//موقوف ہے کیوں حشر سے انصاف ہمارا

موقوف ہے کیوں حشر سے انصاف ہمارا

تحریر: آصفہ بلال

ہوش میں آتے ہی سب سے پہلا احساس جو مجھے ہوا وہ سر میں اٹھنے والی شدید قسم کی ٹیسیں تھیں۔شائد کسی وزنی چیز سے میرے سر کے پچھلے حصے پر وار کیا گیا تھا۔شدت تکلیف سے میں نے دوبارہ آنکھیں موند لیں۔گذشتہ واقعات کسی فلم کی ریل کی طرح میرے ذہن کے پردے پر چلنے لگے۔

روز کے معمول کے مطابق میں ابا کے ساتھ دکان کے کاموں میں مشغول تھا۔ابا کی ایک معقول سی کپڑے کی دکان تھی۔یہ ہمارا آبائی پیشہ تھا۔یہ کاروبار ابا کو ورثے میں ملا تھا۔ ابا مجھے پڑھا لکھا کر کسی اچھی پوسٹ پر دیکھنا چاہتے تھے۔مگر میں اپنے ابا کا اکلوتا بیٹا تھا اس لئے مجھے احساس تھا کہ کاروبار میں بھی انھیں میری مدد کی ضرورت ہوتی ہے.۔ اس لئے یونیورسٹی کے بعد میں ابا کا ہاتھ بٹانے دکان پر آ جایا کرتا تھا۔آج بھی ہمیشہ کی طرح یونیورسٹی سے آنے کے بعد ابا کے لئے دکان پر کھانا لے کر گیا تھا۔گھر چونکہ دکان سے قریب ہی تھا، اس لئے آنے جانے میں سہولت رہتی تھی۔گھر سے فون آیا کہ تایا ابا ملنے آئے ہیں تو ابا مجھے دکان بند کرنے کا کہہ کر گھر چلے گئے۔

میں نے تقریباً نو بجے کے قریب تمام کپڑے تھان پر لپیٹے اور گھر جانے کی تیاری کرنے لگا۔ بازار میں ابھی بھی چند دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔مگر کراچی کے حالات کی سنگینی کی وجہ سے اکثر دکاندار جلدی دکانیں بند کر دیتے تھے۔

میں نے بھی دکان پر تالا ڈالا اور گھر کی طرف چل پڑا۔ موٹر سائیکل ابا لے گئے تھے تو میں پیدل ہی چل پڑا۔ ویسے بھی گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ابھی میں نے گلی کا موڑ مڑا ہی تھا کہ مجھے اپنے پیچھے کسی کے تیز تیز چلنے کی آواز سنائی دی۔اس سے پہلے کہ میں مڑ کر دیکھتا، پیچھے سے کسی نے میرے سر پر کوئی بھاری چیز دے ماری۔میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اور میں بے ہوش ہو گیا۔آنکھ کھلی تو خود کو اس چھوٹے سے کوٹھڑی نما کمرے میں پایا۔میں نے اپنی تمام تر قوت مجتمع کر کے اٹھنے کی کوشش کی مگر یہ جان کر مجھے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا کہ میرے ہاتھ پاؤں رسیوں سے باندھ دئے گئے تھے۔

میں اب تک یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر مجھے یہاں کیوں لایا گیاہے؟؟اور مجھ سے یا میرے والد سے کسی کو کیا دشمنی ہو سکتی ہے؟؟

مانا کہ ہمارا کاروبار اچھا چل رہا تھا مگر ہم کوئی خاندانی رئیس نہیں تھے کہ کوئی پیسے کے لئے مجھے اغوا ء کر لیتا،سوچ سوچ کو میرا دماغ پھٹنے لگا اور سر میں درد اور بڑھ گیا۔بے اختیار میں نے اونچی اونچی آوازیں دینا شروع کر دیں مگر جواب ندارد… میں نے لیٹے لیٹے کمرے کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔یہ ایک چھوٹا سا پرانا کمرا تھا۔جس کی دیواریں سیلن زدہ تھیں۔کمرے میں برائے نام فرنیچر تھا۔ ایک ہی چارپائی تھی جس پر مجھے لٹایا گیا تھا اور اس پہ چادر بچھانے کی بھی زحمت نہیں کی گئی تھی،اس کا بان مجھے بری طرح چبھ رہا تھا۔دائیں طرف دو کرسیاں اور ایک میز پڑی ہوئی تھی، میز پر چائے کے دو کپ اورایک ایش ٹرے پڑا تھا جس میں بجھے ہوئے سگریٹ کے چند ٹکڑے پڑے تھے،بوسیدہ سی دیواروں پر پلسترجگہ جگہ سے اکھڑ چکا تھا۔کمرے میں ایک واحد کھڑکی تھی جس پر ایک گرد آلود پردہ پڑا ہوا تھا۔شاید یہ کمرا اسی طرح کے کاموں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔مگر سوال تو اب یہی تھا کہ مجھے یہاں کون لایا تھا؟؟

ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازہ ایک دھماکے سے کھلا اور ایک ادھیڑ عمر شخص کمرے میں داخل ہوا جوصورت سے ہی غنڈہ معلوم ہو رہا تھا۔‘‘تو تمہیں ہوش آ ہی گیا۔آنے والے نے کہا۔

’’آخر مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے؟؟میں نے چیختے ہوئے سوال کیا۔

یہ سوال تو تمہیں اپنے باپ سے کرنا چاہئے۔جس نے ہمارے باس کو بھتہ دینے سے نہ صرف خود انکار کیا ہے بلکہ دوسرے دکانداروں کو بھی ورغلا رہا ہے۔اسے شاید معلوم نہیں کہ ہمارا تعلق کس تنظیم سے ہے۔اب وہ دیکھے گا کہ ہم سے ٹکر لینے کا انجام کیا ہوتا ہے۔وہ شخص تو یہ کہہ کر چلا گیا مگر میرے پیروں تلے سے زمین نکل چکی تھی۔میں زیادہ تر پڑھائی میں مصروف رہتا تھا شائید اسی لئے ابا نے اس طرح کے مسائل سے مجھے دور رکھا تھا۔اس بند کمرے میں مجھے وقت کا کوئی اندازہ نہیں تھا مگر تقریبا دو گھنٹے بعد اسی ادھیڑ عمر شخص کے ساتھ ایک اور نوجوان کمرے میں داخل ہوا۔اس نے مجھے رسیوں سے آزاد کیا اور اپنے پیچھے چلنے کا اشارہ کیا،ہم لوگ ایک گاڑی میں بیٹھے،وہ شائید مجھے اپنے باس کے پاس لے کر جا رہے تھے۔گاڑی ایک آفس نما عمارت کے سامنے جا کر رک گئی۔عمارت میں داخل ہوتے ہی ایک چھوٹی سی راہداری تھی جس کے فورا بعد باس کا کمرا تھا۔باس کی عمر لگ بھگ چالیس بیالیس سال رہی ہو گی، وہ مضبوط جسم کا مالک تھا،اس کے چہرے پر عجیب سی سفاکی محسوس ہوئی۔اس نے مجھے گھورتے ہوئے کہا ’’تمہارے پاس دو ہی راستے ہیں…۔ یا تو تم ہماری اس تنظیم میں شامل ہو جاؤ یا پھر جیل جانے کے لئے تیار ہو جاؤ۔‘‘

’’مگر میں نے کوئی جرم نہیں کیا تو پھر مجھے جیل کیوں ہو گی؟؟‘‘ میں نے حیرت سے سوال کیا۔

’’جرم ثابت ہونے میں کون سی دیر لگتی ہے‘‘ باس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔اس کے لہجے میں چھپی دھمکی کو میں محسوس کئے بنا نہ رہ سکا۔‘‘ویسے تو میرا ارادہ تمہیں اغواء کرکے تمہارے باپ سے بھتہ وصول کرنے کا تھا لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ تم اپنی یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کے لیڈر ہو۔تو میرا ارادہ بدل گیا،،،تم ہماری تنظیم کے بہترین ورکر ثابت ہو سکتے ہو۔‘‘باس نے کہا

’’اور اگر میں تمہاری بات ماننے سے انکار کر دوں تو؟؟؟‘‘میں نے سوال کیا۔ میرا دل بہت خوفزدہ ہو چکا تھا مگر میں نے اپنے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا۔

’’تو پھر تمہارے باپ کی لاش کسی بوری میں بند کسی گٹر میں پڑی ہوئی ملے گی اور تم ساری زندگی جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتے رہو گے۔تمہارے پاس سوچنے کے لئے زیادہ وقت نہیں ہے۔تمہارے باپ کو اطلاع مل چکی ہے کہ تم ہمارے قبضے میں ہو۔اگر تم اپنے ماں باپ کو خیریت سے دیکھنا چاہتے ہو تو تمہیں ہماری بات ماننی پڑے گی۔‘‘باس نے تحکمانہ لہجے میں کہا

میرے پاس اس کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ کس قسم کی تنظیم ہے اور یہاں مجھے کس قسم کا کام کرنا پڑے گا۔مجھے تو بس یہ معلوم تھا کہ اگر میں نے حامی نہ بھری تو شاید میں اپنے والدین سے کبھی نہ مل سکوں۔یہ اچانک ہماری پر سکون زندگی میں کیسا طوفان آگیا تھا۔مجھے ابھی گھر جانے کی اجازت نہیں تھی مگر میری تسلی کے لئے ابا سے میری فون پر بات کروا دی گئی۔

اس تنظیم میں جیسے جیسے میرا وقت گزرتا گیا، مجھے اندازہ ہوا کہ میری طرح بہت سے نوجوان تھے جو کسی نہ کسی مجبوری کے تحت یہاں موجود تھے۔ یہ ایک خفیہ تنظیم تھی جس کے مقاصد بہت خطرناک تھے۔میں سمجھ گیا تھا کہ یہ ایک ایسی دلدل ہے جہاں سے نکلنا ناممکن ہے۔

یہاں پر ہر قسم کا غیر قانونی کام، قانونی طور پر کیا جاتا تھا۔کیونکہ پولیس سے لے کر ایم۔ این۔ اے، ایم۔ پی۔اے تک ان دھندوں میں ملوث تھے۔مگر یہ سب پس پردہ رہ کر کیا جاتا تھااور منظر عام پر ہم جیسے نوجوانوں کو لایا جاتا تھا۔تاکہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو ہم لوگ پھنس جائیں۔دوسرے الفاظ میں ہم قربانی کے بکرے تھے۔لیکن یہ حقیقت جب تک مجھ پر آشکار ہوئی تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔میرے ذمے کچھ ڈلیوری کا مال ہوتا تھا جسے روز میں نے مختلف جگہوں پر پہنچانا ہوتا تھا۔تقریبا ایک مہینہ ہو گیا تھا میں یہی کام کر رہا تھا… میرا خیال تھا کہ وہ لوگ مجھ سے کوئی بڑا کام لیں گے مگر شاید ابھی تک انھوں نے مجھ پر مکمل طور پر اعتماد نہیں کیا تھا۔

اس تمام عرصے میں، میں نے یونیورسٹی کا منہ نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اپنے والدین سے مل سکا تھا۔خدا جانے اور کتنا عرصہ مجھے اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا مگر میں مجبور تھا،چاہ کر بھی اس چنگل سے نہیں نکل سکتا تھا۔ بظاہر یہ کام بہت آسان تھا مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ یہی کام میرے لئے عذاب بن جائے گا۔

اس دن حسب معمول میں مال لے کر کراچی کے ایک پوش علاقے میں پہنچا۔ ابھی میں گاڑی سے اترا ہی تھا کہ چند افراد تیزی سے میری طرف بڑھے اور میری تلاشی لینے لگے۔ میرے پاس کبھی کوئی اسلحہ نہیں ہوتا تھا اس لئے میرے دل کو اطمینان تھا لیکن جب میری گاڑی میں رکھے بیگ سے کثیر مقدار میں ہیروئین برآمد ہوئی تو میں سکتے میں آ گیا۔مجھے آج تک اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ میں کیا لے کر جا رہا ہوں کیونکہ بظاہر اس بیگ میں ادویات ہوتی تھیں لیکن بیگ کی تہہ میں کہیں ہیروئین پوشیدہ تھی، اس کا مجھے مطلق علم نہ تھا۔جن لوگوں نے مجھے پکڑا تھا وہ ایف بی آئی کے بندے تھے۔میرا مستقبل تباہ ہو چکا تھا۔مجھ پر کیس چلا اور مجھے پندرہ سال کی سزا ہو گئی۔جیل میں ہی مجھے پتہ چلا کہ میرے والد یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے اور ہمیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ کے چلے گئے۔ میں بری طرح ٹوٹ چکا تھا۔میں نے اپنی زندگی کے جتنے بھی خواب دیکھے تھے وہ سب چکنا چور ہو چکے تھے، میں جیل سے نکل بھی جاتا تو کون مجھے قبول کرتا؟؟معاشرہ کبھی ایک سزا یافتہ کو معاف نہیں کرتا… میں کس سے جا کر اپنی اس برباد زندگی کی شکایت کرتا کہ

بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی،منصف بھی

کس سے فریاد کریں، کس سے منصفی چاہیں

کوئی نہیں جانتا کہ میرے جیسے کتنے بے گناہ اپنی بے گناہی کے باوجود سزائیں کاٹ رہے ہیں۔کتنے ہی نوجوانوں کا مستقبل اس مافیا کے ہاتھوں برباد ہو چکا ہے۔کتنی ہی مائیں اپنے لا پتہ بیٹوں کے انتظار میں رو رو کر اندھی ہو چکی ہیں۔اس نظام زر میں نہ جانے کب تک ہم جیسے افراد ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے اور انصاف نہ ہو گا۔شائید روز حشر ہی ہمارا انصاف ہو گا۔اور مجھے اسی دن کا انتظار ہے۔