//غزل کا فن

غزل کا فن

اردو میں غالب پہلے غزل گو تھے۔

جنہیں وسعتِ بیان کے لئے ’’تنگنائے غزل‘‘ ناکافی معلوم ہوئی۔ اس کے بعد، حالی کے اس فتوے پر کہ یہ بےوقت کی راگنی ہے، عظمت اللہ خان جیسے نئی پود کا بھرم رکھنے والوں نے، اس کو گردن زدنی قرار دیا۔ لیکن یہ تنقید کا صرف ایک رخ تھا۔ مینائے غزل میں ہمیشہ باقی رہی، اور اس کی آبرو کی لوگوں کو ہمیشہ فکر رہی۔

حالی تا حال، غزل پر تنقید کا جس قدر طومار (نوشتہ) ملتا ہے اس کا تجزیہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ بیشتر موضوعاتِ غزل سے تعلق رکھتا ہے، یعنی تنقید بادہ پر ہے نہ کہ جام پر۔ تنقید کا ایک انداز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ غزل کا صنفِ سخن کی حیثیت سے جائزہ لیا جائے، دوسرے الفاظ میں اس کی ہیئت پر غور کیا جائے۔ ذوق کے لفظوں میں یہ دیکھا جائے کہ غزل بنتی کیسے ہے، اور جب بنائی جاتی ہے تو شاعروں کو کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ راہ میں کون کون سے سنگِ گراں ملتے ہیں۔ جذبہ کونکر گفتار کا ’’رنگ‘‘ قبول کرتا ہے۔ ہئیت پرستی کا الزام درست نہ ہوگا کیونکہ تحقیق و جستجو اور سائنسی نقطۂ نظر کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ مبادیات سے شروع کیا جائے۔ لیلائے غزل کو سیاسی، سماجی اور اخلاقی اقدار کے پسِ منظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ایسا کرتے وقت ظاہر ہے اس کے موضوعات معرضِ بحث میں زیادہ رہیں گے۔ دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس کے خدوخال اور اندازِ قدر پر غور کیا جائے۔

اس کے خدوخال سے ہم سب واقف ہیں (یعنی ہئیت کے اعتبار سے اس کے اجزائے ترکیبی حسبِ ذیل ہیں: (1) مطلع (2)ردیف (3)قافیہ (4)مقطع اور (5) بحر۔ انہیں اجزائے ترکیبی سے اس کا اختصار، کیفیاتی وحدت اور موسیقیت متعین ہوتی ہے، جس کے بعد کو غزل کا مخصوص ایمائی اور مزید انداز بنتا ہے۔

ہیئت کے نقطۂ نظر سے بحر اور قافیہ غزل کے محور ہیں۔ ردیف ایک مزید بندش ہے جسے اردو شاعر اکثر اپنے اوپر عائد کرلیتا ہے۔ اس سے اچھے اور بُرے نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ غزلیں غیرمروف بھی ہوتی ہیں۔ لیکن اردو کی بیشتر غزلیں مروف ہیں۔ ردیف کے الفاظ فعل بھی ہوسکتے ہیں، جیسے:ہے۔ ہیں یا کھینچ (؏ نفس نہ انجمن نہ آرزو سے باہر کھینچ (غالؔب) اور حروف اور اسم بھی جیسے پر، نہیں شمع اور نمک۔ (؏ کیا مزا ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک (غالب) غزل کے پاؤں میں ردیف پائل) یا جھانجھن (کا حکم رکھتی ہے۔ یہ اس کی موسیقیت ترنم اور موزونیت کو بڑھاتی ہے۔ دوسری طرف اس کے تنِ نازک کو گرانباری زنجیر کا احساس بھی دلاتی ہے۔ فنی لحاظ سے ردیف کی چولیں سب سے پہلے قافیہ سے بٹھانی پڑتی ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی دیف کی چولیں ہر قافیہ کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ مثلاً غالؔب کی اس غزل میں۔

مژہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے

دامِ خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس

’’کے پاس‘‘ ردیف ہے اور اس کے ساتھ حسب ذیل قافیوں کی چولیں بٹھائی گئی ہیں خار، بیمار، غمخوار، آزار، دستار، دیوار لیکن ابھی قافیے اور بھی ہیں۔ سنئے، ذوق کے ایک قصیدہ سے۔ بیکار، زنہار، بار، سرکار، درکار، انوار، گفتار، اطوار، دربار، اظہار، تکرار، سیار، گلبار یہ تو وہ قافیے ہوئے جن کو مذکورہ بالا بحر قبول کرتی ہے ورنہ ذوق نے اپنے قصیدے میں بلامبالغہ 56 قافیے استعمال کیے ہیں۔ لیکن ان میں سے سب کافیے (مثلاً زنہار، درکار وغیرہ) ’’کے پاس‘‘ کی ردیف کے ساتھ نہیں باندھے جاسکتے۔ بعض قافیے ردیف سے تال میل تو کھاتے ہیں لیکن اس طرح کے قافیہ کی پھسلن ہی پر ہزل گوئی کا مزہ آنے لگتا ہے۔ فکرِسخن میں اچھے اچھے اساتذہ بعض اوقات بولتے ہوئے قافیوں کو تابع ردیف نہ دیکھ کر باندھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ اس لیے غزل گو کے لیے لازم ہے کہ حافظہ کمزور ہونے پر وہ اپنے قوافی مواد کو تخلیقی عمل کی لہر کے ساتھ ہی جمع کرلے۔ اس سے قافیہ پیمائی مقصود نہیں بلکہ اس طرح مواد کی فراہمی اور انتخاب میں مدد ملتی ہے۔

ردیف غزل کے ایجاز و اختصار پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ فرض کیجئے کہ ایک مخصوص بحر میں پندرہ یا بیس ہم وزن قافیے دستیاب ہیں، بہت ممکن ہے کہ ان میں سے صرف دس یا بارہ تال میل ردیف سے کھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ قصیدہ جو طویل ہوتا ہے اکثر غیرمروف لکھا جاتا ہے۔ چونکہ غنائی شاعری میں جذبہ شدید اور مختصر ہوتا ہے اس لیے وہ ردیف کی آرائش کو باآسانی قبول کر لیتی ہے۔

ردیف کا قافیہ سے اتصال غزل کا سخت نازک مقام ہے۔ بعض اوقات فصاحت و بلاغت کے نازک ترین مرحلوں سے یہاں گزرنا پڑتا ہے۔ محاورات زبان کی لطیف ترین شکلوں کا استعمال اس جگہ ملتا ہے۔ قافیہ اگر اسم ہے تو اضافت اور تراکیب کی اعلیٰ ترین شکلیں یہاں ملتی ہیں اگر فعل ہے تو اس جگہ کیفیت زبان اور محاورہ کی ساری نزاکتیں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ دوم درجے کے شاعروں کے یہاں وار اکثر خالی بھی جاتا ہے۔ اس لیے انتخابِ شعر کی رسوائی غالب جیسے شاعر تک کو سر لینا پڑی۔ غزل میں ردیف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کے حالی کی ناپسندیدگی کے باوجود جدید شاعری میں بہت کم اچھی غزلیں غیرمروف ملتی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ غیرمروف غزل اچھی نہیں ہوسکتی۔ غالب کی

نہ گل نغمہ ہوں نہ پردہ ساز  ں ہوں اپنی شکست کی آواز

پر کون لبیک نہیں کہے گا؟ میرا زور اس بات پر ہے کہ تعداد کے اعتبار سے غیرمروف غزلیں مروف غزلوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں نئے قافیوں کے ساتھ ساتھ نئی ردیفوں کا پیدا کرنا بھی غزل گو کا فنی فریضہ ہے۔ غزل اگر ایک لسانیاتی عمل اور فن ہے تو اس کے فن کار پر اجتہاد اور اختراع کا فرض بھی عائدہوتا ہے۔ لیکن نئی ردیفوں کے اختراع میں دو دقتیں پیش آتی ہیں۔ عام طور پر رواں دواں اور مترم ردیفیں افعال سے بنتی ہیں اور افعال کی شکلوں میں اضافہ کرنا ذرا مشکل بات ہے۔ نئے غزل گو کو اس سلسلے میں مرکب اور امدادی افعال سے زیادہ سے زیادہ مدد لینی چاہئے۔ غزل اسمی ردیفوں کی زیادہ متحمل نہیں ہوتی۔ گو ہمارے صاحبِ دیوان شعراء نے اپنی استادی کے سارے پینترے اس پر صرف کئے ہیں۔ اس کی لسانیاتی وجہ ظاہر ہے۔ افعال بہت سے اعمال کے ساتھ نتھی کیے جاسکتے ہیں جبکہ اسماء کے روابط مخصوص اور محدود ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیوان کے دیوان دیکھ جائیے اس قسم کی ردیفیں بہت کم ملیں گی اور اگر ہیں تو غیرمترنم۔

ردیف کے قافیہ کا مزید تذکرہ ضروری ہے، جس کی تنگی کا حالی کو بھی گلہ تھا۔ لیکن تنگی کافیہ کا گلہ دوسری اصنافِ شعر کے نقطہ نظر سے کتنا ہی بجا کیوں نہ ہو غزل کی صنف پر بےمحل ہے۔ قافیہ کے بغیر غزل کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ شاعری بےقافیہ بھی ہوسکتی ہے۔ غزل بغیر قافیہ کے اپنے مخصوص اسلوب اور آہنگ کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔ قافیہ کی بندش غنائی شاعری میں عام طور پر اور غزل میں خاص طور پر اس لیے ضروری ہے کہ اس کی جھنکار میں جذبے کی شدت اور تخیل کی رنگینی دونی ہوجاتی ہے۔ یہ بےوجہ کی بندش نہیں۔ اس بندش کو اپنے اوپر عائد کرکے جس شاعر نے کامیابی حاصل کرلی اس کا وار بھرپور ہوگا۔ ادب میں جمال آزادی سے نہیں بلکہ آدابِ فن اور ادبی بندشوں سے نکھرتا ہے۔ میں اصولی طور پر فن میں بندشوں کا قائل ہوں اس لیے کہ اس سے ذہن تربیت پاتا ہے۔ اور فن نکھرتا ہے۔ ہاں اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ ناپختہ کار کے ہاتھوں میں روایت، قدامت پرستی میں اور آداب، تکلفات میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اردو شاعری پر تنقید کرتے وقت حالی کو ایک ایسا ہی زمانہ ملا تھا۔

قافیہ میں پھر انتخاب کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ قصیدہ گو کا فن یہ ہے کہ وہ ہر ممکن کافیہ کو باندھ کر اپنی ’’خاقانیت‘‘ کا ثبوت دے۔ اس طرح بعض اوقات عجیب و غریب اور مضحک صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ ذوق کے مشہور قصیدے میں ’’زحیر و تبخیر‘‘ کہ مضحک قافیوں پر ’’نکسیر‘‘ کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ بادشاہ سے شاعر کہہ رہا ہے۔

ترے لَسَق سے نہ بالکل رہی جو خونریزی

لڑائیوں میں کہیں پھوٹتی نہیں نکسیر

معلوم نہیں آخری بےدست و پا مغل بادشاہ پر ذوق کا یہ لاشعوری طنز ہے یا محض قافیہ پیمائی کا شوق!

قافیہ کیوں کے غزل کا محور ہوتا ہے اس کی چولیں ایک طرف تو بار بار دہرائی جانے والی ردیف سے بٹھانی پڑتی ہیں اور دوسری طرف اس پر شعر کے پورے خیال کا بوجھ ہوتا ہے۔ اس لیے کسی حد تک قافیے کی تنگی کا گلہ بجا ہے۔ غلط انتخاب یا شعرکو ہزلیات کی حد تک لے جاتا ہے یا پورا شعر ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ مشرقی شعریات میں غنائی شاعری کے لیے قافیہ یا تُک کا تصور ہر زمانے میں اہم سمجھا گیا ہے۔ شاعر کو قوافی کا وارث بتایا گیا ہے۔ امراؤالقیس نے تخلیقی عمل میں اس کی اہمیت کو اس طرح جتایا ہے۔

’’میں آتے ہوئے قافیوں کو یوں ہٹاتا اور دور کرتا

ہوں جیسے کوئی شریف چھوکرا ٹڈیوں کو مار مار کر ہٹاتا ہو‘‘

بڑے شاعر کے یہاں وہاں قافیے ٹڈی دل بن کر آتے ہیں۔ اس لیے تخلیقی عمل کے ابتدائی مدارج میں انتخاب کو بہت دخل ہوتا ہے۔ غنائی شاعری کا موسیقی سے گہرا رشتہ ہوتا ہے اس کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ قافیہ غزل میں اس مقام پر آتا ہے جہاں موسیقی میں طبلے کی تھاپ۔ دونوں میں تاثر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔

ردیف اور قافیہ دونوں بحر کی موج پر ابھرتے ہیں۔ جس طرح بحر، وزن کے زمان میں سانس لیتی ہے اسی طرح قافیہ اور ردیف دونوں، بحر کے تابع رہتے ہیں۔ قافیہ اور ردیف بحر کی موزونیت کو افزوں تر کرتے رہیں۔ ترنم ریزی کی شدت میں شاعر اکثر اندرونی قافیوں سے بھی کام لیتا ہے۔ اقبال ’’مسجد قرطبہ‘‘ میں ترنم کے اس مقام تک پہنچے ہیں۔

قطرۂ خونِ جگر دل کو بناتا ہے سِل      خون جگر سے صدا سوزو سرورد سرود

تیری فضا دل فروز، میری نوا سینہ سوز      تجھ سے دلوں کا حضور، مجھ سے دلوں کی کشود

بحر کا انتخاب غزل گو شعوری طور پر نہیں کرتا۔ یہ جذبہ اور کیفیت سے متعین ہوتی ہے۔ مشقیہ شاعری یا مصرع طرح کی بات اور ہے ورنہ کوئی بھی شاعر مصرع طرح سامنے رکھ کر غزل شروع نہیں کرتا اس کا پہلا مصرع (ضروری نہیں کہ مطلع ہی ہو) جذبے یا کیفیت کے ساتھ خودبخود ذہن میں گنگناتا ہوا نکلتا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ بحر متعین ہوچکی ہے، قافیہ بھی متعین ہوچکا ہے، اور اگر ردیف ہے تو وہ بھی۔ نظم گو اس کے برعکس نسبتاً آزاد رہتا ہے۔ کیونکہ قافیہ اور ردیف کا تنوع اس کے یہاں ممکن ہے، غزل گو پہلے شعر یا مصرع کے ساتھ ہی غزل کی ہیئت کا خون پہن لیتا ہے۔ اس کا سارا فن اور سارا کمال اب یہی ہے کہ اپنے اس محدود میدان میں جولانیٔ طبع دکھائے۔ چاول پر قل ھواللہ لکھے، قطرے میں دجلہ ڈونڈے اور آنکھ کے تل میں آسمان دیکھے!

ہر بحر کا مخصوص مزاج ہوتا ہے، جس کا رشتہ قومی موسیقی سے جاملتا ہے، لیکن جس کا عمل ہم غزل میں اس طرح دیکھتے ہیں کہ بعض بحریں مخصوص قسم کے جذبات کے ساتھ بہتر تال میل رکھتی ہیں۔ مثلاً بحر منقارت شانزادہ رُکنی:۔

فِعلن فِعلن فِعلن فِعلن

فِعلن فِعلن فِعلن فَع

جس میں غالب کے منتخب دیوان میں ایک غزل بھی نہیں ملتی۔ میر نے اس میں اکثر کہا ہے ؏الٹی ہوگئی سب تدبیریں الخ‘‘ فانی کہ یہاں بھی یہ اپنی پوی آب و تاب کے ساتھ ابھی ہے۔ علم عروض میں ردّو قبول کا سلسلہ ایران سے شروع ہوتا ہےاور تاحال جاری ہے۔ اس سے دو نتائج نکلتے ہیں، پہلا یہ کہ عروض کا قومی موسیقی اور مزاج کے ساتھ گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ ہر شاعر اپنے ذہن کی مخصوص افتاد کی بناء پر کچھ بحروں کو دوسری بحروں پر ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ میرا خیال ہے کہ اچھی غزل میں فکری اعتبار سے کتنی ہی ریزہ کاری کیوں نہ ملتی ہو اس میں ایک اندرونی اور کیفیاتی وحدت پائی جاتی ہے۔ بحر اس وحدت کی پہلی پہچان ہے طویل اور آہستہ رو بحروں میں نشاط اور سر خوشی کی کیفیات کا اظہار مشکل یا کم ازکم مصنوعی ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ بحریں اس قدر رواں دواں ہوتی ہیں کی فکر کا بار نہیں اٹھا سکتیں۔

ردیف، قافیہ اور بحر کے اس تجزیہ کے بعد یہ باتیں خودبخود سمجھ میں آنے لگتی ہیں کہ غزل مختصر کیوں ہوتی ہے؟ (بہت کم اچھی غزلیں گیارہ یا تیرہ اشعار سے اوپر جاتی ہیں) ان میں ریزہ خیالی کیوں ہوتی ہے اور معنوی تسلسل کا فقدان کیوں پایا جاتا ہے؟ اس اندرونی وحدت کی نشاندہی میں حسبِ ذیل اجزاء سے مدد ملتی ہے۔

(1)مطلع:۔ اکثر اوقات قافیہ اور ردیف کا تعین اس سے ہوتا ہے اور اس کے جذبہ کی تھرتھراہٹ اختتام غزل تک نہیں تو کم ازکم پہلے چند اشعار تک قائم رہتی ہے۔ یہاں تک وجدان شعر قافیہ پر حاوی رہتا ہے، اس کے بعد ارادی عمل شروع ہوتا ہے اور تجسس، علم اور حافظہ کام میں لائے جاتے ہیں۔ غزل کے ابتدائی اشعار پر مطلع کے اثرات بہرحال مسلم ہیں۔

(2)ردیف:۔ جذباتی وحدت کا تعین، ردیف سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ جس کا ٹھپہ ہر شعر اور ہر خیال پر ہوتا ہے۔ مثلاً غالب کی یہ غزل

نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے

کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

میں ’’نہ بنے‘‘ کا ٹھپہ اس غزل کے ہر خیال پر ہے۔ چاہے اس کا تعلق ’’بات نہ بنے‘‘ سے ہو یا ’’خط کے چھپانے‘‘ سے یا ’’آتشِ عشق کے بجھنے اور لگنے‘‘ سے۔ ’’نہ بنے‘‘ کا یہ ٹکڑا مجبوری اور عجز کی کیفیات کا حامل ہے۔ پوری غزل اٹھا کر دیکھ جائیے ہر شعر اسی خیال کے سانچے میں ڈھلا ہوا نظر آئے گا۔

غزل ہیئت کا اس کے اسلوب پر بھی اثر پڑتا ہے۔ غزل کا اسلوب ایجاز و اختصار، رمز و کنایہ مجاز، تمثیل، استعارہ و تشبیہ سے مرکب ہے اس لئے اس میں وہ تمام خوبیاں اور خامیاں ملتی ہیں جو ’’سخن مختصر‘‘ کی خصوصیات ہیں۔ شدت تاثر، موسیقیت اور بلاغت کے اعلیٰ ترین مدارج تک زبان اسی پیرایہ میں پہنچتی ہے۔ بادہ وساغر کا استعارہ ہو یا لالہ و گل کا پردہ، لیلٰی غزل کے لیے یہ ضروری ہیں لیکن یہ اسلوب واقعاتی ڈرامائی اور بیانیہ شاعری میں بلائے جان بن جاتا ہے۔ غزل ہمارے ہاں غنائی شاعری کی صرف ایک شکل ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسرے انداز میں نہیں گا سکتے۔ یہ کسی دوسرے اصنافِ سخن کی حریف نہیں کیونکہ اس کا اپنا دائرہ عمل ہے لیکن یہ ہئیت کے اعتبار سے بے وقت کی راگنی کبھی نہیں ہوگی۔ یہ ایک پیمانہ ہے۔ جس میں جس قسم کی کشید دل چاہیے بھر دیجئے۔ اور ہمارے شعراء بھرتے رہے ہیں۔ اردو کے ابتدائی دور میں یہ فارسی غزل کی نقل بن کر ہمارے سامنے آئی۔ میر کے ہاتھوں حسن کی نیم خوابی اور دل کے پھپھولوں کی ترجمان بنی۔ غالب نے اسے اپنی مخصوص بصیرت عطا کی۔ اس میں دھول دھپا بھی کھیلا گیا، یہ اسرار خودی اور رموز بے خودی کی عامل بھی بنی اور آج آتش و آہن کا کھیل کھیل رہی ہے۔ یہ تھی اور ہے۔ سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ کیا یہ رہے گی؟ کیا ہماری نئی تہذیب میں اس کی ضرورت آئندہ بھی محسوس ہوگی۔ لیکن یہ سوال صرف صنفِ غزل تک محدود نہیں۔ اس کا اطلاق عام غنائی شاعری پر بھی ہوسکتا ہے۔ عہدِ جدید کے تمام معاشرتی رجحانات کسی نہ کسی قسم کے اشتراکی سماج کی طرف رہبری کررہے ہیں۔ اور اشتراکی سماج میں عوامی موسیقی کی طرح غنائی شاعری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ غزل بنیادی طور پر ایک انفرادی فنکارانہ عمل ہے۔ لیکن اس کے جذبات کی عمومیت مسلّم ہے، جوسرشتِ انسانی کی وحدت اور جبلتوں کی یکسانی پر مبنی ہے۔ اور یہ عمومیت ماضی حال اور مستقبل تینوں زمانوں کا احاطہ کرتی ہے۔