//قادیاں دار الاماں اُنچار ہے تیرا نشاں

قادیاں دار الاماں اُنچار ہے تیرا نشاں

تحریر بشرعمر بامی

‎آج بیت لدعا میں تقریباًایک گھنٹہ دعاؤں کا موقع ملا۔ الحمد للہ

‎ابھی شتابی ٹرین سے دہلی جا رہے ہیں رات مشن ہاؤس میں ٹھہریں گے اور پھر آگرہ جائیں گے اور جمعرات کو واپس قادیان انشااللہ۔‎دعاؤں میں یاد رکھیں۔ ‎جزاکم اللہ

اپنے بچوں کواپنی خیریت سے مطلع کرنے کے لئے بھیجے اس مختصر سے پیغام سے جڑی ایک ملگجی سی شام کی یاد…

سرحدی دربان نے تھوڑا لوہے کا جنگلہ کھسکا دیا اور اگلے لمحے میرے قدم بظاہر پردیس کی مٹی پر براجمان تھے لیکن دل اور آنکھیں تڑپ رہی تھیں اس مقدس بستی کو دیکھنے کے لئے۔

بے تابی تھی کہ بس بڑھے جا رہی تھی۔ ٹیکسی دھیرے دھیرے مہدی کے مسکن کیطرف بڑھ کر دل کی دھڑکن بڑھا رہی تھی۔ جیسے مینا رۃ المسیح پر نظر پر پڑی روح تک مسحور ہوگئی۔ وہ سرمئی شام میری زندگی کی سب سے بڑی آرزو پوری کر رہی تھی …بچپن سے تشحیذ سے بار بار لہک لہک کر پڑھتی ایک ناصرہ کی دلی جذبات سے لبریزپڑھنے والی آواز ….

وہ بستی یاد آتی ہے …اے قادیاں دارالاماں …وہ بستی چھن گئی کیونکر …

غرض کار سے اترتے قدم اس مقدس بستی کو چھورہے تھے …

وہ ملگجی سی شام تھی دارالمسیح میں جاتے ہی مغرب کی وہ نماز آج میرے اندر کی سرمئی شام کو بگھو گئی تھی …آنکھیں چھم چھم برسیں … دلی جذبات کو سکون دیتے وہ لمحات کبھی بھول نہیں سکتی …اس بستی میں ان مقدس گلیوں کی مٹی نے مہدی کے قدم چومے تھے۔

مقدس وجود منور شامیں پرنور مجلسیں اور میں اس لمحہ اس مقدس بستی کی ہوا میں دعاؤں کا ارتعاش محسوس کررہی تھی۔ افلاس کی قربانیوں کی داستانیں سنسناہٹ ایسی تھی کہ بدن کے رووں کو جھنجھوڑ رہی تھیں …میں اپنے نصیب پر فرحاں و شاداں بہشتی مقبرے میں خدا کے پیارے کے مقبرے پر کھڑی …لرزتے لب اور بہتے آنسو سے بھیگے دعا کے لئےاٹھے ہاتھ…

اس سرمئی شام کے دامن کوبگھورہے تھے…اداس شام کے ملگجے میں سبزہ زار کے ماحول کو آج بھی اپنی روح میں محسوس کر تی ہوں … جامد ساکت مگر پرنور سویرا لئے شام … جس کی روشنی دور تلک نور کے سائےکی چھاؤں کئے انوارکی برسات میں بگھو گئے …

مغرب عشاء کی ادائیگی کے بعددارالمسیح کے دالان میں چاند کی روشنی میں دالان حضرت اماں جان سے ہوتے  ہوئےحضرت اماں جان کےباورچی خانے میں چولہوں کے پاس کھڑی صدی پیچھے کے منظر کےتصورات میں کھو سی گئی۔ مقدس وجود وہ نورانی وجود کو چشم تصور میں لاتے ہوئے میں ان کھڑ کیوں،  دروازاوں، دالانوں سے گزرتے ہوئے میری سوچ کے دائرے گزرے زمانے میں گم ہوتے جا رہے تھے…

کیا زمانے ہونگے کیا ماحول ہوگا ان کاسرور لیتی …میں اس مقدس کنویں کے پاس پہنچ چکی تھی جو حضرت اماں جان کے لئے عظیم شوہر نے فورا بنوایا تھا …

بس وہ سرمئی شام میری یادوں میں بس سی گئی ہے اس کے بسنے سے میرا وجود بس گیا ہے۔ …مہکا مہکا سا رہتا ہے روح کی گہرائی تک معطر معطر سا۔اور انہی احساسات میں ڈوبی صبح کے نورانی ماحول میں میرے قدم بیت الدعا جانے کے راستے کی طرف خود بخود اٹھتے چلے گئے

انتظار کے لمحات دعاؤں کے ارتعاش اور دل کی جذبات کے زیروبم موقع ملتے ہی سب بندھن ٹوٹ سے گئے۔ روح سجدہ ریزاور لب دعا والتجا سے متحرک نہ جانے کتنے لمحے ایسی مدہوشی میں گزر گئے۔

چند دن کا مختصر قیام اور نادر لمحات زندگی کے وہ انمول دن۔ افففف…خدا یا تیرے کن کن احسانات کا ذکر کروں تیرے شکر گزاری میں روح سجدہ ریز دل گداز اور آنکھیں اشکبارزباں پر حمد ہے تونے بچپن کی ایک آرزو پوری کی۔ الحمد للہ