خطرناک۔ ميرا مطلب ہے۔ غلط نتيجہ۔ يعني کہ خلاف شرع۔“

کلاس ميں بلند آہنگ قہقہوں کا ايک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ پروفيسر صاحب ناک کي پھننگ پہ رکھي عينک کے پيچھے سے گھورتے ہيں،

” اجي مولوي صاحب، ہم انساني معدے ميں خوراک کے ہضم ہونے کے بارے ميں پڑھ رہے ہيں، يہ شرع کہاں سے آ گئي؟“

ليکچر ختم ہو جاتا ہے۔ سب لڑکے اور لڑکياں ليکچر تھيٹر سے باہر آ کر خوش گپيوں ميں مصروف ہيں۔ لڑکے کي سمجھ ميں نہيں آ رہا کہ سب اس قدر نارمل طريقے سے بات کيسے کر رہے ہيں؟ لڑکي اور لڑکے کے درميان تو اور کچھ بھي نہيں ہوتا سوائے اسي ايک بات کے۔”اوہ اچھا، اصل ميں تو سب کچھ تنہائي ميں ہوتا ہو گا نا جيسے ہمارے گاؤں ميں کنويں کے پيچھے يا کھيتوں ميں بھري فصلوں کي آڑ ميں۔ ليکن يہاں تنہائي کہاں۔ شايد اس باڑ کے پيچھے يا پھر ٹوائلٹ کي طرف۔“ وہ زير لب بڑبڑاتا ہے۔

اب سب لوگ ڈائسيکشن ہال کي طرف جا رہے ہيں۔ ہر ميز پہ ايک مردہ ہے اور اس کے گرد چھ لوگوں کي ٹولي ہے۔ اس لڑکے کے گروپ ميں تين لڑکے اور تين لڑکياں ہيں۔” يہ کيسے ممکن ہے يہ لڑکياں اس مردہ شخص کو کيونکر ہاتھ لگائيں گي؟ اف خدايا، اعضائے مخصوصہ ہي ڈھک ديتے۔ بھلا مردہ ہونے سے کيا فرق پڑتا ہے؟ رہيں گے تو اعضاء مخصوصہ، نظر پڑے تو خيال تو وہي آئے گا نا۔ حد ہو گئي بے شرمي کي، آگ لگے ايسي انگريزي تعليم کو، جہاں لڑکيوں کے سامنے سب کچھ ديکھنا پڑے۔ اب کوئي کہاں تک ضبط کرے“لڑکا اپنے آپ سے باتيں کرتا ہے۔

اب سب ساتھي کينٹين کي طرف جا رہے ہيں، پيٹ پوجا کا وقت ہے۔

کينٹين ميں ہر طرف رنگوں کي بہار ہے اور ہنسي مذاق کے ساتھ بلا تھکان قصے کہانياں چل رہے ہيں۔ لڑکے کي سمجھ سے باہر ہے کہ لڑکياں اور لڑکے آپس ميں روزمرہ کي باتيں کيسے کر سکتے ہيں؟ ان کي آنکھوں ميں وہ خاص قسم کي چمک کيوں نہيں اترتي جو ايک خاص وقت ميں مرد و عورت کو بے حال کرتي ہے۔

” توبہ، توبہ، يہ نيلے دوپٹے والي کس قدر زور سے ہنستي ہے اور وہ ہري قميض والي کا لباس کيسا عجيب اور دعوت نظارہ دينے والا ہے، پورا جسم جھلک رہا ہے۔ وہ کونے ميں بيٹھي کس قدر تنگ جينز پہنے بيٹھي ہے۔ يا اللہ کس طرح اپنا ايمان بچاؤں؟ يہ سب تو گھر سے نکلي ہي اس لئے ہيں کہ کوئي بھي ہاتھ لگا لے، بلکہ جو مرضي کر لے“

لڑکا سوچ کے سمندر ميں ڈوبا ہے

”ويسے فائدہ تو ہے اس انگريزي پڑھائي کا، شام کا وقت سيٹ کرنے ميں آساني رہتي ہو گي۔ دوسرے ماں باپ کي نگراني کا جھنجھٹ بھي نہيں۔ اب ہمارے گاؤں ميں تو ہر کونے کھدرے سے کوئي چاچا يا ماما نکل آتا ہے۔ کتني دقت پيش آتي ہے وہاں کسي لڑکي سے ملنے ميں۔

بے حيائي ديکھو، بالکل مغرب کے معاشروں کي طرح۔ اب يہ جو ہنس ہنس کے ساتھ ميں بيٹھے چائے پي رہے ہيں کيا يہ اپنے آپ کو بہن بھائي سمجھ رہے ہوں گے؟ فحش خيالات تو آ ہي رہے ہوں گے۔ مرد اور عورت کا تعلق محض آگ اور پٹرول ہے، کيسے ممکن ہے، آگ نہ لگے، شعلے نہ بھڑک اٹھيں۔

مجھے تو ديکھ سن کے ہي دھيان بٹانا مشکل لگتا ہے کجا يہ کہ مخاطب کروں۔ ليکن نظر تو ہر ايک پہ اٹھتي ہے اور ايک ہي خيال سوجھتا ہے، کيسے؟ کب؟ کہاں؟

يہ ميڈيکل کالج تو نرا  فحاشي کا اڈہ ہے۔ ميرا تو يہاں گزارا ممکن نہيں۔ ميں ابا کو کہہ دوں گا ميري راہ اور ہے مجھے صرف جنت کي حوروں کا انتظار کرنا ہے۔ ميں اس بے حيائي کے اس ماحول ميں ايک دن اور نہيں ٹھہر سکتا ”

بہت برسوں کے بعد اس لڑکے کو ميڈيکل کالج ميں گزاري وہ مدت يوں فائدہ ديتي ہے کہ حوروں کي پنڈليوں، آنکھوں، اور ديگر اعضا ء کي تفصيل بيان کرنے اور سامعين کي آتش شوق بھڑکانے ميں دقت پيش نہيں آتي۔ ہاں کچھ معصوم بے زبانوں پہ تعليم کے دروازے مزيد سختي سے بند کر ديے جاتے ہيں جن کے والدين ايک معزز شخص کي اس گواہي پہ اعتبار کرتے ہيں جس ميں درس گاہوں کو بے حيائي کے مراکز قرار ديا جاتا ہے!