//لیڈی ریڈنگ

لیڈی ریڈنگ

وائسرائے کي بيمار اہليہ جنھوں نے پشاور ميں بڑے ہسپتال کي بنياد رکھي

وہ برطانيہ ميں اعليٰ مرتبہ تو رکھتي تھيں مگر کينسر جيسے موذي مرض ميں مبتلا تھيں۔ اس بيماري کے باوجود جب ان کے شوہر کي تقرري بطور وائسرائے ہندوستان ہوئي تو وہ برطانيہ سے ہندوستان آئيں اور پھر يہاں اپني انگنت ياديں چھوڑ گئيں۔

يہ خاتون ليڈي ريڈنگ تھيں جن کے نام سے منسوب ايک بڑا ہسپتال خيبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور ميں قائم ہے۔

ليڈي ريڈنگ کو اپني بيماري کي وجہ سے يہ احساس زيادہ تھا کہ بيماروں کو علاج معالجے کي کتني ضرورت ہوتي ہے اور شايد اسي ليے ہندوستان ميں ان کے فلاحي کاموں ميں ہسپتال بنوانا اور خواتين اور بچوں کے ليے فنڈز کا قيام نماياں کارنامے رہے ہيں۔

مورخين کے مطابق ليڈي ريڈنگ ہوں يا برطانوي دور کے ديگر وائسراؤں کي بيگمات، ان ميں بيشتر اس طرح کي فلاحي کاموں ميں حصہ ليتي تھيں۔

پشاور کي تاريخ پر نظر رکھے ڈاکٹر علي جان نے بي بي سي کو بتايا کہ ليڈي ريڈنگ کو يہ انفراديت حاصل رہي کہ وہ شديد بيماري کے باوجود ہندوستان کے دور دراز علاقوں کے سفر بھي کرتي رہيں اور وہاں ضروريات کے مطابق رفاہي کاموں پر بھي توجہ ديتي تھيں۔علي جان کے بقول شايد انھوں نے رفاہي کاموں ميں اس ليے بھي بڑھ چڑھ کر حصہ ليا کيونکہ وہ اپني بيماري کو بھولنے کے ليے مصروف رہنا چاہتي تھيں۔

پشاور کا سب سے بڑا ہسپتال ليڈي ريڈنگ انھوں نے ہي بنوايا تھا جہاں صوبے کے علاوہ پورے پاکستان سے مريض آتے ہيں۔ يہي ہسپتال ہے جہاں دہشت گردي کے خلاف جنگ کے دوران سيکڑوں بم دھماکوں کے زخميوں کو علاج فراہم کيا گيا۔

ليڈي ريڈنگ کون تھيں؟

ايلس ايڈتھ آئزکس (ليڈي ريڈنگ) ہندوستان کے وائسرائے روفس آئزکس کي پہلي اہليہ تھيں۔ وہ سنہ 1866 ميں لندن ميں پيدا ہوئيں تھيں اور وہ ريڈنگ کي پہلي ’مارشنيس‘ تھيں۔برطانوي دور ميں ان کے رفاہي کاموں کو مؤرخين نے انسان دوستي سے تعبير قرار ديا ہے۔ڈاکٹر علي جان بتاتے ہيں کہ ليڈي ريڈنگ نے برصغير ميں خواتين اور بچوں کے ليے عليحدہ عليحدہ فنڈز قائم کيے تھے اور ان فنڈز سے ضرورت مند خواتين اور بچوں کي فلاح کے ليے کام کيے جاتے تھے۔

اس کي مثال اس سے بھي لي جا سکتي ہے کہ ليڈي ريڈنگ ہسپتال کے قيام کے وقت اس کا ايک حصہ ’زنانہ ہسپتال‘ کہلاتا تھا جہاں صرف خواتين کا علاج کيا جاتا تھا جسے بعد ميں ’گائني وارڈ‘ ميں تبديل کر ديا گيا تھا۔

لارڈ روفس آئزکس سنہ 1921 سے سنہ 1926 تک ہندوستان ميں وائسرائے تعينات رہے اور اسي دوران ليڈي ريڈنگ بھي ان کے ہمراہ يہاں موجود رہيں۔ ليڈي ريڈنگ نے پشاور ميں ہسپتال کي تعمير کا کام سنہ 1924 ميں شروع کيا تھا۔

علي جان کے مطابق ليڈي ريڈنگ پشاور دورے پر آئيں تو انھوں نے محسوس کيا کہ اس علاقے ميں لوگوں کے علاج معالجے کي کوئي خاص سہوليات دستياب نہيں ہيں۔ سنہ 1924 ميں شروع ہونے والے اس ہسپتال کي تعمير کا کام سنہ 1927 ميں مکمل ہوا تھا۔

ليڈي ريڈنگ کو ہسپتال کے قيام کا خيال کيسے آيا؟

پشاور ميں ہسپتال کے قيام کے حوالے سے متضاد آرا پائي جاتي ہيں۔

ايک غير مصدقہ رائے تو يہ ہے کہ پشاور کے دورے کے دوران ليڈي ريڈنگ پشاور کے قلعہ بالاحصار ميں قيام پذير تھيں۔ وہ پشاور شہر کي سير گھوڑے پر بيٹھ کر کر رہي تھيں کہ اچانک اس سے گر گئي ۔ انھيں زحم آئے ليکن قريب کوئي ہسپتال نہيں تھا جس کے بعد انھوں نے يہاں ہسپتال قائم کرنے کا فيصلہ کيا تھا۔

اس بارے ميں ڈاکٹر علي جان نے بتايا کہ اس بات کي تصديق تاريخ سے نہيں ہوتي اور نا ہي اس بارے ميں کوئي شواہد دستياب ہيں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بيمار تھيں اور عام طور پر بھي ايسي خواتين فلاحي کاموں ميں حصہ ليتي رہتي ہيں اور يہ منصوبہ بھي ايک فلاحي منصوبہ تھا۔

چندہ مہم کي اپيل

ہسپتال کے قيام کا فيصلہ تو کر ديا گيا ليکن اس کے ليے فنڈز کي فراہمي ضروري تھي۔ اس مقصد کے ليے مخير افراد سے چندے کي اپيل کي گئي۔ ڈاکٹر علي جان کے بقول ايسے منصوبوں کے ليے اعلانات کيے جاتے تھے اور فنڈز کے ليے ميلے منعقد ہوتے تھے اور خطوظ لکھے جاتے تھے تاکہ فنڈز اکٹھے کيے جا سکيں۔

اس ہسپتال ميں ان چندہ دينے والے ايسے افراد جنھوں نے اس وقت يعني سنہ 1924 ميں 500 روپے سے زيادہ چندہ ديا تھا ان کے نام ڈونيشن بورڈ پر لکھے اور يہ بورڈ آج بھي ہسپتال کے اندر موجود ہے۔

اس بورڈ پر سرفہرست ليڈي ريڈنگ کا نام ہے جنھوں نے اس ہسپتال کے قيام کے ليے پچاس ہزار روپے ديے تھے۔ ڈاکٹر علي جان نے بتايا کہ اس منصوبے کے ليے درکار فنڈز کے ليے تمام مذاہب کے لوگوں مدد کي تھي جن ميں مسلمانوں کے علاوہ ہندؤ، عيسائي، يہودي، سکھ اور پارسي شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ يہ ہسپتال بين المذاہب ہم آہنگي کي ايک بڑي اچھي مثال ہے۔

ہسپتال کہاں بنايا جائے؟

ليڈي ريڈنگ نے ہسپتال قائم کرنے کا فيصلہ تو کر ليا تھا ليکن اس کا فيصلہ نہيں ہوا تھا کہ يہ ہسپتال کہاں بنے گا۔ پشاور ميں اس وقت چھاوني کے علاقے ميں فوجي ہسپتال موجود تھا ليکن وہاں عام شہريوں کو جانے ميں مشکلات کا سامنا رہتا تھا اس طرح ديگر صحت مراکز بھي شہر سے قدرے دور تھے۔

ليڈي ريڈنگ نے شہر کے اندر يعني لگ بھگ شہر کے وسط ميں ہي جگہ کا انتخاب کيا اور يہ ہسپتال قلہ بالا حصار، قصہ خواني بازار، آسامائي گيٹ، صرافہ بازار اور خيبر بازار کے بيچوں بيچ قائم کيا گيا۔

ڈاکٹر علي جان کے مطابق ماضي ميں چونکہ پشاور ايک بڑا تجارتي مرکز تھا جہاں افغانستان، وسط ايشيا اور ہندوستان سے تاجروں کے قافلے آتے تھے اور يہ قافلے ہاتھيوں اور اونٹوں کے ساتھ آتے تھے جن پر سامان لدا ہوتا تھا۔

جس مقام پر اب يہ ہسپتال قائم کيا گيا ہے يہاں ہاتھي اور اونٹ سامان اتارنے کے بعد باندھ ديے جاتے تھے۔ جس جگہ کا انتخاب کيا گيا ہے وہ شہريوں کے دسترس ميں تھي اور لوگ يہاں آساني سے پہنچ سکتے تھے۔

’لارڈ روفس کي کاميابي کے پيچھے بيوي کا ہاتھ‘

ليڈي ريڈنگ اپنے شوہر لارڈ روفس آئزکس کي پہلي بيوي تھيں اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہيں اور انھيں بہتر مشورے ديے۔ روفس آئزکس بنيادي طور بيرسٹر تھے ليکن وہ سٹاک بروکريج ميں بھي دلچسپي رکھتے تھے۔ ليڈي ريڈنگ نے انھيں قانون کے شعبہ منتخب کرنے کي تجويز دي اور اس ميں انھوں نے ترقي پائي جب وہ اٹارني جنرل اور پھر جج مقرر ہوئے۔

ليڈي ريڈنگ بھي اپنے شوہر کي ترقي کے ساتھ ساتھ ترقي کرتي رہيں۔ وہ مسز آئزکس سے ليڈي آئزکس بنيں جب سنہ 1910 ميں ان کے شوہر کو ان کي خدمات کے عوض ملکہ برطانيہ نے ’نائٹ ہوڈ‘ کا ايوارڈ ديا۔

اس کے بعد انھوں نے ’کاؤنٹس آف ريڈنگ‘ اور پھر سنہ 1917 ميں ’مارشنيس آف ريڈنگ‘ کا خطاب پايا تھا۔ ان کے يہ خطابات ان کے شوہر کي ترقي کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔

اگر اس بات کو درست مان ليا جائے کہ ہر کامياب مرد کے پيچھے ايک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے تو سر لارڈ روفس کي کاميابي کے پيچھے بھي ان کي پہلي بيوي کا ہاتھ رہا ہے جو ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑي رہي رہي ہيں۔

ابتدائي طور پر جب ملکہ برطانيہ نے لارڈ روفس آئزکس کو ہندوستان کا وائسرائے بنانے کا اعلان کيا تو وہ يہ عہدہ قبول کرنے سے ہچکچا رہے تھے کيونکہ ان کے ذہن ميں اپني اہليہ کا خيال تھا جو کافي بيمار تھيں اور وہ چاہتے تھے کہ وہ ليڈي ريڈنگ کے ساتھ برطانيہ ميں رہيں۔مگر ليڈي ريڈنگ نے اپنے شوہر کو يہ عہدہ قبول کرنے پر راضي کيا اور خود بھي ان کے ہمراہ ہندوستان چلي آئيں۔

يہ جوڑا سنہ 1921 سے سنہ 1926 تک يہاں رہا اور اس کے بعد واپس برطانيہ چلا گيا۔ لارڈ ريڈنگ نے واپسي پر کہا تھا کہ وہ برطانيہ واپس آ کر بہت خوش ہيں ليکن ان کا قيام ہندوستان ميں بھي اچھا رہا ہے۔

ليڈي ريڈنگ کي وفات سنہ 1930 ميں ہوئي تھي اور ان کي قبر لندن کے يہودي قبرستان ميں موجود ہے۔ ان کے قبر کے کتبے پر لکھا ہے ’ان کي ياديں ہميشہ زندہ رہيں گي۔‘