//مجھے تم سے محبت ہے

مجھے تم سے محبت ہے

تحریررمشا تبسم

ميں ہاتھ ميں ياد کي سوئياں لگا کر گھڑي سے جوڑ بيٹھي ہوں۔ميرے وجود کا اک اک خون کا قطرہ اس ماضي کي گھڑي ميں منتقل ہو کر اس ميں رُکا ہوا وقت پھر سے چلا دے گا۔نہ يہ کبھي وقت ميرا تھا نہ ہي تم۔ميرا دکھ يہ ہے کہ ميرے ہاتھ سے وقت بھي نکل گيا اور وقت سے پہلے ميري زندگي سے تم نکل گئے۔اب اس گھڑي کو اپنا خون پلا کر اس طرح سينچوں گي کہ ميرے خون سے سيراب ہو کر ميرا گزرا ہوا وقت لمحے بھر کو گھڑي ميں سے گزر جائے گا۔ اور ميں فوراً اسے روک لوں گي۔وہ وقت کہ جب تُم صرف ميرے سائے ميں زندگي محسوس کرتے تھے۔اب اِس وقت ميں اپني اداسي کي اذيت کا خون بھر کر وہ ايک ايک لمحہ واپس لاؤں گي کہ جس لمحے تمہيں مجھ سے محبت تھي۔ جس لمحے تمہيں اظہار کے بدلے اظہار کي چاہت تھي اور جس لمحے ميں اظہار سن کر گم سم ہو کر اظہار کرنے کي بجائے چاہت بھري نظروں سے تمہيں ديکھتي رہتي تھي، جن ميں پاني کچھ اس طرح سے لرزتا تھا کہ کہيں طوفان آنے کو ہے۔تمہارے ہر اظہار کا لمحہ واپس لا کر اسکا جواب دوں گي کہ شايد يہ اظہار کسي دن فضاؤں کے سنگ جھومتے ہوئے تم تک پہنچ کر تمہيں چھو کر ميرا احساس دلا دے۔تمہيں ياد ہے وہ تمہارا پہلا اظہار سرديوں کي شام ميں جب دھوپ زمين سے ختم ہوتي ہوئي ديواروں اور آسمانوں کي طرف سفر شروع کررہي تھي۔تم نے کس طرح بے قرار ہو کر محبت کي شدت اور الفاظوں کي بيجا ترتيب مگر جذبات کا خوب اظہار کيا تھا تم کسي کشمکش ميں تھے اظہار ميں تھوڑا سا غرور اور بہت سي تمہاري ذات کي خواہش شامل تھي۔ اور تم نے کہا تھا۔

“ميں بہت تحمل سے کہہ رہا ہوں کہ مجھے تمہارے ساتھ ہنسنے رونے، تمہيں سميٹنے کي اور تمہارے پاس آ کر بکھرنے کي خواہش ہے کہ ميں تمہارے دامن ميں بکھر جاؤں اور تم پوري زندگي مجھے ذرا ذرا سا سميٹتي جاؤ۔۔ اور ميں بس يہي کہنا چاہتا ہوں اور کچھ بھي نہيں۔ اسے پيار سمجھو، محبت سمجھو، بيوقوفي سمجھو يا کچھ بھي۔ يہ ميں دماغ سے بھي کہہ رہا ہوں، دل سے بھي، اور غير جذباتي ہو کر بھي کہہ رہا ہوں۔ہاں مگر ميں کہہ رہا ہوں۔۔کيونکہ کہے بنا اب ميري ذات محبت کي تپش ميں سلگتي جا رہي ہے۔مجھے اظہار کر کے، اظہار سن کر، اس تپش سے نجات چاہئے۔

تم جانتي ہو مجھے زيادہ دعويٰ يا باتيں کرنا نہيں آتي۔ميرے چار لفظوں کو تم چار ہزار تک پھيلا سکتي ہوں۔ تم مجھے عزيز ہو گئي ہو، ايک عجيب انداز ميں۔مجھے تمہاري شرارتيں بہت پسند ہيں۔کبھي کبھي جب تلخيِ حالات سے اکتاہٹ ہو جاتي ہے نا تب بھي تمہاري موجودگي، تمہاري باتوں سے ميرے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتي ہے۔ميں تمہاري شرارتيں تمہارے ساتھ جينا چاہتا ہوں۔تمہيں اپنے سامنے بٹھا کر،تم کو ستا کر تمہارے چہرے پر بدلتے رنگ ديکھنا چاہتا ہوں۔تمہارا جھوٹ موٹ کا غصہ ديکھنا چاہتا ہوں۔تمہارا دل جو ہميشہ وسوسوں اور خدشوں سے بے چين ہو کر ڈوبتا رہتا ہے نا اس کو بس اپني محبت کي گرفت ميں لے کر اپنے ليے دھڑکتا محسوس کرنا چاہتا ہوں۔ہاں ميں تمہارے دل کو صرف خود کے لئے دھڑکنا سکھانا چاہتا ہوں۔تمہارے ہر وسوسے کو دور کرنا چاہتا ہوں۔اور تمہاري زندگي ميں خودکلامي کي اذيت لکھنے کي کبھي نوبت نہ آئے، اس ليے ميں تمہارے ہر لفظ کو محبت کي خوشبو ميں ابھي سے بدل دينا چاہتا ہوں کہ ميري محبت کي يہي خوشبو تمہاري اور تمہارے لفظوں کي پہچان بن جائے گي۔ميري جان ! ميں تمہاے وجود کو اپني محبت کے آميزے ميں گوندھ کر تمہيں محبت کي مورت بناتا چاہتا ہوں کہ تمہيں چھو کر ہوا گزرے تو ہر طرف گل و گلزار بن کر تمہارا لمس مہکنے لگے۔ ميں تمہارا ہاتھ پکڑ کر سرديوں کي شاموں ميں خشک پتوں پر گھومنا چاہتا ہوں۔کبھي بھيگي گھاس پر ننگے پاؤں تمہارے ساتھ ٹہلنا چاہتا ہوں۔کسي شبنم کے قطرے پر سورج کي پہلي کرن پڑنے سے پہلے ہي ہتھيلي ميں رکھ کر تمہارے لبوں سے لگانا چاہتا ہوں۔بہار کا پہلا گُل تمہارے بالوں ميں سجا کر تمہيں گُل سے حسين کہنا چاہتا ہوں۔ساون کي پہلي بارش، کوئل کي پہلي کوک ،ہر صبح کي پہلي کرن، چودہويں کے چاند کي چاندني کي ٹھنڈک سميت ہر خوبصورت احساس تمہارے سنگ جينا چاہتا ہوں۔

ميں چاہتا ہوں کہ ميرے ہونے سے تيري آنکھوں سے گرنے والے موتي قيد ہو جائيں۔آنسو اپنا رستہ بھول جائيں۔ميں تم کو، صرف تُم رکھنا چاہتا ہوں۔يوں ہي بونگي، چلبلي، بيوقوف بہت زيادہ بولنے والي، ليکن ميں تم کو دنيا کے ليے قابل قبول بنانا چاہتا ہوں۔ميں دنيا کے سامنے تمہاري ہنسي کو قابو کر کے مسکراہٹ ميں بدل کر اکيلے ميں تمہارے ساتھ مل کر قہقہے لگانا چاہتا ہوں۔

ميں تمہارے گالوں پر ميرے کيے گئے محبت کے ہر اظہار سے بدلتے رنگ ديکھنا چاہتا ہوں۔ميں چاہتا ہوں کہ تم کو محبت کے تمام رنگ دکھاؤں۔ميں تم کو ٹھہرانا چاہتا ہوں۔ تمہارے غصے کو اپنے اطمينان سے ہرانا چاہتا ہوں۔اپني ذات کي ساري محبت تم پر لٹا دينا چاہتا ہوں۔ليکن ہميشہ تمہارے سامنے خود ہارنا چاہتا ہوں۔ميں تم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ميں تم کو جيتنے کي خواہش نہيں رکھتا۔ہاں تم مل جاؤ يہ ميرے وجود کي خواہش ضرور ہے۔وجود کہ جس کو ميں نے عقل کے دربان کے ہاتھوں قيدي بنايا ہوا ہے۔محبت کيا ہے مجھے پتہ نہيں ہے ليکن تم محبت ہو تم محبت ہو اور بس تم ہي محبت ہو۔

اُس وقت اس لمحے الفاظوں کا يہ خوبصورت سحر انگيز جال ميرے وجود سے کچھ طرح لپٹا کہ ميں بولنے کي سکت رکھتے ہوئے بھي کچھ کہہ نہ سکي۔ميں کيسے اتنے حسين الفاظوں کے اثر کو اپني آواز سے زائل کرتي۔ميرے لرزتے ہونٹ خاموش تھے مگر ميري آنکھوں ميں لرزتے پاني کي بونديں گال سے ہوتے ہوئے تمہارے ہاتھوں پر تھيں، جنہيں ميں نے مضبوطي سے تھام رکھا تھا۔ کاش اس وقت يہ بونديں ہي تمہيں ميرے اقرار کا بتا ديتيں۔ کاش يہ بوندوں کي تپش تمہيں ميري محبت کي شدت کا احساس دلا ديتيں۔کاش ميري خاموشي سے بےزاري محسوس نہ کرتے اور سمجھ جاتے کہ تمہارے اظہار کے آگے احتراماً اپني ذات کو خاموش کيے بيٹھي ہوں۔

مگر اے جانِ جاں۔ آج سنو ! ميں اپني حسرتوں سے تمہارے قدموں کو دھو کر ميري محبت کا تاج پہنانا چاہتي تھي،اور اپني نگاہوں سے تمہارے گرد حصار باندھ لينا چاہتي تھي۔ حتّي کہ اپنے الفاظوں کا سرمايہ تمہارے نام کر کے خود کو بے جان کر دينا چاہتي تھي کہ يہي الفاظ ہي تو ميرے جسم ميں جان ڈالتے ہيں۔ميں تمہيں کبھي يقين نہيں دلا سکي۔ مگر ہاں مجھے يقين ہے ميرے شعور کي ہر حد سے پار اور لا شعور کي ہر منزل سے دور کہيں نہ کہيں تُم مجھ سے ميري خاموشي پر بہت خفا ہو۔ ميں اب اگر يقين دلانے کي سعي کر لوں تو بھي تمہاري سوچوں تک رسائي ممکن نہيں۔ميرا وجود ميري ذات ميري سوچ ميري فکر ميرا سب کچھ آج بھي کسي بچے کي مانند کم عمر ,پاک اور معصوم ہي ہے اور اس وجود ميں شامل صرف اور صرف تم ہي ہو۔

ميري جان!مجھے آج بھي محبت کا دعويٰ نہيں ہے کہ دعوے اکثر کھوکھلے لوگ کرتے ہيں۔ميں دنيا سے لڑ کر بغاوت کر کے تمہيں حاصل کرنے کي تمنا بھي نہيں رکھتي کہ بغاوت کرنے والے محبت کا سبق جانتے ہي نہيں۔مجھے محبت کا انتہائي شدت سے اقرار بھي نہيں کہ اقرار اکثر بے قرار رکھتے ہيں اور تم ميري بے قراري نہيں بلکہ ميرا سکون ہو۔ميں زمانے ميں تم کو اپنا بنا کر نہيں بلکہ تمہاري بن کر جينے کي خواہش آج بھي رکھتي ہوں۔مجھے تمہيں اپنے رنگ ميں رنگنے کي خواہش نہيں بلکہ ميں دنيا کے تمام رنگ تياگ کر صرف اور صرف اس ايک رنگ ميں رنگي جانا چاہتي ہوں۔جو تمہارا رنگ ہے خواہ وہ گلاب سا سرخ ہو يا چاندني سا روشن يا پھر کسي بہتے پاني سا شفاف حتّي کہ کسي سياہ رات سا سياہ ہي کيوں نہ ہو، پھر بھي اس رنگ کو اوڑھ کر تم سا بننا چاہتي ہوں۔ مجھے محبت کي زيادہ طلب نہيں، ہاں تھوڑي سي محبت، تمہاري تھوڑي سي ہنسي ، تھوڑي سي تمہاري شرارت اور تھوڑي سي ہي تمہاري پيار کي نظر ميرے تھوڑے سے وجود کو سراپاء محبت بنا سکتي ہے۔

اے ميري جان! ميں زمانے ميں کوئي دنياوي اونچا مقام نہيں بلکہ تمہاري نظر ميں ہلکي سي عزت احترام اور محبت ديکھ کر خود کو زمانے سے معتبر سمجھنے کي خواہش مند آج بھي ہوں۔مجھے دنيا کے ساتھ قہقہے نہيں لگانے تھے، بلکہ تمہارے ساتھ ہلکي سي ہنسي چاہئے۔ مجھے زمانے کي تيزي کے ساتھ رفتار تيز کرنے کي خواہش نہيں بلکہ تمہارا ہاتھ پکڑ کر آہستہ آہستہ ننگے پاؤں چلنے کي حسرت ہے۔

ميري جان! ميں تم سے ملنے کي خواہش رکھتي تھي مگر قدرت کا فيصلہ اگر اسکے برعکس آجاتا تو ميري دعا تھي کہ ميرے دل کي دھڑکن تمہارے دل ميں شامل ہو جاتي۔ميري آنکھوں کا نور تمہاري آنکھوں ميں اتر جاتا۔ميرےلبوں کي ہنسي تمہارے ہونٹوں پر سج جاتي اور کچھ اس طرح سے ميں تم ميں گُھل مِل جاتي کہ کوئي تمہيں ديکھنا چاہتا تو “ميں” نظر آ جاتي اور کوئي مجھے ديکھنا چاہتا تو “تم نظر آ جاتے۔اور کوئي محبت ديکھنا چاہتا تو “ہم” نظر آ جاتے۔اور آج بھي ميں بس اتني سي خواہش رکھتي ہوں۔

سنو! يہ قدرت کے فيصلے کچھ بھي ہو سکتے تھے۔مگر تمہارا فيصلہ مجھے ناگوارگزرا۔ تمہاري بدگماني ميرے وجود کو ريزہ ريزہ کر گئي۔ ميں تو کسي فيصلے کي گھڑي آنے سے پہلے تمہارے ساتھ ميسر گھڑيوں کو سوچ کے طوفانوں ميں ڈبو کر برباد کرنا نہيں چاہتي تھي۔بلکہ ميري زندگي ميں جتنے تم ميسر تھے ميں اس کو جينا چاہتي تھي۔ميں تمہيں “تم” ميں جينا چاہتي تھي۔ميں تمہيں “خود” ميں جينا چاہتي تھي۔اور ہاں! ميں خود کو بھي “تم” ميں جينا چاہتي تھي اور آج بھي اتني سي ہي خواہش لئے بيٹھي ہوں۔

قدرت جو فيصلہ کرتي وہ بہت بعد کي بات تھا مگر جانِ جاں ميں تمہارے ساتھ ميسر لمحات کو کسي غير يقيني سوچ اور کيفيت کي نظر نہيں کرنا چاہتي تھي اور تم نے اس کے برعکس ہر فيصلہ اکيلے کيا۔اور ہجر و وصال کے دونوں موسموں ميں تم نے ہمارے لئے ہجر کے موسم کو چُن ليا۔مگر ميں ہجر کے موسم ميں ياد کے درخت پر اُگے اذيت کے پھل کو اکٹھا کر کے اب تھک سي گئي ہوں۔۔

ميں تمہيں بتانا چاہتي ہوں وہ جو کبھي ميں کہہ نہ سکي اور وہ جو نہ سننے کا تمہيں ہميشہ ملال رہا۔۔ميرا اظہار نہ کرنا تمہاري محبت کو رفتہ رفتہ خاموش کرتا گيا۔

مگر سنو ! ميں اب بھي لمحہ لمحہ تمہارے ساتھ جينا چاہتي ہوں۔ميں تمہاري سانسوں کے ساتھ سانس لينا چاہتي ہوں۔اپني دھڑکن کو تم سے جوڑنا چاہتي ہوں۔ميں تمہارا خيال رکھ کر خود کا خيال رکھنا چاہتي ہوں۔ميں تم سے بات کر کے خود سے بات کرنا چاہتي ہوں۔ميں تمہيں سن کر خود کو سننا چاہتي ہوں۔ ميں تمہيں ديکھ کر خود کو ديکھنا چاہتي ہوں۔تمہارے ساتھ يہ لمحات، تمہاري موجودگي اور يہ ميري موجودگي تمہاري زندگي ميں يہ سب کچھ کسي مستقبل کي پريشاني کي نذر نہيں کرنا چاہتي۔ميں آج ميں جينا چاہتي ہوں۔اس آج ميں جہاں تم لوٹ آؤ۔ جہاں پھر سے” تُم” جہاں پھر سے “ميں” ہوں اور جہاں پھر سے ” ہم” ہوں۔اور جہاں ميں تم سے آج کہہ ڈالوں “مجھے تم سے محبت” ہے اور جہاں تم پھر سے کہتے رہو “ميري زندگي ميں زندگي صرف تمہاري وجہ سے ہے‘‘۔

ميري جان!ہاں ميں ہجر کي اذيت اور کرب نہيں بلکہ تمہيں لمحہ لمحہ جينا چاہتي ہوں۔پل پل سننا چاہتي ہوں۔گھڑي گھڑي محبت کا اظہار کرنا چاہتي ہوں۔اور ہر پل محبت کا اظہار تمہارے ہونٹوں سے سننا چاہتي ہوں۔ميں خودکلامي کي اذيت کا ہر لفظ محبت کي خوشبو سے معطر کرنا چاہتي ہوں۔۔کہ يہ لمحات ميري زندگي کا اثاثہ ہيں۔اور يہي لمحات مستقبل ميں کبھي ساتھ بيٹھ کر بڑھاپے ميں ايک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کھلے آسمان کے نيچے ايک ہي کپ ميں چائے پيتے ہوئے ہميں خوشي مہيا کريں گے۔اور ميں تب بھي تم سے کہنا چاہتي ہوں اور آج بھي تم سے کہتي ہوں۔

“سنو! ” مجھے تم سے محبت ہے