//مسجد میں رقص ایک افغان عورت کی کہانی

مسجد میں رقص ایک افغان عورت کی کہانی

تحریر وحیدہ پیکان

ايک افغان ماں کا اپنے بيٹے کو خط‘ نامي افغان مصنفہ حميرا قادري کي کتاب دسمبر ميں امريکہ کي ٹاپ 10 کتابوں ميں شامل تھي۔

يہ کتاب حميرا قادري کي کہاني ہے جو افغانستان کي سياسي پيشرفت کي طرح ہنگاموں، مايوسيوں اور جوش و خروش سے بھرپور ہے۔

يہ حميرا قادري کي پہلي تصنيف ہے، جو انگريزي ميں لکھي گئي ہے اور ماں کے دل کي تکليف اور اپنے بچے کي خواہشات کي عکاسي کرتي ہے۔

يہ کہاني اس وقت پھيلائي گئي جب حميرا قادري کو معلوم ہوا کہ ان کے نومولود بيٹے سياوش کے شناختي کارڈ ميں والد اور دادا کے نام شامل ہيں، ليکن والدہ کا نام درج کرنے کي کوئي جگہ نہيں ہے۔ اس سے انہيں اپنے بيٹے سے کسي تعلق کے نہ ہونے کا احساس ہوا۔ حميرا نے اپنے بيٹے کو لکھا: ’ميں نے آپ کي طرف ديکھا، ميں آپ کو دوبارہ اپنے پيٹ ميں چھپانا چاہتي تھي تاکہ آپ دوبارہ ميرے ہو جاؤ۔‘

حميرا قادري کے ہاں بيٹے کي پيدائش سے قبل روزانہ کے خودکش حملوں کي وجہ سے کابل کے ہسپتال تک کا راستہ سکيورٹي چيک پوسٹوں سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔ ايسے ميں کسي فوجي کي جانب سے خاتون کے پيٹ کي جانب بندق تان لينا کوئي حيرت کي بات نہيں تھي۔ ايک مرتبہ انہيں پيدل ہسپتال بھي جانا پڑا۔

سالہا سال کي جدوجہد کے بعد افغان خواتين بالآخر حکومت کے پاس بچے کے شناختي کارڈ ميں والدہ کا نام شامل کرانے کے قابل ہوئيں، ليکن کہاني ابھي شروع ہوئي ہے اور يہ صرف ان يادوں ميں سے ايک ہے جو حميرا اپنے بيٹے کو بتاتي ہيں۔

اس شاعرانہ سوانح حيات ميں حميرا اپنے بچپن کے بارے ميں بتاتي ہيں، جب انہوں نے افغانستان کي سڑکوں پر روسي ٹينکوں کو ديکھا اور اپني جواني کے بارے ميں بتايا، انہوں نے ہرات ميں طالبان کے عروج کا تجزيہ کيا ہے۔ اس کتاب کا بيشتر حصہ طالبان کي زندگي اور ان کے عہد کے بارے ميں ہے۔

اپني والدہ سے متاثر حميرا اپنے چھوٹے سے باورچي خانے کو غير رسمي کلاس روم ميں تبديل کرکے نوجوان لڑکيوں کے ليے وقف کرتي ہيں، جنہيں طالبان سکول جانے کي اجازت نہيں ديتے ہيں۔ وہ آہستہ آہستہ مقامي مسجد کے صحن کو ايسي محروم لڑکيوں کي تربيت گاہ ميں تبديل کر رہي ہيں۔

دي انڈپينڈنٹ فارسي کے ساتھ ايک خصوصي انٹرويو ميں حميرا کا کہنا تھا: ’يہ کتاب ايک يادداشت اور خط و کتابت ہے۔ اس کتاب کا ہر حصہ ايک خط ہے۔ پھر ميري زندگي کا ايک حصہ بيان ہوا۔ مسجد ميں ناچنا بھي ايک باب کا نام ہے جو طالبان عہد کي يادوں کو تازہ کرتا ہے۔ يہ پانچ يا چھ سال کے بچوں کي بھي ياد ہے جو مسجد ميں رقص کرتے تھے جہاں انہوں نے ميرے سامنے پڑھائي کي۔ يہ وہ چھوٹي لڑکياں تھيں جنہيں سکول سے نکال ديا گيا تھا۔‘

ليکن جب حميرا کي شادي ہوتي ہے تو کہاني اور زيادہ سنگين ہو جاتي ہے۔ تہران نقل مکاني کرکے ايک ايسے شخص سے شادي کرنا جس سے انہيں محبت ہو جاتي ہے اور پھر اس شخص کي دوسري شادي کي وجہ سے ان ميں عليحدگي ہو جاتي ہے، بيٹا ماں کي کہاني کي پيروي کرتا ہے۔ يہيں سے باغي حميرا، جو طالبان کي وجہ سے بچوں کو غيررسمي کلاسيں پڑھاتي تھيں، پھر سے زندہ ہو چکي ہيں۔ اس بار ’طالبان کي سوچ‘ کے خلاف اپنے ہي بچے کي حفاظت کے ليے لڑ رہي ہے۔

’ہم خواتين اپني زندگي ميں ہر وقت اس سرزمين پر کسي نہ کسي طرح کے تشدد کا سامنا کرتي ہيں۔ جب تک يہ نہيں ہوا ميں نے اسے دوسروں کي طرف سے تکليف دہ کہاني کي طرح سنا تھا۔ ميں دل شکستہ تھي۔ جب يہ واقعہ ميرے ساتھ ہوا، تو خواتين کے خلاف تشدد سے متعلق ايک نئي کھڑکي ميرے ليے کھل گئي۔ مجھے احساس ہوا کہ افغانستان ميں، جہاں وہ کہتے ہيں کہ جنت ماؤں کے پيروں تلے ہے، وہ خواتين کي زچگي کي قدر نہيں کرتے ہيں۔ ميں ان افراد کے ہاتھوں تين سال سے زيادہ عرصے تک اپنے بچے سے محروم رہي جو ناخواندہ نہيں تھے۔ عدالت ميں موجود لوگوں نے ميرے خلاف فيصلہ ديا کہ وہ تعليم يافتہ ہيں۔ اس سرزمين ميں خواتين کي صورتحال کتني تکليف دہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہميں خواتين کو بيان کرنے کي ضرورت ہے۔ غم و درد کا بيان بہترين بيان ہے۔ ہم خواتين کو اپني پريشاني ہے۔ ہم اپنا درد جھوٹي خوشيوں کے پيچھے چھپاتے ہيں۔ جب بھي ہم اپنے دکھوں اور رنجشوں کو بيان کرتے ہيں تو ہم کمال کي راہ پر پہنچ جاتے ہيں۔‘

کتاب کي مصنفہ نے اس پر زور ديا ہے کہ ’ماں سے اولاد لينا خاموش تشدد ہے۔ خواتين کہتي رہتي ہيں کہ يہ ان کا بچہ ہے اسے جانے دو۔ ميں اس دوران متحرک ہوگئي۔ يہ ہمارے تانے بانے سے جڑا ہوا ہے۔ کوئي بھي بيان خود خواتين کے بيان سے زيادہ مخلص نہيں ہے۔‘

افغان شہري قانون بچے کي تحويل ماں کو ديتا ہے، ليکن اس قانون کے مطابق:‌ ’وہ عورت جو بچے کي ديکھ بھال کرتي ہے، وہ عقل مند، بالغ اور قابل اعتماد ہوني چاہيے تاکہ وہ بچے کي حفاظت اور اس کي پرورش کرنے کي صلاحيت رکھتي ہو۔ لڑکے کي تحويل کي مدت سات سال اور ايک لڑکي کي نو سال ميں ختم ہوجاتي ہے۔ ليکن اکثر ايسا ہوتا ہے کہ اس قانون کي غلط تشريح کي گئي ہے، جس ميں آخر کار اس بچے کو باپ کے حوالے کرديا جاتا ہے۔‘

حميرا کي کتاب ’مسجد ميں رقص کرنا: بيٹے کو ايک افغان ماں کا خط‘ کا مرکزي خيال، افغانستان ميں خواتين کي خوفناک حدود کي ايک داستان ہے، ليکن اس نے افغانستان ميں زندگي اور معاشرے کو تبديل کرنے کے ليے خواتين کي خوبصورتي، مصلحتوں، کوششوں اور جدوجہد کو بھي اجاگر کيا ہے۔

اس کتاب کي اشاعت ايک نازک وقت پر اہم ہے جب طالبان کي حکومت ميں واپسي کا امکان قوي ہے۔کتاب کي مصنفہ نے دي انڈپينڈنٹ فارسي کو بتايا: ’ايک اہم تاريخي لمحے ميں کتاب پرانے زخم کھولتي ہے۔ کسي ماں کي محرومي کا طالبان سے کوئي تعلق نہيں ہے۔ يہ صرف 1995 کے طالبان کي بات نہيں ہے۔ ليکن وہ مزيد سخت ہوسکتے ہيں۔ ہمارے حالات خراب ہوسکتے ہيں۔ اس کتاب کے متعدد ابواب ميں طالبان کے دور ميں ميري نوعمري پر روشني ڈالي گئي ہے، ليکن ميں نے ان آنسوؤں کا سامنا نہيں کيا جو ميں نے جمہوري دور ميں، طالبان کے دور ميں بہائے تھے اور اس کي وجہ طالبان کي سوچ ہے۔ ہميں واقعي اپني بيٹيوں کي ضرورت ہے کہ وہ اسلامي ممالک جائيں، تعليم حاصل کريں، اسلامي علم سيکھيں اور مذہبي روشن خيال بنيں۔ مثال کے طور پر ملائيشيا ميں طالبان کي سوچ بے تحاشا مصائب سے نجات دلانے کي ايک بہترين مثال ہے۔‘

حميرا قادري ايک معروف افغان ناول نگار ہيں، جنہوں نے تہران کي ايک يونيورسٹي ميں فارسي زبان اور ادب کي تعليم حاصل کي اور پھر پروفيسر شفيع کدکاني کے تحت تہران يونيورسٹي سے ڈاکٹريٹ کي سند حاصل کي۔ اس وقت وہ کابل کي نجي يونيورسٹيوں ميں پڑھاتي ہيں اور مساوي حقوق انساني کے ليے کام کرتي ہيں۔