//صندل

صندل

تحریر رفعت امان اللہ پاکستان

یہ علاقہ پتھریلا تھا۔ننھے پہاڑ نے جب ہوش سنبھالا تو اس نے اپنے آپ کو دو پہاڑوں ایک شرقی پہاڑ جو قدرے اونچا تھا اور ایک غربی پہاڑ کے درمیان پایا۔

جوں جوں وہ بڑا ہوتا جا رہا تھا اس نے مشاہدہ کیا کہ دونوں پہاڑ ہی بہت مضبوط اور سختی میں ایک جیسے ہیں اور برف نے دونوں پہاڑوں کی چوٹیوں کو ڈھک رکھا ہے ۔

اس نے بچپن میں اپنے قریب لگے برگد کے پیڑ سے سنا تھا کہ اسکے اس دنیا میں آنے کے جلد بعد ہی شرقی اور غربی پہاڑوں میں اختلاف ہو گیا تھا جسکی وجہ سے دونوں نے اپنے اوپر برف کی ایسی چادر لپیٹ لی کہ جو سالہا سال تک پگھل نہیں پائی ہے۔

اس حسین وادی میں ان پہاڑوں کے اطراف خوبصورت مناظر تھے۔طائر ہواؤں میں ادھر سے ادھر اڑتے پھرتے،انکی نغمہ سرائی فضا کو سرور بخشتی ہر طرف پھولوں اور خوشبوؤں کا بسیرا تھا، اور یہ وادی جگنوؤں اور تتلیوں کا ٹھکانہ تھی…

مگر …یہ دونوں پہاڑ …اس پرکیف منظر سے کبھی لطف اندوز نہ ہوئے تھے ۔خدا کی اس صناعی کو کبھی انہوں نے نظر بھر کے نہیں دیکھا تھا۔نہ ہی کبھی کوئی اظہار کیا…

ننھے پہاڑ کو یاد تھا…بہت پہلے جب وہ چھوٹا تھا …،غربی پہاڑ پہ کبھی کبھار بارش برستی تھی تو کئی ندیاں اسکے دامن میں بہنے لگتی تھیں ۔مگر وقت کےساتھ ساتھ اس نے بھی اپنے آپ کو دوسرے پہاڑ کی طرح مضبوط اور سخت کر لیا تھا۔اسکی چوٹیوں پر بھی اب نہ پگھلنے والی برف جمنے لگ گئی تھی اور اس نے بھی اپنے جذبات کو اپنے اندر دفن کرنا اور اپنی انا کے خول میں قید رہنا سیکھ لیا تھا۔

یہ سب دیکھ کر ننھا پہاڑ بھی اپنے ارد گرد تنہائیوں کا غلاف لپیٹنے لگ گیااسی دوران اس ننھے پہاڑ کی دوستی برگد سے ہو گئی…برگد نے جب اس میں تبدیلی محسوس کی تو اس کو بتایا کہ وہ پہاڑ نہیں بلکہ ایک صندل کا پوداہے اور اسے صندل ہی بن کر رہنا چاہئیے …برگد نے یہ بھی بتایا کہ وہ دونوں پہاڑ بھی پہلے پہاڑ نہیں تھے بلکہ وہ بھی صندل تھے ۔جب زردی مائل بیگنی پھول زمین پہ گرتے تھے تو ایسے لگتا تھا جیسے کہکشاں زمیں پر اتر آئی ہو اور پوری وادی کا حسن اور بھی بڑھ جاتا ۔مگر…افسوس…۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں نے پہاڑوں کی شکل اختیار کر لی۔

ننھے پہاڑ نے جب یہ سنا …اس نے اپنے اندر بند اور مردہ ہوجانے والی خواہشات کو دوبارہ زندہ کرنا شروع کر دیا …محبت توجہ اور چاہے جانے کی خواہش پھر اسکےاندر سر اٹھانے لگی…اب وہ ننھا پہاڑ نہیں بلکہ ننھا صندل بن گیا تھا … وہ کئی بار چپکے چپکے دونوں پہاڑوں کو دیکھتا…وہ چاہتاتھا کہ ان پہاڑوں کو چپکے سے چھولے…ان کی چوٹیوں کو سر کرے،ان کے دامن میں جھولے،وہ اس برف کو گرانا چاہتا تھا جس نے بہاروں کا راستہ روک دیا تھا۔وہ اس سرد موسم سے رخصت چاہتا تھا…مگر وہ پہاڑ…۔وہ دونوں ہی بدلیوں اور چاند کے ساتھ محو گفتگو رہتے،وہ ستاروں پہ کمند ڈالنا چاہتے تھے، آسمان کی بلندیوں کو چھونا چاہتے تھے، انکی نظر نہ زمین پر تھی نہ اس ننھے صندل پر،نہ انکو اس وادی کے حسن میں کوئی دلچسپی تھی …یوں ان کی نظرِ التفات اس کو حاصل نہ ہو سکی…وہ ننھا صندل انکی نرمی ،گرمی اور حرارت محسوس کرنا چاہتا تھا، دل میں یہ ارمان لیئے ہر بار وہ مایوس ہو جاتا ۔

جاڑے کے اس موسم میں ننھا صندل پہاڑوں کی محبت اور توجہ کے لیے ترستا رہا انکی بے اعتنائی سےاسکے پتے زرد ہوگئے۔اسکی شاخیں سوکھ گئیں۔مایوسی اسکے چاروں اطراف کہر بن کر چھا گئی ۔وہ دن بدن کمزور اور لاغر ہوتا گیا۔اب نہ وہ تتلیوں سے کھیلتا تھا نہ برگد سے بات کرتا۔وہ بالکل خاموش ہو کہ رہ گیا۔…وہ اسقدر سوکھ گیا کہ اسکی جڑیں تک خشک ہونا شروع ہو گئیں، امیدیں دم توڑ رہی تھیں اب تو لگتا تھا کہ اسکی زندگی میں بہار ہے ہی نہیں۔اسے اپنے پھر سے ہرا ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی …وہ بے دم سا ہوگیا تھا۔

بہت دنوں کے بعد جب ننھی ننھی بوندیں اسکے اوپر پڑیں تو اس میں کچھ حرکت پیدا ہوئی۔اسے یوں محسوس ہوا جیسے دونوں پہاڑ اس کے اوپر جھکے ہوئے ہیں ۔

ان پہاڑوں پربرسات ہو رہی تھی اور ان پر سے ندی نالے بہہ رہے تھے ۔انکا پانی ایک جھیل میں جمع ہو رہا تھا، ننھے صندل کو ہمیشہ کے لئے کھو دینے کا ڈر ان دونوں پہاڑوں کو قریب لے آیا، نیلگوں نمکین جھیل میں گزرے ہوئے وقت کی یادوں کےکئی عکس تھے۔ان پہاڑوں کے التفات سے ننھے صندل کے بدن میں حرارت محسوس ہوئی اور اس احساس کی حدت نے اسکے وجود کو موت کی وادیوں میں جانے سے بچا لیا۔اب اسکی آنکھیں کھل گئیں…وہ اسے کبھی بھی کھونا نہیں چاہتے تھے۔انہیں احساس ہو چکا تھا کہ انکی دنیا یہ وادی اور ننھا صندل ہی ہے۔انکی جڑیں زمین میں ہیں نہ کہ آسمان میں

صندل نے محسوس کیا کہ دونوں پہاڑ اسقدر سخت اور پتھریلے نہیں تھے جتنا وہ سمجھتا تھا ۔اس نے دونوں کے وجود کو روئی کے گالوں سے بھی نرم پایا۔اس جھومتی ناچتی برسات نے سارے ہی گلے شکوے دھو ڈالے ۔

محرومیوں کا دکھ،اس نمکین جھیل کے پیندےسے لگ چکا تھا ۔

جاڑے کی رت بیتی ، سورج چمکنے لگا ،وادی سرخ گلابوں سے ڈھک گئی ، برگد نے نئے پتوں کی شال اوڑھتے وقت جب دیکھا تو جھیل کے پانی پر تین خوشبو دار صندل کے درختوں کے عکس بہت خوبصورت اور نمایاں نظر آ رہے تھے ۔