//فیمنزم سے متعلق بیان پر بحث

فیمنزم سے متعلق بیان پر بحث

تحریر: نازش ظفر

دنیا بھر میں خواتین کے لیے ذاتی، سماجی، سیاسی اور معاشی برابری کے نعرے کے ساتھ مختلف سیاسی اور سماجی نظریات اور تحریکوں کے لیے ایک مشترکہ لفظ ’فیمنزم‘ ہے لیکن پاکستان میں اس لفظ کا مترادف ہے ’بھڑوں کا چھتہ‘… جو یہاں کسی نے چھیڑا وہاں تنقید، طعنے اور گالی کی بھنبھناہٹ شروع…

ویب سیریز چڑیل سمیت کئی ڈراموں اور فلموں سے شہرت پانے والی پاکستانی اداکارہ ثروت گیلانی نے میزبان اور اداکارہ میرا سیٹھی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بہت سی متنازعہ باتوں کے بیچ یہ بھی کہا کہ وہ ’فیمنسٹ‘ نہیں ہیں لیکن وہ مرد اور عورت کی برابری پر یقین رکھتی ہیں۔

میزبان میرا سیٹھی اس کلپ میں انھیں یہی سمجھاتی نظر آئیں کہ یہی تو ’فیمنزم‘ ہے۔لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی معروف فنکار نے کسی انٹرویو میں اس لفظ سے دامن چھڑایا ہو، گو بات مرد اور عورت کی برابری کی ہی کہی ہو لیکن یہ ماننے سے انکار ہی کیا کہ وہ ’فیمنسٹ‘ ہیں یا شاید اس لفظ سے وہ آشنائی اور واقفیت نہیں پیدا ہو سکی کہ بلا تکلف اس کا نام لیں۔

پاکستان کی معروف شخصیات کا خود کو فیمنسٹ کہلوانے میں ہچکچاہٹ پر بات کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں میرا سیٹھی نے کہا کہ وہ اپنی بہت سی خواتین ساتھیوں سے کیمرا پر اس بارے میں سوال پوچھ چکی ہیں۔

انھوں نے کہا ’وجہ شاید خوف ہے، اپنے مداحوں کو کھو دینے کا خوف لیکن ان کی ایک بڑی تعداد نے اس لفظ سے جڑی منفی تشریح کو اپنا لیا ہے۔‘

اس ضمن میں انھوں نے عروہ حسین، عائشہ عمر اور عثمان خالد بٹ کی تعریف بھی کی کہ انھوں نے فیمنزم کا جم کر دفاع کیا۔لیکن جب ثروت گیلانی میزبان میرا سیٹھی کی بات نہیں سمجھیں تو یہ ذمہ داری سوشل میڈیا نے اٹھا لی۔

ٹوئٹر پر پیسٹری نامی ایک اکاؤنٹ سے کہا گیا: ’وجوہات بہت سی ہیں مگر ایک بڑی وجہ اس بارے میں درست معلومات نہ ہونا ہے، لوگوں کو علم ہی نہیں کہ اس کا مطلب اسلام دشمن، بے راہ روی کی حامی، مردوں پر حکومت کرنے والی، رشتوں سے بیزار خاتون نہیں ہوتا، یہ کچھ اور ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’مسئلہ اس معاشرے میں زندہ رہنا ہے جہاں فیمنسٹ، لبرل یا سیکولر کی تعریف کا مطلب کفر اور بے حیائی سے جوڑا جاتا ہے۔ اس لیے منافقت کرتے ہوئے اندر سے تو فیمنسٹ رہنا چاہتے ہیں لیکن کھل کر کہنے سے ڈرتے ہیں۔‘

ثروت گیلانی نے اس انٹرویو کے متعلق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خواتین کو طاقتور بنانے اور مردوں اور عورتوں کے لیے برابری کی بنیاد پر مواقعوں کی فراہمی کی حامی ہیں۔

’لیکن میں اس چلن کا حصہ نہیں بننا چاہتی جس کے تحت کہا جائے کہ چلو ہم بھی کہیں کہ ہمیں مردوں سے نفرت ہے اور ان کی برائی کرنے لگیں۔ میرا خیال ہے بہت سے مرد بھی خواتین کو مضبوط بنانے اور ان کی حوصلہ افزائی میں کردار ادا کرتے ہیں اور ہمیں ان کا کردار فراموش نہیں کرنا چاہیے۔‘

فیمنزم کو مردوں سے نفرت اور ان پر حکمرانی کے شوق سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟

اداکارہ ثروت گیلانی کے میرا سیٹھی سے انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ان کا دفاع بھی کیا۔ ان کا خیال یہی ہے کہ ’فیمنزم مردوں سے نفرت اور ان پر حکومت کرنے کی سوچ کا نام ہے‘ جس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں مختلف عمر اور طبقے کے افراد سے میں نے پوچھا کہ انھوں نے فیمنزم کے متعلق کیسی تشریحات سن رکھی ہیں۔ چنیدہ جواب کچھ یوں تھے:

’یہ جنسی طور پر نا آسودہ خواتین کی ’فرسٹریشن‘ ہے‘

’یہ بدصورت عورتوں کا توجہ حاصل کرنے کا طریقہ ہے‘

’یہ امیر عورتوں کا چونچلا ہے، غریب عورت کا مسئلہ نہیں‘

’کچھ مرد اور عورتیں یہ سب مغربی ممالک کے ویزے کے لیے کرتے ہیں‘

اس لفظ سے منفی مفہوم کیوں جوڑے جاتے ہیں؟

بی بی سی نے پاکستان میں جینڈر سٹڈیز کی استاد فرزانہ باری سے اسی بارے میں بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ تعلیم، ادب اور رواج کے ذریعے پدرشاہی خیالات اور نظریات کی ترویج کی جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں ’بہت سے مرد جانتے ہیں کہ عورت کو برابری کے حقوق دینے سے ان سے بہت سی مراعات چھن جائیں گی جو انھوں نے صدیوں سے اپنا حق سمجھ کر استعمال کی ہیں۔ اس لیے وہ عورت کے حق کی آواز کو سازش قرار دے کر اسے دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی پسند کے منفی مفہوم اس لفظ سے جوڑ لیتے ہیں۔

’پدرشاہی معاشرے میں مرد کے رائج کردہ نظریات اور خیالات اس کے زیر اثر رہنے والی عورتیں بھی اپنا لیتی ہیں۔ بنیادی مسئلہ خود تحقیق نہ کرنے کا ہے۔‘

فرزانہ باری کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر تحقیق کی جائے تو علم ہو گا کہ فیمنزم کے کئی ’برانڈز‘ ہیں اور سب برانڈز اس بات پر متفق ہیں کہ مرد اور عورت میں عدم مساوات فطری نہیں بلکہ سماجی رویوں کی بدولت ہے اور اسے بدلا جا سکتا ہے۔ یہی اصل مقصد ہے جسے ایک سازش کے تحت مبہم بنا دیا گیا ہے