//غزل

غزل

امتیاز تاج ( ہالینڈ )

تیرے چہرے سے نگاہوں کو ہٹائیں کیسے

آنکھ مل جائے تو پھر آنکھ چُرائیں کیسے

نہ وہ محبوب نہ چاہت کے قرینے باقی

اب گلابوں کو کتابوں میں سجائیں کیسے

ہم کو مالک نے بنایا ہے الگ سانچے میں

تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے

میرے ہونٹوں پہ جو رُک جاتے ہیں آکر اکثر

گیت اُلفت کے زمانے کو سنائیں کیسے

کسی گُل پوش کی آمد کا پتہ ملتا ہے

نشے میں مست یہ آئی ہیں ہوائیں کیسے

میری ہر سانس تو مقروض ہے تیری مالک

بھول سکتی ہوں بھلا تیری عطائیں کیسے