//محبت اب نہیں ہوگی

محبت اب نہیں ہوگی

۔ تحریر آصفہ بلال

قد آدم  آ ئنے میں اپنا ہی عکس دیکھ کر آج اسے احساس ہوا کہ زیست کے کتنے ہی ماہ و سال بیت گئے اور اسے خبر ہی نہ ہو سکی۔اپنے ہی چہرے کو اجنبیت  سے دیکھتے ہوے اس نے خود سے ہی سوال کیا…”تو یہ تم ہی ہو پریشے علوی…؟

جس کے بہت بڑے بڑے خواب تھے۔جس کے ارد گرد ہمیشہ لوگوں کا ہجوم رہا کرتا تھا…بہت کچھ پانے کی جستجو نے آج تمہیں کتنا اکیلا کر دیاہے.آج تمہارے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں۔یہ چہرہ جس  کی خوبصورتی پہ تمہیں ناز تھا ،،یہ چہرہ بھی اب تمہاری کہن سالی کی گواہی دینے لگا ہے۔

گو کہ وہ آج بھی اتنی ہی حسین تھی جتنی آج سے دس سال پہلے تھی مگر  وقت  اپنے نقوش ثبت کر  ہی جاتا ہے…وقت …جو جتنا وفادار ہے ،،اتنا ہی بے وفا بھی ہے۔اس کا ہر گزرتا لمحہ یہ احساس دلاتا ہےکہ اسے قید کرنا ممکن نہیں…یہ مٹھی میں بند ریت کی مانند پھسلتا ہی جاتا ہے ۔اور پریشے کی بند مٹھی سے بھی وقت اسی طرح پھسلتا چلا گیا اور ٓج وہ اپنا بیتا کل یاد کر کے ،افسردگی کا لبادہ اوڑھے ماتم کناں تھی مگر ماضی ،ماضی ہی رہتا ہے کبھی حال نہیں بن سکتا۔یونیورسٹی کا آڈیٹوریم طلبا ء سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ہر کسی کو انتظار تھا کہ اس سال بہتریں طالب علم کا ایوارڈ کسے ملے گا۔سب کی سماعتیں  یہ سننے کو بے تاب تھیں۔کہ اچانک اناوسمنٹ ہوئ…’’اس سال کا بہترین طالب علم کا ایوارڈ دیا جاتا ہے ،پریشے علوی کو…‘‘

ہال زور دار تالیوں سے گونج اٹھا اور پریشے ایک ادا  سے بالوں کو جھٹکتی سٹیج  پر پہنچی اور ایوارڈ وصول کیا…اس کے لباس اور ناز و انداز دیکھ کر کوی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے…یونیورسٹی میں سب اسے متمول طبقے سے وابستہ لڑکی سمجھتے تھے اور پریشے نے بھی کبھی اس بات کی تردید کرنے کی کوشش نہیں کی تھی،،کیونکہ وہ چاہتی بھی یہی تھی کہ سب اس کے آگے پیچھے پھریں اور اس کے ناز اٹھائیں ۔

لیکن حقیقت تو کچھ اور ہی تھی۔اس نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی تھی ،،لیکن اسے اس غربت زدہ ماحول سے سخت نفرت تھی۔ایک ڈرایئور کی بیٹی ہونے پہ اسے ہمیشہ ہی شرمندگی محسوس ہوتی تھی۔ماں ایک سرکاری اسکول میں  ایک عرصے سے ملازمہ  تھی۔اس کی ماں کی ایک ہی خواہش تھی کہ اس کی بیٹی بہت زیادہ پڑھے لکھے اور ترقی کرے۔لیکن باپ کی معمولی تنخواہ اور  ماں کی ملازمت سے گھر کا خرچ  ہی بمشکل چلتا تھا ۔اس کی نازبرداریاں کہاں سے پوری ہوتیں لیکن وہ بھی اکلوتی ہونے کی وجہ سے اپنی ساری ضدیں منوایا کرتی تھی۔اس کی بے جا خواہشات کو پورا کرنے کے لیے پریشے کی ماں ایک ایک پیسہ بچاتی۔اسکول میں ایک دو ٹیچرز سے اس کی اچھی  سلام دعا تھی۔وہ اکثر اسے اپنے بچوں کے کپڑے اور کھلونے دے دیا کرتی تھیں۔جنھیں پا کر پریشے خود کو شہزادی سمجھنے لگتی۔اور یہیں سے اس کے دل میں اپنے اصل سے دور جانے کی خواہش پیدا ہوی۔ وہ اپنی ہی دنیا میں رہنے لگی۔

والدین کے بے جا لاڈ پیار نے اسے ضدی اور خود سر بنا دیا تھا…وہ ہر بات میں اپنی من مانی کرتی۔یہی وجہ تھی کہ وہ دنیا سے اپنی اصلیت چھپاتی رہی۔یونیورسٹی میں بھی کسی کو اس کی حقیقت معلوم نہ تھی۔سب اس کے لباس اور طور طریقوں سے اسے امیر ہی سمجھتے تھے۔

حتیٰ کہ باپ جب اسے یونیورسٹی چھوڑنے آتا تو باپ کے بوسیدہ لباس اور ظاہری حلیے کی وجہ سے  وہ سب کے سامنے اسے اپنا ڈرایئور ہی ظاہر کرتی تھی۔ماں باپ اس بات سے بے خبر نہیں تھے مگر بیٹی کی محبت میں چپ سادھ رکھی تھی کہ چلو تعلیم تو حاصل کر رہی ہے.اس یونیورسٹی میں پڑھانے کے لئے اس باپ نے اپنے مالک سے کیسے قرض لیا یہ وہی جانتا تھا..

مغرور تو وہ تھی ہی،،لیکن صرف ،اسی لیے کسی کو اتنا قریب نہیں آنے دیتی تھی کہ کہیں کوئ اس کی اصلیت نہ جان لے…قدرت نے اسے ذہانت کے ساتھ ساتھ حسن کی دولت سے بھی نوازا تھا۔کمی تھی تو صرف پیسے کی…اور اس کی زندگی کا واحد مقصد  اس غربت سے باہر نکلنا تھا۔آج جب اسے بہترین طالبہ کا ایوارڈ ملا تو اس کے گھمنڈی پن میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔تقریب ختم ہوتے ہی تمام طلبہ اس کے گرد جمع ہو گئے اور اسے مبارکباد  دینے لگے۔مگر شجاع احمد واحد شخص تھا جو اس مجمعے سے دور کھڑا اسے والہانہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔وہ ایک عرصے سے پریشے کی محبت میں گرفتار تھا لیکن کبھی اظہار نہیں کر پایا تھا۔

وہ جانتا تھا کہ پریشے ایک امیرزادی ہے اور وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا معمولی نوجوان۔لیکن وہ بھی ایک ذہین طالب علم تھا اور انجینرنگ کے آخری سال میں تھا۔اس نے دل میں سوچ رکھا تھا کہ یونیورسٹی کے آخری دن وہ اس سے اپنے دل کی بات ضرور کرے گا۔

بالآخر یونیورسٹی کا آخری سال بھی اختتام  پزیر ہوا۔ اور سب اپنی اپنی ڈگریاں تھامے نئ منزل کی جانب رواں دواں تھے۔پریشے نے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا تھا۔اسے کسی بھی اچھی جگہ جاب مل سکتی تھی۔اسے اس کی منزل ملنے والی تھی…وہ اپنی کلاس فیلوز کو خدا حافظ کہہ کر گھر جانے ہی والی تھی کہ شجاع کی آواز نےاسے چونکا دیا۔”پریشے…مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔’’جی فرمایے!کیا کہنا ہے؟‘‘ پریشے نے نہایت بے زاری سے پوچھا۔شجاع نے قدرے جھجکتے ہوئے کہا…”میں جانتا ہوں کہ میرے اور تمہارے درمیان بہت بڑا طبقاتی فرق ہے۔تم ایک امیر گھر کی لڑکی ہو اور میں ٹھہرا مڈل کلاس لڑکا۔لیکن پھر بھی تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر تم میرا ساتھ دو تو میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا۔کیونکہ میں تم سے بہت محبت………۔،،ابھی اس کا جملہ مکمل بھی نہ ہونے پایا تھا کہ پریشے کا زناٹے دار تھپڑ اس کا گال سرخ کر گیا…’’تمہاری  ہمت کیسے ہوئ  یہ سب کہنے کی؟ تم دو ٹکے کے انسان ،،،مجھ سے شادی کرو گے؟اوقات کیا ہے تمہاری؟‘‘…وہ غصے سے پاگل ہو رہی تھی…وہ جس نے بچپن سے اب تک غربت سے نفرت کی تھی …کیسے شجاع کی بات برداشت کرتی۔’’دفع ہو جاو،،ابھی اسی وقت…‘‘پریشے کا بدن غصے سے لرز رہا تھا…شور سن کر لوگ متوجہ ہونے لگے تو شجاع بھیگی آنکھوں اور بوجھل دل کے ساتھ خاموشی سے وہاں سے چلا آیا…

پریشے کو بہت اچھی کمپنی میں انٹرن شپ مل گئ تھی…چند دنوں میں اچھی پوسٹ پر کام کرنے لگی…اس کے خواب حقیقت بننے لگے تھے…اسے جاب کے ساتھ ساتھ رہایش اور گاڑی بھی مل گئی تھی لیکن ابھی وہ اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ نئے گھر میں نہیں لانا چاہتی تھی۔کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی کسی دوست کو اس کے ماں باپ کے متعلق پتہ چلے…آج اچانک آفس  میں اس کی ماں کا فون آیا کہ جلدی گھر آئے اس کے ابا کی طبعیت سخت خراب ہے…پریشے نے گھر آنے کا کہہ تو دیا لیکن وہ آفس کی میٹنگ میں اس قدر مصروف ہوئی کہ اسے یاد ہی نہ رہا  کہ ماں نے بلایا ہے۔آفس سے سیدھا اپنے اپارٹمنٹ پہنچی اور سو گئی۔

چند دن بعد اسےکسی جاننے والے نے اطلاع دی کہ اس کے والد کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کی والدہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں۔وہ ایک لمحے کے لیے سناٹے میں آ گئ۔یہ سب کیا ہو گیا …پریشانی کے عالم میں وہ ہاسپٹل پہنچی  تو ماں کو بے ہوش پایا…ڈاکٹر نے بتایا کہ شدید صدمے کے باعث وہ قومے میں چلی گئ ہیں…ابھی وہ اس خبر سے سنبھل ہی نہیں پائ تھی کہ سامنے سے شجاع کو آتے دیکھا …اس کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر عورت اور ایک اسی کی ہم عمر لڑکی بھی تھی…وہ لوگ اس کی ماں کے بیڈ کے قریب آ کر رک گئے…پریشے پھٹی پھٹی نظروں سے انھیں دیکھ رہی تھی…اس سے پہلے کہ وہ ان سے ان کے آنے کا مقصد پوچھتی…وہ عورت خود ہی بول پڑی…” تو تم ہو پریشے؟اس  بےچاری  نے تمہارے لے کیا کچھ نہیں کیا…میں ہی وہ اسکول ٹیچر ہوں جس کی بیٹی کے تم کپڑے پہنتی رہی ہو…جس کے بیٹے کے کھلونوں کے ساتھ تم کھیلتی رہی ہو…اس دکھیاری ماں نے تمہاری ہر ضرورت پوری کی…اور بدلے میں تم نے کیا دیا؟اپنے باپ کی وفات پر فاتحہ پڑھنے بھی نہ آ سکی…افسوس ہے تم پر…‘‘

وہ عورت نجانے کیا کیا بولے جا رہی تھی لیکن پریشے کے کان تو جیسے اس سے آگے کچھ سن ہی نہ سکے…وہ سکتے میں نگاہیں نیچی کیے بیٹھی تھی۔وہ شجاع سے نظریں ملانے کے قابل تھی بھی کہاں؟…اور شجاع حیرت کی تصویر بنا کھڑا تھا…اسے تو اس کی ماں گھر سے یہ کہہ کر ساتھ لائ تھی کہ اس کی پرانی ملازمہ بیمار ہے اس کی عیادت کے لیے جانا ہے اور واپسی پر انھیں اسکول چھوڑنا ہے…لیکن یہاں تو منظر ہی کچھ اور تھا…”تو پریشے علوی یہ ہے تمہاری اصلیت۔تم  نے میری پر خلوص محبت کا مذاق اڑیا ۔محض اس لیے کہ میں امیر نہیں ۔”وہ واپسی کا سارا راستہ یہی سوچتا رہا کہ آخر کیوں؟ کیوں لوگ اپنی جھوٹی انا اور نمود و نمایش کے لیے اپنے پیاروں تک کو فراموش کر دیتے ہیں…

چند دنوں بعد پریشے کا ندامت بھرا خط بھی شجاع کوملا …جسے پڑھ کر اسے لگا کہ پریشے خود کو بہت تنہا محسوس کر رہی ہے …اور اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔

آج دس سال گزر گئے..پریشے آج بھی شجاع کی راہ تک رہی ہے۔شجاع نے بھی ابھی تک شادی نہیں کی..مگر شجاع  اپنے دل کا کیا کرے کہ جس سے وہ اتر چکی تھی…وہ  دل جو بس یہی کہتا ہے ۔محبت اب نہیں ہو گی…محبت اب نہیں ہو گی