//عورتوں سے حسن سلوک

عورتوں سے حسن سلوک

عورتوں سے حسنِ سلوک کا آپ صلي اللہ عليہ وسلم خاص خيال رکھتے تھے۔ آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے سب سے پہلے دنيا ميں عورت کے ورثہ کے حق کو قائم کيا۔ چنانچہ قرآن کريم ميں لڑکوں اور لڑکيوں کو باپ اور ماں کے ورثہ کا حقدار قرار ديا گيا۔ اسي طرح ماؤں اور بيويوں کو بيٹيوں اور خاوندوں کے ورثہ ميں حقدار قرار ديا گيا۔ اور بعض صورتوں ميں بہنوں کو بھي بھائيوں کے ورثہ کا حقدار قرار ديا گيا۔ اسلام سے پہلے دنيا کے کسي مذہب نے بھي اس طرح حقوق قائم نہيں کيے! اسي طرح آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے عورت کو اس کے مال کا مستقل مالک قرار ديا ہے خاوند کو حق نہيں کہ خاوند ہونے کي وجہ سے عورت کے مال ميں دست اندازي کرسکے۔ عورت اپنے مال کے خرچ کرنے ميں پوري مختار ہے۔ عورتوں سے حسن سلوک ميں آپ ايسے بڑھے ہوئے تھے کہ عرب کے لوگ جو اس بات کے عادي نہ تھے ان کو يہ بات ديکھ کر ٹھوکر لگتي تھي۔ چنانچہ حضرت عمر رضي اللہ تعالي عنہ بيان کرتے ہيں کہ ميري بيوي بعض دفعہ ميري باتوں ميں دخل ديتي تو ميں اس کو ڈانٹا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ عرب کے لوگوں نے کبھي عورتوں کا يہ حق تسليم نہيں کيا کہ وہ مردوں کو ان کے کاموں ميں مشورہ ديں۔ اس پر ميري بيوي کہا کرتي تھيں کہ جاؤ جاؤ، محمد رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کي بيوياں ان کو مشورہ ديتي ہيں اور آپ ان کو کبھي نہيں روکتے تو تم ايسا کيوں کہتے ہو، اس پر ميں اسے کہا کرتا تھا کہ عائشہ رضي اللہ تعالي عنہا تو رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کي بہت لاڈلي ہے اس کا ذکر نہ کرو، باقي رہي تمہاري بيٹي سو اگر وہ ايسا کرتي ہے تو اپني گستاخي کي سزا کسي دن پائے گي۔ ايک دفعہ جب کسي بات سے ناراض ہوکر رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فيصلہ کرليا کہ کچھ دن آپ صلي اللہ عليہ وسلم گھر سے باہر رہيں گے اور بيويوں کے پاس نہيں جائيں گے اور مجھے اس کي خبر ملي، تو ميں نے کہا ديکھو جو ميں کہتا تھا وہي ہوگيا۔ ميں اپني بيٹي حفصہ رضي اللہ عنہا کے گھر ميں گيا تو وہ رو رہي تھيں۔ ميں نے کہا حفصہ رضي اللہ عنہا کيا ہوا، کيا رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم نے تمہيں طلاق دے دي ہے۔ انہوں نے کہا يہ تو مجھے معلوم نہيں ليکن رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم نے کسي بات کي وجہ سے يہ فيصلہ کرليا ہے کہ وہ کچھ عرصہ کے لئے گھر ميں نہيں آئيں گے۔ حضرت عمر رضي اللہ عنہ کہتے ہيں، ميں نے کہا حفصہ رضي اللہ عنہا ميں تجھے پہلے نہيں سمجھايا کرتا تھا کہ تو عائشہ رضي اللہ عنہا کي نقليں کرتي ہے، حالانکہ عائشہ رضي اللہ عنہا تو رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کو خاص طور پر پياري ہے۔ ديکھ آخر تو نے وہي مصيبت سہيڑ لي جس کا مجھے خوف تھا يہ کہہ کر ميں رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کے پاس آيا۔ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم ايک کھردري چٹائي پر ليٹے ہوئے تھے۔ آپ صلي اللہ عليہ وسلم کے جسم پر کرتا نہ تھا اور آپ صلي اللہ عليہ وسلم کے سينہ اور کمر پر چٹائي کے داغ لگے ہوئے تھے ميں آپ کے پاس بيٹھ گيا اور کہا يا رسول اللہ يہ قيصروکسريٰ کہاں مستحق ہيں اس بات کے کہ ان کو خدا تعاليٰ کي نعمتيں مليں مگر وہ تو کس آرام سے زندگي بسر کر رہے ہيں اور خدا کے رسول کو يہ تکليف ہے۔ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا۔ عمرؓ يہ درست نہيں اس قسم کي زندگياں خدا کے رسولوں کي نہيں ہوتيں يہ دنيا دار بادشاہوں کا شغل ہے۔ پھر ميں نے آپ صلي اللہ عليہ وسلم کو سارا وہ واقعہ سنايا جو ميري بيوي اور بيٹي کے ساتھ گزرا تھا رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم ميري باتيں سن کر ہنس پڑے اور فرمايا عمرؓ يہ بات درست نہيں کہ ميں نے اپني بيويوں کو طلاق دے دي ہے۔ ميں نے تو صرف ايک مصلحت کي خاطر کچھ دنوں کے ليے اپنے گھر سے باہر رہنے کا فيصلہ کيا ہے۔                                  (بخاري کتاب النکاح باب موعظة الرجل انبتہ لحال زوجھا)

عورتوں کے جذبات کا آپ صلي اللہ عليہ وسلم کو اتنا خيال تھا کہ ايک دفعہ نماز ميں آپ صلي اللہ عليہ وسلم کو ايک بچہ کے رونے کي آواز آئي تو آپ نے نماز جلدي جلدي پڑھا کر ختم کردي پھر فرمايا ايک بچہ کے رونے کي آواز آئي تھي، ميں نے کہا اس کي ماں کو کتني تکليف ہورہي ہوگي۔ چنانچہ ميں نے نماز جلدي ختم کردي تاکہ ماں اپنے بچہ کي خبر گيري کرسکے۔(بخاري کتاب الصلوٰة بعض من اخف الصلوٰة عند بکاءالصبي)

جب آپ صلي اللہ عليہ وسلم ايسے سفر پر جاتے جس ميں عورتيں بھي ساتھ ہوتيں تو ہميشہ آہستگي سے چلنے کا حکم ديتے۔ ايک دفعہ ايسے ہي موقع پر جب کہ سپاہيوں نے اپنے گھوڑوں کي باگيں اور اونٹوں کي نکيليں اٹھاليں۔ آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا۔ رفقاً بالقوارير ارے کيا کرتے ہو عورتيں بھي ساتھ ہيں اگر تم اس طرح اونٹ دوڑاؤگے تو شيشے چکنا چور ہوجائيں گے۔    (بخاري کتاب الادب)

ايک دفعہ جنگ کے ميدان سے کسي گڑبڑ کي وجہ سے سوارياں بدک گئيں۔ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم بھي گھوڑے سے گر گئے اور بعض مستورات بھي گرگئيں۔ ايک صحابي جن کا اونٹ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کے پيچھے تھا۔ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کو گرتے ہوئے ديکھ کر بے تاب ہوگئے اور کود کر يہ کہتے ہوئے رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کي طرف دوڑے يارسول اللہ ميں مرجاؤں اور آپ بچے رہيں‘‘۔ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کے پاؤں رکاب ميں اُلجھے ہوئے تھے آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے جلدي جلدي اپنے آپ کو آزاد کيا اور اس صحابي کي طرف متوجہ ہوکر فرمايا مجھے چھوڑو اور عورتوں کي طرف جاؤ‘‘ جب رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کي وفات کا وقت قريب آيا تو آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے اس وقت سب مسلمانوں کو جمع کرکے جو وصيتيں کيں ان ميں ايک بات يہ بھي تھي کہ ميں تم کو اپني آخري وصيت يہ کرتا ہوں کہ عورتوں سے ہميشہ حسن سلوک کرتے رہنا۔ آپ صلي اللہ عليہ وسلم اکثر فرمايا کرتے تھے جس کے گھر ميں لڑکياں ہوں اور وہ ان کو تعليم دلائے اور ان کي اچھي تربيت کرے۔ خدا تعاليٰ قيامت کے دن اس پر دوزخ حرام کردے گا۔

(ترمذي جلد 2 ابواب البرّ والصلة باب ماجاء في النفقہ علي البنات)

عربوں ميں رواج تھا کہ اگر عورتوں سے کوئي غلطي ہو جاتي تو انہيں مار پيٹ ليا کرتے تھے۔ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کو جب اس کي اطلاع ملي۔ تو آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا۔ عورتيں خدا کي لونڈياں ہيں تمہاري لونڈياں نہيں۔ ان کو مت مارا کرو۔ مگر عورتوں کي چونکہ ابھي تک پوري تربيت نہيں ہوئي تھي، انہوں نے اس دليل ميں آکر مردوں کا مقابلہ شروع کرديا اور گھروں ميں فساد ہونے لگا۔ آخر حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم سے شکايت کي کہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے ہميں عورتوں کو مارنے سے روک ديا ہے اور وہ بڑي بڑي دليرياں کرتي ہيں۔ ايسي صورت ميں تو ہميں اجازت ملني چاہيے کہ ہم انہيں مار پيٹ ليا کريں۔ چونکہ ابھي تک عورتوں کے متعلق تفصيل سے احکام نہيں نازل ہوئے تھے۔ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا۔ کہ اگر کوئي عورت حد سے بڑھتي ہے، تو تم اپنے رواج کے مطابق اسے مار ليا کرو۔ اس کا نتيجہ يہ ہوا کہ بجائے اس کے کہ کسي اشد استثنائي صورت ميں مرد اپني عورتوں کو سزا ديتے، انہوں نے وہي پرانا عربي طريق جاري کرليا۔ عورتوں نے رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کي بيويوں کے پاس آکر شکايت کي تو آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے اپنے صحابہؓ سے فرمايا، جو لوگ اپني عورتوں سے اچھا سلوک نہيں کرتے يا انہيں مارتے ہيں۔ ميں تمہيں بتا ديتا ہوں کہ وہ خدا کي نظر ميں اچھے نہيں سمجھے جاتے۔ اس کے بعد عورتوں کے حقوق قائم ہوئے اور عورت نے محمد رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کي مہرباني سے پہلي دفعہ آزادي سے سانس ليا۔              (ابوداؤد کتاب النکاح)

معاويہ بن ہندہ فرماتے ہيں کہ ميں نے رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم سے پوچھا۔ يا رسول اللہ بيوي کا حق ہم پر کيا ہے۔ آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا جو خدا تمہيں کھانے کےلئے دے وہ اسے کھلاؤ۔ اور جو خدا تمہيں پہننے کے لئے وہ اسے پہناؤ۔ اور اس کو تھپڑ نہ مارو اور گالياں نہ دو اور اسے گھر سے نہ نکالو۔        (ابوداؤد)

آپ کو عورتوں کے جذبات کا اسقدر احساس تھا کہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم ہميشہ نصيحت فرماتے تھے کہ جو لوگ باہر سفر کے ليے جاتے ہيں انہيں جلدي گھر واپس آنا چاہيے تاکہ ان کے بال بچوں کو تکليف نہ ہو۔ چنانچہ حضرت ابوہريرہ رضي اللہ عنہ سے روايت ہے کہ جب کوئي شخص اپني ضرورتوں کو پورا کرلے جس کے ليے اسے سفر کرنا پڑا تھا تو اسے چاہيے اپنے رشتہ داروں کا خيال کر کے جلدي واپس آئے۔ (بخاري و مسلم)

آپ صلي اللہ عليہ وسلم کا اپنا طريق يہ تھا۔ کہ جب سفر سے واپس آتے تھے تو دن کے وقت شہر ميں داخل ہوتے تھے۔ اگر رات آجاتي تھي، تو شہر کے باہر ہي ڈيرہ ڈال ديتے تھے اور صبح کے وقت شہر ميں داخل ہوتے تھے اور ہميشہ اپنے اصحابؓ کو منع فرماتے تھے کہ اس طرح اچانک گھر ميں آکر اپنے اہل و عيال کو تنگ نہيں کرنا چاہيے۔ (بخاري و مسلم)اس ميں آپ صلي اللہ عليہ وسلم کے مدِّنظر يہ حکمت تھي کہ عورت اور مرد کے تعلقات جذباتي ہوتے ہيں مرد کي غير حاضري ميں اگر عورت نے اپنے لباس اور جسم کي صفائي کا پورا خيال نہ رکھا ہو اور خاوند اچانک گھر ميں آپ داخل ہو تو ڈر ہوتا ہے کہ وہ محبت کے جذبات جو عورت کے درميان ہوتے ہيں ان کو کوئي ٹھيس نہ لگ جائے۔ پس آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے ہدايت فرما دي کہ انسان جب بھي سفر سے واپس آئے۔ دن کے وقت گھر ميں داخل ہو۔ اور بيوي بچوں کو پہلے خبر دے کر داخل ہو تاکہ وہ اس کے استقبال کے ليے پوري طرح تياري کرليں۔(ديباچہ تفسير القرآن صفحہ 255-257)