//شکوہ آدم

شکوہ آدم

تحریر فائزہ حبیب کراچی پاکستان

شيطاني چيلے آدم زادوں اور آدم زاديوں کے ذہنوں ميں وسوسے ڈالنے ميں شب و روز پوري قوت کے ساتھ مصروف ہيں۔ ہر دن ايک نيا سياپا کھڑا ہوتا ہے۔ جس کي ترديد دبے لفظوں ميں جب کے تائيد لاؤڈ اسپيکر پر دھوم دھڑکے کے ساتھ کي جا رہي ہوتي ہے۔

اسي طرح ايک الميہ جو آجکل سر اٹھائے ہوئے ہے وہ ہے تحفظ حقوق نسواں۔

يہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ جن چيزوں کا فيصلہ 1400 سال پہلے ہو چکا ہي وہ نئے سرے سے سر کيوں اٹھا رہي ہيں۔

قرآن پاک ميں اللّه پاک متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ مرد کيا ہے اس کي ذمدارياں کيا ہيں اور عورت کيا ہے اور اس کي ذمدارياں کيا ہيں۔

اگر اس بات کو مختصرا” بيان کيا جائے تو يہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ زندگي نہ مرد کي سہل ہي نہ ہي عورت کي۔ بات صرف ذمہ داري کو سمجھنے اور نبھانے کي ہے۔

مزے کي بات يہ ہے کہ جو خواتين تحفظ حقوق نسواں کا دم بھرتي ہيں اور صبح شام سڑکوں پر پھرتي ہيں ان سے بندہ يہ پوچھے کہ بي بي اپ يہاں ہيں تو اپکا گھر کون سنبھال رہا ہے لازم ہے شوہر، ملازم يا ملازمہ۔ تو اگر شوہر گھر سنبھالتا ہے تو اپ کيسے مظلوم ہوئيں۔

اور اگر ملازمہ سنبھالتي ہے تو حقوق نسواں کو تو اپ نے پامال کر رکھا ہے۔

ايسي سڑک چھاپ عورتيں نہيں شيطاني چيلا ہوتي ہيں بس۔

الله الله …

الله اور اس کے رسول نے مرد و خواتين ميں خوبصورتي سے کام بانٹے اور ايک حسين معاشرہ تشکيل ديا۔ ان حسين رشتوں کو راحت کا موجب بنايا نہ کے حقارت کا۔

ايک وہ وقت تھا جب بيٹياں پيدا ہوتے ہي دفنائي جاتي تھيں پھر محسن انسانيت کا نزول ہوا عورت کي جھولي ميں عزت، وقار، وراثت، جنت تک ڈال دي گئي۔ يہ جانتے ہوئے بھي کے سرکار دو عالم کي ماں بھي ايک عورت ہے، جنت کے سردار کي جنت بھي اس ماں کے قدموں تلے ہو گي۔ پاک پروردگار نے جنت ماں کے قدموں تلے قرار دے دي۔ اے شيطاني چيلو! اور کيا چاہيے ؟؟؟؟؟

کس آزادي کا مطالبہ ہے۔ ايک باپردہ عورت فلائٹ پائلٹ ہے جنگي جہاز اڑا چکي ہے بڑي بڑي عمارتيں کھڑي کر چکي ہے۔ليکن باپردہ ہو کر کيوں کہ يہ اللّه پاک کي مقرر کردہ حد ہے۔ اور خدائي حدود کي عظيم خاصيت يہي ہے کہ وہ انسان کے کسي بھي قسم کے جذبے کو دبا کر نہيں رکھتا۔ ہر چيز کي اجازت ہے ليکن حدود ميں۔

اس کي ادنٰي مثال يہ ہے کے وضوميں ناک ميں پاني ڈالنے کا حکم ہے مقصد طہارت و پاکيزگي واضح ہے ليکن ايسا ہي کوئي سر پھرا حدود پھلانگنے کي سوچے اور پاني ناک کے اوپر کھينچ لے تو اسکا کيا حال ہو۔ يہي بات تمام تر حدود اللّه پر لاگو ہے۔

حدود اللّه مردوں پر بھي اسي طرح لاگو ہيں جس طرح خواتين پر۔ اگر عورت کو پردے کا حکم ہي تو مرد کو بھي نظر نيچي رکھنے کا حکم ہے۔ جو کہ حسين معاشرے کے تکميل ميں سنگِ بنياد کا کام کر سکتا ہے۔

اب اگر مرد يہ سوچے کہ عورتيں اچھا ہے سارا دن گھر ميں بيٹھي رہتي ہيں نہ کام نہ کاج ساري پريشانياں مردوں کے حصّے ميں آئي ہيں تو يہ غلط ہے اولاد کي پيدائش سے لے کر دن رات جاگنا، بنا کسي وقفے کے گھر کے تمام فرائض کو سر انجام دينا، رشتے نبھانا، ان رشتوں ميں محبت اور خلوص گھولنا، بچوں کي فطرت ميں دين اور دنيا کي مناسب مقدار رکھنا انکو خوبصورت اور خوب سيرت بنانا کوئي آسان کام نہيں ہے۔ سرديوں ميں اگر گھر والے ستھرے اور نفيس لباس زيب تن کرتے ہيں تو لازم ہے کے گھر کي عورت کپڑے دھوتے ہوئے سردي سے کئي بار کانپي ہو گي اور جب سخت گرمي ميں اپ گرم روٹي کا تقاضا کرتے ہيں تو يقين مانے شديد گرمي ميں آگ پر کھڑے ہونا کوئي آسان کام نہيں ہے۔

 اور اگر عورت يہ سوچے کہ مردوں کے مزے ہيں سارا دن گھر کے جھميلوں سے دور باہر سکون سے رہتے ہيں تو قطي طور پر غلط ہيں کيوں کہ اپ کے سر کي چھت سے لے کر گھر ميں انے والي بجلي گيس انٹرنيٹ راشن پاني بچوں کے تعليمي اخراجات کے لئے مستقل رقم کا بندوبست کرنا بھي آسان نہيں ہے۔

غرض اس بات کو سمجھنے کي اشد ضرورت ہے کہ تحفظ حقوق نسواں کا مقصد محض خواتين کو بےحيائي اورفحاشي کي طرف اکسانا ہے ورنہ شريعت سب واضح کر چکي ہے۔

اسي لئے خدا اور اس کے بنائے ہوئے قوانين سے شکوہ کرنے کے بجائے اسے فخر کے ساتھ سرِتسليم خم کريں۔ کيوں کہ اسي ميں ہماري نسلوں کي بقا ہے۔

الله پاک تمام مسلمان عورتوں کو ان شيطان کے چيلوں کے شر سے بچائے۔

امين اللھم امين