//لے سانس بھی آہستہ کہ

لے سانس بھی آہستہ کہ

۔ تحریر قدسیہ عالم فرانس

کرسٹل شاپ میں مجھے کام کرتے ہوئے اس دن تیسرا ہفتہ تھا۔

”لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام” کیا ہوتا ہے اس کا اندازہ مجھے یہاں آکر ہوا تھا، بیش قیمت کرسٹل کے ڈیکوریشن پیسز جابجا سجے ہوئے تھے… شام کو دکان کی صفائی کرنا اور دن کو گاہکوں کو ڈیل کرنا میرا کام تھا۔

کرسٹل، شیشہ کیا چیز ہے ٹوٹ گیا تو جڑ نہیں پاتا جڑ بھی جائے تو بدنما داغ رہ جاتا ہے اصل جیسا ہو ہی نہیں سکتا… دل توڑنا بھی ایسا ہے، زرا سی بے احتیاطی کی زرا سا لاپروائی کی زبان کی ہلکی سی جنبش سے چند تیر جیسے الفاظ ادا کیئے اور کسی کا دل ٹکڑے ٹکڑے کرچی کرچی کر دیا۔

میں بہت احتیاط سے کام کر رہاتھا نواں دن تھا جب ایک خاتون نے مجھے ایک ڈیکوریشن پیس اٹھا کر دکھایا اور میرے پکڑنے سے پہلے ہی چھوڑدیا، ،،چشم زدن میں ماربل فلور پر قیمتی پیس کے ٹکڑے بکھرے تھے اور میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔

دکان کے پچھلے حصہ سے مالک ایکدم نکل کر آگیا وہ سر میں یہ پکڑ ہی رہاتھاپر میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اس نے خشمگیں نگاہوں سے مجھے دیکھا اور کہااحتیاط سے کام لو تو بہتر ہو گا… جانتے ہو کتنی محنت درکار ہوتی ہے ایسا ایک پیس بنانے میں ؟؟اور کسقدر قیمتی ہوتاہے یہ ؟؟؟آئندہ ایسا نہ ہو ورنہ کام سے چھٹی۔

میری سانس کچھ بحال ہوئی… جھک کر جگہ صاف کرنے لگا۔ وہ خاتون اوہ معاف کیجئے گا کہتی دکان سے نکل گئی… شدید غصہ آیا مجھے اس پر۔ اب میں تو کام احتیاط سے ہی کرتا تھا گاہکوں کو بھی گاہے بگاہے کہہ دیتا میڈم زرا دیکھ کر، سر پلیز احتیاط سے۔ کبھی گاہک منہ بنا لیتےکبھی سمجھ جاتے بہر حال سال ہونے کو آیا تھا اوردوبارہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہوامیں شکر کرتا کیونکہ ان میں سے چھوٹا سا ایک پیس بھی میرے پورے مہینے کی تنخواہ کے برابر تھا …اففف …۔

اس دن دکان میں رش تھا۔ گزری شام صفائی کرتے ہوئے ایک بہت قیمتی پیس میرے ہاتھ سے بس سلپ ہوتے ہوتے بچا تھا مجھے لگا میرا دل رک گیا ہو میں اپنے حالات کی وجہ سے اس نوکری سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتا تھا۔ خیر ہو گئی تھی جو میں نے پیس مضبوطی سے پکڑ لیا۔

صبح کام شروع کرتے ہوئے مجھے یہ بات یاد تھی۔ آج احتیاط سے کام کرنا میں نے خود کو سمجھایا گاہک آ جا رہے تھے۔ اسوقت دکان میں رش کم تھا ایک نوجوان لڑکی ایک شوکیس کے سامنے کھڑی کرسٹل کاایک گلدان اٹھا کر دیکھ رہی تھی۔ وہ اسطرح کھڑی تھی کہ اس کی ایک سائیڈ دکھائی دے رہی تھی اور مجھے لگاوہ ایک ہاتھ سے اس نہایت قیمتی گلدان کو اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں اسوقت ایک گاہک کا بل بنا رہا تھا پر اس لڑکی سے میری توجہ ہٹ نہیں رہی تھی مجھے لگا وہ گلدان اٹھاتے اٹھاتے گرا دے گی اگر اس نے دونوں ہاتھوں سے اسے نہ پکڑاوہ زرا بڑا تھا۔ میں نے جلدی جلدی بل بنایا سامان پیک کر کے گاہک کے حوالےکیا اور تقریباًدوڑتا ہوا اس کے پاس پہنچا اس کا دایاں ہاتھ گلدان کو چھو رہا تھا وہ اسے اٹھانے ہی والی تھی میں جا کر ترشی سے بولا “میڈم وہ ٹھٹھک کر وہیں رک گئی میں بولا یہ دیکھیں کیا لکھا ہے “کرسٹل نازک ہےاحتیاط سے دونوں ہاتھوں سے پکڑیں”… اس نے کرسٹل کے قیمتی گلدان پر دھرا اپنا ہاتھ اٹھالیا پوری طرح میری طرف مڑے بغیر انتہائی سرد نگاہوں سے مجھے دیکھا اورپوری طرح میری طرف مڑی… مجھے لگا دھماکہ ہوا اورکرسٹل شاپ کا ہر ڈیکوریشن پیس ٹوٹ گیا اس کا صرف ایک ہی بازو تھا۔