//عشق بکرا سے عشق قربانی تک

عشق بکرا سے عشق قربانی تک

۔ تحریر خنساء رفعت

عید پھر آئی بس اب کے عید خاموشیوں کا شکار تھی۔ کرونا نامی عفریت نے سب کو گھروں میں محصور کر رکھا… فاصلوں سے ملنے کو مجبور کر دیا۔ … ایسے میں کیا عید… !!!!! اس پر ہماری اکلوتی والدہ کی ناساز طبیعت (اللہ تعالٰی انھیں سلامت رکھے) تو اس بار تو عید سوائے نماز کے اور پھر اس کے بعد پیاری والدہ کو دیکھنے کی خواہش کے ساتھ (ہاسپٹل اب بھی ملنے کی اجازت نہی دے رہے) گزری … پیاری نبیلہ جی نے پروگرام کے لئے اتنا پیارا ایڈ بنایا کہ سوچا کچھ تو ضرور لکھنا چاہیئے… ایک پرانی عید کی یاد تازہ کرتی ہوں … کسی بہت پرانے وقت کی بات ہے (اب بچپن کی بات بہت پرانے وقت کی ہی ہوگی) کہ ابا جان بکرا عید سے کوئی دو ہفتے قبل لے آئے… ورنہ ہمارے گھر بکرا مشکل سے دو روز پہلے آتا تھا …

خیر اس بار ہماری عید کوئی دو ہفتے پہلے شروع ہوگئی اتفاق سے سکول میں بھی چھٹیاں تھیں ہم سارا دن صرف اور صرف بکرے کے ساتھ وقف ہوئے پڑے تھے کبھی اس کو اسکا کھانا کھلایا جارہا ہے تو کبھی اپنا کھانا بھی اسی کو کھلایا جارہا ہے اب خیال آتا ہے کہ ہماری اماں بےچاری کتنا کلپتی ہونگی جو نہ تو ہمارے کان سنتے تھے اس وقت اور نہ دماغ تک جاتا تھا … عین شکر دوپہر دھوپ، گرمی سے بے نیاز بکرے صاحب کو سیر کو لے جانا چاہتے… اماں بےچاری کبھی لو سے بچانے کو گیلا تولیہ دے رہی ہیں اور کبھی کچی لسی … کہیں اندر اماں کو بھی معلوم تھا کہ چار روزہ عشق ہے اختتام جلد ہوجائے گا… اور ہم انجام سے بےنیاز صرف اور صرف اپنی دیوانگی لئے ہوئے … خیر وہ دن آپہنچا …

جب اماں، ابا نے اللہ تعالٰی کے عشق میں ہمارے عشق کی قربانی دینی تھی … ہم نے عید کی نماز بھی یہ دعائیں کرتے ہوئے گزاری کہ اللہ کرے قصائی کو بخار ہوجائے، اس کی سائیکل ٹوٹ جائے، ، اسکی چھری کوئی چور لے جائے … کہ اگر قصائی نہ آیا تو ہمارا بکرا بچ سکتا ہے کیونکہ ابا نے آج تک مرغی ذبح نہیں کی بکرا تو بہت بڑی بات ہے … گیٹ کے پاس بھی کھڑے رہے کہ اگر قصائی آیا تو ابا گھر نہیں ہیں کہہ کے گیٹ سے ہی بھگا دیں گے… پتہ نہیں کیسی کیسی سازشیں من میں آ رہی تھیں کہ قربانی ٹل جائے… لیکن اللہ تعالٰی اماں، ابا سے راضی تھا تبھی عید کے روز نماز کے بعد گھر پہنچے ہی تھے کہ قصائی صاحب آن دھمکے اور اتفاق سے اس وقت جب ذرا سی دیر کو ہم گیٹ سے ہٹے تھے … عید کے کپڑوں میں ایک بار بھی بکرے کے ساتھ باہر سیر کا موقع نہ ملا … اماں نے اس ڈر سے کہ کہیں ان کی اولاد ہوش نہ کھو بیٹھے ہمیں صحن سے ہٹا دیا … پتہ نہیں اچانک کونسا ایسا کام یاد آگیا کہ عین وقت پر ہمیں کہیں اور مصروف کردیا … اور جب ہم باہر پہنچے تو!!!!!!!

ہمارا خیال تھا کہ ابھی تو قصائی ابا سے باتیں کر رہا ہے کچھ دیر تو لگے گی لیکن دیکھا کہ وہاں ہمارا بکرا ادھڑا پڑا ہے قصائی تو کھال اتار کے گوشت کاٹنے میں مصروف تھا اور ہمارا دل چاہا کہ قصائی کی ہی کھال کھینچ دیں … مگر اسکے ہاتھ میں ایک لمبا چھرا دیکھ کے صرف غصے کے گھونٹ پی کر اندر چلے آئے … اب غضب یہ تھا کہ اماں اور ابا کو بکرے کے گوشت سے روزہ افطار کرناتھا… اماں کہتی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے قربانی کرنے والوں کو یہ چھوٹا سا روزہ رکھنا ہوتا ہے جو قربانی کے گوشت سے افطار کرنا ہوتا ہے … اس لئے ہمارے پیارے بکرے کو پکایا جانے لگا … ابا گوشت کے حصے کرنے میں مصروف اور اماں پکانے میں ہمارے دکھ کی کسی کو پرواہ ہی نہیں تھی… ابا نے ہمارا اترا ہوا منہ دیکھا تو اپنے پاس بلایا …

کہنے لگے کیا ہوا میری بیٹی کیوں دکھی ہے… آنسووں کا گولہ حلق میں پھنس کر آواز کو دبا گیا … اور صرف سر ہلانے پہ اکتفا کیا… ابا بولے میری بچی مجھے میرے پیارے خدا نے مجھے قربانی کی توفیق دی ہے جو ہمارے پیارے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے بدلے میں ایک جانور قربان کر کے دی تھی اور شائید میں ایک ذرہ سا اس قربانی میں شریک ہوا جو ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام میں جاری فرمائی … ابا کی آنکھوں میں آنسو تھے… ابا کی بات تو اس وقت کچھ پلے نہیں پڑی مگر یہ لگا کہ ابا بھی بکرے کی وجہ سے ہی دکھی ہیں اور ہم ابا کو دکھی ہرگز نہیں دیکھ سکتے تھے… بس پھر کیا تھا ابا کی محبت بکرے کی محبت پہ غالب آگئی اور ہم خوشی خوشی اپنے پیارے بکرے کا گوشت محلے بھر میں بانٹ رہے تھے اور ساتھ ساتھ سب کو یہ بھی کہہ رہے تھے یا شاید خود کو تسلی دے رہے تھے کہ ’’میں نے اپنے پیارے بکرے کو اللہ کی محبت میں قربان کر دیا ہے یہ اس کا گوشت لے لیں “ … آج سوچتی ہوں تو خیال آتا ہے کہ کیسا پیارا انداز تھا تربیت کا… کیسے ابا نے بڑی محبت سے اللہ تعالٰی کی ابدی محبت کو ہر شے پر مقدم رکھنا سکھا دیا …