//مامتا

مامتا

تحریر قدسیہ عالم فرانس

راحت نےپر اميد نظروں سے ليڈي ڈاکٹر کے کمرے کے بند دروازے کو ديکھتے ہوئے بے چيني سے پہلو بدلا ۔ اس کےدائيں ہاتھ بيٹھي ہوئي عورت  اپنے دو ڈھائي سالہ بچے کو بيگ سے کچھ کھانے کو نکال کردے رہي تھي اور بڑي محبت سے اسے بہلا رہي تھي دوسري طرف ايک اور نوجوان جوڑا چہروں پر خوشگوار مسکراہٹ لئے مستقبل کے حسين سپنے بُن رہا تھا کوئي کوئي جملہ اس کے کانوں ميں پڑ رہا تھا۔زرا سا دور ايک اور عورت مطمئن سي بيٹھي تھي ۔۔اس منظر سے نظريں ہٹا کر اس نے کھڑکي سے باہر سرو کے اونچے مگر بے ثمر درخت کو ديکھا جو اسے اپني طرح ہي لگا  اس نے بے چين ہو کرڈاکٹر کے کمرے کے  دروازے پر نظريں کسي اميد کے بار آور ہونے کي آس کے ساتھ ٹکا ديں ۔اچانک نرس کي آواز اس کے کانوں ميں پڑي وہ اپنا بيگ سنبھالتے ہوئے اٹھي ڈاکٹر کے سامنے جا کر بيٹھي اور اپني  فائل ڈاکٹر کے سامنے رکھ کر ملتجي نظروں سے ڈاکٹر کو ديکھنے لگي۔۔ جيسے اس کے غم کو مداوا اوراس کي بيقراري کو قرار کي نويد آج يہيں سے ملنے والي ہے۔اجلے سفيد اوورآل ميں ملبوس شفيق ڈاکٹر نے اس کي ساري رپورٹس ديکھيں اور کہا يہ کچھ طاقت کي دوائيں لکھ رہي ہوں يہ استعمال کريں اور خوش رہنے کي کوشش کريں ۔ دماغ پر کسي چيز کو سوار نہ کريں اور صبر کے ساتھ انتظار کريں ۔ليکن ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔۔۔

ميں نے کہا نہ بي بي آپ کي سب رپورٹس بالکل نارمل ہيں آپ کو کسي علاج کي ضرورت نہيں ۔ اللہ سے دعا کريں بس ۔۔ ۔بوجھل قدموں کےساتھ وہ گھر پہنچي ۔ ۔صحن ميں بيٹھے سکول کا کام کرتے بچوں پر نظر ڈالي اور کمرے ميں چلي گئي جہاں ابھي ابھي اس کا شوہر طارق کام سے آيا تھا ۔اور اس کے سامنے جاتے ہي جيسے اس کے صبر کا بندھن ٹوٹ گيا اور وہ بلک کر رو پڑي ۔ اور کہا ڈاکٹر کہتي ہے تمہاري سب رپورٹيں ٹھيک ہيں تم بس انتظار کرو ۔ طارق اس منظر اس کيفيت کو پچھلے کئي سالوں سے سہہ رہا تھا ۔ہر بار وہ بھي دل ہي دل ميں اميد کے پھولوں کے رنگ چھونے کا انتظار کرتا پھر صبر کے بہلاوے کي سل سينے پر رکھ انتظار کي اذيت کے کانٹے چن کر رہ جاتا۔

طارق اس کے ساتھ مل کر اپنے اور اس کےسب ٹيسٹ وغيرہ کروا چکا تھا اور جانتا تھا کہ ہر نيا ڈاکٹر يہي کہتا ہے کہ صبر کے ساتھ انتظار کرو اس لئے آج بھي وہ بس تسلي دے کر رہ گيا ۔

راحت کے ساس سسر کا پچھلےسال روڈ ايکسيڈنٹ ميں انتقال ہو گيا تھا ۔۔۔ اور طارق سے چھوٹے تين بہن بھائيوں اورکاروبار کي ساري زمہ داري طارق پر آگئي ۔ خدا کي قدرت طارق اور چھوٹے بہن بھائيوں ميں بارہ سال کا وقفہ تھا ۔ ۔ کاروبار تو شوہر نے سنبھال ليا ليکن بچے گھر ميں موجود پراني ماما کے حوالے ہو گئے تھے ۔۔ ردا اس کي نند صرف سات سال کي تھي جبکہ جڑواں ديور دس سال کي عمر کے تھے ۔۔اس کے گھر کا ماحول بظاہر بہت پرسکون تھا بچے سلجھے ہوئے تھے اور حتي الوسع کوشش کرتے کہ بھابھي کو پريشان نہ کريں … اسے ان بچوں سے کوئي مسئلہ نہ تھا … وہ بس اپني ذات ميں الجھي الجھي رہتي اپنے بچے نہ ہونے کي وجہ سے اسے کوئي خوشي خوشي نہ لگتي ۔۔ابھي اندر آتے ہوئے تينوں بچے اسے صحن ميں نظر آئے تھے  پر وہ پاس سے گزر کر اپنے کمرے ميں چلي گئي تھي ۔  اور اب بلک بلک کر روتے ہوئے سوچ رہي تھي کہ خداياکب تک صبر کروں ؟ميرے دامن دل سے لپٹي يہ خواہش کب پوري ہوگي ؟ميري آنکھوں ميں بسا يہ حسين منظر کہ  ايک پيارا سا بچہ ميري گود ميں ہوکب حقيقت کا روپ دھارےگا ؟ کب ميرے خدا کب ؟اس کا جواب کسي کے پاس نہ تھا …

اس کي خالہ ساس بچوں کي خيريت دريافت کرنے اکثر آيا کرتيں ۔۔ اس دن بھي وہ آئيں لڑکوں کو لاڈ پيار کيا ردا کو کافي دير ساتھ لگائے رکھا وہ انہيں کچھ کمزور اور چپ چپ سي لگي ۔ وہ ردا کے بےرونق چہرے اور کياري ميں لگے مرجھائے پودوں کو ديکھ رہي تھيں ۔اتنے ميں راحت چائے بنا لائي ۔ ليں خالہ چائے پيئں خالہ نے ہاتھ بڑھا کر چائےکا کپ پکڑا ۔۔ ردا خالہ کے لائے کھلونے سنبھالنے چلي گئي ۔۔خالہ نے حال پوچھا اس نےخالي نظروں سے انہيں ديکھااپني خالي گود کو ديکھا نظريں جھکا ليں اور سرد آہ بھر کر چپ رہي۔۔ خالہ بن کہے سمجھ گئيں ۔۔  پھر وہ دھيرے سے بوليں راحت !!ہم جس خوشي کي تلاش ميں ہوتے ہيں وہ ايک حسين منظر کا روپ دھار کر ہماري نظروں ميں بس جاتي ہے اور اس منظر سے پرےکوئي اور منظرچاہے کتنا ہي دلفريب کيوں نہ ہو ہماري توجہ کا مرکز نہيں بن پاتا۔۔  کيونکہ ہميں پھر اور کچھ دکھتا ہي نہيں ۔۔۔ گھر کا آنگن پھولوں سے بھرا ہوتا ہے ليکن ہميں بس ہماري مرضي کا پھول چاہئے ہوتا ہے ۔ اس پھول کي تلاش ميں ہماري بے توجہي سے گھر آنگن ميں مہکتے پھول بےشک کمھلا جائيں ہميں تو بس ہماري مرضي پوري کرني ہوتي ہے اپني خواہش کي تکميل چاہئے ہوتي ہے بس۔

ان کے لہجےميں بولتے کرب اور دکھ کو محسوس کر کےراحت کو جھرجھري آگئي اورشايد يہ وہي لمحہ تھا جب کوئي بےچين دل محض اپني قوت ارادي سے سکون کي راہ اختيار کرنے پر آمادہ ہوتا ہے ۔۔وہ سمجھ گئي تھي کہ خالہ بچوں کے ساتھ اس کےسردمہر رويےکي وجہ سے دکھي ہيں ۔خالہ بہت جہانديدہ اور بردبار تھيں وہ نرمي سے اس سے بات کرتي رہيں ۔۔۔ اس نے دل ہي دل ميں کچھ ارادہ کيا اور کہا خالہ آپ کو آئندہ مجھ سے شکايت نہ ہوگي ۔۔آہستہ آہستہ اس نے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا شروع کيا اور ان کے کاموں  کو اپني زمہ داري سمجھنا شروع کر ديا اوراپني آنکھوں ميں بسے اپني پسند کے منظر کي اوٹ سے دنيا کےحسين رنگ ديکھنے شروع کر ڈالے۔۔۔پھر اسے ردا اور دونوں ديوروں کے چھوٹے موٹے کام کر نا اچھا لگنےلگا اور اسے کيا چاہئے تھا۔ اور اس کي تڑپتي ممتا کو جيسے چين آنے لگا ۔ وقت گزرتا رہا ۔۔دونوں ديوروں کو پڑھا لکھا کر بياہا ردا کو اپنے بھائي کے ساتھ منسوب کر ديا اورسب کي نظروں ميں سرخرو ہو گئي ۔۔ راحت صحيح معنوں ميں سب ہي کے لئے باعث راحت بن کر جي رہي تھي …ايک خاص بات يہ کہ جب راحت نے اپنا دل ان بن ماں باپ کے بچوں کے ساتھ لگايا اور اپني خواہش کو بھولنے ميں نہيں پر دبانے ميں کامياب ہوگئي تو اس پا ک ذات نے بھي مہرباني کرنے ميں بہت دير نہيں کي  ۔۔ کچھ عرصہ کے بعد اللہ نے آگے پيچھے اسے تين بچوں سے نوازا اس کي گود خالي نہ رہي وہ حسين منظر حقيقت بن ہي گيا۔