//مرد بیویوں کے بارہ میں لطیفے کیوں گھڑتے ہیں؟

مرد بیویوں کے بارہ میں لطیفے کیوں گھڑتے ہیں؟

تحریر مہناز رحمان

دو صديوں کے بعد بھي ہم غالب کي شاعري کے ديوانے ہيں۔ ہميں ان سے شکايت اس وقت ہوتي ہے جب وہ اپني بيگم کے حوالے سے کہتے ہيں ”گلے ميں ڈھول ڈال ليا ہے، بجانا تو پڑے گا“ ليکن مردوں کي ہمدردياں ان کے ساتھ ہوتي ہيں، ظاہر ہے اتنا بڑا شاعر، ايک سيدھي سادي گھريلو عورت کے ساتھ زندگي گزارے گا تو اور کيا کہے گا۔ خير غالب کي شاعرانہ عظمت کے پيش نظر شايد عورتيں ان کي اس بات کو درگزر کر ديں ليکن يہ جو سوشل ميڈيا اور نجي تقريبات ميں لوگ بيويوں کا مذاق اڑاتے يا لطيفے گھڑتے ہيں، ان کا کيا کيا جائے۔

زليخا کا کہنا ہے کہ يہ لطيفہ بازي دراصل عداوت کي ملفوف شکل ہے۔ اگر بيوي بُرا مانے تو اسے بے وقوف ثابت کيا جاتا ہے کہ مياں کا مذاق بھي نہيں سمجھ پاتي۔ چنانچہ بھري محفل ميں جب بيويوں کے بارے ميں لطيفے سنائے جاتے ہيں تو ان کا پاس مسکرا دينے کے سوا کوئي چارہ نہيں ہوتا۔ مرد حضرات لطيفوں کي آڑ ميں کبھي بيوي کے موٹاپے کا اور کبھي اس کے ميکے والوں کا مذاق اڑاتے رہتے ہيں۔ مذاق کا نام دے کر بيوي کي توہين کرتے ہيں يا اس کي دکھتي رگ کو چھيڑتے ہيں۔ عورت کے ليے يہ باتيں مذاق نہيں رہتيں بلکہ زباني تشدد کا درجہ اختيار کر جاتي ہيں۔ اس زباني تشدد کے نتيجے ميں عورت اپني خود اعتمادي کھو بيٹھتي ہے اور خود کو کمتر اور حقير سمجھنے لگتي ہے۔ مردوں کا ايک حربہ گيس لائٹنگ بھي ہے جس کے بارے ميں طاہرہ کاظمي تفصيل سے لکھ چکي ہيں۔

اکثر مياں بيوي ميں کوئي ايک دوسرے کے جذباتي استحصال ميں بھي مہارت رکھتا ہے۔ دراصل يہ دوسرے فريق کو کنٹرول کرنے کا طريقہ ہے کہ اس پر تنقيد کي جائے، ہر خرابي کے ليے اسے مورد الزام ٹھہرايا جائے، اسے شرمندہ کيا جائے۔ يہ ذہني اور جذباتي استحصال دوسرے رشتوں ميں بھي ديکھنے ميں آتا ہے۔ دفتروں ميں لوگ اپنے رفقائے کار کے ہاتھوں اس کا نشانہ بنتے ہيں۔ ہر صورت ميں اس رويے کا شکار ہونے والے لوگ اپني عزت نفس اور خود اعتمادي سے ہاتھ دھو بيٹھتے ہيں۔ يا تو بالکل خاموش ہو جاتے ہيں يا پھر اس رشتے سے نکلنے کي کوشش کرتے ہيں۔

مياں بيوي کے رشتے ميں کوئي ايک فريق دوسرے کي ہر بات پر شک کرتا ہے اور اس کي زندگي دوبھر کر ديتا ہے۔ يہ ياد رکھنا ضروري ہے کہ اکثر صورتوں ميں جذباتي استحصال اتنے لطيف انداز ميں کيا جاتا ہے کہ دوسرا سمجھ ہي نہيں پاتا يا سوچتا ہے کہ يہ اتنا بُرا تو نہيں اور گزارا ہوتا رہتا ہے۔ تعلق کوئي سا بھي ہو، اس ميں کسي بھي قسم کي زيادتي (زباني، جسماني، جذباتي يا نفسياتي) نا قابل قبول اور غير صحت مند ہے۔

بد کلامي اور بد زباني رشتوں ميں زہر گھول ديتي ہے۔ اس کے ساتھ صحت مند تعلق کي اميد عبث ہے۔ جھگڑے اس وقت بھي ہوتے ہيں جب مياں بيوي ميں سے کوئي ايک مسلسل دوسرے کي نگراني کے چکر ميں رہتا ہے۔ کس کو فون کيا، کس سے ملنے گئے وغيرہ۔ اگر شادي کا مطلب يکجائي ہے تو پھر دونوں کو ايک دوسرے سے کوئي بات چھپاني نہيں چاہيے ليکن ايک دوسرے کو محدود بھي نہيں کرنا چاہيے۔

دوسرے کو کنٹرول کرنے کي کوشش وہي کرتا ہے جو اندر سے عدم تحفظ کا شکار ہوتا ہے۔ صحت مند محبت کے ليے بھروسا اور آزادي درکار ہے۔ اس ميں انکار کي آزادي بھي شامل ہے۔ ضروري نہيں کہ ايک فريق ہميشہ وہي کرے جو دوسرا چاہے اور وہيں جائے جہاں دوسرا لے جانا چاہے۔ خير يہ تو وہ باتيں ہيں جو دنيا بھر ميں ہوتي ہيں انٹرنيٹ پر آپ کو اس بارے ميں ہزاروں صفحات مل جائيں گے ليکن پاکستان ميں اس تعلق يا رشتے کے حوالے سے بہت کم بات ہوتي ہے۔

مرد تو بيويوں کے بارے ميں لطيفے گھڑ کے اور ان کا مذاق اڑا کے اپنے دل کي بھڑاس نکال ليتے ہيں ليکن بيوي کيا کرے؟ اس بارے ميں کوئي نہيں سوچتا۔ اس حوالے سے پاکستاني مردوں کا رويہ عجيب و غريب ہے۔ اگر عورت اپنے شوہر کي شکايت کرے تو سننے والا ہر مرد فوراً يہي رائے قائم کرتا ہے کہ يہ عورت اپنے شوہر سے جنسي طور پر آسودہ نہيں ہے اور اپني خدمات پيش کرنے کو تيار ہو جاتا ہے اور ”ميں ہوں نا“ کي عملي تفسير بن جاتا ہے۔

امريتا پريتم نے کيا خوب کہا تھا ”برصغير کے مردوں نے عورت کے ساتھ صرف سونا سيکھا ہے، اس کے ساتھ جاگنا اور جينا نہيں سيکھا“۔ سوائے چند مستثنيات کے مرد حضرات عورت کو انسان نہيں سمجھتے اور اس کے جذبات و احساسات کي لطافت اور نزاکت کو سمجھ ہي نہيں سکتے۔ چند روز ہوئے فيس بک پر شاہ لطيف کي شاعري اور عورت کے حوالے سے کسي کا خوبصورت اقتباس نظر سے گزرا ”دنيا کے سارے دانشور اور شاعر کہتے رہے کہ ’عورت ايک مسئلہ ہے“۔

اس حقيقت کا ادراک صرف لطيف کو تھا کہ ’عورت مسئلہ نہيں۔ عورت محبت ہے۔ مگر وہ محبت نہيں جو مرد کرتا ہے۔ مرد کے ليے محبت جسم ہے۔ عورت کے ليے محبت جذبہ ہے۔ مرد کي محبت جسم کا جال ہے۔ عورت کي محبت روح کي آزادي ہے۔ مرد کي محبت مقابلہ ہے۔ عورت کي محبت عاجزي ہے۔ مرد کي محبت ايک پل ہے۔ عورت کي محبت پوري زندگي ہے۔ مرد کي محبت ايک افسانہ ہے۔ عورت کي محبت ايک حقيقت ہے۔ شاہ عبداللطيف کو علم تھا کہ عورت کو محبت چاہيے۔ نرم و نازک، گرم و گداز، جسم سے ماورا، جنس سے آزاد۔ مرد جسم کے جنگل ميں بھٹکتا ہوا ايک بھوکا درندہ ہے۔ عورت روح کے چمن ميں اڑتي ہوئي تتلي ہے جو پيار کي پياسي ہے۔ مرد کے ليے محبت بھوک اور عورت کے ليے پيار ايک پياس ہے۔ ‘‘

اب شاہ لطيف جيسے مرد تو پيدا ہونے سے رہے۔ ايک مرتبہ ہماري ايک لکھاري دوست نے اپنے زمانۂ طالبعلمي کے دوست کو بتايا کہ ان کے اور ان کے شوہر کے درميان کوئي کميونيکيشن نہيں ہے۔ وہ دوست اس وقت تو چپ ہو گئے، کچھ دنوں بعد فون پر پوچھا۔ ”تو تم دونوں کے درميان کوئي جسماني تعلق نہيں ہے؟“ ہماري دوست کو ہنسي کا دورہ پڑ گيا ”ارے بھئي ميري مراد انٹلکچوئل کميونيکيشن سے تھي“ ان صاحب پر سکتہ طاري ہو گيا۔اسي طرح ہماري ايک صحافي اور اديب دوست جب روايتي شادي کے بندھن ميں جکڑي گئيں تو شوہر اور سسرال والوں کے دہرے معيارات سے پريشان رہتي تھيں۔ ايک روز ان کے ايک مرد دوست ان کي ناخوشي کے حوالے سے پوچھ ہي بيٹھے کہ آيا معاملہ جنسي نا آسودگي کا تو نہيں؟ ”بس وہي ايک معاملہ تو ٹھيک ہے“ ہماري دوست کے منہ سے بے ساختہ نکلا ”باقي سب خراب ہے“ اس کے بعد گفتگو کے لئے کچھ باقي نہيں بچا۔

بہت پراني بات ہے، ہم ايک سات روزہ ورکشاپ ميں گئے، چاروں صوبوں سے مرد اور عورتيں آئے ہوئے تھے۔ ايک رات ايک ونگ ميں شور شرابا ہوا۔ معلوم ہوا ايک صاحب کسي خاتون کے کمرے ميں گھسنے کي کوشش فرما رہے تھے۔ ظاہر ہے لوگوں نے ان کي خاصي ”عزت افزائي“ کي۔ بعد ميں پتہ چلا کہ دن ميں کہيں گفتگو کے دوران ان صاحبہ نے اپني گھريلو زندگي کے حوالے سے بات کرتے ہوئے يہ کہہ ديا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے خوش نہيں ہيں چنانچہ ان صاحب کا ”ميں ہوں نا“ سنڈروم ابھر کر سامنے آ گيا تھا۔آخر مرد کے ليے عورت صرف جسم کا نام ہي کيوں ہے؟ فہميدہ رياض نے اس بارے ميں بہت اچھي نظميں کہي ہيں۔ اپني نظم مقابلۂ حسن ميں عورتوں کے جسم کي پيمائش کرنے والے مردوں سے انہوں نے کہا تھا ”اپنا بھي کوئي … ناپو“۔ اسي طرح اپني نظم ’اقليما ”ميں انہوں نے مردوں کو سمجھانے کي کوشش کي تھي کہ عورت صرف …کا نام نہيں، ان کے اوپر سر بھي ہے اور اس کے پاس دماغ بھي ہے۔

بات شروع ہوئي تھي سوشل ميڈيا پر بيويوں کا مذاق اڑانے سے تو ہمارے اندر کي فيمنسٹ ان مذاق اڑانے والوں کو آئينہ دکھائے بغير رہ نہيں سکتي۔ آخر ہميشہ بيويوں کو ہي کيوں تختۂ مشق بنايا جاتا ہے اور شوہروں کو قابل رحم دکھايا جاتا ہے۔ ہميں ايسے سارے لطيفوں کو رد کرنا چاہيے جو عورت دشمني يا جنسي تعصب پر مبني ہوں۔