//محبت یا مجبوری

محبت یا مجبوری

۔ تحریر سعدیہ تسنیم سحر جرمنی

کفن ميں لپٹا آپا کا چہرہ مسکاتا محسوس ہو رہا تھا ستواں ناک جيت کي خوشي ميں فاتحانہ انداز ميں اکڑي ہوئي تھي اور بند آنکھيں اگرچہ ميں ديکھ نہيں پا رہا تھا مگر لگتا تھا شرارتي انداز ميں ہنس رہي ہيں کہ لو عامر چيمہ صاحب اب کہ ميں نے جو چال چلي تو تمھيں آنا ہي پڑا ۔

کيا ہوا جو اس بازي ميں ہم جان سے گزر گئے۔

ايک سبز پروں والي موٹي کالي مکھي مسلسل گھوں گھوں کرتي ميري ناک کا طواف کر رہي تھي ۔’’عامر تمھاري آپا چلي گئ “

ميرے کندھے سے بيگ اتارتے ہوئے کون مجھ سے لپٹ کر رو رہا تھا ۔بين کر رہا تھا ۔ميں نے اس شخص کو پہچاننے کي کوشش کي ۔دماغ عجيب کيفيت ميں تھا بصارت نے تصوير کو دماغ تک پہچانے اور دماغ نے اس پيغام کو ڈي کوڈ کرنے ميں کچھ سيکنڈ لگا دئيے …’’اوہ يہ تو رياضا گجر ہے “

وہي رياضا گجر جس کي وجہ سے ميري پاک باز آپا طوائف کي زندگي گزارنے پر مجبور ہوئي۔ مگر يہ ہلکي سي داڑھي۔ماتھے پر سجدے کا نشان ۔درد بولتي سرخ بوٹي سي آنکھيں ۔يہ کون شخص تھا اور رياضے گجر سے اس کي اتني مماثلت کيسے تھي يہ گنجل کھل نہيں رہا تھا ۔

مکھي کي گھوں گھوں اور ناک کا طواف جاري تھا ۔”عامرجب تمھارے ماں باپ گزرے تو تمھاري آپا تمھارے ليے گھني چھاوں والا درخت بن گئ تھي ۔ليکن درخت کو خود تو جلنا پڑتا ہے ناں تو وہ خود جلتي رہي آخري سانس تک کبھي ميرے ليے اور کبھي تمہارے ليے ۔

ميں تو لوٹ آيا ليکن تم نے اتني دير کيوں لگا دي تم کيوں واپس نہ پلٹے “

اماں ابا کا ايکسيڈينٹ ميں مرنا اتنا پريشان کن نہيں تھا جتنا مالک مکان کي اگلے مہينے مکان خالي کرنے کي التجا خطرناک تھي۔” کيا کروں بيٹا ميں بھي بيٹيوں والا ہوں رياضا بہت خطرناک ہے … “

آپا اب کيا ہو گا ہم کہاں جائيں گے ؟”پندرہ سالہ عامر چيمہ مالک مکان کي گھر خالي کرنے کي التجا سن کر پريشان تھا ۔آپا چچا جان اور سليمان بھائي بھي کچھ نہيں کر سکتے‘‘

’’ آخر تمہاري سليمان بھائي سے شادي ہوني ہے “

’’نہيں بيٹا سارے ساتھ صرف خوشي کے وقت کے ہوتے ہيں‘‘ دکھ ميں کون ساجھےدار بنتا ہے … دکھ تو اپنا اپنا ہوتا ہے … جيسے قبر کا حال صرف مردہ ہي جانتا ہے اسي طرح دکھ !!!!!بھي خود ہي بھوگنا پڑتا ہے‘‘

اس رات آپا دير تک اپني پسنديدہ غزل گنگناتي رہي

’’چاہت ميں کيا دنيا داري عشق ميں کيسي مجبوري “

رياضا گجر آپا سے شادي کرنا چاہتا تھا اور آپا کو بچپن کے منگيتر سليمان سے عشق تھا ۔

اونٹ نے کسي کروٹ تو بيٹھنا تھا ۔اب وہ اماں ابا کا اکيسڈنٹ ميں مرنا ہو يا سليمان بھائي کا مکرنا ۔طرفہ قيامت تھي ۔اور بھوگنے کو صرف اکيلي آپا ۔

 عورت کا تکليف کا اور محبت کا چولي دامن کا ساتھ ہے ۔اس کا سارا جسم محبت نام کي رسي سے بندھا ہوتا ہے ہر شکن ميں درد کي تصوير ہوتي ہے ليکن پھر اسي تکليف سے محبت پھوٹتي ہے …عجيب ہے يہ عورت …محبت سے تکليف اٹھاتي ہے اور پھر اسي تکليف سے محبت کے نئےسر بکھيرتي ہے ۔

اگلي صبح جب آپا برقعہ پہن کر نکلي تو مجھے ساتھ چلنے سے روک ديا۔

’’…نہ پتر اپنے دکھ کي صليب خود ہي اٹھاني چاہيئے۔‘‘کچھ دن بعد ہم اس نئے فليٹ ميں آگئے …اور زندگي کچھ سہل طريقے پر گزرنے لگي ۔ہاں آپا کي زندگي بدل گئ تھي وہ کھلکھلانے والي آپا کہيں گم ہو گئ تھي ايک فرم ميں آپا کي نوکري بھي لگ گئ ۔کونسا دفتر تھا ؟کيسے لوگ تھے ؟کيا کام تھا؟يہ جاننےکي ميں نے ضرورت ہي نہ سمجھي ۔بس زندگي چل پڑي تو دکھ کا پسينہ بہاتے جسم پر اسائشات کي ہوا نے وہ سکوں پہنچايا کہ غنودگي ہونے لگي۔ ہاں ميں سو ہي تو رہا تھا۔

وہ تو پانچ سال بعد فائنل اير ميں پچھلے محلے کے خليل سے لڑائي ہو گئ تو اس نے طعنہ مارا کہ ميں بہن کي کمائي پر پلنے والا بزدل مرد ہوں ۔رکھيل ہے تيري بہن رياضے گجر کي …اس کي آواز کي بازگشت ہر سمت پھيل گئ …ديواريں…سڑکيں …بسيں …دروازے …صرف ايک لفظ کي گردان آلاپ رہے تھے …رکھيل رکھيل رکھيل …

گھر جاکر ميري ہمت نہ ہوئي کہ خليل کے الفاظ آپا کے سامنے دہراتا صرف ايک ڈرامے ميں نظر آنے والي طوائف کو گالياں دے کر من ٹھنڈا کر کے آپا کي طرف ديکھا ۔!!!!!نہ پتر طوائف کوئي مرضي سے تھوڑا بنتي ہے ۔

آپا کا فقرہ ميرا دل چير گيا ۔

’’آپا لوگ کہتے ہيں کہ تم … تم… رياضے گجر … ميں فقرہ پورا نہ کر سکا ۔ميرا دل کرتا ہے کہ ان لوگوں کے ٹکڑے کردوں جو تمھيں گالي ديتے ہيں ۔‘‘

’’ناں پتر لوگوں کو کچھ نہيں کہتے ان کي اپني مجبوري ہوتي ہے ۔يہ مرد نہيں ہوتا جو طوائف بننے پر مجبور کرتا ہے يہ محبت ہوتي ہے جو طوائف بنا ديتي ہے ۔اور يہ محبت ميں بے يقيني ہوتي ہے جو زندہ درگور کر ديتي ہے “

اس کا اعترافي لہجہ اتنا ٹھنڈا تھا کہ کافور کي بو آئي ۔

آپا نے چپ کي نماز نيت لي اور ميں نے کچھ ضروري چيزيں لے کر گھر چھوڑ ديا ۔در در کے دھکے کھا کر چھ سات سال ميں مجھے آپا کي مجبوري سمجھ ميں آنے لگي تھي ۔ميں مرد ہو کر ہارنے لگا تھا تو آپا کيا کرتي ليکن طوائف …منہ ميں ريت بھرنے لگتي …کڑچ…کڑچ…کڑچ

جب ميرے باس کي بيٹي کا ميرے پر دل آيا اور اس نے ميرے سے شادي کر کے ميرامعاشي اور معاشرتي رتبہ بڑھايا تو مجھے آپا پھر ياد آئي ۔ميں نے عرصے بعد اس فليٹ کا رخ کيا ۔ابھي ميں گاڑي پارک کر رہا تھا کہ رياضا عمارت کے صدر دروازے سے آپا کو موٹر سائيکل پر بٹھائے باہر نکلا ۔ميں جہاں تھا وہيں منجمد ہوگيا ۔

اب پرندے سر کا گوشت کھاتے يا گھونسلہ بناتے مجھے خبر نہ ہوتي ۔وقت نے نہ جانے کتنے صفحے لکھے کتنے پلٹے ۔

’’عامر تيري آپا تيرے سے غافل نہيں تھي اس نے تجھے ڈھونڈ نکالا تھا تيرے فيس بک کے نشے نے تجھے زيادہ دير گمشدہ نہيں رہنے ديا ۔وہ ہر ماہ تجھے ديکھنے کے ليے لاہور کا سفر کرتي ۔تيرے نام سے کتنے ہي بچوں کے تعليمي اخراجات اٹھاتي رہي ہے يہ ديکھ يہ سب جو رو رہے ہيں يہ اس کے وہي بچے ہيں جن سے اس نے تيرے نام پر محبت کي وہ کہتي تھي جب محبت کي چاہت ہو تو محبت بانتناشروع کردو ۔ جب وہ بارہ سال پہلے ميرے سامنے آئي تو ايک ہي شرط رکھي ساري زندگي جو تم کہو گے کروں گي جہاں رکھو گے رہوں گي بس ميرے عامر کو ميرے سے جدا نہ کرنا وہ سائيں لوک ہے زيادہ پچھ پرتيت ميں نہيں پڑتا جو مرضي ہوتا رہے وہ خوش رہتا ہے اور آج وہ پہلي دفعہ پريشان ہے ميرا بس نہيں چلتا کہ اس کے ليے کيا کروں … اور ميں نے اس کے وعدے کو ايسے ہي قبوليت نہيں بخشي اسے خوب آزمايا … اس کے ساتھ نکاح ضرور کيا مگر کسي کو اس نکاح کا نہيں بتايا … اسے ہر جگہ اپنے ساتھ رہنے کا کہا يہاں تک کہ اکثر ڈيرے پر بھي بلا ليتا ۔وہ خاک بن جاتي ۔ککھ سے ہولي ہو جاتي پر آتي ضرور ۔طوائف بنا ديا تھا ميرے ساتھ نے اس کو ۔پر تمھيں بچانے کو وہ طوائف بن گئ ۔‘‘

’’چاہت ميں کيا دنيا داري عشق ميں کيسي مجبوري “

جب تم چلے گئے تو وہ مچھلي کي طرح تڑپتي رہي ميں” ادھر ہي آگيا تھا اور اپنا نام بھي دے ديا ميں نے تو اس کو صرف چھ سال آزمايا پر تيري آزمائش تو ختم ہي نہيں ہو رہي تھي کئ بار ميں نے اسے کہا کہ تجھے لے آتے ہيں جا کر ۔کہنے لگي نہيں وہ خود گيا ہے وہ اسي ميں خوش ہے تو بس وہ خوش رہے جہاں بھي رہے ۔

يہ مرد نہيں ہوتا جو طوائف بنا ديتا ہے يہ محبت ہوتي ہے جو طوائف بنا ديتي ہے اور يہ محبت ميں بے يقيني ہوتي ہے جو زندہ درگور کر ديتي ہے …

بس جب ميں مر جاؤں تو اسے بلا لينا پھر وہ ضرور آئے گا يہ ترپ کا پتہ ہے ميرے ہاتھ ميں… يہ ديکھ اس نے کتبہ بھي بنوا کر رکھ ليا تھا …

طاہرہ چيمہ بنت منظور چيمہ کہتي تھي اسےميرے بنت اور زوجيت کے نام سے فرق پڑتا تھا اسکي نظر ميں ميري محبت طوائف تھي تو اب کيا فرق ہے بنت ہو يا زوجہ ۔دنيا کي بے اعتمادي سے دکھ نہيں ہوتا اپنوں کي بے اعتمادي سے دکھ ہوتا ہے …مکھي بالآخر ميري ناک پر بيٹھ گئي تھي ناک جس پر بے اعتباري ،بے يقيني کي غلاظت تھي ۔