//محبت اب نہیں ہوگی

محبت اب نہیں ہوگی

. تحریر بشریٰ عمر بامی انگلینڈ

کوکلا چھپا کی جمعرات آئی جے …جیہڑا اگے پیچھے ویکھے…

 اودھی شامت آئی وے…

 گاؤں کے ہم عمر لڑکے لڑکیوں کے ہمراہ چاندنی رات میں کوکلا چھپا کی، لُکن مچی کھیلتے کھیلتے گُل خان اور شانزے بچپن کی مست مست عمر سے جوانی کی دہلیز پر پاؤں جما رہے تھے …گُل اور شانزے دونوں زمانے کی اونچ نیچ سے بے نیاز اب بھی بچپن کی طرح بے تکلفانہ ملتے تھے …

گُل خان گاؤں کے چوہدری خان بہادر کا بیٹا تھا اور شانزے کے ابا شبیر جان چوہدری صاحب کے پیدائشی نمک خوارخدمت گزار … شبیر جان کے والد حکمت یار نے اپنی ساری عمرحویلی کی چوکھٹ پر خدمت کرتے کرتے گزار دی تھی …

اب بیٹا نمک حلالی کی مثال بنے ہوئےایک دن کے چالیس گھنٹے کئے …

خان بہادر کی خدمت میں چوکس رہتا تھا…

شانزے اور گُل خان حویلی کی چار دیواری میں کھیل کود کر جوان ہوئے تھے ۔

فرق صرف حویلی کی شان و شوکت اور ملحقہ کوارٹر میں تھا جومفلسی کی تصویر تھا۔

مگر !دو دلوں کےجوانی کی حدود میں پاؤں رکھتے ہی دھڑکنے کے انداز بدلنے لگے تھے۔پیپل کے درخت کے پیچھے دن رات لکن میٹی کھیلنے والوں کے اب ایک دوسرے سے نظریں ملتے ہی دل دھڑکنا بھول جاتے …اور جب کبھی حویلی میں آمنا سامنا ہو جاتاتو دونوں کے دلوں کی دھک دھک بڑی دورتک سنائی دے سکتی تھی …

حویلی کے کام جلدنمٹانے کی بجائے بڑھانے کے چکر میں شانزے … واپسی پر اپنی ماں سے ڈانٹ کھاتی…

سارا سارادن تم حویلی میں کیا کرتی رہتی ہو ؟؟؟

شانزے ماں کو جواباً جھوٹ موٹ چودہرائن کے لمبے چوڑے کاموں کی لسٹ سنا دیتی…کیسے بتاتی کہ اسے گل خان کے آس پاس رہنا اچھا لگتاہے …اس کا بس چلتا تو وہ مستقل حویلی کی باسی بن جاتی …بلکہ وہ تو اب مالکن بننے کے سنہرے خواب دیکھنے لگی تھی…

چوہدری صاحب نے چودھرائن کی فرمائش پر حویلی کے باغ میں گلاب کے پودے کیا لگوائے …

وہ لڑکی تو دیوانی ہوگئی کیونکہ …

شانزے کو لال گلاب سے عشق تھا … ہر روز کھلنے والے گلابوں کی تعداد کی گنتی کرتی اور حویلی میں خبر پہنچانے بھاگ جاتی ۔

چودھرانی جی …چودھرانی جی

باغیچہ تو پھولوں سے بھر کرلال گلاب ھو گیا …

ہر شام ہار پرو کر بیگم صاحب کے بالوں کی زینت بناتی تو …کبھی ہاتھوں کی …

ہر روز “ہار پروتے شانزے کے نازک ہاتھ چپکے سے ایک گلاب کا پھول بچا لیتے …،اورچھپا لیتے … شانزے کچھ سوچ کر وہ گلاب حویلی لے جاتی …

نہ جانے کیوں ؟؟؟

ان جانے میں وہ …ایک ادھورے خواب کو آنکھوں میں سجائے رہتی تھی

 حویلی کا گلاب اسکے گل خان کے ہاتھوں اس کے جوڑے میں لگ کر مہکے گا…

اپنے لمبے بالوں کا بڑی شان سے آئینے میں جوڑا بناتی اور من میں مسکا جاتی …

کبھی دھیرے سے مسکراتی اور خود سے سوال کرتی

ہائے شانزےپگلی …لڑکی کب گل خان کے ہاتھوں گلاب سے یہ تماری زُلفیں بھی مہکیں گی …؟؟

محبت کی قندیل دل میں جلائے … سہانےسپنے دیکھتی وہ بہت دورنکل جاتی …

چوہدری صاحب نے شبیر خان سےشام کو پاؤں دباتے دباتے بتایا …

 گُل خان کو خیر سے کالج میں داخلہ مل گیا ہے اور کل صبح سےاسےتمہیں شہرکالج چھوڑ کر آنا اور شام کو واپس لانا … ہوگا

اگلی صبح گاڑی کی چابی تھماتے ہوئے چوہدری صاحب نے شبیر جان کو احتیاط سے گاڑی چلانے کی تاکید کی …

جی ۔چوہدری صاحب آپ فکر نہ کریں

چھوٹے صاحب مجھے اپنی اولاد سے بھی پیارے ہیں …

بابا کی زبان سے نکلے لفظ وہ …گھنٹوں سوچتی رہی اولاد سے بھی پیارا …

وہ تو مجھے بھی جان سے پیارا ہے …

بابا کو کیا معلوم مجھے گُل سے کتنا پیار ہے ؟اور پھر وہ حسرت سے توڑ ے گلاب کو غور سے دیکھتی جا رہی تھی ۔،روزانہ کے معمول کے مطابق گلاب کی یہ دیوانی شام کو باغیچے ضرور جاتی …اور ایک درخت کے پیچھے چھپی ہاتھوں میں گلاب تھامے …پہروں اپنے خواب کی تعبیر سوچتی رہتی ،۔کبھی تو ایسا ھو گا… مگر کب ؟

سماج کی اونچ نیچ اسکی سوچ کو مقید کر دیتی …اس کا بس نہیں چلتا تھا …

اس سوچ کو قید سے کیسے رہائی دلائے…

کیا اطلس وکمخواب میں کھدر کا پیوند لگ سکے گا…

کیا ؟ظالم سماج اورزمانہ قبول کرے گا … کہاں ایک ادنی کامے کی بیٹی …

کہاں چودھرائن کا اکلوتا شہزادہ …مگر اس دل کا کیا کرے …

اس خواب کو کیسے بھول جائے جوآنکھیں بند ہوتے ہی دیکھنا شروع کر دیتی تھیں ؟

 اوراس سماج کی اونچ نیچ کی قید میں جکڑی شانزے…

دیکھتے دیکھتے گل خان کی پڑھائی مکمل ہوئی تو بیرون ملک پڑھانے کے خواب کو پورا کرنے کے لئے چوہدری صاحب نے یہ کڑواگھونٹ بھی بھر لیا اور اکلوتی اولاد کو امریکہ بھجوا دیا …

شانزے گل خان کی روانگی کے دن گلابوں کا ہار لئے حویلی گئی

اس کا دل اور اس کی کلائیاں مچل مچل جارہی تھیں کہ وہ ہار چوہدری صاحب کی بجائے وہ خود اپنے گل کو پہنائے اور ایک گلاب اس نے آج پھر توڑکر چھپا لیا تھا …

اس حسرت کی طرح …جواس سپنے کی طرح …دل کی اتھاہ گہرائی میں … بسی ہوئی تھی

جس کے ارد گرد غریبی اور امیری کے فرق کی رسی اسے جکڑے ہوئے تھی…

نہ جانے اس کا خواب پورا ہو گا یا ؟؟

اس کے آگے وہ کچھ بھی سوچ نہ پاتی ایک انجانا خوف …اس کے دل کو مٹھی میں بند کر لیتا…اس دن تو ان سوچتی آنکھوں کے آنسوگل خان صاحب کی آنکھ نے بھی اس جھیل میں بھرے پانی کو دیکھ لیا … اور وہ دور تک ہاتھ ہلاتی رہ گئ ۔

اس نے بھی گاؤں میں آٹھ جماعتیں پاس کر لیں … چودھرانی اس سے گُل خان کوجب امریکہ بھی خط لکھواتیں …

تو خط کے کونے میں ایک گلاب بنا کر ضرور بھیجتی …

اس گلاب کی قدر گل خان کہاں سمجھ پاتا … وہ تو بس اس کے بھولے پن پر فقط مسکرا دیتا… وقت کا پہیہ گھومتا رہا …

گُل خان امریکہ کی تیز رفتارزندگی اور چکا چوند میں کھو کر حویلی کے سرونٹ کوارٹر میں ایک جلتے محبت کے دیئے کو بھول چکا تھا…آس کا گلاب مہکائے کوئی شدت سے اس کا منتظر ہے …اس کی آمد کے دن انگلیوں پر گنتے گنتے پورے بھی گھس کر رہ گئے تھے …

اسکی ماں کی اچانک وفات کے بعد بابا شبیر جان کو جوان ،خوبصورت بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر میں نیند نہیں آتی تھی ۔

لیکن شانزے کو بھری برادری میں کوئی بھی رشتہ پسند تو بڑی دور کی بات ایک آنکھ نہ بھاتا … پھپھو ،چاچی ،مامی سب کی نظریں اس کو بہو بنانے کی چاہ لئے اشاروں اشاروں میں خواہش کا اظہار کر چکی تھیں …

مگرشانزے تو بس گُل اور گلاب کے سپنے میں غرق رہتی ۔

وہ توبس اکیلے باغیچے سے ایک گلاب توڑکر پیپل کی اوٹ سے شہر کے آنیوالے رستہ کو تکتی رہتی ۔پھر ہر رات وہی گلاب سپنوں میں اسے اپنے بالوں میں لگا نظر آتا …

مگر اس ادھورے خواب کو کب پورا ہونا تھا نہ جانے کب…

سندر سپنا تھامگر …

انہونا سپنا …

اس خواب کی تعبیر ادھوری تھی بالکل …اس کے نصیب کی طرح…

وہ سالوں جس دن کی منتظر رہی آج اس کے خواب کو تعبیر …ملنے والی تھی …

گل خان اپنی تعلیم مکمل کر کے وطن واپس آرہا تھا حویلی میں جشن کے روشن قمقموں کی طرح …اسکے دل کے اندر امید کے دئے جل رہے تھے …

آج باغیچے میں گلاب ہوا کے سنگ البیلی سی مہک پھیلا رہے تھے …

ایک گلاب توڑتے ہوئے کانٹے اس کی نازک انگلیوں میں چُبھ گئے۔

 خون کی دھار نکل کر اس کے دامن کو بھگو گئ … اس کے منہ سے نکلی اف دب کر رہ گئی …شبیر جان نے گاڑی حویلی کے بڑے دروازے کے سامنے جیسے ہی روکی …

دو نازک ہاتھ پیپل کے درخت کے عقب میں گلاب تھامے منتظر تھے … دھڑکتا دل سینے سے باہر نکلنے کو بے تاب تھا اور …

دو معصوم آنکھیں اپنے گُل خان کی منتظر بے چین …

اور بے تاب تھیں …

خوبصورت چہرہ ہاتھ میں پکڑے گلاب کی طرح لال سرخ …آنچل میں دمک رہا تھا…

چودھرائن کی آواز اس کے کانوں کو چیرتی چلی گئی…

شانزے اوہ شانزے کدھر ہو…

گلابوں کے دو ہار لاؤ …

گُل خان اور امریکی دلہن کا استقبال کرنا ہے …

اس نے ہاتھ میں پکڑاپھولوں کا ہار اورایک لال گلاب چودھرانی جی کو تھماد یا …

 اور الٹے قدموں …آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب چھپائے …اپنے کوارٹر واپس چلی آئی۔

اگلے دن وہ اپنے زخمی انگلیوں سے حویلی کی فرش کی صفائی کرتے ہوئے جا بجا پھیلی…

پاؤں سے مسلی گلاب کی سرخ پتیاں …سمیٹ رہی تھی …

بالکل اپنے ادھورےخواب کی مانند…

اور اسکی دبی سسکیاں کہہ رہی تھیں …

محبت …اب …نہیں …ہوگی