//غزل

غزل

امتہ الجمیل سیال ( جرمنی)

ہم نے اس یاد کو سینے میں بسا رکھا ہے

دل کے ہر زخم کو دنیا سے چھپا رکھا ہے

اس کی خوشبو سے مہکتے ہیں میرے لفظ تمام

وہ جو اک پھول کتابوں میں چھپا رکھا ہے

لوٹ آئے گا وہ بھٹکا ہوا رستے سے ضرور

اک اسی آس پہ دروازہ کھلا رکھا ہے

اب ضرورت نہیں ساقی کی نہ میخانے کی

جام آنکھوں نے تیری ہم کو پلا رکھا ہے

آزمائے گا میرا ضبط ابھی اور تو کیا

ہم نے آنکھوں میں سمندر کو بسا رکھا ہے