//عورت کو کھیتی قرار دینے میں حکمت

عورت کو کھیتی قرار دینے میں حکمت

. اب يہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ مرد و عورت کس اصل پر تعلق رکھيں؟ يورپ کے بعض فلاسفر ايسے ہيں جو کہتے ہيں کہ تربيت اخلاق کيلئے شادي تو ضروري ہے ليکن تعلقات شہواني مضر ہيں- يہ تعلقات نہيں رکھنے چاہئيں- اللہ تعاليٰ نے اس کا بھي جواب ديا ہے- فرمايا ہے-

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنّٰی شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ  (البقرة 224)

تمہاري بيوياں تمہارے لئے بطور کھيتي کے ہيں- تم جس طرح چاہو ان ميں آؤ- اس پر کوئي کہہ سکتا ہے کہ جب يہ کہا گيا ہے کہ ہم جس طرح چاہيں کريں تو اچھا ہم تو چاہتے ہيں کہ عورتوں سے تعلق نہ رکھيں- اللہ تعاليٰ فرماتا ہے کہ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ اس طرح آؤ کہ آگے نسل چلے اور ياد گار قائم رہے- پس تم اس تعلق کو برا نہ سمجھنا- اس آيت ميں مندرجہ ذيل امور بيان کئے گئے ہيں-

1۔نر و مادہ کے تعلق کي اجازت دي ہے ليکن ايک لطيف اشارہ سے- يعني عورت کو کھيتي کہہ کر بتايا کہ انساني عمل محدود ہے۔اسے غير محدود بنانے کيلئے کيا کرنا چاہئے- يہي کہ نسل چلائي جائے- پس جس طرح زمين ہو تو اسے کاشتکار نہيں چھوڑتا- تم کيوں اس ذريعہ کو چھوڑتے ہو جس سے تم پھل حاصل کر سکتے ہو- اگر ايسا نہيں کرو گے تو تمہارا بيج ضائع ہو گا۔

2۔دوسري بات يہ بتائي کہ عورتوں سے اس قدر تعلق رکھو کہ نہ ان کي طاقت ضائع ہو اور نہ تمہاري۔اگر کھيتي ميں بيج زيادہ ڈال ديا جائےتو بيج خراب ہو جاتا ہے اور اگر کھيتي سے پے در پے کام ليا جائے تو کھيتي خراب ہو جاتي ہے۔ پس اس ميں بتايا کہ يہ کام حد بندي کے اندر ہونا چاہئے۔ جس طرح عقلمند کسان سوچ سمجھ کر کھيتي سے کام ليتا ہے اور ديکھتا ہے کہ کس حد تک اس ميں بيج ڈالنا چاہئے اور کس حد تک کھيت سے فصل ليني چاہئے۔ اسي طرح تمہيں کرنا چاہئے۔

اس آيت سے يہ بھي نکل آيا کہ وہ لوگ جو کہتے ہيں کہ ہر حالت ميں اولاد پيدا کرنا ہي ضروري ہے- کسي صورت ميں بھي برتھ کنٹرول جائز نہيں وہ غلط کہتے ہيں- کھيتي ميں سے اگر ايک فصل کاٹ کر معاً دوسري بو دي جائے تو دوسري فصل اچھي نہيں ہوگي- اور تيسري اس سے زيادہ خراب ہوگي- اسلام نے اولاد پيدا کرنے سے روکا نہيں بلکہ اس کا حکم ديا ہے- ليکن ساتھ ہي بتايا ہے کہ کھيتي کے متعلق خدا کے جس قانون کي پابندي کرتے ہو اسي کو اولاد پيدا کرنے ميں مدنظر رکھو جس طرح ہوشيار زميندار اس قدر زمين سے کام نہيں ليتا کہ وہ خراب اور بے طاقت ہو جائے يا اپني ہي طاقت ضائع ہو جائے- اور کھيت کاٹنے کي بھي توفيق نہ رہے يا کھيت خراب پيدا ہونے لگے- اسي طرح تمہيں بھي اپني عورتوں کا خيال رکھنا چاہئے- اگر بچہ کي پرورش اچھي طرح نہ ہوتي ہو اور عورت کي صحت خطرہ ميں پڑتي ہو تو اس وقت اولاد پيدا کرنے کے فعل کو روک دو۔

تيسري بات يہ بتائي کہ عورتوں سے اچھا سلوک کرو- تو اولاد پر اچھا اثر ہوگا- اور اگر ظالمانہ سلوک کرو گے تو اولاد بھي تم سے بے وفائي کرے گي- پس ضروري ہے کہ تم عورتوں سے ايسا سلوک کرو کہ اولاد اچھي ہو- اگر بدسلوکي سے کھيت خراب ہوا تو دانہ بھي خراب ہوگا- يعني عورتوں سے بدسلوکي اولاد کو بداخلاق بنا دے گي- کيونکہ بچہ ماں سے اخلاق سيکھتا ہے۔

چوتھي بات يہ بتائي کہ عورت سے تمہارا صرف ايسا تعلق ہو جس سے اولاد ہوتي ہو- بعض نادان اس سے خلاف وضع فطري فعل کي اجازت سمجھنے لگ جاتے ہيں- حالانکہ يہ قطعاً غلط ہے- اللہ تعاليٰ تو کہتا ہے کہ وہ عمل کرو جس سے کھيتي پيدا ہو- قرآن کريم خدا تعاليٰ کا کلام ہے- اس ميں خدا تعاليٰ ايک بات کو اسي حد تک ننگا کرتا ہے جس حد تک اخلاق کيلئے اس کا عرياں کرنا ضروري ہوتا ہے باقي حصہ کو اشارہ سے بتا جاتا ہے- پس أَنّٰي شِئْتُمْ ميں تو اللہ تعاليٰ نے ڈرايا ہے کہ يہ تمہاري کھيتي ہے اب جس طرح چاہو سلوک کرو۔ليکن يہ نصيحت ياد رکھو کہ اپنے لئے بھلائي کا سامان ہي پيدا کرنا ورنہ اس کا خميازہ بھگتو گے۔

يہ ايک طريق کلام ہے جو دنيا ميں بھي رائج ہے- مثلاً ايک شخص کو ہم رہنے کيلئے مکان ديں اور کہيں کہ اس مکان کو جس طرح چاہو رکھو تو اس کا مطلب اس شخص کو ہوشيار کرنا ہوگا کہ اگر احتياط نہ کرو گے تو خراب ہو جائے گا اور تمہيں نقصان پہنچے گا۔ اس طرح جب لوگ اپني لڑکياں بياہتے ہيں تو لڑکے والوں سے کہتے ہيں کہ اب ہم نے اسے تمہارے ہاتھ ميں دے ديا ہے- جيسا چاہو اس سے سلوک کرو۔اس کا يہ مطلب نہيں ہوتا کہ اسے جوتياں مارا کرو۔ بلکہ يہ ہوتا ہے کہ يہ تمہاري چيز ہے اسے سنبھال کر رکھنا۔ پس أَنّٰی شِئْتُمْ کا مطلب يہ ہے کہ عورت تمہاري چيز ہے اگر اس سے خراب سلوک کرو گے تو اس کا نتيجہ تمہارے لئے برا ہوگا- اور اگر اچھا سلوک کرو گے تو اچھا ہوگا- دراصل اس آيت سے غلط نتيجہ نکالنے والے أَنّٰي کو پنجابي کا‘‘اناہ’’سمجھ ليتے ہيں اور يہ معني کرتے ہيں کہ‘‘انھے واہ’’ کرو۔

(فضائل القرآن صفحہ174،175)