// لبوں پہ مسکان رکھنا

 لبوں پہ مسکان رکھنا

۔ تحریر فوزیہ منصور

مسکراہٹ واحد چیز ہے جو اپنے چہرے کو بھی حسین بناتی اور دیکھنے والی آنکھ کو بھی بھلی لگتی ہے۔آج افراتفری کے زمانے میں جہاں ہر انسان مختلف تفکرات میں گھرا ہے۔ الجھنوں کا شکار ہے۔ مسقبل کے بارے میں فکر مند ہے، روزی روٹی کے لالے پڑے ہیں۔ مہنگائی کے آگے سب بے بس ہیں۔ ایسے میں چہروں پر اذیت بھری لائینیں تو ہو سکتی ہیں پر مسکراہٹ نہیں۔بڑا ہی دل والا انسان ہو گا جو اپنی طرف بڑھتی ہوئی مشکلات کو دیکھ کر بھی چہرے پہ سکون اور شادابی قائم رکھے۔

آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ زندگی کے امتحانات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہماری سانسوں کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ کبھی کم کبھی زیادہ۔ مگر ایسا بھی نہیں کہ اچھے دن نہ آئیں۔ خوشیوں بھرے دن زندگی کا حصہ نہ بنے ہوں۔ پر صاحب یہ بھی حقیقت ہے کہ خوشیوں کے دن قلیل اور غم کے دن طویل لگتے ہیں۔ اچھے برے حالات ہر ایک کی زندگی میں آتے ہیں۔برے وقت کو ہنس کر گزار دینا بہت بڑا آرٹ ہے… اور ایسے افراد زخموں کو جلد بھرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ گو کے درد لمبا عرصہ قائم رہتا ہے۔ مگر گر کر جلد سنبھلنے کا حوصلہ آ جاتا ہے… اچھا وقت اگر گزر گیا تو پھر برا بھی گزر جائے گا۔ اس مقولے پر عمل کر کے خود کو مضبوط بنا کر مسکراتے ہوئے زندگی کی مشکلات کو آسانی سے عبور کیا جا سکتا ہے۔

حالات کی ستم ظریفی کے باوجود پرسکون رہنے کے لئے مثبت اور اچھی سوچ کا بڑا دخل ہے۔ ایک اچھی سوچ اس صاف اور ہموار سڑک کی مانند ہے۔ جس پر زندگی کی گاڑی بغیر جھٹکوں کے سکون سے چلتی رہتی ہے۔

خدا کی نعمتوں پر راضی رہنا بھی اشد ضروری ہے جب خیالات مثبت ہوں گے تو دل و دماغ پرسکون رہیں گے۔ اور چہرے پر مسکان رہے گی۔ ایک بچے کو ہی لے لیجیے۔ بھلے وہ اجنبی ہو۔مگرجب وہ مسکراتا ہے تو خودبخود ہمارے لبوں پہ بھی مسکراہٹ چھا جاتی ہے۔

وقت گزر رہا ہے اور گزرتا رہے گا۔ حال، ماضی بنتا جائے گا۔ مشکل حالات بھی ختم ہو جائیں گے۔ ایسا نہ ہو آپ سے وابستہ رشتے آپ کی ایک مسکان کے لئے ترستے رہیں۔ آپ کی خوش دلی کے منتظر رہیں۔ وہ لمحے جو اپنوں کے ساتھ خوشگوار گزرنے چاہئے۔ افسردگی میں گزر جائیں… یہ وقت تو گزر جائے گا پر ایسا نہ ہو رشتوں کی میٹھاس ختم ہو جائے… اس لئے مسکرانا سیکھئے دوسروں کے لئے بھی اور اپنے لئے بھی۔ کہ یہ آپ کے حسن کا راز ہے۔ کیا خوب کہا ہے شاعر نے

مسکراہٹ ہے حسن کا زیور

مسکرانا نہ بھول جایا کرو