//میری سندھی دھرتی کے باسی

میری سندھی دھرتی کے باسی

۔ تحریر عریشہ بخاری

آج میں جو لکھ رہی ہوں وہ اپنی بچپن کی سہیلی حینو کے کہنے پر لکھ رہی ہوں اور اسکی خواہش تھی کہ جلد از جلد لکھوں۔ کیونکہ وہ چاہتی ہے کہ دنیا کو پتہ چلے کہ پاکستان کے غریب بے سہارا بے بس صوبے کے چھوٹے سے گاؤں کے بڑے چور ڈاکووں کے اندر بھی غیرت مند انسان بستے ہیں۔

14 دسمبر 2019- – 8:43 منٹ

میں میری امی، 14 سال کا بھائی، باجی 28 سال کی اور بھابھی 32 سال کی جو کے گاڑی چلا رہی تھیں اور انکے دو چھوٹے بچے 5 اور 3 سال کے کراچی سے جیکب آباد کے لیے روانہ ہوئے۔

ابو اور بھائی عمرے پر گئے تھے کہ انکے جانے کے چند دن بعد ہمیں گاؤں جو کے جیکب آباد سندھ میں واقع ہے، وہاں سے ٹیلی فون آیا کہ نانی جان کا انتقال ہوگیا ہے، ہم کراچی میں لگ بھگ 22 سال سے رہائش پذیر ہیں۔

امی کی حالت غیر ہوگئی تو ہم نے وہیں فیصلہ کیا کہ ہم آج اسی وقت روانہ ہونگے، ہم نے ضرورت کی اشیاء لی اور نکل پڑے۔

لگ بھگ 5 گھنٹے کے سفر کے بعد اندھیری جھاڑیوں کے بیچوں بیچ گاڑیوں کی قطار میں ہماری کار بھی روک دی گئی،پہلے پہل تو ہم کچھ سمجھ نہیں پائے کیونکہ ہمارا آدھا سفر جو ہم گزار کر آئے تھے سو درد اذیت میں گزرا تھا۔

نانی اماں کی باتیں، انکی محبت اور امی کی حالت غیر دیکھتے گزرا۔

چند منٹ بعد اندھیرے سے کچھ آدمی آگے کی گاڑیوں کی لاین سے ہوتے ہوئے ہمارے پاس آکر رک گئے۔

بھابھی سے پوچھا!

…اتنی رات کو کہاں جارہی ہو؟

تلخ کلامی سے پیش آتے ہوئے بولتے گئے۔

کوئی مرد ساتھ کیوں نہیں تمہارے ساتھ؟

جانتی نہیں یہ سندھ ہے پیرس نہیں جو اکیلی عورتیں چل پڑی ہو۔

انکی باتیں سن کر ہم سب کی جان نکل رہی تھی۔

…پھر امی جو کے پیچھے ہمارے ساتھ بیٹھی تھیں,روتی لرزتے ہوئے بولیں کہ بیٹا جانے دو۔

ایک ماں کی فریاد ہے کہ اپنی ماں کا آخری دیدار کرنے جارہی ہوں۔

اتنا بول کر امی روتی رہیں کہ اس آدمی نے کہا کہ مرد کیوں ساتھ نہیں آئے تو بھابھی نے انکو بتایا کہ چند روز پہلے وہ عمرے کے لیے روانہ ہوئے ہیں اور نانی جان کا انتقال ہوگیا ہے اسی لیے گاؤں جا رہے ہیں۔

اس آدمی نے بھابھی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا خیر سے بے پروا ہوکر جاؤ پھر پیچھے مڑکر امی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا کے اماں مجھے معاف کر دینا اور باجی کو کہا کہ چہرے کو سہی طرح نقاب کرو۔

…پھر پوچھا کہ پیسے ہیں تم لوگوں کے پاس،کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتاؤ۔

امی کی طرف جیب سے پیسے نکال کر رکھ دئیے اور کہا کہ اماں بیٹے کی طرف سے خیرات کرنا انکار نہیں کرنا پھر اللہ کے امان میں بول کر کہا کہ آگے چلو آپ کو راستے میں کوئی تنگ نہیں کرے گا۔

…کار کا نمبر نوٹ کیا اور کس کو کال ملا کر بولے کہ اماں اور بچے آرہے ہیں راستہ کلیر رکھنا۔

ٹھیک 1۔37 منٹ کے بعد 4 آدمی دو موٹر سائیکلوں پر ایک پل کے قریب کھڑے ہوئے ہماری جانب بڑھتے ہوئے آئے انکے ہاتھ میں چند تھیلے تھے وہ ہمیں دئیے سلام کیا اور آگے جانے کا اشارہ کیا۔

ڈر تو بہت لگا پر تھوڑی دیر بعد تھیلے کھول کر دیکھے تو خشک میوے اور تازہ  پھل، پانی اور دودھ کی بوتلیں تھیں۔

ہمیں بھوک نہیں لگی تھی پر ہم لٹیروں کے سلوک پر انکو دعائیں دے رہے تھے۔

آج جب ٹی وی پر نشر ہونے والی خبر سنی تو کانپتی ہوئی بولی کے ہم سندھی بھلے مالی کمزور ہوں پر غیرت مند اور عزت مان رکھنے والے لوگ ہیں اور محبت کے نام پر اپنا تن من دھن قربان کر دینے والے لوگ ہیں۔

ہمارا دل ہمارے دیس جتنا بڑا ہے۔