//عسراً یسریٰ

عسراً یسریٰ

تحریرقد سیہ عالم (فرانس)

ہاجرہ نے آرام کرسي پربيٹھ کر سکون سے ٹيک لگا لي۔ اس کي فراخ پيشاني پر پڑي سلوٹيں بتا رہي تھيں کہ عمر سوچ و بچار ميں گزري ہے۔ صبيح چہرے پر عزم و ہمت کي ايک داستان رقم تھي۔ اورمنزل پالينے کا سکون آنکھوں ميں ہلکورے لے رہا تھا۔ آرامدہ کمرے ميں اس کے سامنے بڑے سے دريچے کے پردے سمٹے ہوئے تھے دورپہاڑ نظر آرہے تھے۔ برف پگھلنے کے بعد روئيدگي نمودار ہو رہي تھي۔ سردموسم اپني شدتيں سميٹ کر رخصت ہو رہا تھا سردي تھي پر يقين تھا کہ بہار اپني پوري خوبصورتي کے ساتھ بس آيا ہي چاہتي ہے

ابھي ابھي وہ باورچي خانہ وغيرہ کے انتظامات ديکھ کر آئي تھيں۔ بڑي بہو شام کي دعوت کے انتظامات ميں مصروف تھي۔ آج کے دن کا انتظار اس نے برسوں کيا تھا۔کرسي کي پشت سے ٹيک لگائےدور پہاڑوں پر نظر جمائے وہ بھي کہيں دور بہت دور نکل گئي۔

اسکي شادي جب رشيد سے ہوئي تو وہ سولہ برس کي تھي۔ بتيس کي ہوئي تو پانچ بچوں کي ماں بننے کے ساتھ وہ رشيد کي بيوہ بھي بن گئي تھي۔ رشيد معمولي بيماري کاشکار ہو کر ان کو روتا بلکتا چھوڑ گيا۔۔اس کے سوئم کي شام تھي۔۔ بارش برس رہي تھي۔ آتشدان ميں گيلي لکڑياں اور ہاجرہ کے سينے ميں دکھي دل سلگ رہا تھا۔ کمرہ ہاجرہ کے ميکے اور سسرال والوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہاجرہ اپني خالي ہتھيليوں پر نظريں جمائے گم سم بيٹھي ہوئي تھي۔۔ مختلف تجاويز زير بحث لائي جا رہي تھيں… اس کي شادي ہو جاني چاہئے۔ نہيں پانچ بچوں کا ساتھ ہے کون ہمت کرے گا۔بچوں کاسکول بدلوا دواورپاس کےسرکاري سکول ميں داخل کروا دو (بچے انگلش ميڈيم ميں پڑھ رہے تھے)۔۔ دو بچے ميں رکھ ليتا ہوں دو پھوپھو کے ساتھ چلے جائيں اوريہ چھوٹا ماں کے ساتھ رہے… نہيں بھائي صاحب اولاد کے بٹوارے کي ضرورت نہيں ہاجرہ اور بچوں کو ہم ساتھ لے جائيں گے۔ ہاجرہ کے بھائي اور جيٹھ ميں بحث سي ہو رہي تھي۔

ہاجرہ ايک لفظ نہ بولي خالي نظروں سے اپنے ہاتھوں کي لکيروں کو اپنے آنسوؤں سے بھگوتي چلي گئي۔ اگلي صبح ناشتے کے فورا ً بعد ہي پھر يہي بحث مباحثہ شروع ہو گيا۔

ہاجرہ جواب دو ؟ ہاجرہ نے جھکا ہوا سر اٹھايااپنا دوپٹہ سر پر درست کيا آنسؤں کے پھندے کو حلق سےاتار کر پرعزم آواز ميں جيٹھ کو جوابديا۔بھائي صاحب نہ ميں ميکے واپس جاؤں گي نہ بچے بانٹوں گي ميں خود اپنے بچے پال لوں گي۔۔ کيسے خودپال لو گي ؟ پانچ بچے ہيں۔۔ سر سے سائبان اٹھ گيا ہے۔۔ اب بيوگي کي نازک ديواروں کے سائے ميں بناچھت کے کيسے جيو گي ؟؟؟

ميں کر لوں گي سب کچھ، ہاجرہ نے قطعيت کے ساتھ کہا۔

اور کچھ نہيں تو کم از کم بڑے والا باپ کے کاروبار ميں ہاتھ بٹاتا تھا اسے کالج داخل نہ کرواؤ کہو دکان سنبھال لے۔

بڑے جيٹھ نے پھر کچھ آسرا لينا چاہا …

بھائي صاحب ميں ايک بچے کے مستقبل کي قرباني دے کر چار بچے نہيں پالوں گي۔۔ ميرے لئے سب بچے برابر ہيں۔ ميرے سب بچے پڑھيں گے۔ بس آپ ان پر نظر رکھيئے گا تاکہ انہيں احساس رہے کہ ہمارا کوئي بڑا ہے۔ اسطرح جيٹھ کوناراض کيئے بغير ہاجرہ نے معاملہ حل کر ليا۔

پھر اس نے دکان اورگھر کا نچلا پورشن کرائے پر ديديا۔ بڑے دونوں نے کالج ميں داخلے کے ساتھ پارٹ ٹائم چھوٹے موٹے کام ڈھونڈھ لئے چھوٹے تينوں ابھي سکول جاتے تھے۔ جيسے تيسے وقت گزارنا شروع کر ديا۔

ہاجرہ نے رشيد کے فوت ہونے پر جمع ہونے والے مہمانوں کے جانے کے بعد بچوں کو اکٹھا کيا تھا اور کہا تھا بچو تمہارا ننھيال اور ددھيال دونوں امير کبير اور حيثيت والے ہيں۔۔ تم ان کے ساتھ اٹھنے بيٹھنے کے قابل تبھي ہوگے جب تعليم حاصل کرو گے اور کچھ بن کر دکھاؤ گے۔۔ ميري بيوگي کي نازک ديوار ميري ہمت اور تم پانچوں کي محنت سے ايک دن مضبوط فصيل بن جائے گي اور اس کے سائے ميں ہم سر اٹھا کر جينے کے قابل ہوں گے۔

اس دن کے بعد ہاجرہ کو کبھي کچھ کہنے کي ضرورت پيش نہ آئي تھي۔ وہ اپنے گہنے فروخت کر کر کے بچوں کي تعليم کا انتظام کرتي رہي۔ وقت گزرتا رہا اور ہاجرہ کے بچے اپني کاميابياں ہاجرہ کے نام کرتے گئے۔

آج ہاجرہ کا سب سے چھوٹا بيٹا بھي تعليم مکمل کرنےکے بعدپہلي نوکري حاصل کر کےگھر آرہا تھا۔

ہاجرہ کاچہرہ شکر اور مسرت کے ملے جلے جذبات سے چمک رہاتھا۔آتشدان ميں لال سرخ کوئلے دہک رہے تھے۔ اب کہيں کچھ بھي سلگ نہيں رہا تھا نہ آتشدان ميں گيلي لکڑياں اور نہ ہاجرہ کا دل۔