//علم نجوم ستاروں کا علم

علم نجوم ستاروں کا علم

تحریر اچھی آپا پاکستان

امام بخاري رحمہ اللہ اپني صحيح ميں قتادہ رحمہ اللہ کا قول ذکر کرتے ہيں کہ: خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالٰی هذِہِ النُّجُوْمَ لِثَلَاثٍ جَعَلَھَا زِیْنَۃً لِلسَّمَائِ وَرُجُوْمًا لِلشَّیَاطِیْنِ وَ عَلَامَاتٍ یُھْتَدٰی بِھَا فَمَنْ تَأَوَّلَ فِیْھَا بِغَیْرِ ذٰلِکَ أَخْطَأَ وَ أَضَاعَ نَصِیْبَہٗ وَتَکَلَّفَ مَالَا یَعْلَمُ .

ترجمہ:اللہ تعاليٰ نے يہ ستارے صرف تين چيزوں کے لئے بنائے ہيں۔ آسمان کي زينت کے لئے اور شيطانوں کو مارنے کے لئے اور راہ معلوم کرنے کي علامتيں بنايا ہے تو جو کوئي ان ميں مذکور چيزوں سے ہٹ کر کوئي معني نکالے (اور ان کو مستقبل کے واقعات جاننے کا ذريعہ سمجھے) تو اس نے غلطي کي اور (عمر کا) اپنا حصہ ضائع کيا اور ايسي چيز کے در پے ہوا جو اس طرح کے ذرائع سے معلوم نہيں ہو سکتي۔

قتادہ رحمہ اللہ کےيہ قول قرآن کريم کي مندرجہ ذيل آيات کي روشني ميں ہے:

جيساکہ فرمان باري تعالي ہے: إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ﴿6﴾ وَحِفْظًا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ مَارِدٍ﴿7﴾ لَا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَى وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ﴿8﴾ دُحُورًا وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ﴿9﴾ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ﴿10﴾ترجمہ:ہم نے آسمان دنيا کو ستاروں کي زينت سے آراستہ کيا۔ (6) اور حفاظت کي سرکش شيطان سے۔ (7) عالم بالا کے فرشتوں [کي باتوں] کو سننے کے لئے وہ کان بھي نہيں لگا سکتے، بلکہ ہر طرف سے وہ مارے جاتے ہيں۔ (8) بھگانے کے لئے اور ان کے لئے دائمي عذاب ہے۔ (9) مگر جو کوئي ايک آدھ بات اچک لے بھاگے تو [فوراً ہي] اس کے پيچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے۔ (10)

جيسے اور آيت ميں ہے وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ(67-الملك:5)، ” ہم نے آسمان دنيا کو زينت دي ستاروں کے ساتھ، اور انہيں شيطانوں کے ليے شيطانوں کے رجم کا ذريعہ بنايا اور ہم نے ان کے ليے آگ سے جلا دينے والے عذاب تيار کر رکھے ہيں “۔

اور آيت ميں ہے وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ وَحَفِظْنَاهَا مِن كُلِّ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ (15-الحجر:16-18) ترجمہ:” ہم نے آسمان ميں برج بنائے اور انہيں ديکھنے والوں کي آنکھوں ميں کھب جانے والي چيز بنائي۔ اور ہر شيطان رجيم سے اسے محفوظ رکھا جو کوئي کسي بات کو لے اڑنا چاہتا ہے وہيں ايک تيز شعلہ اس کي طرف اترتا ہے۔ اور ہم نے آسمانوں کي حفاظت کي ہر سرکش شرير شيطان سے، اس کا بس نہيں کہ فرشتوں کي باتيں سنے، وہ جب يہ کرتا ہے تو ايک شعلہ لپکتا ہے اور اسے جلا ديتا ہے “۔وَعَلَامَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ (النحل 16) ترجمہ:اور ستاروں سے بھي لوگ راہ حاصل کرتے ہيں۔

امام ابن کثير رحمہ اللہ اس آيت کي تفسير ميں رقم طراز ہيں: جن (ستاروں )سے تري وخشکي کے رہرو و مسافر راہ معلوم کر ليتے ہيں۔ اور بھٹکے ہوئے سيدھے رستے لگ جاتے ہيں۔ ستارے بھي رہنمائي کے ليے ہيں رات کے اندھيرے ميں انہي سے راستہ اور سمت معلوم ہوتي ہے۔

علم نجوم (ستاروں کے علم) کے ذريعہ غيبي امور کا دعويٰ حرام اور مذموم ستارہ پرستي ہے جو کہانت اور جادو کي ايک قسم ہے۔

رسول اکرم صلي اللہ عليہ وسلم کا فرمان ہے:

مَنْ اقْتَبَسَ شُعْبَةً عِلْمًا مِّنَ النُّجُومِ،فَقَدِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِّنَ السِّحْرِ

(سنن ابي داود، الطب، باب في النجوم، ح:3905 ومسند احمد:1/ 277، 311)

ترجمہ:جس نے علم نجوم کا جتنا حصہ سيکھا اس نے اسي قدر جارو سيکھا۔‘‘

زيد بن خالد جہني رضي اللہ عنہ کہتے ہيں: رسول اللہ ﷺ نے حديبيہ ميں ہميں صلاةِ فجر بارش کے بعد پڑھا ئي جو رات ميں ہوئي تھي تو جب آپ فارغ ہوگئے اور لوگوں کي طرف متوجہ ہوئے توفرمايا: کيا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کيا کہا؟، لوگوں نے عرض کيا: اللہ اور اس کے رسول زيادہ جا نتے ہيں، آپ ﷺ نے فرمايا: اس نے کہا: ميرے بندوں ميں سے کچھ نے آج مو من ہو کر صبح کي، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے يہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کي رحمت سے ہوئي وہ ميرے اوپر ايما ن رکھنے والاہوا اور ستا روں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں ستارے کے سبب بارش ديئےگئے تو وہ ميرا منکر ہوا اور ستاروں پر يقين کرنے والا ہوا۔( صحيح بخاري /الأذان ۱۵۶ )

ابو ہريرہ رضي اللہ عنہُ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: مَن اَتَی عَرَّافاً اَو کَاہِناً فَصَدَّقَہ ُ فِیمَا یَقُولُ فَقَد کَفَرَ بِمَا اُنزلَ عَلیَ مُحمَدٍ ترجمہ:جو کِسي (غيب کي خبر بتانے ) کے دعويٰ دار يا نجومي کے پاس گيا، اور اُس کي کہي ہوئي بات کو دُرُست مانا، تو اُس دُرُست ماننے والے نے جو کچھ مُحمد (صلي اللہ عليہ وسلم ) پر نازل کِيا گيا اُس کا کفر کيا ( المستدرک الحاکم / حديث ١٥، اِمام الحاکم، اور اِمام الالباني نے اس حديث کو صحيح کہا ہے۔صحيح الترغيب و الترھيب ۳۰۴۷ )

رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کا ارشاد گرامي ہے :من أتى عرافا فسأله عن شىء لم تقبل له صلوة أربعين ليلة                    (صحيح مسلم و مسند احمد)

ترجمہ:”جو شخص کسي نجومي کے پاس آئے اور اس سے کسي چيز کے بارے ميں دريافت کرے تو چاليس دن تک اس کي نماز قبول نہيں ہوتي۔ “

آپ صلي اللہ عليہ وسلم ہي کا ارشاد گرامي ہے :

من أتى عرافا أو كاهنا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه وسلم (سنن أربعة، مستدرك حاكم، مسند بزار، المعجم الأوسط)

ترجمہ:”جو شخص کسي کاہن يا نجومي کے پاس آئے اور اس کي بات کي تصديق کرے تو اس نے اس شريعت کا انکار کيا جو محمد صلي اللہ عليہ وسلم پر نازل کي گئي۔ “