//ماں کی تربیت اور میڈیا کا کردار

ماں کی تربیت اور میڈیا کا کردار

تحریر کرن وقار

ماں کي گود کو اولاد کي پہلي درسگاہ اس لئے کہا گيا ہے کہ اولاد کي تربيت ميں ماں کو ايک خاص مقام حاصل ہے۔ وہ نيک اور پاکيزہ سيرت مائيں ہي ہيں، جنھوں نے ملت اسلاميہ کو عظيم مصلحين، علماء و فضلاء اور اولياء کرام سے نوازا۔ جن کي علمي، اصلاحي اور دعوتي جدوجہد نے مختلف ادوار ميں ملت اسلاميہ کو بحر ظلمات سے نکال کر صراط مستقيم پر گامزن فرمايا

کيا اب والدين کے پاس اپنے بچوں کي تربيت کے لئے وقت نہيں رہا؟ کيا يہ ميڈيا کے برے اثرات ہيں؟ يہ حقيقت ہے کہ وقت کي تيز رفتاري نے انساني زندگي کو متاثر کيا ہے مہنگائي دن بدن بڑھ رہي ہے جس کي وجہ سے روزمرہ کي ضروريات زندگي کي چيزيں فيملي کو مہيا کرنا اب فرد واحد کے بس کي بات نہيں والدين بچوں کي تربيت کرنے ميں اس ليئے بھي ناکام ہيں کہ آج گھر گھر کيبل اور انٹرنيٹ ہے۔

اور بچے ان سب چيزوں کے ہوتے ہوئے کمپيوٹر اور ريموٹ کنٹرول بچے ہيں کيونکہ پلک جھپکتے ہي ہر چيز ان کے سامنے ہوتي ہے ان بچوں کي تربيت کے لئے ماں کو ان سے کہيں زيادہ علم و شعور ہونا چاہئے ان پڑھ ماں کبھي بھي آج کے بچے کے مسائل نہيں سمجھ سکتي -آج کا بچہ گھريلو، سيدھا سادہ اور معصوم بچہ نہيں ہے بلکہ وہ شعور اور آگہي سے مکمل ہے پراني چيزوں کي طرف ديکھنا بھي پسند نہيں کرتا بلکہ نت نئي اچھي سے اچھي ايجادات اور حيران کر دينے والي چيزوں کو پسند کرتا ہے آج کے بچے کے معيارات بدل چکے ہيں اس کے مطالبات پہلے زمانے کے بچوں سے کہيں مختلف ہيں۔

ايسے ميں اس کي تربيت کے لئے سکول اور گھر کا ماحول ايک جيسا ہونا ضروري ہے۔ہمارے والدين اس ليئے بھي شايد ناکام ہيں کہ وہ اپنے گھروں ميں بچوں کو کچھ سکھاتے ہيں جبکہ سکولوں ميں جا کر بچے کو سيکھنے کو کچھ اور ملتا ہے يہ شايد ہمارے دوہرے معيار کا ہي قصور ہے۔آج کي ماں کو خود بھي سمجھ نہيں آرہي کہ اسے بچے کو کيسے ايک سمت پر لانا ہے آج کے والدين اگر بچوں کي اچھي تربيت چاہ رہے ہيں تو انہيں چاہيئے کہ وہ سب سے پہلے بچے کے لئے تعين کيئے گئے دوہرے معيار کو ختم کر ديں۔

بلا وجہ ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک سے پرہيز کريں کيونکہ بلا وجہ کي ڈانٹ ڈپٹ بھي رويوں پر منفي اثرات مرتب کرتي ہے۔

جس سے بچہ متاثر ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے والدين کو زچ کرنے کے لئے بھي وہ کام جان بوجھ کر کرتا ہے جس سے اسے منع کيا جاتا ہے۔ہمارے ہاں ويسے بھي دو قسم کے والدين موجود ہيں ايک والدين وہ جو بچوں سے حد سے زيادہ پيار کرتے ہيں اور دوسرے وہ جو بہت زيادہ ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہيں ايسے والدين کي تعداد آٹے ميں نمک کے برابر ہے جن کے بچوں کے رويوں ميں توازن موجود نہيں والدين کو چاہيئے کہ وہ اچھي طرح سوچيں کہ بچے کي کيسے اور کس طرح تربيت کرني چاہيے پھر ہو سکتا ہے کہ وہ بچوں کي نفسيات کو سمجھتے ہوئے بہترين تربيت کر سکيں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کي زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اور ادا کيا ہوا ہر عمل آپ کي تربيت کي عکاسي کرتا ہے۔

صرف تعليم حاصل کر کے ہي کوئي ذي روح باشعور نہيں بن سکتا بلکہ تعليم کے ساتھ ساتھ تربيت بھي اتني ہي اہم ہے يعني تعليم و تربيت لازم و ملزوم ہيں جب تک علم و آگاہي کے ساتھ آپ کے پاس زندگي گزارنے کے اصول، ضابطے اور آداب نہيں ہونگے، صرف آگاہي کچھ نہيں کر سکتي بلکہ اس آگاہي اور علم کا زندگي پر اطلاق ہي اصل تربيت ہے اور يہ ماں کا کام ہے کہ بچپن سے ہي بچوں ميں ايسے اطوار پيدا کرے کہ عملي زندگي ميں ان کے کردار کي پختگي معاشرے ميں ان کا وقار قائم کر سکے۔ بغير تربيت کے علم کي مثال ايسي ہے جيسے کسي جسم سے روح نکال لي جائے تو پيچھے ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔

ہم کسي بھي دور کي عظيم شخصيات مثلاً محمد بن قاسم، صلاح الدين ايوبي اور مولانا محمد علي جوہر،وغيرہ وغيرہ پر نظر ڈاليں تو ان کے پيچھے ان کي والدہ کي تربيت کا ہاتھ نظر آئے گا۔تاريخ واضح کرتي ہے کہ جب محمد بن قاسم ہندوستان کے علاقے فتح کرنے کے ليے نکلا تو اس کي ماں کے الفاظ تھے ”ميں نے تجھے پيدا ہي اس لئے کيا تھا کہ تو اسلام کي راہ ميں جہاد کرے اور ان علاقوں کو فتح کرے ” بلا شبہ اتني کم عمري ميں اس کي بلند پايہ فتوحات ميں ماں کي تربيت کا بہت بڑا ہاتھ تھا

يہ درست ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمانے کي اقدار بدل گئي ہيں ليکن انسان تو وہي ہے زمانہ بہت تيز ہو گيا ہے وقت کي کمي کے باعث زندگي مصروف ترين ہو گئي ہے ماؤں کي تربيت ميں بنيادي وجہ جاب کرنے والي ماؤں کے پاس وقت کي کمي ہے۔نيٹ کلچر نے بچوں کو ماؤں سے دور کر ديا ہے اب بچہ جو سيکھتا ہے ٹي وي اور ميڈيا سے ہي سيکھتا ہے بچوں کے پروگرام، کارٹون نيٹ ورک پر چلنے والي کہانيوں نے بچوں کو بہت ايڈوانس کر ديا ہے اب بچوں کو داستان الف ليليٰ کے زمانے گزر گئے ہيں اور اگر کہا جائے کہ سمجھداري کے معاملے ميں بچے پري ميچور ہو گئے ہيں تو غلط نہ ہوگا۔

کيونکہ بچے کيبل پرصرف کارٹون نيٹ ورک ہي نہيں ديکھتے بلکہ انگلش اور انڈين موويز ديکھنے کي بھي کمي نہيں۔بہت کم ہيں جو اسلامک چينل، قرآن پاک اور معلوماتي چينلز ديکھتے ہيں ان اليکٹرانک چينلز سے ہر قسم کي معلومات اور تفريح پيش کي جاتي ہے وہ يہ محسوس نہيں کرتے کہ يہ بچوں نے ديکھنا ہے اور يہ بڑوں نے، بلکہ يہ ماؤں کا کام ہے کہ وہ بچوں کے ليئے اچھے برے کي تميز پيدا کريں ليکن ماؤں کے پاس تو وقت ہي نہيں!جب ماں کي گود کي جگہ ٹي وي چينلز لے ليں تو ماں کا تربيت ميں کيا کردار۔۔۔۔

دوسري طرف اگر ميڈيا کي بات کي جاے تو ميڈيا معاشرے کو بگاڑ رہا ہے

نوجوان کسي بھي ملک کا قيمتي سرمايہ ہوتے ہيں، ملک کے مستقبل کي باگ ڈور آگے چل کر نوجوان نسل کو ہي سنبھالنا ہوتي ہے۔ ہماري نوجوان نسل ذہني اعتبار سے بے شمار صلاحيتوں کے مالک ہيں۔ يہ نہ صرف وسيع ذہن رکھتے ہيں بلکہ اپني تخليقي صلاحيتوں کي بدولت معاشرے ميں مثبت تبديلي لاسکتے ہيں۔ زيرنظر مضمون ميں اس بات کا احاطہ کيا جائے گاکہ ميڈيا ہمارے طلبہ پر کيا اثرات مرتب کررہا ہے، ان کي زندگيوں ميں کيا تبديلياں پيدا کررہا ہے۔ ٹي۔وي کے ڈرامے ہماري نسل کو کيا سبق دے رہے۔ طلاق ہو يا دوسري شادي سالي کا بہنوئي سے ناجائز رشتہ ہو يا بہنوئي کا سالي پر ڈورے ڈالنا يہ سب ٹي۔وي پر دکھا کر کيا ثابت کيا جاتا۔ اسکے ذريعے کيسے ہماري اخلاقي اقدار تباہ ہورہي ہيں اور ہماري نوجوان نسل کس طرح روز بروز اپني تہذيب و روايات سے دور ہوتي جارہي ہے۔  اس موضوع پر بات کرنے کا مقصد يہ بھي ہے کہ معاشرے ميں ميڈيا کے بڑھتے ہوئے منفي رجحان سے متعلق لوگوں ميں آگاہي پيدا کي جائے، اس کے منفي اثرات کو روکنے کے ليے اقدامات کيے جائيں، اور نوجوان نسل اور بچوں کو اس کے منفي اثر سے بچايا جائے۔